Bahria Law House

Bahria Law House Sardar Asfand yar Advocate Lahore High Court
Sumaira Hussain Advocate Lahore High Court
Sardar Khizar Hayat Dogar

Services for you

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: مقدمے میں نئی دفعات لگنے پر کیا پولیس ملزم کو فوراً گرفتار کر سکتی ہے؟لاہور ہائی کورٹ بہاو...
01/06/2026

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: مقدمے میں نئی دفعات لگنے پر کیا پولیس ملزم کو فوراً گرفتار کر سکتی ہے؟
لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کا ایک اہم قانونی فیصلہ سامنے آیا ہے، جس میں ضمانتِ قبل از گرفتاری (Pre-arrest Bail) اور پولیس کے اختیارات کے حوالے سے اہم اصول طے کیے گئے ہیں۔ اگر کسی ملزم کی ضمانت ہو چکی ہو اور بعد میں تفتیش کے دوران پولیس نئی یا سنگین دفعات کا اضافہ کر دے، تو قانون کیا کہتا ہے؟
کیس کا پس منظر:
محمد افضل نامی ایک مینیجر (منشی) پر اپنے مالک کے پٹرول پمپ کے بینک اکاؤنٹس سے ۲ کروڑ ۱۴ لاکھ روپے کا غبن کرنے اور چیک بک چوری کر کے جعلی دستخطوں سے رقم نکالنے کا الزام تھا۔ پولیس نے پہلے معمولی دفعہ (چوری) کے تحت پرچہ درج کیا، جس میں ملزم کو ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی۔ بعد میں تفتیش بدلنے پر پولیس نے دھوکہ دہی، امانت میں خیانت اور جلعسازی (408, 420, 468, 471 PPC) کی سنگین دفعات شامل کر دیں۔
سیشن کورٹ نے یہ کہہ کر ملزم کی دوبارہ ضمانت کی درخواست خارج کر دی تھی کہ "پہلے ہائی کورٹ ضمانت دے چکی ہے، ہم اس میں تبدیلی نہیں کر سکتے۔" معاملہ دوبارہ ہائی کورٹ پہنچا، جہاں معزز جج طارق سلیم شیخ نے درج ذیل اہم قانونی اصول (Ratio Decidendi) واضح کیے:
**فیصلے کے اہم قانونی نکات:**
1. **نئی دفعات پر پرانی ضمانت کا خاتمہ:** عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت ہمیشہ انھی دفعات (Sections) کے لیے ہوتی ہے جو ضمانت لیتے وقت مقدمے میں موجود ہوں۔ اگر پولیس بعد میں کوئی نئی یا زیادہ سنگین دفعہ شامل کرتی ہے، تو پرانی ضمانت کا تحفظ خودبخود نئی دفعات پر لاگو نہیں ہوتا۔
2. **پولیس فوراً گرفتار نہیں کر سکتی:** عدالت نے پولیس کے اختیارات کو لگام دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پرانی ضمانت نئی دفعات پر اثر انداز نہیں ہوتی، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پولیس اپنی مرضی سے ملزم کو فوراً گرفتار کر لے۔ اگر پولیس گرفتاری چاہتی ہے تو اسے پہلے عدالت سے رجوع کر کے ضمانت خارج کروانے کی اجازت لینا ہوگی۔ پولیس کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ بار بار نئی دفعات لگا کر عدالتی احکامات کا مذاق اڑائے۔
3. **دوبارہ ضمانت کی درخواست سیشن کورٹ میں قابلِ سماعت ہے:**
اگر مقدمے میں نئی دفعات شامل ہوں، تو ملزم ان نئی دفعات کے خلاف دوبارہ ضمانتِ قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کر سکتا ہے، اور سیشن کورٹ کا یہ کہنا غلط تھا کہ ان کے پاس اختیارِ سماعت نہیں ہے۔
4. **موجودہ کیس کا فیصلہ:** جہاں تک محمد افضل (ملزم) کے اپنے کیس کا تعلق تھا، عدالت نے اس کی ضمانت کی درخواست **خارج** کر دی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم پر بھروسے کا فائدہ اٹھا کر کروڑوں روپے کے بڑے مالیاتی غبن اور چیکوں میں جعل سازی کا سنگین الزام ہے، جس کی تفتیش اور برآمدگی کے لیے پولیس کو ملزم کی حراست درکار ہے، اور ملزم کے خلاف پولیس کی کوئی بدنیتی ثابت نہیں ہوئی
۔

زمین کی خرید و فروخت کا نیا ڈیجیٹل نظام متعارفپنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) نے زمین کی خرید و فروخت کو شفاف، محفوظ او...
29/05/2026

زمین کی خرید و فروخت کا نیا ڈیجیٹل نظام متعارف
پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) نے زمین کی خرید و فروخت کو شفاف، محفوظ اور آسان بنانے کیلئے نیا ڈیجیٹل طریقہ کار متعارف کرا دیا۔
نئے نظام کے تحت شہری اب آن لائن رجسٹریشن، زمین کی ملکیت کی جانچ، ڈیجیٹل تصدیق، ایگریمنٹ، آن لائن فیس ادائیگی اور ڈیجیٹل انتقال سمیت تمام مراحل مکمل کر سکیں گے۔
نئے نظام کے اہم مراحل
آن لائن رجسٹریشن
زمین اور ملکیت کی جانچ
بائیو میٹرک و ڈیجیٹل تصدیق
ای-ایگریمنٹ
آن لائن فیس و ٹیکس ادائیگی
ڈیجیٹل انتقالِ ملکیت
ڈیجیٹل سند کا اجرا
حکام کے مطابق اس جدید نظام سے جعلی دستاویزات، فراڈ اور غیر قانونی انتقالات کی روک تھام میں مدد ملے گی جبکہ شہریوں کو دفاتر کے غیر ضروری چکر بھی نہیں لگانا پڑیں گے۔ ڈیجیٹل پراپرٹی سسٹم کے ذریعے تمام ریکارڈ محفوظ، آن لائن قابلِ تصدیق اور 24 گھنٹے دستیاب ہوگا، جبکہ ہر مرحلے کی معلومات شہریوں کو SMS کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔

