Fk Studio

Directions Website

Fk Studio "This page is to share valueable content for people. I respect all Human without any discrimination"

لیسکو کے ایک افسر پر مبینہ طور پر اوور بلنگ اور مختلف وصولیوں کے ذریعے عوام کو 47 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام سام...
20/09/2026

لیسکو کے ایک افسر پر مبینہ طور پر اوور بلنگ اور مختلف وصولیوں کے ذریعے عوام کو 47 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق معاملہ سامنے آنے کے بعد متعلقہ افسر پر جرمانہ عائد کرنے اور مبینہ طور پر رقم کی وصولی کے لیے کارروائی بھی کی گئی۔

یہ معاملہ بجلی کے بلوں میں شفافیت اور صارفین سے متعلق وصولیوں کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ تاہم الزامات اور رپورٹ میں بیان کردہ دعووں کی حتمی حیثیت متعلقہ تحقیقات اور سرکاری کارروائی سے واضح ہوگی۔

ڈسکلیمر: یہ پوسٹ دستیاب رپورٹ کی بنیاد پر معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ حتمی حقائق متعلقہ تحقیقات اور سرکاری ریکارڈ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔

18/09/2026

💥 چھ سال پہلے میں نے اپنی زندگی کا سب سے عجیب
فیصلہ کیا۔۔۔
میں نے اپنے سے ستائیس سال چھوٹے آدمی سے شادی کر لی۔

میرا نام صائمہ بیگم ہے۔

عمر اٹھاون سال۔

اور چھ سال پہلے میں نے اپنی زندگی کا سب سے غیر متوقع فیصلہ کیا تھا۔

میں نے اپنے سے ستائیس سال چھوٹے آدمی سے شادی کر لی تھی۔

لوگوں نے بہت کچھ کہا۔

کچھ نے منہ پر۔

کچھ نے پیٹھ پیچھے۔

"لڑکے کو جائیداد چاہیے۔"

"کچھ سال صبر کرے گا، پھر سب لے جائے گا۔"

"اتنا جوان آدمی محبت نہیں کرتا، حساب کرتا ہے۔"

میں خاموش رہتی تھی۔

شاید اس لیے کہ دل کے کسی کونے میں مجھے بھی کبھی کبھی یہی خوف محسوس ہوتا تھا۔

میرے پہلے شوہر پروفیسر تھے۔

بہت اچھے انسان۔

مگر اُن کی وفات نے میری زندگی میں ایک ایسی خاموشی چھوڑ دی تھی جس کی کوئی آواز نہیں ہوتی۔

صرف وزن ہوتا ہے۔

سانسوں پر۔

دل پر۔

راتوں پر۔

اُن کے جانے کے بعد میرے پاس سب کچھ تھا۔

بڑا گھر۔

کچھ جائیداد۔

بینک بیلنس۔

اور ایک ایسا تنہائی بھرا سکون جو انسان کو اندر سے کھا جاتا ہے۔

پھر میری ملاقات احسان سے ہوئی۔

وہ ایک ری ہیبلیٹیشن تھراپسٹ تھا۔

میری کمر کے درد کا علاج کرتا تھا۔

پہلے علاج ہوا۔

پھر گفتگو۔

پھر دوستی۔

اور پھر ایک دن اُس نے مجھ سے شادی کی بات کر دی۔

میں ہنس پڑی تھی۔

مجھے لگا مذاق کر رہا ہے۔

مگر وہ سنجیدہ تھا۔

اتنا سنجیدہ کہ اُس نے میرے انکار کے بعد بھی مہینوں انتظار کیا۔

آخرکار میں مان گئی۔

اور حیرت انگیز طور پر شادی اچھی رہی۔

بہت اچھی۔

احسان نے کبھی مجھ سے پیسے نہیں مانگے۔

کبھی جائیداد کی بات نہیں کی۔

کبھی کسی کاغذ پر دستخط نہیں کروائے۔

وہ کھانا بناتا۔

گھر سنبھالتا۔

مجھے دوا دیتا۔

اور ہر رات سونے سے پہلے میرے لیے قہوہ بناتا۔

"پوری پی لینا۔"

