10/05/2026
بچے سے ہاتھ نہ ملانے پر مولانا طارق جمیل کی مخالفت میں ایک شور سا برپا ہے، لیکن لوگ شاید اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن سے ہاتھ ملانے، قریب آنے یا چند لمحے ساتھ گزارنے کی خواہش لاکھوں دلوں میں ہوتی ہے۔
مجھے بھی زندگی میں چند بڑی عوامی شخصیات کو قریب سے دیکھنے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ وہاں جا کر احساس ہوا کہ مسئلہ مزاج یا تکبر کا نہیں ہوتا، بلکہ اکثر یہ ایک عملی مجبوری بن جاتا ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے شاید یہ سمجھنا آسان نہ ہو کہ ہزاروں محبت کرنے والوں میں ہر ایک سے رک کر ہاتھ ملانا، گلے لگنا یا بات کرنا ممکن نہیں رہتا۔
پھر محبت کا اظہار بھی مختلف انداز رکھتا ہے۔ کوئی بار بار ہاتھ پکڑ لیتا ہے، کوئی جذبات میں لپٹ جاتا ہے، کوئی ہجوم کی صورت ٹوٹ پڑتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسی شخصیت ایک شخص سے تفصیل سے مل لے تو باقی لوگ بھی اسی امید میں آگے بڑھتے ہیں، پھر صورتحال قابو سے باہر ہو جاتی ہے۔
اس لیے اگر کوئی معروف دینی یا عوامی شخصیت کبھی فاصلے سے سلام کر لے، ہاتھ جوڑ دے یا مختصر انداز اختیار کرے تو فوراً اسے تکبر، نفرت یا بے رخی کا نام نہیں دینا چاہیے۔ اختلاف اپنی جگہ، مگر نیتوں کا فیصلہ اتنی جلدی نہیں کرنا چاہیے۔
خاص طور پر وہ لوگ جو خود “برداشت” اور “رواداری” کا درس دیتے ہیں، انہیں بھی ایسے مواقع پر تحمل، وسعتِ نظر اور معاف کرنے کا رویہ اپنانا چاہیے۔ ہر واقعے کو نفرت کا ایندھن بنانے کے بجائے انسانوں کی مجبوریوں کو بھی سمجھنا چاہیے
::