Amer Yousaf Poetry

Call Directions Website Contact the establishment

Amer Yousaf Poetry خیالِ یار سے سیلابِ اشک ٹھہرے تو

The Art of CorrectionI held the well rope tightto guide the bucket downuntil it touched the waterbut could not drink.I l...
06/10/2026

The Art of Correction

I held the well rope tight
to guide the bucket down
until it touched the water
but could not drink.

I loosened my hand.

The rope found its own curve,
the bucket found the depth,
and the well gave back
the sky.

Perhaps love is like this
hold it too carefully,
and even water
forgets its thirst.

جو دل پہ گزری ہے، اس کو بھی کیا کہا جائےیہ دل بھی کس کا ہے، کس کو صدا کہا جائےمیں اپنے آپ کو تجھ میں تلاش کرتا رہاکہ کون...
01/10/2026

جو دل پہ گزری ہے، اس کو بھی کیا کہا جائے
یہ دل بھی کس کا ہے، کس کو صدا کہا جائے

میں اپنے آپ کو تجھ میں تلاش کرتا رہا
کہ کون مجھ میں ہے، مجھ سے جدا کہا جائے

یہ خاک پاؤں سے لپٹی ہے کس یقین کے ساتھ
اسے زمین کہیں یا دعا کہا جائے

وہ لب ہلے تو سکوتوں کا رنگ بدلے بھی
کہ ایک حرف سے صدیوں کو کیا کہا جائے

میں اس کے جسم کو دیکھوں تو صرف جسم نہ ہو
ہر ایک لمس کو اک التجا کہا جائے

جو ایک عمر سے سینے میں روشنی ہے کوئی
اسے چراغ کہیں یا خدا کہا جائے

بدن کی خوشبو میں اک راستہ سا کھلتا ہے
کہ اپنے آپ سے باہر بھی کیا کہا جائے

وہ بھوک جس نے کئی خواب کھا لیے چپ چاپ
اسی کو شہر کی کوئی صدا کہا جائے

یہ شہر شیشے کا ہے، لوگ روشنی جیسے
ہر ایک چہرے کو کس کا پتا کہا جائے

جو خامشی میں کسی درد کو جگہ دے دے
اب اس سکوت کو شاید دعا کہا جائے

میں عامرؔ، اس کو بناتا ہوں یا مجھے کوئی
یہ راز کس سے بھلا، بے صدا کہا جائے

گلاب ہاتھ میں رکھا، عذاب رکھتے ہیمیں اس کو چھو بھی نہ پایا، گلاب رکھتے ہیعجیب عشق تھا، رستہ بھی جسم سے گزرامگر یہ روح می...
29/09/2026

گلاب ہاتھ میں رکھا، عذاب رکھتے ہی
میں اس کو چھو بھی نہ پایا، گلاب رکھتے ہی

عجیب عشق تھا، رستہ بھی جسم سے گزرا
مگر یہ روح میں اترا نصاب رکھتے ہی

وہ ایک لمس کہ آنکھوں سے ہو گیا ممکن
میں دور رہ کے بھی اس کا حساب رکھتے ہی

وہ سامنے تھی تو خوشبو بدن سے آگے تھی
کہ کھل گیا کوئی معنی حجاب رکھتے ہی

میں اس کے ہاتھ کی مہندی کو دیکھتا ہی رہا
وہ رنگ بن گئی دل کا جواب رکھتے ہی

دوپٹہ کندھے پہ آ کے ذرا سا ٹھہرا تو
نظر نے سیکھ لیا کچھ حجاب رکھتے ہی

وہ ایک لمحہ جو گزرا ٹھہر کے آنکھوں میں
تمام عمر سے گزرا ہے خواب رکھتے ہی

وہ میرے پاس تھی، لیکن یہ فاصلہ بھی عجب
کہ حسن اور نکھر آیا حجاب رکھتے ہی

عجیب بات ہے، چھونا بھی اک فریب لگا
وہ پاس آ گئی آنکھوں میں خواب رکھتے ہی

نہ جانے لے چلے کس سمت عشق کا یہ سفر
قدم بھی رک گئے ہیں احتساب رکھتے ہی

یہ عشق جسم سے گزرا تو یوں لگا جیسے
کوئی چراغ جلے آفتاب رکھتے ہی

یوں عامرؔ اس کے بدن سے نظر جو آگے بڑھی
سخن وہ بن گیا دل کی کتاب رکھتے ہی

ہو مرگِ عشق تو یہ امتحاں نہیں ہوتانظر کے لمس کا اپنا جہاں نہیں ہوتاتری ہنسی سے ہی کھلتا ہے شام کا منظرکہ چاند ہو بھی تو ...
28/09/2026