وہ مسکرا کر کہتا۔

"ورنہ رات بھر جاگتی رہو گی۔"

اور میں پی لیتی۔

چھ سال تک۔

ہر رات۔

بغیر سوچے۔

بغیر سوال کیے۔

پھر ایک رات سب کچھ بدل گیا۔

احسان نے کہا:

"آج کچھ دوست آ رہے ہیں، میں تھوڑی دیر جاگوں گا۔"

میں نے سر ہلا دیا۔

اور سونے چلی گئی۔

مگر نہ جانے کیوں اُس رات نیند نہیں آ رہی تھی۔

شاید عمر کے ساتھ انسان کے اندر ایک چھٹی حس پیدا ہو جاتی ہے۔

یا شاید دل بعض اوقات عقل سے پہلے سچ سن لیتا ہے۔

میں خاموشی سے بستر سے اُٹھی۔

اور آہستہ آہستہ کچن کی طرف چل پڑی۔

کچن کی روشنی جل رہی تھی۔

میں دروازے کے پیچھے رک گئی۔

احسان قہوہ بنا رہا تھا۔

میرا روز والا کپ۔

میرا روز والا چمچ۔

میرا روز والا قہوہ۔

پھر اُس نے دراز کھولی۔

اور ایک چھوٹی سی بھوری شیشی نکالی۔

میری سانس رک گئی۔

میں نے دیکھا۔

اُس نے شیشی کھولی۔

اور قہوے میں چند قطرے ڈال دیے۔

ایک۔

دو۔

تین۔

پھر چمچ سے ہلایا۔

بالکل اسی سکون کے ساتھ جیسے وہ ہر رات کرتا تھا۔

میری ٹانگوں سے جان نکل گئی۔

مجھے لگا میرے کانوں میں شور گونج رہا ہے۔

چھ سال...

چھ سال سے؟

میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

میں بھاگ کر واپس کمرے میں آ گئی۔

بستر پر لیٹ گئی۔

اور آنکھیں بند کر لیں۔

کچھ لمحوں بعد وہ اندر آیا۔

اُس کے ہاتھ میں قہوہ تھا۔

وہی مسکراہٹ۔

وہی نرمی۔

وہی محبت۔

جس سے میں چھ سال تک دھوکا کھاتی رہی تھی۔

"یہ لو، میری جان۔"

میں نے کپ لے لیا۔

مگر نہیں پیا۔

اُس رات اُس کے سونے کے بعد میں نے قہوہ ایک شیشی میں محفوظ کر لیا۔

اور اگلے دن لیبارٹری چلی گئی۔

میری زندگی کا سب سے طویل دن تھا۔

رپورٹ شام کو ملی۔

میں نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا۔

اور پہلی سطر پڑھ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔

کوئی زہر نہیں۔

کوئی نقصان دہ کیمیکل نہیں۔

صرف ایک دوا۔

نیند اور اضطراب کی دوا۔

وہی دوا جو برسوں پہلے میرے نفسیاتی معالج نے تجویز کی تھی۔

میں دیر تک رپورٹ دیکھتی رہی۔

سمجھ نہیں پا رہی تھی۔

اگر یہ زہر نہیں تو پھر راز کیا تھا؟

اُسی رات میں نے احسان کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔

میں نے رپورٹ اُس کے سامنے رکھ دی۔

اُس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔

پہلی بار میں نے اُس کی آنکھوں میں خوف دیکھا۔

"تم نے ٹیسٹ کروایا؟"

میں نے سر ہلایا۔

"ہاں۔"

کافی دیر خاموشی رہی۔

پھر وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔

اور آہستہ سے بولا:

"میں جانتا تھا ایک دن تم جان جاؤ گی۔"

"تو پھر بتایا کیوں نہیں؟"

