Amer Yousaf Poetry

Amer Yousaf Poetry خیالِ یار سے سیلابِ اشک ٹھہرے تو

14/05/2026

یہ کس نے شہر کے ملبے پہ بانسری چھیڑی
اداس روح کے سب انتقام جلنے لگے

یہ کھلا دشت ہی خنجر بھی تو ہو سکتا ہےجبر موسم کا مقدر بھی تو ہو سکتا ہےخوف مٹی میں کہیں سانس بھی لیتا ہوگاریت کا شہر ہی ...
10/05/2026

یہ کھلا دشت ہی خنجر بھی تو ہو سکتا ہے
جبر موسم کا مقدر بھی تو ہو سکتا ہے

خوف مٹی میں کہیں سانس بھی لیتا ہوگا
ریت کا شہر ہی لشکر بھی تو ہو سکتا ہے

وہ جو چپ چاپ اندھیرے میں جلا رہتا ہے
کوئی جلتا ہوا پیکر بھی تو ہو سکتا ہے

میں تری یاد کو اس خوف سے چھوتا ہی نہیں
یہ مرے ہاتھ کا پتھر بھی تو ہو سکتا ہے

شاخِ بے برگ پہ خاموشی اتر آتی ہے
یہاں ہر خواب سمندر بھی تو ہو سکتا ہے

ایک معصوم سی تتلی کو پکڑ کر سوچا
یہ مرے خواب کا محور بھی تو ہو سکتا ہے

یہ جو خوشبو ہے، اسے قید نہ کر ہاتھوں میں
یہ کسی زخم کا پیکر بھی تو ہو سکتا ہے

تُو جسے ریت سمجھ کر ہی گزر جاتا ہے
وہ صداؤں کا سمندر بھی تو ہو سکتا ہے

جس کو دیوار سمجھتے ہیں حفاظت کے لیے
وہی رستہ کوئی اندر بھی تو ہو سکتا ہے

ایک کاغذ تھا جسے شہر نے قانون کہا
وہ کسی بھوکے کا بستر بھی تو ہو سکتا ہے

ہم نے بچوں کی ہنسی میں بھی دراڑیں دیکھیں
یہ کھلونا کوئی خنجر بھی تو ہو سکتا ہے

رات دیوار کے اندر بھی دھڑکتی ہے کہیں
یہ مکاں صرف نہ ہو، گھر بھی تو ہو سکتا ہے

یہ جو تو نے مجھے ترتیب دیا ہے اندر
عشق ہی اپنا قلندر بھی تو ہو سکتا ہے

عامرؔ اس شخص کو چھونے کی کسی خواہش میں
جسم یہ پورا ہی پتھر بھی تو ہو سکتا ہے

یہ جو ہم شاخ پہ اک اور شرر چاہتے ہیںخود کو جلنے کی نئی ایک خبر چاہتے ہیںاپنی مٹی سے بغاوت بھی ضروری ہے ہمیںہم سمندر ہیں ...
09/05/2026

