Yaseen sabir

Yaseen sabir hi dosto mera pag like zuror karna

06/10/2020

ایک ڈاکٹر تھے۔
اکثر ایسا ھوتا کہ وہ نسخے پر ڈسپنسر کے لیئے لکھتے
کہ اس مریض سے پیسے نہیں لینے۔
اور جب کبھی مریض پوچھتا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے پیسے کیوں نہیں لئیے؟
تو وہ کہتے کہ مجھے شرم آتی ھے۔
کہ جس کا نام ابوبکر ھو، عمر ھو، عثمان ھو، علی ھو یا خدیجہ، عائشہ اور فاطمہ ھو
تو میں اس سے پیسے لوں۔
ساری عمر انہوں نے خلفائے راشدینؓ، امہات المومنینؓ
اور بنات رسولﷺ کے ھم نام لوگوں سے پیسے نہ لیئے۔
یہ ان کی محبت اور ادب کا عجیب انداز تھا۔

امام احمد بن حنبل نہر پر وضو فرما رھے تھے
کہ ان کا شاگرد بھی وضوکرنے آن پہنچا،
لیکن فوراً ہی اٹھ کھڑا ھوا اور امام صاحب سے آگے جا کر بیٹھ گیا۔
پوچھنے پر کہا
کہ دل میں خیال آیا کہ میری طرف سے پانی بہہ کر آپ کی طرف آ رہا ھے۔
مجھے شرم آئی کہ استاد میرے مستعمل پانی سے وضو کرے۔

اپنے سگے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہﷺ نے پوچھا
کہ آپ بڑے ہیں یا میں؟
(عمر پوچھنا مقصود تھا)
کہا یارسول اللہﷺ بڑے تو آپ ھی ہیں البتہ عمر میری زیادہ ھے۔

مجدد الف ثانی رات کو سوتے ھوئے یہ احتیاط بھی کرتے
کہ پاؤں استاد کے گھر کی طرف نہ ھوں
اور بیت الخلا جاتے ھوئے یہ احتیاط کرتے
کہ جس قلم سے لکھ رہا ھوں اس کی کوئی سیاھی ہاتھ پر لگی نہ رہ جائے۔

ادب کا یہ انداز اسلامی تہذیب کا طرہ امتیاز رہا ھے
اور یہ کوئی برصغیر کے ساتھ ھی خاص نہ تھا
بلکہ جہاں جہاں بھی اسلام گیا اس کی تعلیمات کے زیر اثر ایسی ہی تہذیب پیدا ھوئی
جس میں بڑوں کے ادب کو خاص اھمیت حاصل تھی
کیوں کہ رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد سب کو یاد تھا
کہ جو بڑوں کا ادب نہیں کرتا اور چھوٹوں سے پیار نہیں کرتا وہ ھم میں سے نہیں۔

ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا
کہ لوگ ماں باپ کے برابر بیٹھنا،
ان کے آگے چلنا اور ان سے اونچا بولنا برا سمجھتے تھے
اور اُن کے حکم پر عمل کرنا اپنے لیے فخر جانتے تھے۔
اس کے صدقے اللہﷻ انہیں نوازتا بھی تھا۔
اسلامی معاشروں میں یہ بات مشہور تھی
کہ جو یہ چاہتا ھے کہ اللہﷻ اس کے رزق میں اضافہ کرے
وہ والدین کے ادب کا حق ادا کرے۔
اور جو یہ چاہتا ھے کہ اللہﷻ اس کے علم میں اضافہ کرے وہ استاد کا ادب کرے۔

ایک دوست کہتے ہیں کہ
میں نے بڑی مشقت سے پیسہ اکٹھا کر کے پلاٹ لیا تو والد صاحب نے کہا
کہ بیٹا تمہارا فلاں بھائی کمزور ھے
یہ پلاٹ اگر تم اسے دے دو تو میں تمہیں دعائیں دوں گا۔
حالانکہ وہ بھائی والدین کا نافرمان تھا۔
اس (دوست) کا کہنا ھے کہ
عقل نے تو بڑا سمجھایا کہ یہ کام کرنا حماقت ھے
مگر میں نے عقل سے کہا کہ اقبال نے کہا ھے،
اچھا ھے دل کے ساتھ رھے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے،
چنانچہ عقل کو تنہا چھوڑا اور وہ پلاٹ بھائی کو دے دیا۔
کہتے ہیں کہ والد صاحب بہت خوش ھوئے
اور انہی کی دعا کا صدقہ ھے کہ آج میرے کئی مکانات اور پلازے ہیں
جب کہ بھائی کا بس اسی پلاٹ پر ایک مکان ھے۔