اُس نے میری طرف دیکھا۔

آنکھوں میں عجیب سی نمی تھی۔

"کیونکہ تم دوا نہیں کھاتی تھیں۔"

میں خاموش رہی۔

وہ بولا:

"تمہارے پہلے شوہر کی وفات کے بعد تمہیں شدید بے خوابی اور گھبراہٹ کے دورے پڑتے تھے۔"

"ڈاکٹر نے دوا لکھی تھی۔"

"مگر تین ماہ بعد تم نے لینا چھوڑ دی۔"

"تم کہتی تھیں تم بیمار نہیں ہو۔"

میری نظریں جھک گئیں۔

یہ سچ تھا۔

میں نے واقعی دوا چھوڑ دی تھی۔

احسان نے آہستہ سے کہا:

"پھر ایک رات تمہیں سانس رکنے جیسا حملہ ہوا تھا۔"

"تم ساری رات کانپتی رہی تھیں۔"

"اگلے دن میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔"

"ڈاکٹر نے کہا دوا جاری رکھنی ہوگی۔"

"مگر تم پھر بھی نہیں مانیں۔"

میں خاموش بیٹھی رہی۔

وہ بولا:

"میں نے ڈاکٹر سے پوچھا اب کیا کروں؟"

"اُنہوں نے کہا اگر مریض دوا لینے سے انکار کرے تو مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔"

"میں ڈر گیا تھا۔"

"بہت ڈر گیا تھا۔"

اُس کی آواز ٹوٹ گئی۔

"میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا۔"

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

پھر اُس نے ایک فائل میری طرف بڑھائی۔

"یہ بھی دیکھ لو۔"

میں نے فائل کھولی۔

اور میری آنکھیں نم ہو گئیں۔

وہ قانونی کاغذات تھے۔

احسان کے دستخط شدہ۔

اگر اُس کی وفات ہوتی یا ہماری علیحدگی ہوتی تو میرے تمام اثاثوں پر اُس کا کوئی دعویٰ نہیں بنتا تھا۔

کاغذات پانچ سال پرانے تھے۔

پانچ سال۔

یعنی اُس وقت کے جب ہماری شادی کو صرف ایک سال ہوا تھا۔

میں حیرت سے اُسے دیکھتی رہ گئی۔

"یہ کب بنوائے؟"

وہ مسکرا دیا۔

"جس دن تمہاری ایک رشتہ دار نے مجھے لالچی کہا تھا۔"

میں کچھ نہ بول سکی۔

اُس رات میں بہت روئی۔

اس لیے نہیں کہ مجھے دھوکا دیا گیا تھا۔

اس لیے کہ میں چھ سال کی محبت کو چند قطروں میں ناپنے لگی تھی۔

اور پہلی بار مجھے احساس ہوا...

بعض اوقات زندگی میں سب سے خوفناک چیز زہر نہیں ہوتی۔

بدگمانی ہوتی ہے۔

اور بعض اوقات جس سازش سے ہم سب سے زیادہ ڈرتے ہیں...

وہ دراصل کسی کی خاموش محبت نکلتی ہے۔

اُس رات احسان ہمیشہ کی طرح میرے لیے قہوہ لے کر آیا۔

میں نے کپ ہاتھ میں لیا۔

اور مسکرا کر کہا:

"آج سے دوا الگ دیا کرو۔"

وہ ہنس پڑا۔

میں بھی ہنس دی۔

اور چھ سال بعد پہلی بار مجھے محسوس ہوا...