ہو مرگِ عشق تو یہ امتحاں نہیں ہوتا
نظر کے لمس کا اپنا جہاں نہیں ہوتا

تری ہنسی سے ہی کھلتا ہے شام کا منظر
کہ چاند ہو بھی تو کھل کے عیاں نہیں ہوتا

یہ عشق کیا ہے کہ آنکھوں سے چھو لیا جائے
تو پھر کسی کا بھی ہونا گماں نہیں ہوتا

وہ ماں کی چادرِ شبنم، وہ گندمی سا بدن
ہو مجھ سے دور بھی دل بدگماں نہیں ہوتا

کنویں میں جھانک کے دیکھا تو موت یاد آئی
یہ عکس و راز تو ایسے نہاں نہیں ہوتا

یقیں نے ہاتھ بڑھایا تو دل نے پوچھا پھر
جو سامنے ہے، وہی آسماں نہیں ہوتا

جو لوگ روح پہ دیوار کھینچ دیتے ہیں
انہیں خبر ہے کہ دل بے زباں نہیں ہوتا

میں اپنے شہر میں خود کو تلاش کرتا ہوں
ہر ایک شخص یہاں مہرباں نہیں ہوتا

وہ ایک نام جو ہونٹوں پہ آ کے رک جائے
اس ایک نام سے بڑھ کر جہاں نہیں ہوتا

یہ عشق عامرؔ اگر زندگی کا نام ہے تو
یہ موت سے بھی کبھی بدگماں نہیں ہوتا

ہو بوجھ عشق کا، خود کو نکالنا بھی نہ ہوگرانا بھی نہ ہو جس کو سنبھالنا بھی نہ ہوتری صدا سے مرے اندر ایک گھر جاگااسے کسی ک...
26/09/2026

ہو بوجھ عشق کا، خود کو نکالنا بھی نہ ہو
گرانا بھی نہ ہو جس کو سنبھالنا بھی نہ ہو

تری صدا سے مرے اندر ایک گھر جاگا
اسے کسی کے لیے پھر اجالنا بھی نہ ہو

یہ کائنات بھی شاید کسی کا خواب نہیں
مگر پھر آنکھ سے اس کو نکالنا بھی نہ ہو

جو خاک پاؤں سے لپٹی ہے، وہ بھی بولتی ہے
سمجھ کے مٹی فقط اس کو ٹالنا بھی نہ ہو

میں اپنے آپ میں اترا تو تُو ہی تُو نکلا
سو اپنے آپ سے تجھ کو نکالنا بھی نہ ہو

یہ چاند، تارے، یہ مٹی، یہ جسم، یہ دنیا
کسی کو ایک ہی معنی میں ڈھالنا بھی نہ ہو

مرے سکوت میں اک شہر جاگتا ہے ابھی
اسے زبان کی صورت اجالنا بھی نہ ہو

جو ہاتھ روٹی کو ترسے، وہ ہاتھ چوموں میں
مگر یہ زخم ہی شعروں میں پالنا بھی نہ ہو

وطن کی خاک کو آنکھوں سے دور کیسے کروں
کہ اس کو تخت کی خاطر اچھالنا بھی نہ ہو

یوں عامرؔ اپنے ہی اندر کہاں سے ڈھونڈوں میں
خود اپنے آپ سے خود کو نکالنا بھی نہ ہو

کوئی نظر کبھی پنجرہ کبھی ہوا کر دےیہ عشق ہے کہ جو پتھر کو بھی خدا کر دےکبھی تو ایسا ہو، دریا پلٹ کے گھر آئےاور ایک پیاس ...
23/09/2026