والدین کی طرح
استاد کا ادب بھی اسلامی معاشروں کی ایک امتیازی خصوصیت تھی
اور اس کا تسلسل بھی صحابہؓ کے زمانے سے چلا آرہا تھا۔

حضور ﷺ کے چچا کے بیٹے ابن عباسؓ
کسی صحابی سے کوئی حدیث حاصل کر نے جاتے تو جا کر اس کے دروازے پر بیٹھ رہتے۔
اس کا دروازہ کھٹکھٹانا بھی ادب کے خلاف سمجھتے
اور جب وہ صحابیؓ خود ھی کسی کام سے باہر نکلتے
تو ان سے حدیث پوچھتے
اور اس دوران سخت گرمی میں پسینہ بہتا رہتا، لو چلتی رہتی
اور یہ برداشت کرتے رہتے۔
وہ صحابی شرمندہ ھوتے اور کہتے
کہ آپؓ تو رسول اللہﷺ کے چچا کے بیٹے ہیں آپ نے مجھے بلا لیا ھوتا
تو یہ کہتے کہ میں شاگرد بن کے آیا ھوں، آپ کا یہ حق تھا کہ میں آپ کا ادب کروں
اور اپنے کا م کے لیے آپ کو تنگ نہ کروں۔

کتنی ھی مدت ھمارے نظام تعلیم میں یہ رواج رہا
(بلکہ اسلامی مدارس میں آج بھی ھے)
کہ ہر مضمون کے استاد کا ایک کمرہ ھوتا، وہ وہیں بیٹھتا اور شاگرد خود چل کر وہاں پڑھنے آتے
جب کہ اب شاگرد کلاسوں میں بیٹھے رہتے ہیں
اور استاد سارا دن چل چل کر ان کے پاس جاتا ھے۔

مسلمان تہذیبوں میں یہ معاملہ صرف والدین اور استاد تک ھی محدود نہ تھا
بلکہ باقی رشتوں کے معاملے میں بھی ایسی ھی احتیاط کی جاتی تھی۔
وہاں چھوٹا، چھوٹا تھا اور بڑا، بڑا۔
چھوٹا عمر بڑھنے کے ساتھ بڑا نہیں بن جاتا تھا بلکہ چھوٹا ھی رہتا تھا۔

ابن عمرؓ جا رہے تھے کہ ایک بدو کو دیکھا۔
سواری سے اترے، بڑے ادب سے پیش آئے اور اس کو بہت سا ہدیہ دیا۔
کسی نے کہا کہ
یہ بدو ہے تھوڑے پہ بھی راضی ھو جاتا آپ نے اسے اتنا عطا کر دیا۔
فرمایا کہ یہ میرے والد صاحب کے پاس آیا کرتا تھا
تو مجھے شرم آئی کہ میں اس کا احترام نہ کروں۔

اسلامی تہذیب کمزور ھوئی تو بہت سی باتوں کی طرح حفظ مراتب کی یہ قدر بھی اپنی اھمیت کھو بیٹھی۔
اب برابر ی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اور بچے ماں باپ کے برابر کھڑے ھوگئے اور شاگرد استاد کے برابر۔
جس سے وہ سار ی خرابیاں در آئیں جو مغربی تہذیب میں موجود ہیں۔

اسلام اس مساوات کا ھرگز قائل نہیں کہ جس میں ابوبکرؓ اور ابوجہل برابر ھو جائیں۔
ابو بکرؓ ابوبکرؓ رہیں گے اور ابو جہل ابو جہل رھے گا۔
اسی طرح استاد، استاد رھے گا اور شاگرد، شاگرد۔
والد، والد رھے گا اور بیٹا، بیٹا۔
سب کا اپنا اپنا مقام اور اپنی اپنی جگہ ھے
اُن کو اُن کے مقام پر رکھنا اور اس کے لحاظ سے ادب و احترا م دینا ھی تہذیب کا حسن ھے۔

مغربی تہذیب کا مسلمان معاشروں پہ سب سے بڑا وار (شاید) اسی راستے سے ھوا ھے
جب کہ مسلمان عریانی اور فحاشی کو سمجھ رھے ہیں۔
عریانی اور فحاشی کا برا ھونا سب کو سمجھ میں آتا ھے
اس لیئے اس کے خلاف عمل کرنا آسان ھے
جب کہ حفظِ مراتب اور محبت کے آداب کی اھمیت کا سمجھ آنا مشکل ھے
اس لیئے یہ قدر تیزی سے رُو بہ زوال ھے۔