اعتماد بھی محبت کی طرح دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ❤️

©️ انتخاب سخن

یورپ میں بے حیائی اتنی پھیل گئی ہے کہ لوگ ناجائز جنسی تعلقات کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو گٹر میں پھینک دیتے ہیں۔اب دیک...
10/09/2026

یورپ میں بے حیائی اتنی پھیل گئی ہے کہ لوگ ناجائز جنسی تعلقات کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو گٹر میں پھینک دیتے ہیں۔

اب دیکھیں نا سرگودھا کے علاقے رحمان پورہ میں نومولود بچہ گٹر کی نالی سے برآمد ہوا
اللّہ کا شکر ہے ہم مسلمان ہیں ہمارے ملک میں یہ سب نہیں ہوتا

゚

35 سال کویت اور سعودی عرب میں کمائی کرنے والے لاہوریے کی کہانی : جو واپس آیا تو ائیرپورٹ سے سیدھا اولڈ ہوم جانا پڑ گیا ۔...
10/09/2026

35 سال کویت اور سعودی عرب میں کمائی کرنے والے لاہوریے کی کہانی : جو واپس آیا تو ائیرپورٹ سے سیدھا اولڈ ہوم جانا پڑ گیا ۔۔۔۔ محمد نواز فریج اے سی ریپیئرنگ کا کام کرتے تھے 10 سال کویت میں کام کیا گھر کو خوشحال کیا جو کماتے اپنے خرچہ رکھ کر بقایا بیوی کو بھیج دیتے ، بیوی بچوں کی ہر خواہش فرمائش پوری کی ، کوٹھی نما گھر ، گاڑی ، جدید موبائل ، بچوں کے لیے لیپ ٹاپس ، گھر میں ضرورت اور آسائش کی ہر چیز مہیا کی لیکن غربت سے امارت کا سفر شاید بیوی کو راس نہ آیا ۔ اسکی ایک ہی ضد تھی ، کیا ضرورت ہے واپس آنے کی وہیں رہو اور کمائی کرو ۔۔۔ کویت میں 10 سال گزار کر واپس آئے تو بیٹی اور بیٹا 5، 7 سال کے تھے یہاں لاہور میں اپنی شاپ بنائی اور زندگی کی گاڑی کو دھکا دینے کی کوشش کی لیکن کام نہ چلا تو سال دو سال بعد ویزہ لگوا کر سعودی عرب چلے گئے ، ابتدا میں وہاں بہت مشکل دن دیکھے کفیل والے نظام نے انہیں بڑا خجل خراب کیا لیکن پھر کاغذات مکمل کرکے کمائی کرنے لگے ، 20 سے 22 سال یہاں کام کیا اس دوران گھر کے صرف 3، یا چار چکر لگائے ، اس سارے دورانیے میں دولت تو کمائی لیکن خاندان برباد کر لیا ، انکی بیوی صرف پیسے کی پجارن بن گئی ، بچے ظاہر ہے ماں کے ساتھ رہے تو ماں کی زبان بولتے تھے ۔ پیسہ پیسہ پیسہ ، بیوی کی زبان پر ایک یہی لفظ رہتا ، پوری برادری میں جو چیز ہماری ہو اس جیسی کسی اور کے پاس نہ ہو ، کم ظرف عورت نے محمد نواز کو پیسے کمانے والی مشین سمجھ لیا ۔ آج سے لگ بھگ ایک سال قبل جھگڑا شروع ہوا جب محمدنواز نے طے کر لیا کہ اب صحت اجازت نہیں دیتی بہت کما لیا باقی زندگی بیوی بچوں کے پاس گزاریں گے ۔ لیکن بیوی ڈٹ گئی ، صاف کہہ دیا ، کوئی ضرورت نہیں گھر آنے کی ، اچھی خاصی کمائی کررہے ہو اس ملک میں کیا رکھا ہے ۔ اگر پھر بھی واپس آؤ تو اپنا بندوبست خود کرنا اس گھر کے دروازے تمہارے اوپر بند ہیں ۔ محمد نواز نے اپنی بیوی کے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بات کی ، انہوں نے انصاف سے کام لیا اور اپنی بہن بیٹی کو غلط کہا لیکن وہ دشمنی پر آگئی ، کہ میرا گھر ہے جو مرضی کروں ، میرے بہن بھائی کون ہوتے ہیں مجھے غلط کہنے والے ۔۔۔ پھر ایک روز محمد نواز لاہور ائیر پورٹ پر اترے تو بیوی ، بیٹی یا بیٹا لینے بھی نہ آئے ، ایک بھتیجا ائیرپورٹ پر لینے آیا ، گھر والوں نے صاف انکار کردیا اسے جدھر مرضی لے جاؤ ہمارے گھر نہ لانا اور بھتیجا محمد نواز کو ائیرپورٹ سے اپنے گھر لے گیا ۔غنیمت یہ کہ چند لاکھ روپے محمد نواز کے پاس تھے انہوں نے خورشید اولڈ ہوم سے رابطہ کیا کہ بیمار ضرور ہوں مگر بیکار نہیں ہوں مجھے رہنے کے لیے چھت اور دو وقت کی روٹی دے دیں آپ کے بہت کام آؤنگا ۔۔۔۔ آج پچھلے 3 ماہ سے محمد نواز خورشید اولڈ ہوم میں رہ رہے ہیں، رضارانہ طور پر یہاں کام بھی کرتے ہیں ، رشتہ دار بیوی کو قائل کرنے میں ناکام ہیں ۔ بیوی نہیں ہے گویا دشمن ہے اور بچے ناگن کے بچے ہیں ، محمد نواز اپنے جیسے لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ بیوی بچوں کو ضرور پالیں انہیں گھر سہولیات اور آسائشیں سب کچھ دیں لیکن خدارا کچھ اپنے لیے بچا کر رکھیں ، بڑھاپے اور بیماری میں رشتوں کی اصلیت معلوم ہوتی ہے اور آج سب سے بڑا رشتہ دار اور دوست پیسہ ہی ہے ۔۔۔۔

