11/08/2025
کیا یہ زندہ چھوڑنے کے قابل ہیں ایک ایسا کیس جس نے انسانیت کو بھی شرما دیا ۔۔ ذرا کیس کاجائزہ لیجئے۔
سیالکوٹ کا مضافاتی علاقہ ہے بھیکو چھور۔۔ یہاں ایک محنت کش کاشف گاؤں کے نمبردار کے ڈیرے پر نوکری کرتا ہے ۔۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں کہ اس کی بیوی کے نمبردار کے بیٹے کے ساتھ جنسی مراسم ہیں ۔۔ عینی شاہد بنی ان کی چھ سالہ بیٹی ام کلثوم ۔۔ جس نے ماں کو قابل اعتراض حالت میں نمبردار کے بیٹے کے ساتھ دیکھ لیا۔۔ ماں نے بیٹی کو دھمکایا کہ زبان بند رکھنی ہے ۔۔ نمبردار کے بیٹے ملک فاروق نے بھی بچی کو سمجھایا کہ بہت پیسے دونگا ۔۔ بس خاموش رہنا ہے ۔ ایک شک تھا۔۔ ایک بے چینی ۔۔ کسی بھی وقت ام کلثوم بھانڈا پھوڑ سکتی ہے ۔۔ بے چینی کے چند روز ہی گزرے ۔۔ چھ سالہ ام کلثوم اور بھائی تین سالہ وارث گھر سے غائب ہو گئے ۔۔ باپ اپنے بچوں کی تلاش کے لئے تھانےپہنچا۔۔۔ پیچھے سے خبرملی کہ بچوں کی لاشیں قبرستان کے قریب پڑی ہوئی ہیں ۔۔
سیالکوٹ پولیس نے فوری رسپانس دیا۔۔ ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد خود میدان میں اتر آئے ۔۔ اور پھر بارہ گھنٹے میں ملزم پکڑے گئے
مگر ذرا ٹھہریئے ۔۔ !
ماں ہی قاتل نکلی ۔۔۔ اپنے آشنا کے ساتھ مل کر واردات کا پروگرام بنایا۔۔ ورغلا کر ام کلثوم کو ویرانے میں لے گئی جہاں نمبردار کا بیٹا پہلے ہی موجود تھا۔۔ ام کلثوم کو اینٹیں مار کر قتل کر دیا گیا۔۔ تین سالہ وارث بھی ماں اور بہن کو جاتا دیکھ کر چھپ کر پیچھے آگیا ۔۔ جب بہن کو اینٹیں پڑتے دیکھیں تو رونے لگا۔۔ اب لازمی بات ہے اس نئے عینی شاہد کو بھی مرنا ہی تھا۔۔ پس ماں کی جسم کی بھوک نے اپنے ہی جسم کے ٹکڑے اینٹوں سے مسل ڈالے ۔۔ جہالت زدہ ان پڑھ معاشرے میں یہ نہیں معلوم تھا کہ فنگر پرنٹس ، ڈی این اے جیسی خرافات بھی ہیں ۔۔ قاتل سگی ماں آشنا سمیت حوالات میں ہے ۔۔ نمبردار پوری طاقت سے بیٹے کو چھڑوانے کے لئے تیار ہے۔۔ بدقسمت محنت کش بچوں کی قبروں کے سرہانے بیٹھا ہے ۔۔ ایک ماں اپنے ہی سگے بچے کیسے مار سکتی ہے ۔۔ !!