یہ جو ہم شاخ پہ اک اور شرر چاہتے ہیں
خود کو جلنے کی نئی ایک خبر چاہتے ہیں

اپنی مٹی سے بغاوت بھی ضروری ہے ہمیں
ہم سمندر ہیں مگر خشک سفر چاہتے ہیں

اپنی آواز کو پتھر میں چھپا رکھا ہے
ہم بھی اب شہر میں جینے کا ہنر چاہتے ہیں

آگ بھی ہم سے خفا، خاک بھی ہم سے ناراض
ہم جو دونوں میں قیامت کا اثر چاہتے ہیں

تو نے آنکھوں کو نہیں، زہر کو آواز کیا
آئینہ تجھ سے فقط ایک نظر چاہتے ہیں

ایسی وحشت ہے کہ حرفوں کو دعا مان لیا
ہاتھ خالی ہیں مگر دیدہِ تر چاہتے ہیں

یہ تو وہ لوگ جنہیں چیخ بھی چھو پاتی نہیں
اور یہ لوگ ہیں دستار میں سر چاہتے ہیں

میں نے آئینہ بھی دیوار میں دفنا رکھا
آئینہ مجھ سے مرا حسنِ نظر چاہتے ہیں

یہ محبت ہے کہ درویشی، عقیدت کہ طلب
یعنی مر جائیں تو پھر لوگ ثمر چاہتے ہیں

ہم نے ہر زخم کو آئینۂ جاں لکھ ڈالا
جیسے اندھے کسی آیات کا در چاہتے ہیں

ہم نے آنکھوں کو بھی نیندوں سے بغاوت دے دی
اور کیا اہلِ محبت سے بشر چاہتے ہیں

ہم وہ تعبیر ہیں جو خواب بھی کھوئے عامرؔ
اور سبھی ہم سے ابھی اور سفر چاہتے ہیں

اپنی سی حقیقت کا قلندر نہ ملے گاہر شام کو سورج کا جلا سر نہ ملے گاجو خواب تمہیں رات کی وادی میں ملے ہیںدن کے کسی منظر می...
08/05/2026

اپنی سی حقیقت کا قلندر نہ ملے گا
ہر شام کو سورج کا جلا سر نہ ملے گا

جو خواب تمہیں رات کی وادی میں ملے ہیں
دن کے کسی منظر میں وہ منظر نہ ملے گا

تم وقت کے ساحل پہ اتر کر کبھی دیکھو
واپس کوئی گزرا ہوا منظر نہ ملے گا

یہ وقت سمیٹے ہوئے چادر سا بدن ہے
اپنا ہی یہاں سایہ برابر نہ ملے گا

یہ رات کسی اور کے حصے میں گئی ہے
تم تھک کے بھی بیٹھو گے تو بستر نہ ملے گا

دیوار نے سایے کو بھی پہچان لیا ہے
اب جسم کے ہونے کا کوئی ڈر نہ ملے گا

یہ گھر بھی پرندوں کی ہی ہجرت میں گیا ہے
جو لوٹ کے آؤ تو کوئی گھر نہ ملے گا

اس وقت نے سورج کی طرح باپ چھپایا
اب گھر میں کوئی پیڑ تناور نہ ملے گا

یہ شہر حقیقت سے بھی انکار میں ہے اب
جو جاگ کے دیکھو گے تو منظر نہ ملے گا

اک شخص مسلسل کسی دیوار میں چپ ہے
اب اس کو پکارو گے تو باہر نہ ملے گا

خاموش درختوں نے عدالت سی لگائی
اب دھوپ میں بیٹھا ہوا منبر نہ ملے گا

یہ شہر اگر پیڑ کو پتھر میں بدل دے
پھر ہاتھ میں بچوں کے بھی کنکر نہ ملے گا

یہ لوگ مقدس نہیں، اتنے بھی مقدس
ہر ہاتھ میں رکھا ہوا پتھر نہ ملے گا

بچوں نے کھلونوں کو بہت غور سے دیکھا
اب ان کی ہتھیلی میں کبوتر نہ ملے گا

یہ آخری سچ ہے کہ کوئی اپنا نہ ملے گا
عامرؔ وہ جو بچھڑا تو کہیں پر نہ ملے گا

چاند نکلے تو کوئی اور نظارا آئےدل یہی چاہے وہی شخص دوبارا آئےہم نے سانسوں میں بھی رکھا ہے ترا نام کہیںجانے کب وقت کے ہون...
07/05/2026