یہ دنیا تماشہ نہیں ھے۔۔۔۔!!اس وقت کے جج چوھدری افتخار جس نے ایک اربوں لوٹنے والے مجرم کیساتھ اہنی بیٹی کی شادی کی ۔۔یہ ج...
10/09/2026

یہ دنیا تماشہ نہیں ھے۔۔۔۔!!
اس وقت کے جج چوھدری افتخار جس نے ایک اربوں لوٹنے والے مجرم کیساتھ اہنی بیٹی کی شادی کی ۔۔یہ جج اسی طرح کے ھیںپیسوں کیلیے ایمان بیچ دیتے ھیں بعد میں انکی قبریں بھی نامعلوم بن جاتی ھیں جن پر لوگ آکر پیشاب کرتے پایے گئے ھیں نہ جانے عاصم منیر سمیت سب کس کے لیے یہ دولت جمع کرتے ھیں جو انکو نصیب بھی نہیں ھوتی انکی اولادیں انکی قبروں پر بھی نہءں اتیں جنکے لیے انہوں نے اخرت خراب کی ھوتی ھے ۔۔۔بہرحال یہ بہ طور عبرت واقعہ سنیں
حرام کے اربوں روپے کا مالک لاہور کا وہ شخص جسکے متاثرین نے اسکا جنازہ روک لیا تھا اور بعد ازاں اپنے پیسے لینے اسکی قبر پر پہنچ جاتے تھے ۔۔۔۔۔ڈاکٹر امجد سابق آئی جی پنجاب سردار محمد چوہدری کا داماد تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر دولت کی بارش کی اور یہ اس بارش میں نہاتا کیچڑ میں جا گرا‘ اس نے سب سے پہلے ایڈن ہاؤسنگ سکیم کے 13 ہزار ممبرز کے دس ارب روپے ہڑپ کیے ۔اور پھر اس نے ای او بی آئی کے پنشنر کی بڑی رقوم بھی اڑا لیں ۔ متاثرین نے احتجاج کرنا شروع کر دیا تو ان دنوں افتخار محمد چودھری چیف جسٹس تھے‘ سو موٹو لیا گیا‘ عدالت میں پیشیاں شروع ہوئیں‘ لاہور کے ایک وکیل کےذریعے چیف جسٹس اور ملزم کے درمیان رابطہ ہوا اور یہ رابطہ بہت جلد رشتے داری میں بدل گیا‘۔۔ ڈاکٹر امجد کے صاحبزادے مرتضیٰ امجد اور افتخار محمد چودھری کی صاحبزادی افرا افتخارکی شادی ہو گئی۔ اور یوں ایڈن ہاؤسنگ سکیم اور ای او بی آئی کے کیسز کھوہ کھاتے چلے گئے۔‘ دور بدلا‘ نیب کے مقدمے شروع ہوئے تو پورا خاندان ملک سے بھاگ گیا‘ نیب نے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے‘ ایف آئی اے نے 26 ستمبر 2018ء کو مرتضیٰ امجد کو دوبئی سے گرفتار کر لیا‘ افتخار محمد چودھری نےکوشش کی لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے ریڈ وارنٹ کو غیرقانونی قرار دے دیا۔۔ اور یہ لوگ خاندان سمیت کینیڈا شفٹ ہو گئے‘ کیسز چلتے رہے اور افتخار محمد چودھری کا اثرورسوخ ڈاکٹر امجد کو بچاتا رہا‘ فراڈ کی رقم 25 ارب روپے تک پہنچ گئی‘ یہ اس دوران پلی بارگین کے لیے بھی راضی ہو گیا لیکن یہ تین ارب روپے دے کر 25 ارب روپے معاف کرانا چاہتا تھا‘ نیب نہیں مانا‘ یہ اس دوران کسی پراسرار بیماری کا شکار ہو گیا‘ پاکستان آیا‘ علاج شروع ہوا لیکن طبیعت بگڑتی رہی یہاں تک کہ دنیا بھر کے ڈاکٹرز‘ ادویات اور افتخار محمد چودھری کا اثرورسوخ بھی کام نہ آیا اور ڈاکٹر امجد 23 اگست 2021ء کو لاہور میں انتقال کر گیا‘ لواحقین نے اسے خاموشی کے ساتھ دفن کرنے کی کوشش کی لیکن متاثرین کو خبر ہو گئی اور یہ پلے کارڈز اور پوسٹرز لے کر پہلے اس کے گھر اور پھر جنازے پر پہنچ گئے ،اور ’’ہماری رقم واپس کرو‘‘ کے نعرے لگانے لگے‘ پولیس بلائی گئی‘پولیس جنازے اور احتجاجیوں کے درمیان کھڑی ہو گئی‘ پولیس کی مدد سے جنازہ اٹھایا گیا اور پولیس ہی کی نگرانی میں ڈاکٹر امجد کو دفن کیا گیا‘ متاثرین بعد میں بھی اس کی قبر پر آتے رہے جس کی وجہ سے خاندان نے وہاں گارڈز کھڑے کر دیے ۔۔یہ انتہا درجے کا عبرت ناک واقعہ ہے لیکن آپ اس سے بھی بڑی عبرت ملاحظہ کیجئے‘ ڈاکٹر امجد نے جس خاندان اور جن بچوں کے لیے 25 ارب روپے کا فراڈ کیا تھا‘ وہ جنازے کے وقت کینیڈا میں بیٹھے تھے اور ان میں سے کوئی شخص اسے مٹی کے حوالے کرنے کے لیے پاکستان نہیں آیا تھا۔۔۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔ یہ عبرت کی جاء ہے تماشا نہیں ہے ۔۔۔

چارسدہ میں میٹر ریڈر  کی بے حسی 80 سالہ بابا نور حسن کی موت پر ختم ہوا۔آج ایک 80 سالہ ضعیف اور غریب ریٹائرڈ چوکیدار نور ...
09/09/2026