19/05/2026

PLD 2026 Supreme Court 238
آسان اردو ترجمہ اور مکمل تشریح
Supreme Court of Pakistan
یہ فیصلہ بچوں کی حوالگی (Custody) اور ان کے بہترین مفاد کے بارے میں سپریم کورٹ پاکستان کا ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ عدالت نے اس میں بچوں کے حقوق، ان کی رائے، ان کی ذہنی و جذباتی حالت، اور جدید دور کے تقاضوں کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔
فیصلے کا ابتدائی جملہ
عدالت نے کہا:
“بچے کل کے انسان نہیں بلکہ آج کے انسان ہیں، اس لیے ان کی بات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔”
یعنی بچے صرف مستقبل کا حصہ نہیں بلکہ آج بھی ان کے حقوق موجود ہیں اور ان کی بات اہم ہے۔
مقدمے کے مختصر حقائق
دو بچے تھے جن کی عمریں تقریباً 7 اور 8 سال تھیں۔
ماں نے بچوں کی کسٹڈی کے لیے عدالت میں درخواست دی۔
پہلے فیملی کورٹ نے ماں کی درخواست مسترد کر دی اور صرف ملاقات کا حق دیا۔
بعد میں اپیل میں ماں کو بچوں کی کسٹڈی دے دی گئی۔
باپ نے ہائی کورٹ میں اپیل کی لیکن وہ بھی خارج ہوگئی۔
پھر باپ سپریم کورٹ گیا۔
سپریم کورٹ نے بھی ماں کے حق میں فیصلہ برقرار رکھا۔
Review اور Child Justice
عدالت نے کہا:
عام طور پر Review Petition کا دائرہ محدود ہوتا ہے، لیکن اس کیس میں بچوں کے بنیادی حقوق شامل تھے، اس لیے عدالت نے دوبارہ معاملہ دیکھا۔
عدالت نے خاص طور پر:
UN Convention on the Rights of the Child 1989
کا حوالہ دیا۔
United Nations
Article 3 کیا کہتا ہے؟
ہر ایسے معاملے میں جس کا تعلق بچے سے ہو:
بچے کا بہترین مفاد سب سے پہلی ترجیح ہوگا۔
Article 12 کیا کہتا ہے؟
ہر بچے کو حق ہے کہ:
وہ اپنی رائے دے،
اس کی بات سنی جائے،
اور اس کی عمر اور سمجھ کے مطابق اس کی رائے کو اہمیت دی جائے۔
عدالت نے کہا پہلے بچوں کی بات نہیں سنی گئی
سپریم کورٹ نے کہا:
پہلے کی کارروائی میں بچوں کو بولنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا، جو کہ ایک بڑی کمی تھی۔
اس لیے سپریم کورٹ نے:
خود بچوں سے ملاقات کی،
ان سے بات کی،
ان کی ذہنی کیفیت دیکھی،
ان کی خواہشات سنیں۔
Guardians and Wards Act 1890 کی نئی تشریح
عدالت نے کہا:
یہ قانون انگریز دور کا ہے، اس وقت بچوں کو صرف بڑوں کی نگرانی کی چیز سمجھا جاتا تھا۔
لیکن اب دور بدل چکا ہے۔
اب عدالت کو:
جدید انسانی حقوق،
بچوں کے حقوق،
اور آئینی اصولوں
کے مطابق قانون کی تشریح کرنی ہوگی۔
“Welfare of Minor” کا جدید مطلب
پرانے وقت میں “فلاح” کا مطلب صرف:
کھانا،
کپڑے،
رہائش،
پیسے
سمجھا جاتا تھا۔
لیکن اب اس کا مطلب بہت وسیع ہے۔
اب عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا:
بچے کی ذہنی صحت،
نفسیاتی سکون،
جذباتی کیفیت،
تعلیمی ماحول،
معاشرتی ماحول،
ثقافتی ضروریات،
مستقبل،
جذباتی وابستگی،
اور اعتماد۔
عدالت نے کہا قانون “Living Law” ہے
عدالت نے کہا:
قانون کو مردہ لفظوں کی طرح نہیں پڑھا جا سکتا۔
بلکہ:
قانون وقت کے ساتھ evolve ہوتا ہے۔
اسی لیے 1890 کے قانون کو بھی آج کے بچوں کے حقوق کے مطابق پڑھا جائے گا۔
بچے کی آواز (Voice of Child)
عدالت نے کہا:
بچے کی بات سننا صرف Formality نہیں ہے۔
بلکہ:
یہ انصاف کا حصہ ہے،
بچے کی عزت کا حصہ ہے،
بچے کو اعتماد دیتا ہے۔
عدالت نے کہا:
بچے کی بات سننے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بات مانی جائے، بلکہ اس کے احساسات اور سوچ کو سمجھا جائے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکلز کا حوالہ
عدالت نے کہا کہ بچوں کے حقوق پاکستان کے آئین میں بھی موجود ہیں۔
Article 9
زندگی اور محفوظ زندگی کا حق
Article 14
انسانی عزت کا تحفظ
Article 25
قانون کے سامنے برابری
Article 34