چاند نکلے تو کوئی اور نظارا آئے
دل یہی چاہے وہی شخص دوبارا آئے

ہم نے سانسوں میں بھی رکھا ہے ترا نام کہیں
جانے کب وقت کے ہونٹوں پہ کنارا آئے

رات کے دشت میں یادوں کے شجر جلتے ہیں
کوئی بارش کا مگر نرم اشارا آئے

وقت خاموش سا بہتا ہے شکستہ دل میں
کبھی ٹھہرے تو ترا عکس سہارا آئے

یاد بھی جسم نہیں، سایہ سا چلتی ہے کہیں
اور سایہ بھی ہمیں ہم سے ہی ہارا آئے

دل کی مٹی پہ عبادت کے نشاں بکھرے ہیں
اور سجدوں سے ہی اب تازہ خسارا آئے

میں نے اک پیڑ کو چپ چاپ دعا دی تھی کبھی
اس کے سائے میں مرا گھر ہی دوبارا آئے

ماں اگر ساتھ ہو تو خوف نہیں رہتا کہیں
جیسے آنکھوں میں کوئی ٹوٹا ستارا آئے

باپ مسجد میں پرانی سی اذاں ہوتا ہے
جیسے بچوں کے لیے چاند اتارا آئے

ہم نے دیکھا ہے دعاؤں کا سفر آنکھوں میں
میری آنکھوں میں وہی ہاتھ دوبارا آئے

ہم نے دنیا کو بہت دیر میں سمجھا عامرؔ
اور سمجھ آئی تو بس وقت گوارا آئے

دل کی وحشت کے لیے ایک زمانہ ٹھہرےاس کے امکان کو بھی ضد کا بہانہ ٹھہرےکوئی لمحہ تری آہٹ سے منور بھی نہ ہوکوئی موسم تری قر...
05/05/2026

دل کی وحشت کے لیے ایک زمانہ ٹھہرے
اس کے امکان کو بھی ضد کا بہانہ ٹھہرے

کوئی لمحہ تری آہٹ سے منور بھی نہ ہو
کوئی موسم تری قربت کا فسانہ ٹھہرے

کوئی آواز نہ ہو پھر بھی صدا قائم ہے
دل کے جلنے کا فقط ایک بہانہ ٹھہرے

چپ کے اندر بھی کوئی زخم سا جاگا تنہا
دل کے اندر بھی کوئی اور زمانہ ٹھہرے

ہجر بھی شاخِ جنوں، وصل بھی اک زہرِ سکوت
دل کے جنگل کو بھی اک خواب پرانا ٹھہرے

کوئی سمجھے تو مری بات کا مطلب نکلے
ورنہ کہنے کو فقط ایک فسانہ ٹھہرے

آنکھ میں ریت، سفر میں ہیں پرندوں کے نشان
اب کے موسم میں کوئی زخم پرانا ٹھہرے

میں اگر بھاگ بھی جاؤں تو کہاں جاؤں گا
میرے حصے میں وہی خالی زمانہ ٹھہرے

اپنی آنکھوں میں لیے پھرتے ہیں صحرا کی تپش
اب کے برسے تو بھی اک خشک زمانہ ٹھہرے

کیسے ممکن ہے بھلا کھوئے ہوؤں سے ملنا
ہم کو اے دشت تری خاک میں آنا ٹھہرے

ہجر قاتل بھی ہے اور وصل بھی ہے زہرِ سکوت
عشق بس ایک مسلسل سا بہانہ ٹھہرے

اب تو دکھ پھول کی خوشبو کی طرح پھیل گیا
اب کے وحشت میں بھی اک چپ سا زمانہ ٹھہرے

اپنے ہی زخموں سے پہچانا گیا ہوں عامرؔ
زخم جب اپنے ہی خنجر کا نشانہ ٹھہرے

تیری گلی کی شامِ ستم گر کا کیا کریںہم اپنے ہی ضمیر کے خنجر کا کیا کریںاک چاند تھا جو رات محبت میں مر گیااب اس ادھوری چان...
04/05/2026