چارسدہ میں میٹر ریڈر کی بے حسی 80 سالہ بابا نور حسن کی موت پر ختم ہوا۔
آج ایک 80 سالہ ضعیف اور غریب ریٹائرڈ چوکیدار نور حسن چارسدہ میں واقع پیسکو کے سنسان دفتر میں کرسی پر ٹڑپتا رہا اور عملہ انسانیت کو بھلا کر دفتر چھوڑ کر بھاگ گئے۔
محکمہ تعلیم کے اس سابق ملازم کے گھر جب پچاس ہزار روپے کا بل اور جرمانہ بھیجا گیا تو ان کے پاس دو وقت کی روٹی کے پیسے بھی نہیں تھے۔ ان کے بھائیوں نے ترس کھا کر ان کے گھر پر ایک چھوٹا سولر پینل لگایا تھا تاکہ بجلی کا بل ان کے کمزور کندھوں پر بوجھ نہ بنے مگر پیسکو اہلکاروں نے بغیر کسی جواز کے پچاس ہزار کا بل تھوپ دیا۔ ورثاء کا الزام ہے کہ میٹر ریڈر فیاض ان سے جرمانہ ختم کرنے کے بدلے رشوت کا مطالبہ کر رہا تھا جس کی ادائیگی بابا کی استطاعت سے باہر تھی۔
بدھ کی صبح بابا نور حسنجب اپنا بل کم کرانے پیسکو دفتر پہنچے تو وہاں مذکورہ میٹر ریڈر سے تکرار ہوئی اور اس دوران ایس ڈی او کے دفتر میں ہی انہیں دل کا دورہ پڑا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پیسکو عملہ بابا کی مدد کرنے کے بجائے دفتر چھوڑ کر نکل گیا اور وہ 15 منٹ تک وہیں فرش پر تڑپتے رہے۔ جب لوگ اندر پہنچے تو بابا نور حسن کی روح پرواز کر چکی تھی۔
واقعے کے بعد ورثاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس کو میٹر ریڈر کے خلاف کارروائی کی درخواست دے دی ہے جس پر کاروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔
حکومت اور اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ پیسکو کے آڈٹ اور بلنگ کے فرسودہ نظام کی مکمل اصلاح کریں تاکہ آئندہ کسی اور غریب کا بوڑھا باپ اس بے حسی کی بھیٹ نہ چڑھے۔

08/09/2026

إنا لله وإنا إليه راجعون 😭
انتہائی شرمناک، افسوسناک سانحہ
کالے ڈالوں میں سوار درندہ صفت خبیث فرعونوں کی جانب سے بدترین تشدد کا نشانہ بننے والے یہ انسان کوئی اور نہیں پوری قوم کے لیے انتہائی قابلِ احترام استاد، اسلامک اسکالر، ڈین اینڈ چیئرمین آف اسلامک لرننگ ڈیپارٹمنٹ کراچی یونیورسٹی محترم ڈاکٹر عارف ساقی صاحب ہیں. جنہیں فقط اتنا کہنے پر بندوقوں کے بٹ مار مار کر سر تاپا لہولہان کردیا گیا اور گھنٹوں حبس بے جا میں محبوس رکھ کر مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا کہ انہوں نے ایک غریب مزدور پیشہ شخص کے نقصان پر آواز اٹھائی، ..
خدا کی قسم.... اس زمین سے برکتیں اور اللہ کی رحمتیں اٹھنے کی تمام نشانیاں ہمارے ہی دور میں آئے روز دکھائی دے رہی ہیں.. اور یہ سب کچھ دیکھنا، سہنا، جاننا انتہائی کرب ناک، اذیت ناک ہوچکا ہے..
کسی بھی معاشرے کے زوال کی آخری انتہا یہی ہے کہ وہاں علماء و اساتذہ کی بے توقیری برسرِ عام کی جائے اور کسی کو کوئی فرق نہ پڑے..
یہ معاشرہ ظالم بے حس درندوں، وحشیوں کے ہاتھوں مکمل طور پر یرغمال بنایا جا چکا ہے. ان بھیڑیوں کے گلے میں پٹا ڈالنے والا کوئی مائی کا لعل نہیں.. کراچی کی تمام سڑکیں ان کالے ڈالوں کے لیے خالی کر دی جائیں کیونکہ یہ ساری شاہراہیں ان کے ابا حضور کی ہیں.. عام غریب عوام چھوٹی چھوٹی دو ٹکے کی سواریوں موٹر-سائیکلیں لیکر ان کا موڈ اور منظر خراب کرنے کے لیے ان کے سامنے نہ آیا کریں ورنہ اسی طرح کیڑے مکوڑوں حشرات الارض کی صورت میں کچلی جائیں گی.. عبرت کا نشان بنا دی جائیں گی.
کیا بالخصوص کراچی یونیورسٹی کے سینکڑوں اساتذہ اور ہزاروں طلباء اور ملک بھر کے لاکھوں کروڑوں تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد اپنے ایک موقر و محترم استاد پر درندگی کے ساتھ کیے گئے تشدد کے خلاف سراپا احتجاج ہوں گے؟ یا خاموشی سے اس معاملے کو بھی مٹی کے نیچے دبانے کی کوشش تیز ہوجائے گی..
چاہیے تو یہی ہے کہ جہاں جس حد تک پرامن احتجاج ریکارڈ کروایا جا سکتا ہے سوشل میڈیا کی صورت ہو یا الیکڑانک و پرنٹ میڈیا.. ہر ایک کو اس اندھیر نگری کے خلاف اپنی ہر قسم کی توانائی و صلاحیت کا استعمال کرنا لازم ہے وگرنہ اب تو یہی لگ رہا ہے کہ اس ملک میں عزت داروں، سفید پوشوں اور تعلیم و تدریس سے وابستہ افراد کا رہنا ناممکن بنایا جا چکا ہے..
اللہ تعالیٰ اس ملک اور یہاں کے باسیوں کا حامی و ناصر ہو.. آمین