06/10/2020

ایک ڈاکٹر تھے۔
اکثر ایسا ھوتا کہ وہ نسخے پر ڈسپنسر کے لیئے لکھتے
کہ اس مریض سے پیسے نہیں لینے۔
اور جب کبھی مریض پوچھتا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے پیسے کیوں نہیں لئیے؟
تو وہ کہتے کہ مجھے شرم آتی ھے۔
کہ جس کا نام ابوبکر ھو، عمر ھو، عثمان ھو، علی ھو یا خدیجہ، عائشہ اور فاطمہ ھو
تو میں اس سے پیسے لوں۔
ساری عمر انہوں نے خلفائے راشدینؓ، امہات المومنینؓ
اور بنات رسولﷺ کے ھم نام لوگوں سے پیسے نہ لیئے۔
یہ ان کی محبت اور ادب کا عجیب انداز تھا۔

امام احمد بن حنبل نہر پر وضو فرما رھے تھے
کہ ان کا شاگرد بھی وضوکرنے آن پہنچا،
لیکن فوراً ہی اٹھ کھڑا ھوا اور امام صاحب سے آگے جا کر بیٹھ گیا۔
پوچھنے پر کہا
کہ دل میں خیال آیا کہ میری طرف سے پانی بہہ کر آپ کی طرف آ رہا ھے۔
مجھے شرم آئی کہ استاد میرے مستعمل پانی سے وضو کرے۔

اپنے سگے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہﷺ نے پوچھا
کہ آپ بڑے ہیں یا میں؟
(عمر پوچھنا مقصود تھا)
کہا یارسول اللہﷺ بڑے تو آپ ھی ہیں البتہ عمر میری زیادہ ھے۔

مجدد الف ثانی رات کو سوتے ھوئے یہ احتیاط بھی کرتے
کہ پاؤں استاد کے گھر کی طرف نہ ھوں
اور بیت الخلا جاتے ھوئے یہ احتیاط کرتے
کہ جس قلم سے لکھ رہا ھوں اس کی کوئی سیاھی ہاتھ پر لگی نہ رہ جائے۔

ادب کا یہ انداز اسلامی تہذیب کا طرہ امتیاز رہا ھے
اور یہ کوئی برصغیر کے ساتھ ھی خاص نہ تھا
بلکہ جہاں جہاں بھی اسلام گیا اس کی تعلیمات کے زیر اثر ایسی ہی تہذیب پیدا ھوئی
جس میں بڑوں کے ادب کو خاص اھمیت حاصل تھی
کیوں کہ رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد سب کو یاد تھا
کہ جو بڑوں کا ادب نہیں کرتا اور چھوٹوں سے پیار نہیں کرتا وہ ھم میں سے نہیں۔

ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا
کہ لوگ ماں باپ کے برابر بیٹھنا،
ان کے آگے چلنا اور ان سے اونچا بولنا برا سمجھتے تھے
اور اُن کے حکم پر عمل کرنا اپنے لیے فخر جانتے تھے۔
اس کے صدقے اللہﷻ انہیں نوازتا بھی تھا۔
اسلامی معاشروں میں یہ بات مشہور تھی
کہ جو یہ چاہتا ھے کہ اللہﷻ اس کے رزق میں اضافہ کرے
وہ والدین کے ادب کا حق ادا کرے۔
اور جو یہ چاہتا ھے کہ اللہﷻ اس کے علم میں اضافہ کرے وہ استاد کا ادب کرے۔

ایک دوست کہتے ہیں کہ
میں نے بڑی مشقت سے پیسہ اکٹھا کر کے پلاٹ لیا تو والد صاحب نے کہا
کہ بیٹا تمہارا فلاں بھائی کمزور ھے
یہ پلاٹ اگر تم اسے دے دو تو میں تمہیں دعائیں دوں گا۔
حالانکہ وہ بھائی والدین کا نافرمان تھا۔
اس (دوست) کا کہنا ھے کہ
عقل نے تو بڑا سمجھایا کہ یہ کام کرنا حماقت ھے
مگر میں نے عقل سے کہا کہ اقبال نے کہا ھے،
اچھا ھے دل کے ساتھ رھے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے،
چنانچہ عقل کو تنہا چھوڑا اور وہ پلاٹ بھائی کو دے دیا۔
کہتے ہیں کہ والد صاحب بہت خوش ھوئے
اور انہی کی دعا کا صدقہ ھے کہ آج میرے کئی مکانات اور پلازے ہیں
جب کہ بھائی کا بس اسی پلاٹ پر ایک مکان ھے۔

