26/12/2020
غزل
وُہ ثمر تھا میری دُعاؤں کا اُسے کس نے اپنا بنا لیا
مِری آنکھ کس نےاُجاڑ دی ، مِرا خواب کس نےچُرا لیا
تجھے کیا بتائیں کہ دِلنشیں، تِرے عشق میں تِری یاد میں
کبھی گفتگو رہی پھول سے، کبھی چاند چھت پہ بُلا لیا
مجھے پہلے پہلے جو دیکھ کر تِرا حال تھا ، مجھے یاد ہے
کبھی جل گئیں تِری روٹیاں، کبھی ہاتھ تو نے جلا لیا
مِری جنگ کی وہی جیت تھی، مِری فتح کا وہی جشن تھا
میں گِرا تو دوڑ کے یار نے مجھے بازوؤں میں اٹھا لیا
مِری چاند چھونے کی حسرتیں، مِری خوشبو ہونے کی خواہشیں
تُو ملا تو دِل کو یقیں ہُوا، مجھے جو طلب تھی وہ پا لیا
مِرے دُشمنوں کی نظر میں بھی مِرا قد بڑا ہی رہا سدا
مِری ماں کی پیاری دُعاؤں نے مجھے ذِلّتوں سے بچا لیا
مِری ڈائری ، مِری شاعری جو پڑھی تو پڑھتے ہی رو پڑی
مِرے پاس آ کے کہا مجھے , بڑا روگ تُو نے لگا لیا
نہ مثال کوئی نہ مشورہ کہ یہ بات دِل کی ہے نیّرا !
جہاں اُس کا حکم ہُوا مجھے وہیں میں نے سر کو جُھکا لیا
مجموعہء کلام
(تمہارے ہو گئے ہیں ہم )
2009ء
شہباز نیّر
رحیم یار خان
wo Samar tha meri duaon ka usay Kis ne apna bana Lia
Meri aankh kis ne ujaar Di mera khaab Kis ne chura Lia
Tujhy kia bataen k dil nasheen, Tere ishq min teri yaad min
kabhi guftago rhi Phool se, kbhi chaand Chhaat pe bula lia
mujhy pehlay Pehlay jo dekh kr tera haal tha mujhy yaad hy
kbhi jal g*e Teri Rotiyan, kbhi hath too ne jala lia
ShahBaz Nayyar