22/10/2024
کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہئے
جانانہ چاہئے در جانانہ چاہئے
ساغر کی آرزو ہے نہ پیمانہ چاہئے
بس اک نگاہ مرشد مے خانہ چاہئے
حاضر ہیں میرے جیب و گریباں کی دھجیاں
اب اور کیا تجھے دل دیوانہ چاہئے
عاشق نہ ہو تو حسن کا گھر بے چراغ ہے
لیلیٰ کو قیس شمع کو پروانہ چاہئے
پروردۂ کرم سے تو زیبا نہیں حجاب
مجھ خانہ زاد حسن سے پردا نہ چاہئے
شکوہ ہے کفر اہل محبت کے واسطے
ہر اک جفائے دوست پہ شکرانہ چاہئے
بادہ کشوں کو دیتے ہیں ساغر یہ پوچھ کر
کس کو زکوٰۃ نرگس مستانہ چاہئے
بیدمؔ نماز عشق یہی ہے خدا گواہ
ہر دم تصور رخ جانانہ چاہئے
کلام بیدم شاہ وارثی رحمت اللہ علیہ