والدین کی طرح
استاد کا ادب بھی اسلامی معاشروں کی ایک امتیازی خصوصیت تھی
اور اس کا تسلسل بھی صحابہؓ کے زمانے سے چلا آرہا تھا۔

حضور ﷺ کے چچا کے بیٹے ابن عباسؓ
کسی صحابی سے کوئی حدیث حاصل کر نے جاتے تو جا کر اس کے دروازے پر بیٹھ رہتے۔
اس کا دروازہ کھٹکھٹانا بھی ادب کے خلاف سمجھتے
اور جب وہ صحابیؓ خود ھی کسی کام سے باہر نکلتے
تو ان سے حدیث پوچھتے
اور اس دوران سخت گرمی میں پسینہ بہتا رہتا، لو چلتی رہتی
اور یہ برداشت کرتے رہتے۔
وہ صحابی شرمندہ ھوتے اور کہتے
کہ آپؓ تو رسول اللہﷺ کے چچا کے بیٹے ہیں آپ نے مجھے بلا لیا ھوتا
تو یہ کہتے کہ میں شاگرد بن کے آیا ھوں، آپ کا یہ حق تھا کہ میں آپ کا ادب کروں
اور اپنے کا م کے لیے آپ کو تنگ نہ کروں۔

کتنی ھی مدت ھمارے نظام تعلیم میں یہ رواج رہا
(بلکہ اسلامی مدارس میں آج بھی ھے)
کہ ہر مضمون کے استاد کا ایک کمرہ ھوتا، وہ وہیں بیٹھتا اور شاگرد خود چل کر وہاں پڑھنے آتے
جب کہ اب شاگرد کلاسوں میں بیٹھے رہتے ہیں
اور استاد سارا دن چل چل کر ان کے پاس جاتا ھے۔

مسلمان تہذیبوں میں یہ معاملہ صرف والدین اور استاد تک ھی محدود نہ تھا
بلکہ باقی رشتوں کے معاملے میں بھی ایسی ھی احتیاط کی جاتی تھی۔
وہاں چھوٹا، چھوٹا تھا اور بڑا، بڑا۔
چھوٹا عمر بڑھنے کے ساتھ بڑا نہیں بن جاتا تھا بلکہ چھوٹا ھی رہتا تھا۔

ابن عمرؓ جا رہے تھے کہ ایک بدو کو دیکھا۔
سواری سے اترے، بڑے ادب سے پیش آئے اور اس کو بہت سا ہدیہ دیا۔
کسی نے کہا کہ
یہ بدو ہے تھوڑے پہ بھی راضی ھو جاتا آپ نے اسے اتنا عطا کر دیا۔
فرمایا کہ یہ میرے والد صاحب کے پاس آیا کرتا تھا
تو مجھے شرم آئی کہ میں اس کا احترام نہ کروں۔

اسلامی تہذیب کمزور ھوئی تو بہت سی باتوں کی طرح حفظ مراتب کی یہ قدر بھی اپنی اھمیت کھو بیٹھی۔
اب برابر ی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اور بچے ماں باپ کے برابر کھڑے ھوگئے اور شاگرد استاد کے برابر۔
جس سے وہ سار ی خرابیاں در آئیں جو مغربی تہذیب میں موجود ہیں۔

اسلام اس مساوات کا ھرگز قائل نہیں کہ جس میں ابوبکرؓ اور ابوجہل برابر ھو جائیں۔
ابو بکرؓ ابوبکرؓ رہیں گے اور ابو جہل ابو جہل رھے گا۔
اسی طرح استاد، استاد رھے گا اور شاگرد، شاگرد۔
والد، والد رھے گا اور بیٹا، بیٹا۔
سب کا اپنا اپنا مقام اور اپنی اپنی جگہ ھے
اُن کو اُن کے مقام پر رکھنا اور اس کے لحاظ سے ادب و احترا م دینا ھی تہذیب کا حسن ھے۔