بچوں اور ماؤں کا تحفظ
Child-Centered Justice کیا ہے؟
عدالت نے کہا:
ہر عدالت کو بچوں کے معاملات:
“Child-Centered Approach”
سے دیکھنے چاہئیں۔
یعنی:
بچے کو مرکز بنایا جائے،
اس کے جذبات کو اہمیت دی جائے،
اس کے مستقبل کو دیکھا جائے۔
عدالت نے بچوں سے کیسے بات کی؟
یہ حصہ بہت اہم ہے۔
عدالت نے بچوں کو ڈرایا نہیں۔
بلکہ:
آرام دہ ماحول دیا،
ان سے دوستانہ انداز میں بات کی،
ہاتھ ملایا،
نرم لہجہ اختیار کیا۔
تاکہ بچے خوف کے بغیر اپنی بات کر سکیں۔
بڑے بچے نے کیا کہا؟
بڑے بچے نے کہا:
وہ:
دونوں والدین کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔
عدالت نے کہا: یہ بچے کی جذباتی ضرورت ظاہر کرتا ہے۔
چھوٹے بچے کی حالت
چھوٹا بچہ developmental delay کا شکار تھا۔
یعنی:
اس کی ذہنی نشوونما سست تھی،
وہ مکمل طور پر اپنی بات نہیں بتا سکتا تھا۔
باپ کے دلائل
باپ نے کہا:
وہ بچوں کا ڈاکٹر ہے،
اس نے بچے کا علاج کروایا،
اس کے والدین بھی بچوں کے ساتھ رہتے ہیں،
گھر میں اچھا ماحول ہے۔
ماں کے دلائل
ماں نے کہا:
وہ بھی ڈاکٹر ہے،
بچوں کی تعلیم اور therapy کا خیال رکھ رہی ہے،
بچے اچھے اسکول میں پڑھ رہے ہیں،
خاص بچے کی therapy لاہور میں ہو رہی ہے۔
عدالت نے Working Mother کے بارے میں اہم بات کی
عدالت نے کہا:
صرف اس وجہ سے کہ ماں نوکری کرتی ہے:
اسے نااہل نہیں کہا جا سکتا۔
بلکہ:
ایک محنتی ماں،
ذمہ دار ماں،
تعلیم یافتہ ماں
بھی بہترین سرپرست ہو سکتی ہے۔
عدالت نے کہا: ماں کی نوکری اس کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی۔
عدالت نے کس چیز کو زیادہ اہم سمجھا؟
عدالت نے دیکھا:
بچے کہاں emotionally stable ہیں؟
کہاں ان کی تعلیم بہتر چل رہی ہے؟
کہاں therapy جاری ہے؟
کون زیادہ وقت دے سکتا ہے؟
کس ماحول میں بچے زیادہ محفوظ ہیں؟
عدالت کا اہم مشاہدہ
عدالت نے کہا:
باپ:
دوبارہ شادی کر چکا ہے،
ایک اور بچہ بھی ہے،
دن بھر اسپتال میں مصروف رہتا ہے،
شام میں بھی پرائیویٹ پریکٹس کرتا ہے۔
اس لیے وہ گھر میں کم وقت دے سکتا ہے۔
عدالت نے ماں کے بارے میں کیا کہا؟
عدالت نے کہا:
ماں:
بچوں کی مستقل دیکھ بھال کر رہی ہے،
جذباتی سپورٹ دے رہی ہے،
خاص بچے کی therapy کروا رہی ہے،
بچوں کو محفوظ ماحول دے رہی ہے۔
عدالت کا اہم جملہ
عدالت نے کہا:
ماں جیسی جذباتی توجہ، مستقل محبت، اور حفاظتی ماحول کوئی دوسرا مکمل طور پر فراہم نہیں کر سکتا۔
ADR / Mediation کے بارے میں عدالت کی رائے
عدالت نے کہا:
بچوں کے کیسز میں:
لڑائی،
سخت عدالتی ماحول،
لمبی مقدمہ بازی
بچوں کو ذہنی نقصان پہنچاتی ہے۔
اس لیے:
Mediation (صلح)
اور
ADR
کو ترجیح دینی چاہیے۔
عدالت کی تمام فیملی کورٹس کو ہدایت
عدالت نے کہا:
اب ہر:
Family Court،
Guardian Court،
District Judge
پر لازم ہے کہ:
✔ بچے کی بات سنے
✔ بچے کے جذبات سمجھے
✔ بچے کے بہترین مفاد کو ترجیح دے
✔ Child-Friendly ماحول بنائے
آخری فیصلہ
سپریم کورٹ نے کہا:
بچوں کی کسٹڈی ماں کے پاس رہے گی۔
باپ کو ملاقات کا حق حاصل رہے گا۔
اگر مستقبل میں حالات بدل جائیں تو باپ دوبارہ درخواست دے سکتا ہے۔
اس فیصلے کے اہم قانونی اصول
اہم Points
✔ بچے کی فلاح سب سے اہم اصول ہے
✔ بچے کی رائے ضروری ہے
✔ بچے کو حقوق رکھنے والا فرد سمجھا جائے گا
✔ ماں کی نوکری اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی
✔ عدالت صرف پیسے نہیں بلکہ جذبات بھی دیکھے گی
✔ Special Child کی خصوصی ضروریات اہم ہیں
✔ Guardians and Wards Act 1890 کو جدید انداز میں پڑھا جائے گا
✔ عدالتوں کو Child-Friendly ہونا ہوگا
سب سے آسان خلاصہ
یہ فیصلہ کہتا ہے:
بچے کی کسٹڈی صرف ماں یا باپ کے حق کی لڑائی نہیں بلکہ بچے کے مستقبل، خوشی، ذہنی سکون اور بہترین زندگی کا معاملہ