کوئی نظر کبھی پنجرہ کبھی ہوا کر دے
یہ عشق ہے کہ جو پتھر کو بھی خدا کر دے

کبھی تو ایسا ہو، دریا پلٹ کے گھر آئے
اور ایک پیاس کو اپنی ہی انتہا کر دے

کبھی پرندہ سمندر میں گھر بنا لے تو
کوئی کنارا اسے پھر سے راستہ کر دے

کسی کی زلف سے باندھا ہوا ہوا کا سفر
پلٹ کے آئے تو موسم کو مبتلا کر دے

کسی کے نام سے پہلے اگر "جناب" گرے
تو آدمی کو فقط آدمی عطا کر دے

کسی جنازے میں بچہ ہنسے اچانک تو
یہ موت اپنے ہی مطلب کو کیا سے کیا کر دے

کسی پرانی گلی میں قدم نیا سا پڑے
تو راستہ بھی مسافر کو آشنا کر دے

کسی کی خوشبو تعاقب کرے ہوا ایسے
کہ پھول اپنے ہی ہونے کی انتہا کر دے

کسی کے ہاتھ میں رخصت کی ایک مٹھی ہو
تو فاصلہ بھی محبت کی انتہا کر دے

کسی ریاضی کے مسئلے میں عشق آ جائے
تو ایک جمع بھی دو دل کی ابتدا کر دے

پکارتا ہی رہے شہر نام سے عامرؔ
کوئی کرایہ مری ذات کا ادا کر دے

تری نگاہ سے اوجھل، یہیں کہیں میں ہوںمیں اس کے عشق میں کہتا ہوں، میں نہیں، میں ہوںوہ مجھ کو چھو کے گزرتی ہے جیسے وقت کوئی...
22/09/2026

تری نگاہ سے اوجھل، یہیں کہیں میں ہوں
میں اس کے عشق میں کہتا ہوں، میں نہیں، میں ہوں

وہ مجھ کو چھو کے گزرتی ہے جیسے وقت کوئی
اسی کے لمس کے آگے کہیں کہیں میں ہوں

ترے وجود کا امکان تھا مرے اندر
میں اس کے ہونے سے پہلے یہیں وہیں میں ہوں

تری ہتھیلی پہ ٹھہری ہوئی حنا کی طرح
بس ایک لمحۂ بے نام کا مکیں مَیں ہوں

جسے مَیں عشق سمجھتا تھا، وہ یقیں تھا مرا
جسے تُو عشق سمجھتا ہے، وہ نہیں، میں ہوں

ترے خیال کی حد سے نکل کے دیکھا تو
میں اپنی ذات کے باہر بھی اک یقیں، مَیں ہوں

میں وقت ہوں کہ ترے ساتھ رک گیا شاید
تو میرے ساتھ ہے، لیکن تری زمیں مَیں ہوں

تری نظر نے مجھے دیکھ کر جو نام دیا
اسی کے بعد سے خود میں کہیں کہیں مَیں ہوں

مری کتاب میں رکھا ہوا وہ خشک گلاب
اسے چھوا تو لگا، آج بھی حسیں میں ہوں

میں عامرؔ اس کے قریب آ کے خود کو بھول گیا
وہ پوچھتی ہے کہ تم کون ہو، قریں میں ہوں

تری نظر سے جو دیکھا تو یہ گماں نکلامیں اپنے آپ سے نکلا تو تُو کہاں نکلاترے بدن سے جو گزرا خیال کا موسمتو ایک لمس بھی صدی...
20/09/2026

تری نظر سے جو دیکھا تو یہ گماں نکلا
میں اپنے آپ سے نکلا تو تُو کہاں نکلا

ترے بدن سے جو گزرا خیال کا موسم
تو ایک لمس بھی صدیوں کا کارواں نکلا

میں اس کے سامنے خود کو چھپا رہا تھا مگر
وہ میری آنکھ سے پڑھتا ہوا بیاں نکلا

میں جس کو ہجر سمجھتا رہا وہ وصل ہوا
ترے بغیر بھی تیرا ہی اک نشاں نکلا

ترے خیال نے چھو کر مجھے بتایا ہے
بدن تو خاک تھا، اندر سے آسماں نکلا

میں اپنے نام کو دنیا کے بیچ رکھتا رہا
مٹا کے دیکھا تو آخر مرا نشاں نکلا

یہ جسم کس نے دیا تھا، یہ روح کس کی تھی
میں اپنے آپ سے نکلا تو پھر کہاں نکلا

ترے فراق نے مجھ کو عجیب شخص کیا
میں ٹوٹ کر بھی زمانے کا آسماں نکلا

یہ جسم شہر تھا، آباد بھی، مقید بھی
جو دل سے نکلا تو دیوارِ بے مکاں نکلا

وہ تخت، تاج، محل سب اسی کے کام آئے
مگر جو آدمی ڈھونڈا تو بے نشاں نکلا

عجیب شخص تھا، مجھ سے بچھڑ کے بھی عامرؔ
مرے خیال میں پہلے سے مہرباں نکلا

خواب مرتے ہی نہیں خواب کی تعبیر کے بعدہم ہی زندہ نہیں رہتے نئی تقدیر کے بعدلب پہ رکھا تھا ترا نام کہ جلنے لگے ہمعشق نکلا...
18/09/2026