مغربی تہذیب کا مسلمان معاشروں پہ سب سے بڑا وار (شاید) اسی راستے سے ھوا ھے
جب کہ مسلمان عریانی اور فحاشی کو سمجھ رھے ہیں۔
عریانی اور فحاشی کا برا ھونا سب کو سمجھ میں آتا ھے
اس لیئے اس کے خلاف عمل کرنا آسان ھے
جب کہ حفظِ مراتب اور محبت کے آداب کی اھمیت کا سمجھ آنا مشکل ھے
اس لیئے یہ قدر تیزی سے رُو بہ زوال ھے۔
Yaseen sabir

06/05/2020

" میں تم سے اور بچوں سے بے پناہ محبت کرتا ہوں، جانتا ہوں تم لوگ سخت حالات میں ہو، فاقے کاٹ رہے ہو، مگر میں یہاں بیٹھ کر کچھ نہیں کر سکتا. بس اتنا کر سکتا ہوں کہ کھانا پینا چھوڑ دوں تاکہ خود کو تمہارے ساتھ تو محسوس کروں ۔۔۔" 😭😭😭

یہ وہ خط تھا جس نے سینٹرل جیل کراچی کی انتظامیہ کو مشکل میں ڈال دیا. خط لکھنے والا قیدی بھوک ہڑتال کر چکا تھا۔ انتظامیہ کوشش کے باوجود بھوک ہڑتال ختم نہ کرا سکی تو اعلیٰ حکام کو مطلع کیا، جس کے بعد اس معاملے کی انکوائری ایک نوجوان پولیس افسر کے پاس آ گئی ۔۔۔

یہ قصہ پولیس افسر نے سنایا ۔۔۔ پولیس افسر کے مطابق ۔۔۔
میں نے خط پڑھا تو بے چین ہو گیا۔ فائل اپنے گھر لے گیا اور وہ خط اپنی اہلیہ کو دکھایا تو وہ رونے لگی۔
میں نے اس قیدی کی فائل پڑھی، وہ قیدی ڈکیتی کے الزام میں سزا بھگت رہا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جن کے گھر میں ڈکیتی ماری تھی انھوں نے مقدمہ کیا اور نہ تھانے آئے، سب کچھ سرکاری مدعیت میں ہوا اور ملزم کو سزا ہو گئی۔

میں اگلے ہی روز ملیر میں اس قیدی کے گھر چلا گیا۔ اس کی اہلیہ اور تین بچے ملیر کھوکھرا پار میں ایک کمرے کے ٹین کی چھت والے گھر میں رہتے تھے۔ صحن ایک کونے میں چولہا رکھ کے کچن اور دوسرے کونے میں چادر کے پیچھے بالٹی اور اینٹیں رکھ کے واش روم اور ٹوائلٹ بنایا گیا تھا۔
میں نے قیدی کی اہلیہ سے تفصیلات پوچھیں تو کہنے لگی کہ وہ گدھا گاڑی چلاتا تھا۔ کراچی کے خراب حالات کے دوران فائرنگ سے اس کا گدھا مر گیا۔ وہ کئی دن تک مزدوری ڈھونڈتا رہا مگر اسے کام نہ ملا۔ ادھر بچے بھوک سے بلک رہے تھے، محلے والے مدد کر رہے تھے مگر کب تک ۔۔۔
جب زیادہ تنگ ہوئے تو میں نے اسے کہا کہ کہیں سے بھی راشن لے کر آؤ ورنہ میں بچوں کو مار دوں گی۔ وہ خاموشی سے چلا گیا اور پھر شام کو اطلاع آئی کہ ڈکیتی مارتے ہوئے اسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ وہ ڈکیت نہیں ہے، اسے میں نے ڈاکو بنا دیا۔ خاتون روتے ہوئے بتا رہی تھی۔

اس گھر کی حالت خاتون کے بیان کی گواہی دے رہی تھی، میں وہاں سے نکل کے اس گھر میں گیا جس میں ڈکیتی ماری گئی تھی۔ انھوں نے جب تفصیلات بتائیں تو میرے ہوش اڑ گئے۔
انھوں نے بتایا کہ دوپہر کے وقت گھر میں خواتین تھیں، وہ شخص پستول کے ساتھ گھر میں داخل ہوا، اور خواتین کو ایک جانب جمع ہونے کا کہا۔ بزرگ خاتون خانہ نے کہا کہ کسی کو کچھ مت کہنا، زیور اور رقم اس الماری میں ہے، وہ لے لو۔ مگر اس نے کہا مجھے رقم نہیں چاہئے، میں بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا، اس لئے شور مت مچانا اور مجھے صرف یہ بتائیں کہ کچن کس طرف ہے، خاتونِ خانہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے حیرانی اور پریشانی سے اسے کچن بتایا۔ وہ شخص کچن میں گیا، ہم سے ایک چادر لی اور کچن میں موجود راشن چادر میں جمع کر کے روانہ ہو گیا۔ جاتے ہوئے ہم سے معذرت بھی کر کے گیا۔