➡️OBU EquivalencyGetting Oxford Brookes University (OBU) BSc Hons Degree Equivalency- Whole Process1. Create an account ...
16/05/2026

➡️OBU Equivalency
Getting Oxford Brookes University (OBU) BSc Hons Degree Equivalency- Whole Process

1. Create an account using your CNIC number on the HEC E-Services Portal.
2. Apply for Foreign Degree Equivalence.
3. Fill Degree Details Carefully:
Qualification Level: Bachelor/BS (16 Years)
Year: (Your RAP passing year)
Degree Title: BSc (Honours) in Applied Accounting
University: Oxford Brookes University
Country: UK
Start Date: Enter a date 4 years before your RAP passing date
(Example: RAP passed in Sept 2025 → Start Date: Sept 2021)
End Date: RAP passing date
Duration of Study: 48 months
4. Upload Required Documents:
OBU Degree Certificate
OBU Transcript
ACCA Transcript
Matric Certificate & Mark Sheet
Intermediate Certificate & Mark Sheet
CNIC (Front & Back)
5. Pay Fee online via HEC portal (PKR 5,010)
6. Mandatory Verification Step (IMPORTANT)
Email [email protected] and request them to send your degree verification directly to: [email protected]
Also request them to CC you in the email.
Include in your email:
ACCA Registration Number
HEC Foreign Degree Equivalence Application Number
7. HEC verifies your degree after receiving confirmation from Oxford Brookes University.
8. After verification, HEC issues your equivalence certificate in the portal to download.
Timeline: Around 6 weeks in my case (may vary depending on verification speed).. Sharing the complete and accurate process:
1. Create an account using your CNIC number on the HEC E-Services Portal.
2. Apply for Foreign Degree Equivalence.
3. Fill Degree Details Carefully:
Qualification Level: Bachelor/BS (16 Years)
Year: (Your RAP passing year)
Degree Title: BSc (Honours) in Applied Accounting
University: Oxford Brookes University
Country: UK
Start Date: Enter a date 4 years before your RAP passing date
(Example: RAP passed in Sept 2025 → Start Date: Sept 2021)
End Date: RAP passing date
Duration of Study: 48 months
4. Upload Required Documents:
OBU Degree Certificate
OBU Transcript
ACCA Transcript
Matric Certificate & Mark Sheet
Intermediate Certificate & Mark Sheet
CNIC (Front & Back)
5. Pay Fee online via HEC portal (PKR 5,010)
6. Mandatory Verification Step (IMPORTANT)
Email [email protected] and request them to send your degree verification directly to: [email protected]
Also request them to CC you in the email.
Include in your email:
ACCA Registration Number
HEC Foreign Degree Equivalence Application Number
7. HEC verifies your degree after receiving confirmation from Oxford Brookes University.
8. After verification, HEC issues your equivalence certificate in the portal to download.
Timeline: Around 6 weeks in my case (may vary depending on verification speed).



➡️OBU Equivalency
Getting Oxford Brookes University (OBU) BSc Hons Degree Equivalency- Whole Process

1. Create an account using your CNIC number on the HEC E-Services Portal.
2. Apply for Foreign Degree Equivalence.
3. Fill Degree Details Carefully:
Qualification Level: Bachelor/BS (16 Years)
Year: (Your RAP passing year)
Degree Title: BSc (Honours) in Applied Accounting
University: Oxford Brookes University
Country: UK
Start Date: Enter a date 4 years before your RAP passing date
(Example: RAP passed in Sept 2025 → Start Date: Sept 2021)
End Date: RAP passing date
Duration of Study: 48 months
4. Upload Required Documents:
OBU Degree Certificate
OBU Transcript
ACCA Transcript
Matric Certificate & Mark Sheet
Intermediate Certificate & Mark Sheet
CNIC (Front & Back)
5. Pay Fee online via HEC portal (PKR 5,010)
6. Mandatory Verification Step (IMPORTANT)
Email [email protected] and request them to send your degree verification directly to: [email protected]
Also request them to CC you in the email.
Include in your email:
ACCA Registration Number
HEC Foreign Degree Equivalence Application Number
7. HEC verifies your degree after receiving confirmation from Oxford Brookes University.
8. After verification, HEC issues your equivalence certificate in the portal to download.
Timeline: Around 6 weeks in my case (may vary depending on verification speed).. Sharing the complete and accurate process:
1. Create an account using your CNIC number on the HEC E-Services Portal.
2. Apply for Foreign Degree Equivalence.
3. Fill Degree Details Carefully:
Qualification Level: Bachelor/BS (16 Years)
Year: (Your RAP passing year)
Degree Title: BSc (Honours) in Applied Accounting
University: Oxford Brookes University
Country: UK
Start Date: Enter a date 4 years before your RAP passing date
(Example: RAP passed in Sept 2025 → Start Date: Sept 2021)
End Date: RAP passing date
Duration of Study: 48 months
4. Upload Required Documents:
OBU Degree Certificate
OBU Transcript
ACCA Transcript
Matric Certificate & Mark Sheet
Intermediate Certificate & Mark Sheet
CNIC (Front & Back)
5. Pay Fee online via HEC portal (PKR 5,010)
6. Mandatory Verification Step (IMPORTANT)
Email [email protected] and request them to send your degree verification directly to: [email protected]
Also request them to CC you in the email.
Include in your email:
ACCA Registration Number
HEC Foreign Degree Equivalence Application Number
7. HEC verifies your degree after receiving confirmation from Oxford Brookes University.
8. After verification, HEC issues your equivalence certificate in the portal to download.
Timeline: Around 6 weeks in my case (may vary depending on verification speed).

06/05/2026

اینڈرائیڈ فون کے خفیہ کوڈز: اب بن جائیں موبائل ماسٹر✨ فون کا مکمل ڈیٹا ختم (Full Reset) کریں ← #38552767
​✨ تمام ہارڈ ویئر ٹیسٹ ← # #0 # #
✨ فون کی مکمل معلومات ← # #4636 # #*
✨ موبائل آئی ایم ای آئی (IMEI) چیک کریں ← #06 #*
✨ ٹچ اسکرین ٹیسٹ ← # #2664 # #*
✨ فیکٹری ری سیٹ ← # #7780 # #*
✨ وائی فائی کی معلومات ← # #232339 # #*
✨ کیمرے کی تفصیلات ← # #34971539 # #*
✨ بلوٹوتھ ٹیسٹ ← # #232331 # #*
✨ وائبریشن اور لائٹس ٹیسٹ ← # #0842 # #*
✨ سافٹ ویئر ورژن ← # #1234 # #*
✨ فون کا مکمل ڈیٹا ختم (Full Reset) کریں ← #38552767
✨ جی پی ایس (GPS) معلومات ← # #1472365 # #*
✨ وائس کال فارورڈنگ ← # #8351 # #*
✨ وائی فائی میک ایڈریس ← # #232338 # #*
✨ سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر ورژن ← # #12580369 #*
✨ ورژن کی معلومات ← # #44336 # #*
✨ فیلڈ ٹیسٹ ← # #7262626 # #*
✨ وائس کال فارورڈنگ سیٹنگ ← # #8350 # #*

