13/03/2026
عید کے بعد پاکستان میں سیاحت (Tourism) کا سیزن باقاعدہ طور پر شروع ہو جاتا ہے۔ اس دوران ملک کے مختلف خوبصورت علاقوں جیسے سوات، گلگت بلتستان، ہنزہ اور ناران کاغان کی طرف سیاحوں کا رخ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ جو لوگ گروپ کی صورت میں ٹورز پر جاتے ہیں وہ چند اہم ہدایات کو ضرور مدِنظر رکھیں تاکہ سفر محفوظ، قانونی اور خوشگوار رہے۔
سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ ہمیشہ کسی گورنمنٹ رجسٹرڈ ٹورازم کمپنی اور لائسنس یافتہ گائیڈ کے ساتھ ہی ٹور کریں۔ پاکستان میں سیاحت کے شعبے کو باقاعدہ قانون کے تحت منظم کیا گیا ہے اور اس کی نگرانی متعلقہ سرکاری ادارے کرتے ہیں، جیسے Department of Tourist Services Punjab اور Ministry of Tourism Pakistan۔ ان اداروں کے ساتھ رجسٹرڈ کمپنیاں ہی قانونی طور پر سیاحتی خدمات فراہم کر سکتی ہیں۔
غیر رجسٹرڈ یا غیر قانونی کمپنیوں کے ساتھ ٹور کرنا نہ صرف خطرناک ہو سکتا ہے بلکہ یہ قانونی طور پر بھی غلط ہے۔ اکثر غیر رجسٹرڈ آپریٹرز کے پاس نہ مناسب انتظامات ہوتے ہیں، نہ تربیت یافتہ گائیڈ اور نہ ہی مسافروں کے تحفظ کے لیے کوئی ذمہ داری۔ اس کے برعکس رجسٹرڈ کمپنیوں کے پاس تجربہ کار گائیڈز، بہتر ٹرانسپورٹ، رہائش کے معیاری انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار موجود ہوتے ہیں۔
مزید یہ کہ جب لوگ غیر رجسٹرڈ ٹور آپریٹرز کا انتخاب کرتے ہیں تو اس سے ان کمپنیوں کی حق تلفی ہوتی ہے جو باقاعدہ رجسٹریشن، ٹیکس اور سرکاری قوانین کی پابندی کرتی ہیں۔ ایک ذمہ دار اور اچھے شہری ہونے کے ناطے ہم سب کا فرض ہے کہ رجسٹرڈ کمپنیوں اور لائسنس یافتہ گائیڈز کو سپورٹ کریں تاکہ پاکستان میں سیاحت کا شعبہ محفوظ اور منظم طریقے سے ترقی کرے۔
اگر کسی کو کسی ٹور کمپنی کی رجسٹریشن کے بارے میں معلومات حاصل کرنی ہوں یا شکایت درج کروانی ہو تو وہ درج ذیل سرکاری دفاتر سے رابطہ کر سکتے ہیں:
لاہور آفس:
ڈیپارٹمنٹ آف ٹورسٹ سروسز، پنجاب حکومت
8-B فیصل ٹاؤن، لاہور
فون: 042-99232410
اسلام آباد آفس:
منسٹری آف ٹورازم
گرین بلڈنگ، ساتویں منزل، بلیو ایریا، اسلام آباد
فون: 051-9203772
آخر میں تمام سیاحوں سے گزارش ہے کہ سفر کے دوران قوانین کا احترام کریں، مقامی ثقافت اور ماحول کا خیال رکھیں اور ہمیشہ مستند ٹورازم کمپنیوں کے ساتھ ہی سفر کریں۔ اسی میں آپ کی حفاظت، سہولت اور ایک بہترین سیاحتی تجربہ پوشیدہ ہے۔