تیری گلی کی شامِ ستم گر کا کیا کریں
ہم اپنے ہی ضمیر کے خنجر کا کیا کریں

اک چاند تھا جو رات محبت میں مر گیا
اب اس ادھوری چاندنی کے گھر کا کیا کریں

تیری ہتھیلیوں پہ ستارے بکھر گئے
ہم اس ادھورے لمس کے منظر کا کیا کریں

ہم نے ہی اپنے ہاتھ سے دیوار کھینچ لی
پھر اس کے بعد اپنے ہی پیکر کا کیا کریں

ہر شخص اپنے زخم کو چہرے پہ رکھ گیا
اس شہرِ بے قرار کے منظر کا کیا کریں

اک شخص تھا کہ لفظ میں دریا اتر گیا
اک لفظ ہی بچھڑ کے سمندر کا کیا کریں

ہم خود ہی اپنے آپ سے ہارے ہوئے ہیں لوگ
اب اپنے ہی وجود کے اندر کا کیا کریں

ہر فیصلہ یہاں پہ سزا بن کے رہ گیا
اس عدل کے تھکے ہوئے منظر کا کیا کریں

عامرؔ یہ زندگی بھی عجب فیصلوں میں ہے
ہر راستہ یہاں پہ مقدر کا کیا کریں

جب بھی یہ شام کسی اور ہی جنگل آئےہم اداسی میں ذرا اور بھی پاگل آئےرات تنہائی کی خاموشی میں یوں جاگی ہےجیسے صدیوں کے پڑے ...
03/05/2026

جب بھی یہ شام کسی اور ہی جنگل آئے
ہم اداسی میں ذرا اور بھی پاگل آئے

رات تنہائی کی خاموشی میں یوں جاگی ہے
جیسے صدیوں کے پڑے زخم سے بیکل آئے

دل کی بستی میں ابھی شور سا اٹھا ہوا ہے
کبھی بادل کبھی بیکل کبھی جنگل آئے

آنکھ خالی ہی رہی، پھر بھی یہ عادت سی ہے
ہر اداسی میں کسی یاد کا کاجل آئے

یوں ہی رہنے دو یہی ربط سا دل کا صاحب
دل میں وحشت ہی سہی، پھر بھی مسلسل آئے

ہم نے مانا کہ محبت بھی سمجھداری ہے
اور اسی بات کے اندر سے ہی جنگل آئے

کوئی خوشبو مرے حصے میں نہیں آئی تھی
میرے آنگن میں فقط خاک کے بادل آئے

یہ جو ہم لوگ ہیں نا، عشق کے اب دعوے دار
اپنے اندر ہی کسی خوف سے پاگل آئے

رات دریا سی اتر آئے جو دل کے اندر
تو کنارے پہ کوئی ڈوبتا کاجل آئے

یہ بھی ممکن ہے کہ ہم خود کو گنوا بیٹھے ہوں
یہ بھی ممکن ہے کہ پھر خود ہی مکمل آئے

یہ مرے دشت کی آنکھیں ہیں، سنبھل کر چھونا
ان پہ دستک بھی پڑے تو کئی بادل آئے

ہم نے ہر بار یہی سوچ کے دل رکھا ہے
کل بھی آیا تو وہی درد کا پل پل آئے

یہ جو احساس ہے نا، راستہ دیتا ہی نہیں
جیسے ہر سمت کوئی در سا مقفل آئے

ہم نے لکھا بھی ہے عامرؔ اسے کاغذ پہ مگر
کیا خبر لفظ کے اندر سے ہی جنگل آئے

جاگ جائیں تو گراں جانی بہت ہوتی ہےنیند میں بھی نئی حیرانی بہت ہوتی ہےدل اگر آگ ہے تو خود کو جلاتا ہی رہےچھونے والوں میں ...
02/05/2026