⚖️ COMPLETE CRIMINAL TRIAL PROCESSFrom FIR to Judgment | CrPC & Qanun-e-Shahadat_Facing a criminal case? Know the 8 key ...
04/05/2026

⚖️ COMPLETE CRIMINAL TRIAL PROCESS
From FIR to Judgment | CrPC & Qanun-e-Shahadat_

Facing a criminal case? Know the 8 key stages:

1. FIR- S.154 CrPC - Crime reported to police
2. Investigation & Challan- S.156/173 CrPC - Evidence collected, report filed in court
3. Supply of Copies- S.265-C CrPC - Accused gets documents to prepare defence
4. Framing of Charge - S.242/265 CrPC - Charges formally read to accused
5. Prosecution Evidence - Art.132 & 133 QSO - Witness statements + _Cross-exam_ [Most critical stage]
6. Defence Evidence - S.340(2) CrPC - Accused & defence witnesses
7. Final Arguments- Lawyers present case to judge
8. Judgment- S.366/367 CrPC - Acquittal or conviction announced

Key Rule: Cross-examination_ of prosecution witnesses often decides the case. Never take it lightly.

27/04/2026

1. ٹرائل کس سیکشن کے تحت لگتا ہے؟
فوجداری ٹرائل کا آغاز مختلف عدالتوں میں مختلف دفعات کے تحت ہوتا ہے:
​مجسٹریٹ کی عدالت میں ٹرائل: یہ دفعہ 241-A سے 250 CrPC کے تحت ہوتا ہے۔
​سیشن عدالت میں ٹرائل: یہ دفعہ 265-A سے 265-N CrPC کے تحت ہوتا ہے۔
​جب پولیس دفعہ 173 CrPC کے تحت چالان (چاہے وہ مکمل ہو یا نامکمل) عدالت میں پیش کر دیتی ہے اور عدالت اس کا نوٹس (Cognizance) لے لیتی ہے، تو ٹرائل کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
​2. کیا ٹرائل کے دوران تفتیش ہو سکتی ہے؟
​جی ہاں، ٹرائل شروع ہونے کے بعد بھی تفتیش جاری رہ سکتی ہے۔ قانون کی نظر میں چالان پیش کرنا تفتیش کے دروازے بند نہیں کرتا۔
​دفعہ 173(8) CrPC: یہ دفعہ پولیس کو اختیار دیتی ہے کہ چالان جمع کروانے کے بعد بھی اگر کوئی نیا ثبوت یا گواہ سامنے آئے، تو وہ مزید تفتیش (Further Investigation) کر سکتی ہے۔
​سپلیمنٹری چالان (بقیہ چالان): مزید تفتیش کے نتیجے میں پولیس جو نئی رپورٹ تیار کرتی ہے، اسے "بقیہ چالان" کہا جاتا ہے اور اسے ٹرائل کے دوران کسی بھی وقت عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
​3. تفتیش کب تک ہو سکتی ہے؟ (حدود و قیود)
​تفتیش کے حوالے سے وقت کی کوئی آخری حد مقرر نہیں ہے، لیکن اس کے لیے کچھ اصول ہیں:
​فیصلے سے پہلے تک: قانونی طور پر تفتیش اس وقت تک جاری رہ سکتی ہے جب تک عدالت اپنا حتمی فیصلہ (Judgment) نہ سنا دے۔
​عدالت کی اجازت: جب ٹرائل باقاعدہ شروع ہو چکا ہو، تو عام طور پر پولیس عدالت کو مطلع کرتی ہے کہ ہم مزید تفتیش کر رہے ہیں۔
​دوبارہ تفتیش (Re-investigation) بمقابلہ مزید تفتیش (Further Investigation): اعلیٰ عدالتوں (سپریم کورٹ) کے فیصلوں کے مطابق، پولیس "مزید تفتیش" تو کر سکتی ہے لیکن پورے کیس کی "دوبارہ تفتیش" (نئے سرے سے) کرنے کے لیے ٹھوس وجوہات اور بعض اوقات اعلیٰ پولیس افسران یا عدالت کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
​4. اہم قانونی نظائر (Case Laws)
​PLD 2011 SC 616: سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چالان پیش ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تفتیش ختم ہو گئی۔ اگر نئے حقائق سامنے آئیں تو پولیس دفعہ 173(8) کے تحت مزید تفتیش کر کے اضافی ثبوت پیش کر سکتی ہے۔
​2002 SCMR 542: عدالت نے واضح کیا کہ ٹرائل کے دوران بھی اگر تفتیشی ایجنسی کو لگے کہ کوئی بے گناہ پھنس گیا ہے یا اصل ملزم باہر ہے، تو وہ تفتیش جاری رکھ سکتی ہے۔