خاتونِ خانہ نے کہا کہ ہم تو حیران رہ گئے تھے، اور خاموش ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک باہر شور ہوا۔ ہم نے پتا کیا تو معلوم ہوا کسی محلے والے نے مشکوک حالت میں چادر میں سامان سمیٹے اس گھر سے نکلتے دیکھا تو شور مچا دیا، جس پر محلے والوں نے اسے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس کے حوالے کر دیا۔ خاتون خانہ اور اس گھر کے مردوں کا کہنا تھا کہ طریقہ واردات اور صرف راشن چوری کرنے سے ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ شخص ضرورت مند ہے، اس لئے ہم نے اس شخص کے خلاف تھانے گئے اور نہ مقدمہ کرایا۔

میں نے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بلایا تو اس نے بتایا کہ محلے والے پکڑ کے لائے تھے، اس نے اعتراف بھی کیا کہ ڈاکہ مارا ہے اور اس کے پاس سے جو پستول برآمد ہوا وہ نقلی تھا۔ مقدمہ کرانے کوئی نہیں آیا تھا تو ہم نے سرکاری مدعیت میں مقدمہ عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے سزا دے دی۔

میں نے انکوائری رپورٹ تیار کی، ساتھ ہی اس گھرانے کے افراد کے بیان لگائے جن کے گھر ڈکیتی ہوئی تھی، اور تفصیل اعلیٰ حکام کو بھیج دی۔ مقدمہ عدالت میں دوبارہ چلا، اس شخص کو چند دن میں ہی ضمانت اور کچھ عرصے بعد رہائی مل گئی۔

وہ شخص رہا ہوا تو میں نے اسے کہا کہ آئندہ ایسی حرکت مت کرنا، اور اسے کچھ رقم دینے کی کوشش کی تو اس نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ مجھے کہیں مزدوری دلوا دیں۔
اب وہ شخص اپنے گھر کی قریبی پولیس چیک پوسٹ پر سویلین ملازم ہے۔

یہ ہڑتالیں اور لاک ڈاؤن کتنے گھر اجاڑتے ہیں، کتنے گھروں میں فاقے کراتے ہیں اور کتنے ڈاکو پیدا کرتے ہیں؟ اس کا اندازہ بےحس حکمران لگا سکتے ہیں اور نہ ہمارا عدالتی نظام۔“

منقول

14/02/2020

Modi ko Pakistani Bhai Ka munh tor jawab

31/10/2019
دوستو اچھا لگے تو پیج لایک لازمی کرنا
31/10/2019

دوستو اچھا لگے تو پیج لایک لازمی کرنا

بڑے بدنصیب ٹھہرے جو قرار تک نہ پہنچے۔درِ یار تک تو پہنچے، دلِ یار تک نہ پہنچے۔
29/10/2019

بڑے بدنصیب ٹھہرے جو قرار تک نہ پہنچے
۔
درِ یار تک تو پہنچے، دلِ یار تک نہ پہنچے۔

یہ لڑکی وزیر اعظم کی کرسی پر کس کی رضا مندی سے بیٹھی اتنا سخت سیکورٹی کہ کسی انسان کا اندر داخل ہونا مشکل ہی نھیں نا ممک...
23/10/2019

یہ لڑکی وزیر اعظم کی کرسی پر کس کی رضا مندی سے بیٹھی اتنا سخت سیکورٹی کہ کسی انسان کا اندر داخل ہونا مشکل ہی نھیں نا ممکن ھے اس تصویر پر اپنے تجربے کے حساب سے کمنٹ کریں

ساکوں شاکر جلدی بھل گیا اے۔۔۔۔اساں اجڑے ہاں اساں موۓ تاں نٸیں
22/10/2019

ساکوں شاکر جلدی بھل گیا اے۔۔۔۔
اساں اجڑے ہاں اساں موۓ تاں نٸیں

Kisi se alwida hona bahot mushkil dost
22/10/2019

Kisi se alwida hona bahot mushkil dost

Address

Kot Addu

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yaseen sabir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share