08/09/2026

جامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی نے بتایا کہ آج (منگل 8 ستمبر کی) صبح وہ جامعہ کراچی جا رہے تھے۔

پروفیسر ساقی کے مطابق انہوں نے ایک آن لائن رائڈ بُک کی تھی۔ جب وہ صفورہ چوک کے موڑ پر پہنچے تو سندھ گرین ہوٹل کا گیٹ کھلا اور سیکیورٹی گارڈز نے ٹریفک روک دی۔ ڈرائیور نے گاڑی روک دی، لیکن اسی اثنا میں ہوٹل سے نکلنے والی ایک ٹویوٹا ریوو (جسے عام طور پر ڈالا کہا جاتا ہے) مبینہ طور پر تیزی سے پیچھے آئی اور پروفیسر ساقی کی گاڑی سے ٹکرا گئی۔

پروفیسر ساقی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریوو کے ڈرائیور سے ٹیکسی ڈرائیور کا نقصان پورا کرنے کو کہا، کیونکہ ٹیکسی ڈرائیور خود یہ اخراجات برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
ریوو ڈرائیور نے شروع میں یہ کہتے ہوئے رضامندی ظاہر کی کہ وہ اس معاملے کو دیکھ لیں گے۔
اس پر پروفیسر ساقی نے ان سے ان کا نام و رابطہ نمبر پوچھا تاکہ ٹیکسی ڈرائیور بعد میں ان سے رابطہ کر سکے۔

پروفیسر ساقی کے مطابق، اس بات پر ریوو کا ڈرائیور، جس کی شناخت انہوں نے سندھ گرین ہوٹل کے مالک کے طور پر کی ہے، طیش میں آ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس شخص نے انہیں گالیاں دیں اور بندوق سے مارا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہوٹل کے گارڈز بھی اس میں شامل ہو گئے اور وہ انہیں اور ٹیکسی ڈرائیور کو گھسیٹ کر ہوٹل کے دفتر میں لے گئے۔

پروفیسر ساقی کا کہنا ہے کہ دفتر کے اندر بھی مبینہ طور پر ان پر تشدد اور بدسلوکی جاری رہی، جہاں انہیں اور ڈرائیور کو کچھ دیر کے لیے ان کی مرضی کے خلاف قید رکھا گیا۔

بعد ازاں کینٹ کے علاقے کی پولیس موقع پر پہنچی اور دونوں زخمیوں کو سچل تھانے لے گئی۔

08/09/2026

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fk Studio posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share