10/10/2020
پرانے زمانے کے وقت کی بات ہے، بادشاہ نے گیدڑوں کی آوازیں سنیں تو صبح وزیر سے پوچھا یہ رات گیدڑ بہت شوروغل کر رہے تھے کیا وجہ ہے؟ وزیر عقل مند ہوتے تھے اس نے کہا جناب کھانے پینے کی چیزوں کی کمی کی وجہ سے فریاد کر رہے تھے تو حاکم وقت نے آڈر فرمایا انکابندوبست کیا جائے وزیر صاحب نے مال گھر بھجوایا دوستوں رشتے داروں میں تقسیم کروا دیا پھر رات کو وہی آوازیں آئیں، بادشاہ نے صبح وزیر صاحب سے فرمایا وہ کل آپ نے سامان بھجوایا نہیں تھا اس نے کہا جی بھجوایا تھا تو پھر شور کیوں؟ اس نے کہا جناب سردی کی وجہ سے شور کر رہے تھے، تو حاکم وقتنے آڈر فرمایا بستروں کا انتظام کیا جائے صبح موجیں لگ گئیں پھر حسب عادت اپنے گھر بھر دیئے، دوستوں کے بھر دیئے پھر رات آئی تو بدستور آوازیں آنا شروع ہو گئیں، بادشاہ نے غصہ فرما کر وزیر کو طلب فرمایا اور دریافت فرمایا کیا بستروں کا انتظام نہیں کیا گیا؟ وزیر نے عرض کی جناب وہ سب ھو
گیا تھا تو بادشاہ نے فرمایا پھر یہ شور کیوں ھے اب پاگل بادشاہ کو عقلمند وزیر نے مطمئن کرنا تھا، اوکے کی رپورٹ دینی تھی وزیر صاحب تھوڑی دیر باہر چلے گئے جی میں پتہ کرکے آتا ہوں واپس آئے تو مسکراہٹ لبوں پہ سجائے آداب عرض کیا عرض کی جناب یہ شور نہیں جناب کا شکریہ ادا کر رہے ہیں اورروزانہ کرتے رہیں گے
بادشاہ خوش ہوااور وزیر صاحب کو انعام سے نوازا
یہی حال ہمارے وقت کے بادشاہ کا ھے "مخلوقات بھوک سے، مہنگائی سے پریشان اور بدحال ہو چکی ہے مگر یہاں سب اوکے کی رپورٹ دی جا رہی ہے اور بادشاہ سلامت خوش ہیں بلکہ آئندہ پانچ سال کی خوشخبریاں پیش خدمت کی جا رہی ہیں۔۔۔