عدالتِ عالیہ (High Court)
سپریم کورٹ جب کسی ٹرائل کو جلد مکمل کرنے کا حکم دیتی ہے، تو اس کے لیے مخصوص وقت کا تعین کیس کی نوعیت اور عدالتی حکم پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے عمومی قانونی اصول اور اہم فیصلوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. ٹرائل مکمل کرنے کی مدت
عام طور پر جب ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کو ہدایت جاری کرتی ہے، تو وہ درج ذیل میں سے کوئی ایک مدت مقرر کرتی ہے:
3 ماہ (90 دن): زیادہ تر سنگین مقدمات میں عدالت 3 ماہ کے اندر ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیتی ہے۔
6 ماہ: پیچیدہ مقدمات میں جہاں گواہان کی تعداد زیادہ ہو، 6 ماہ کا وقت دیا جاتا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر سماعت (Day-to-Day Basis): اگر کیس بہت پرانا ہو یا ملزم کافی عرصے سے جیل میں ہو، تو عدالت روزانہ سماعت کا حکم بھی دے سکتی ہے۔
2. قانونی دفعات (CrPC)
دفعہ 344 CrPC: یہ دفعہ ٹرائل کے التوا (Adjournment) سے متعلق ہے۔ اعلیٰ عدالتیں اکثر اس دفعہ کا حوالہ دیتی ہیں کہ ٹرائل میں بلاوجہ التوا نہ دیا جائے۔
آرٹیکل 10-A (آئینِ پاکستان): یہ ہر شہری کو "فیئر ٹرائل" اور جلد انصاف کا حق دیتا ہے۔
3. اہم عدالتی فیصلے (Judgments)
اعلیٰ عدالتوں نے بارہا ٹرائل کی مدت کے حوالے سے سخت احکامات جاری کیے ہیں:
الف: ٹرائل کی مدت اور ضمانت (2021 SCMR 651 - سپریم کورٹ)
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر ہائی کورٹ نے ٹرائل مکمل کرنے کے لیے کوئی وقت (مثلاً 4 ماہ) مقرر کیا تھا اور ٹرائل اس دوران مکمل نہیں ہوا، تو ملزم ضمانت (Bail) کے لیے دوبارہ رجوع کر سکتا ہے۔ عدالت نے اسے ملزم کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ب: روزانہ سماعت کا حکم (PLD 2017 SC 733)
سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ وہ مقدمات جو ہائی کورٹ کی طرف سے "ٹائم باؤنڈ" (Time Bound) کیے گئے ہوں، ان کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور ٹرائل جج کو بلاوجہ التوا نہیں دینا چاہیے۔
ج: ٹرائل جج کی ذمہ داری (2019 YLR 1242 - لاہور ہائی کورٹ)
لاہور ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اگر ٹرائل کورٹ ہائی کورٹ کے دیے گئے وقت کے اندر فیصلہ نہیں کر پاتی، تو ٹرائل جج کو ہائی کورٹ سے باقاعدہ "وقت میں توسیع" (Extension of Time) کی درخواست کرنی چاہیے، ورنہ اسے عدالتی حکم کی عدولی تصور کیا جا سکتا ہے۔
4. اگر ٹرائل مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو تو کیا کریں؟
اگر ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ٹرائل لیٹ ہو رہا ہو، تو آپ کے پاس یہ قانونی راستے موجود ہیں:
درخواست برائے تعمیلِ حکم (Implementation Petition): اسی ہائی کورٹ میں متفرق درخواست دائر کریں جس نے حکم دیا تھا، تاکہ ٹرائل کورٹ سے جواب طلبی کی جائے۔
ضمانت کی نئی بنیاد: اگر ملزم جیل میں ہے، تو وقت گزرنے کو "تازہ گراؤنڈ" (Fresh Ground) بنا کر دوبارہ ضمانت کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
توسیع کی مخالفت: اگر استغاثہ (Prosecution) تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے، تو عدالت سے ان کے گواہان کا حقِ شہادت ختم کرنے کی استدعا کی جا سکتی ہے۔
قانون میں کوئی ایک فکس مدت نہیں ہے، لیکن ہائی کورٹ کا حکم حتمی ہوتا ہے۔ عموماً 3 سے 6 ماہ کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر اس دوران ٹرائل مکمل نہ ہو، تو ملزم کو ضمانت ملنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں اور ٹرائل جج کو ہائی کورٹ میں جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔

26/04/2026

فوجداری قوانین (CrPC) میں حالیہ ترامیم (2024-25) کے بعد، ایف آئی آر (FIR) کے اندراج کے لیے اب پولیس کی اجارہ داری کافی حد تک کم ہو گئی ہے اور علاقہ مجسٹریٹ کو پہلے سے زیادہ بااختیار بنایا گیا ہے۔
نیچے ان نئی قانونی تبدیلیوں اور مجسٹریٹ کے اختیارات کی تفصیل دی گئی ہے:
1. مجسٹریٹ کے اختیارات میں نئی تبدیلیاں (Power of Magistrate)
پہلے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے شہریوں کو دفعہ 22-A/22-B کے تحت سیشن جج (جسٹس آف پیس) کے پاس جانا پڑتا تھا، جو کہ ایک طویل عمل تھا۔ اب نئی ترامیم کے تحت:
• براہِ راست مداخلت (Direct Intervention): مجسٹریٹ اب صرف ریمانڈ دینے والا جج نہیں رہا۔ اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لے، تو سائل سیکشن 156(3) اور سیکشن 190 کے تحت مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتا ہے۔
• حکمِ اندراجِ مقدمہ: مجسٹریٹ کے پاس اب یہ واضح اختیار ہے کہ وہ پولیس کو حکم دے کہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے اس کی نقل عدالت میں پیش کی جائے۔
• پولیس کی جواب طلبی: اگر پولیس 24 گھنٹے کی ٹائم لائن کے اندر اندراج نہیں کرتی، تو مجسٹریٹ متعلقہ ایس ایچ او (SHO) کو طلب کر کے اس کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے اعلیٰ حکام کو لکھ سکتا ہے۔
2. نئے قانون کی اہم ترامیم (2024-25)
نئے سسٹم کا مقصد "انصاف آپ کی دہلیز پر" کے تصور کو حقیقت بنانا ہے۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:
الف) ڈیجیٹل ایف آئی آر اور ٹائم لائن
• اب ہر درخواست کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اگر پولیس 24 گھنٹے کے اندر کوئی فیصلہ نہیں کرتی (یعنی پرچہ درج کرنا یا خارج کرنا)، تو سسٹم میں وہ درخواست خود بخود "Pending" ظاہر ہوتی ہے جس کا جواب ڈی پی او (DPO) کو دینا پڑتا ہے۔
ب) زیرو ایف آئی آر (Zero FIR)
• نئی ترمیم کے تحت کوئی بھی تھانہ یہ کہہ کر درخواست مسترد نہیں کر سکتا کہ "یہ علاقہ ہمارے پاس نہیں آتا"۔ انہیں پرچہ درج کرنا ہوگا (جسے زیرو ایف آئی آر کہتے ہیں) اور پھر اسے متعلقہ تھانے منتقل کرنا ہوگا۔
ج) پولیس افسر کے خلاف سزا (Section 166-A PPC)
• اگر کوئی پولیس افسر جان بوجھ کر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے یا تاخیر کرے، تو اسے تعزیراتِ پاکستان کے تحت قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ اس کارروائی کا آغاز کروا سکتا ہے۔
3. ایف آئی آر درج کروانے کا نیا طریقہ کار (Step-by-Step)
اگر آپ کا مقدمہ درج نہیں ہو رہا، تو آپ ان مراحل سے گزر سکتے ہیں:
1. پہلا مرحلہ: تھانے میں تحریری درخواست دیں اور ڈائری نمبر (Tag Number) حاصل کریں۔ یا پنجاب پولیس کی ایپ/خدمت مرکز پر آن لائن اپلائی کریں۔
2. دوسرا مرحلہ: اگر 24 گھنٹے میں پرچہ درج نہ ہو، تو ایک درخواست ایس ڈی پی او (SDPO/DSP) یا ڈی پی او (DPO) کو دیں۔
3. تیسرا مرحلہ (عدالتی راستہ): اگر پولیس پھر بھی کارروائی نہ کرے، تو اپنے وکیل کے ذریعے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دیں۔ مجسٹریٹ ریکارڈ طلب کرے گا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں پولیس کو پرچہ درج کرنے کا حکم جاری کرے گا۔