جاگ جائیں تو گراں جانی بہت ہوتی ہے
نیند میں بھی نئی حیرانی بہت ہوتی ہے

دل اگر آگ ہے تو خود کو جلاتا ہی رہے
چھونے والوں میں پشیمانی بہت ہوتی ہے

دل اگر آنکھ سے ٹپکے تو سمجھ آتا ہے
آگ سی چیز مگر پانی بہت ہوتی ہے

آسماں خود سے ہی خائف سا نظر آتا ہے
اس بلندی میں بھی ویرانی بہت ہوتی ہے

آسماں ٹوٹ کے گرتا ہے زمیں پر ہی مگر
خواب کے شہر میں حیرانی بہت ہوتی ہے

یہ محبت بھی اداسی کی طرح رہتی ہے
خوب صورت بھی پریشانی بہت ہوتی ہے

چاند دروازہ کھلا چھوڑ کے سو جاتا ہے
رات کے شہر میں ویرانی بہت ہوتی ہے

دل کو سمجھائیں تو بس اور بگڑ جاتا ہے
خود سے لڑنے میں بھی نادانی بہت ہوتی ہے

ہم نے جینا ہی یہاں سیکھ لیا ہے صاحب
عشق میں موت کی ارزانی بہت ہوتی ہے

لوگ کہتے ہیں محبت ہے عبادت لیکن
اس عبادت میں بھی قربانی بہت ہوتی ہے

عامرؔ، اب خود سے ملے ہیں تو یہ معلوم ہوا
آدمی ہونا ہی حیرانی بہت ہوتی ہے

کہاں یہ لوگ یہ دیر و حرم سمجھتے ہیںیہاں تو آدمی کو بھی رقم سمجھتے ہیںزمانہ چاہے انہیں احترام جتنا دےہم ان کے نام کو وہمِ...
01/05/2026

کہاں یہ لوگ یہ دیر و حرم سمجھتے ہیں
یہاں تو آدمی کو بھی رقم سمجھتے ہیں

زمانہ چاہے انہیں احترام جتنا دے
ہم ان کے نام کو وہمِ قلم سمجھتے ہیں

چراغ جلتے رہے اور ہوا مذاق رہی
ہم ایسی سازشِ فطرت کو کم سمجھتے ہیں

پتنگے روشنیوں کے عذاب سہتے رہے
سو ہم بھی عشق کو شب بھر ستم سمجھتے ہیں

ہم اپنے آپ سے الجھے ہوئے ہی اچھے ہیں
یہ اہلِ شہر ہمیں محترم سمجھتے ہیں

ہوا چلی تو سب در کھلے، کچھ بھی نہ تھا
ہم اس جلن کو ہی دل کا کرم سمجھتے ہیں

ہم اپنے آپ سے باہر نکل کے دیکھتے ہیں
تو کائنات کو اک چشمِ نم سمجھتے ہیں

غبارِ راہ ہی آنکھوں میں لے کے چلتے ہیں
ہم اس کو اپنی ہی مٹی کا نم سمجھتے ہیں

قدم قدم پہ جو مٹنا پڑے تو مٹ جائیں
کہ ہم فنا کو بقا کا قدم سمجھتے ہیں

ہمیں بھی روشنیوں نے اندھا کیا عامرؔ
یہ شہر زخموں کو اپنے کرم سمجھتے ہیں

جو ہم سفر سرِ دریا، وہ شام صحرا میںعجب نہیں کہ کریں گے خیام صحرا میںمحبتوں میں یہی فیصلہ تو ٹھہرا ہےکہ یا تو ساتھ چلیں ی...
30/04/2026

جو ہم سفر سرِ دریا، وہ شام صحرا میں
عجب نہیں کہ کریں گے خیام صحرا میں

محبتوں میں یہی فیصلہ تو ٹھہرا ہے
کہ یا تو ساتھ چلیں یا قیام صحرا میں

میں چل رہا ہوں مگر ریت مجھ سے چلتی ہے
عجب ہے ربط میں میرا خرام صحرا میں

وہ ایک شخص جو دریا تھا اپنی ذات میں کل
وہی تو ڈھونڈ رہا ہے دوام صحرا میں

یہ کیسی بزمِ محبت ہے اس خرابے میں
کہ ہنسنے والے بھی ہیں بے کلام صحرا میں

میں جس کو پانی سمجھتا تھا اپنی آنکھوں میں
وہ ریت بن کے گرا ہے تمام صحرا میں

ہوا نے اس کے بدن کو بھی لفظ کر ڈالا
اب اس کا نام بھی لکھا ہے خام صحرا میں

وہ ایک خواب جو دریا کے ساتھ آیا تھا
سو اب وہ چیخ رہا ہے تمام صحرا میں

میں اپنے آپ کو جب ڈھونڈنے نکلتا ہوں
تو کوئی اور ہی ملتا ہے کام صحرا میں

تمہارے بعد بھی کچھ دیر تک رہے گا اثر
یہاں بھی رہتا ہے اک خوش کلام صحرا میں

وہ عامرؔ آئے تھے جن کا کوئی نہیں ہوتا
سو چھوڑ آئے ہیں اپنا ہی نام صحرا میں

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amer Yousaf Poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Amer Yousaf Poetry:

Share