خواب مرتے ہی نہیں خواب کی تعبیر کے بعد
ہم ہی زندہ نہیں رہتے نئی تقدیر کے بعد

لب پہ رکھا تھا ترا نام کہ جلنے لگے ہم
عشق نکلا ہی نہیں لفظ کی تاثیر کے بعد

ہم نے چھونا بھی نہیں تھا ترے ہونے کو کبھی
ہاتھ جلتے ہی رہے خواب کی تصویر کے بعد

تو نے زنجیر اتاری تو عجب وصل کھلا
پاؤں چلتے ہی نہیں اب تری زنجیر کے بعد

خط پہ بس نام ترا لکھ کے مٹا بھی نہ سکے
ہاتھ خوشبو سے بھرے تھے تری تصویر کے بعد

عشق میں ہم نے کوئی خط بھی نہیں لکھا تجھے
نام خود ہی نکل آیا مری تحریر کے بعد

ہونٹ صحرا تھے مگر ریت عجب ایسی تھی
ریت نے چوم لیا پیاس کی تعبیر کے بعد

خاک اڑتی رہی دروازۂ دل کے آگے
تو نہ آیا نہ ہی موسم کسی تدبیر کے بعد

زہر کا خالی پیالہ تھا مرے ہونٹوں پر
عشق پہچان لیا آخری تحریر کے بعد

ایک دریا تھا مرے پاس مگر سوکھ گیا
تیری آنکھوں میں اتر جانے کی تدبیر کے بعد

عامرؔ اس شہر کو کیا نام دیا جائے اب
عشق کیا رہ گیا اک شخص کی جاگیر کے بعد

قامتِ یار ہی بالشتِ جہاں ناپتے ہیںہم تری آنکھ میں اپنا ہی گماں ناپتے ہیںتری زلفوں کے اندھیرے میں اتر کر اکثرہم ستاروں کا...
15/09/2026

قامتِ یار ہی بالشتِ جہاں ناپتے ہیں
ہم تری آنکھ میں اپنا ہی گماں ناپتے ہیں

تری زلفوں کے اندھیرے میں اتر کر اکثر
ہم ستاروں کا بھی امکانِ نہاں ناپتے ہیں

تیری خاموشی بتاتی ہے کہ سچ کیا ہے یہاں
ہم صداؤں سے کہاں اہلِ زباں ناپتے ہیں

کوئی پوچھے تو کہیں گے کہ بہت خوش ہیں مگر
رات تنہائی میں آنکھوں کا دھواں ناپتے ہیں

تیری آنکھوں میں ہمیں اپنا ٹھکانہ ملتا
لوگ اس شہر میں گھر گھر کا مکاں ناپتے ہیں

عشق میں جیت بھی جائیں تو کہاں جیتے ہیں
ہم ترے بعد بھی جینے کا زیاں ناپتے ہیں

اپنی مرضی سے جو جیتا ہے، وہ تنہا کیوں ہے
لوگ آزادی کی قیمت بھی کہاں ناپتے ہیں

لوگ کردار بدلتے ہیں ضرورت کے لیے
ہم محبت میں بھی چہروں کا نشاں ناپتے ہیں

اپنی مرضی سے جو چلتے ہیں، وہ منزل سے پرے
اہلِ دنیا تو قدم سے ہی عناں ناپتے ہیں

ہم نے اک شخص میں اک عالمِ امکاں دیکھا
لوگ اک جسم میں بس جسمِ جواں ناپتے ہیں

دل نے ہر بار کہا، ذات کو آزاد کرو
ہم تری یاد کے ہاتھوں سے ہی جاں ناپتے ہیں

ہم نے عامرؔ یہ ترے عشق میں اتنا جانا
خود کو ناپیں تو نیا عہدِ زماں ناپتے ہیں

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amer Yousaf Poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Amer Yousaf Poetry:

Shortcuts

Share