1. سیکشن 154 میں ترمیم (FIR کا ڈیجیٹل اور خودکار اندراج)
نئی ترمیم کے بعد اب ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا طریقہ کار صرف تھانیدار کی مرضی پر منحصر نہیں رہا:
• آن لائن اندراج: اب کوئی بھی شہری آن لائن پورٹل یا مخصوص ایپ کے ذریعے اطلاع دے سکتا ہے۔ اگر اطلاع قابلِ دست اندازی (Cognizable) جرم کی ہے، تو سسٹم اسے خودکار طریقے سے رجسٹر کرنے کا پابند ہے۔
• وقت کی پابندی: پولیس افسر اب ایف آئی آر درج کرنے میں غیر ضروری تاخیر نہیں کر سکتا۔ اگر وہ انکار کرے تو سسٹم میں اس کا اندراج "ڈیفالٹ" کے طور پر ظاہر ہوتا ہے جس کی جوابدہی اعلیٰ افسران کو کرنی پڑتی ہے۔
2. مجسٹریٹ کے اختیارات (سیکشن 190 اور 156 میں اضافہ)
2025 کی ترامیم میں مجسٹریٹ کو تھانے کے معاملات پر زیادہ کنٹرول دیا گیا ہے تاکہ 22-A اور 22-B کے بوجھ کو کم کیا جا سکے:
• براہِ راست حکمِ اندراج: اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے، تو سائل براہِ راست متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتا ہے۔ مجسٹریٹ کو اب یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے اور اس کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے (پہلے یہ اختیار زیادہ تر سیشن جج کے پاس 22-A کے تحت تھا)۔
• مداخلت کا اختیار: مجسٹریٹ اب صرف ریمانڈ دینے تک محدود نہیں، بلکہ وہ تفتیش کے معیار اور ایف آئی آر کے اندراج میں ہونے والی تاخیر پر پولیس افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کر سکتا ہے۔
3. زیرو ایف آئی آر (Zero FIR) کا تصور
نئی ترمیم میں یہ قانونی تحفظ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی جرم کسی دوسرے تھانے کی حدود میں ہوا ہے، تب بھی متعلقہ تھانہ اطلاع ملنے پر "زیرو ایف آئی آر" درج کرنے کا پابند ہے۔ بعد میں اسے متعلقہ تھانے منتقل کر دیا جائے گا، لیکن اندراج سے انکار جرم تصور ہوگا۔
خلاصہ: 2025 کی ترامیم کا مقصد
1. پولیس کی صوابدید کا خاتمہ: پولیس اب یہ نہیں کہہ سکتی کہ "پہلے انکوائری ہوگی پھر پرچہ ہوگا"۔ اگر جرم ہوا ہے تو پرچہ فوری درج کرنا لازمی ہے۔
2. مجسٹریٹ کی بااختیاری: عوام کو ہائی کورٹ یا سیشن کورٹ جانے کے بجائے مقامی مجسٹریٹ سے فوری ریلیف دلوانا۔
3. ٹیکنالوجی کا استعمال: انسانی مداخلت کم کر کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے اندراج کو یقینی بنانا۔
قانونی نکتہ: یہ ترامیم فی الحال پنجاب کی سطح پر "پنجاب کرمنل لا (ترمیمی) آرڈیننس/ایکٹ" کے ذریعے نافذ العمل کی جا رہی ہیں تاکہ نظامِ انصاف کو نچلی سطح پر تیز کیا جا سکے۔

1. فوری اندراج (Instant Registration)
• قابلِ دست اندازی جرائم (Cognizable Offenses): اگر جرم کی اطلاع واضح ہے اور وہ سنگین نوعیت کا ہے (جیسے ڈکیتی، قتل، اغوا یا زیادتی)، تو پولیس فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے۔ اس میں کسی قسم کی "ابتدائی انکوائری" کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔
2. 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن (The 24-Hour Rule)
• اگر اطلاع ملنے پر پولیس کو جرم کی نوعیت کے حوالے سے شک ہو یا معاملہ مالی لین دین (Civil nature) جیسا لگے، تو وہ ابتدائی تصدیق کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے بھی اب وقت مقرر ہے:
• زیادہ سے زیادہ وقت: اطلاع ملنے کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر پولیس کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پرچہ درج کرنا ہے یا اسے خارج کرنا ہے۔
• آن لائن درخواست: اگر درخواست "پنجاب پولیس ایپ" یا "خدمت مرکز" کے ذریعے دی گئی ہے، تو سسٹم خودکار طریقے سے وقت کا حساب رکھتا ہے (Time Stamping)۔
3. مجسٹریٹ کا حکم اور ٹائم لائن
• سیکشن 154 اور 156 کے تحت: اگر سائل مجسٹریٹ کے پاس جائے اور مجسٹریٹ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے (Direction for FIR)، تو پولیس کو عام طور پر 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر اندر کمپلائنس رپورٹ عدالت میں جمع کروانی ہوتی ہے۔
4. حساس جرائم کے لیے ترجیحی وقت
• خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم: ایسے مقدمات میں ٹائم لائنز مزید سخت ہیں۔ آئی جی پنجاب کی حالیہ ہدایات اور ترامیم کے مطابق، ایسے واقعات کی اطلاع ملتے ہی 1 سے 2 گھنٹوں کے اندر اندراج کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ میڈیکل یا دیگر شواہد ضائع نہ ہوں۔
اگر پولیس ٹائم لائن کی خلاف ورزی کرے تو کیا ہوگا؟
نئی ترامیم کے تحت اگر تھانہ مقررہ وقت میں پرچہ درج نہیں کرتا تو:
1. ڈیجیٹل الرٹ: پولیس کا انٹرنل مانیٹرنگ سسٹم (Dashboard) متعلقہ ڈی پی او (DPO) کو الرٹ بھیج دیتا ہے کہ درخواست "Pendency" میں چلی گئی ہے۔
2. سیکشن 166-A (PPC): اگر پولیس افسر جان بوجھ کر قانونی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج نہیں کرتا، تو اس کے خلاف مجرمانہ غفلت کی کارروائی ہو سکتی ہے جس میں قید اور جرمانہ شامل ہے۔

25/04/2026

یہ 7 ویب سائٹ انٹرنیٹ کی دنیا میں تحفہ سمجھی جاتی ہیں۔ یہ 7 تحفے آپ کو بہت سی آسانیوں سے نوازتے اور بہت سی مشکلات سے بچاتے بھی ہیں۔ آئیے آج ان 7 تحائف کی unboxing کرلیتے ہیں۔

1. Virus Total

اگر آپ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کسی بھی ذریعے سے موصول ہونے والی ڈیجیٹل فائل میں کوئی وائرس تو نہیں یا کیا آپ کے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ میں پڑی تمام فالز محفوظ ہیں؟ تو آپ اس ویب سائٹ پر جا کر اپنی فائل اپ لوڈ کریں تو یہ ویب سائٹ تفصیلی تجزیے کے ساتھ آپ کو خبردار کرے گی۔

2. Entertained

اگر آپ بناء تھکے یا بیزار ہوئے دلچسپ طریقے سے اپنی ٹائپنگ سپیڈ بہتر کرنا چاہتے ہیں تو یہ ویب سائٹ آپ کو مختلف دلچسپ ناولز پر ٹائپنگ کرتے ہوئے اپنی ٹائپنگ سپیڈ بہتر بنانے کا موقع دیتی ہے۔

3. Pwned

آپ کی جی میل ہیک تو نہیں ہوگئی ؟ آپ کی جی میل کا ڈیٹا لیک تو نہیں ہوگیا؟ آپ کی جی میل تک کسی خفیہ ہاتھ کو تو رسائی نہیں؟ ان سب سوالوں کے جواب مفت میں اس ویب سائٹ پر مل جائے گے۔ یہاں صرف اپنی جی میل آئی ڈی ٹائپ کریں اور یہ آپ کی جی میل کو چیک کرکے سیکنڈوں میں رپورٹ دے گی۔

4. Radio Garden

ایک ایسی دلچسپ ویب سائٹ جہاں آپ کو پوری دنیا کے تمام ممالک کے تمام شہروں اور علاقوں میں میں موجود FM ریڈیو سروس مفت میں مل جائے گی۔ آپ دنیا کے جس حصے پر ہاتھ رکھ کر اس علاقے کا کوئی بھی FM ریڈیو سننا چاہیں تو مفت میں سن سکتے ہیں۔

5. I Fix It

اس ویب سائٹ سے آپ اپنے موبائل یا لیپ ٹاپ کا کوئی بھی مسئلہ گھر بیٹھے خود ٹھیک کرنے سے متعلق مکمل رہنمائی مفت ملتی ہے۔

6. Security org

آپ کا سوشل میڈیا یا جی میل یا کوئی بھی پاسورڈ کتنا محفوظ ہے؟ وہ کتنی دیر میں ہیک ہوسکتا ہے؟ کیا اسے تبدیل کیے جانے کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ پاسورڈ کی مضبوطی کی تمام معلومات آپ کو اس ویب سائٹ پر مل جائے گی۔

7. Muscle Wiki

اگر آپ کو بھی پیٹ باہر نکلا ہوا ہے۔ بازوؤں اور ٹانگوں کی پتلی حالت دیکھ کر لوگ آپ کو کانگڑی پہلوان کہتے ہیں یا آپ ایک خاتون ہیں جس کا جسم غبارے کی طرح پھولا ہوا ہے اور بطور پرائیویٹ سکول ٹیچر بچوں کے ہوم ورک چیک کرنے کیلئے چہرہ نیچے کی جانب ایک پوزیشن پر رکھ رکھ کر گلا لٹک گیا ہے اور جم جا کر ورزش کرنا ایفورڈ نہیں کرسکتے یا میری طرح introvert ہیں تو گھر میں ورزش کرکے جسم طاقتور بنانے کیلئے یہ ویب سائٹ آپ کے بڑے کام آئے گی۔ اس میں جسم کے جس حصے کو آپ طاقتور بنانا یا ایک صحت مند جسامت دینا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی مکمل بصری اور عملی رہنمائی کرے گا۔ یہ ویب سائٹ مرد و خواتین دونوں کیلئے مفید ہے۔

Address

Sector C Chambli Block
Lahore

Telephone

+218913906329

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bahria Law House posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Bahria Law House:

Share