Mitti Saraiki di

Mitti Saraiki di Saraiki Waseeb. culture. agriculture.

10/03/2024

گندم کا ریٹ کم کروانے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ گندم کوئی ایسی چیز نہیں جو کارخانے میں تیار ہوتی ہو۔ یہ چھ مہینے کی فصل ہے ۔ چھ مہینے میں کئی بار کھاد ، سپرے ڈیزل اور بجلی کا ریٹ بڑھ جاتا ہے۔ لہذا بجائے کسان سے گندم کا ریٹ کم کروانے کے ، کسان کے ساتھ مل کر حکومت سے یہ مطالبہ کریں کہ حکومت 5000 فی من کے حساب سے کسان سے گندم خریدے اور پاکستانی عوام کو سبسڈی دے کر 2000 فی من فراہم کرے۔ بلکہ فری دے دے۔
مگر آپ کا ڈائریکٹ کسان سے مطالبہ کہ گندم 3000 فی من کرو ، یہ بہت غلط ہے ۔ کیونکہ اس میں تو خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا۔ ساری غربت کسان کی گندم خریدتے وقت یاد آجاتی ہے ۔اس حساب سے تو تم تو کسان کو بھی غریب کر دوگے کہ بیچارہ اگلی فصل ہی کاشت نہ کر سکے۔ کسان کو پتا نہیں کتنا امیر سمجھا ہوا ہے تم لوگوں نے حالانکہ اس کی ساری رقم اگلی فصل کی کاشت میں لگ جاتی ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب حکومت دن بدن کھاد ، ڈیزل وغیرہ کے ریٹ بڑھا رہی ہوتی ہے تب یہ لوگ لمبی تان کر سو رہے ہوتے ہیں ۔ گندم کے ریٹ کا فوراً پتا لگ جاتا ہے کبھی فی ایکڑ خرچ بھی پتا کر لیا کریں ۔


27/08/2022

اس بار رود کوہی سے زیادہ نقصان کیوں ہوا۔۔؟

ہمارے اجداد صرف اسی پانی سے کاشتکاری کرتے تھے۔۔ چھوٹے چھوٹے بند یعنی ڈیم بناتے اور ان میں ہی کاشتکاری کرتے ۔۔ اس رود کوہی کا کبھی بہاولپورکے عباسیوں کو کبھی ملتان کے سکھوں کو اور بعد میں انگریزوں کو ہر فصل کا لگان دیتے ۔ اور رود کوہی کے موسم میں ہر کاشتکار اپنے بیل۔ اپنے ہل اور تمام ضروری اوزار تیار رکھتا تھا۔۔ ہر تمن سردار اپنی اپنی رود کوہی اپنے اپنے واہ کا انچارج ہوتا۔۔۔ باقاعدہ حکومت وقت موقع پہ جا کے تمام کسانوں کی حاضری لگاتی اور غیر حاضر کسان کو سزا دلائی جاتی۔۔۔
ایک دن ازاد ممکت خداداد بن گئی ۔۔ حکومت وقت نے بجائے پہاڑی پانی کا استعمال اور بہتر کرنے الٹا دریائی پانی ان پہاڑوں کے دامان میں پہنچا دیا۔۔ پہلے انجن لگے ۔ پھر بجلی ائی تو ٹرپین لائی ۔۔ نہروں سے پانی چرا کے دامانی پٹی کو سیراب کر کے وسیع پیمانے پہ کاشتکاری کی گئی۔۔ لوگوں نے جدید مشینری استعمال کر کے وہ چھوٹے چھوٹے بند توڑ کے رقبہ کی سطح ہموار کر لی۔۔۔ وہاں بستیاں اباد ہونے لگیں اور ترقی ہونے لگی
لوگ بھول گئے کہ کونسی رود کوہی اور کونسے ان کے راستے۔۔۔ جس رود کوہی کی امید میں ان کے اجداد ترستے تھے ان کی نسلیں بنا رود کوہی سے انھی رقبوں سے ان سے کئی گنا زیادہ کاشتکاری کر کے ان پہ ہنسنے لگیں۔۔۔
کوہسلیمان جس سے سیکنڑوں جھرنے پھوٹتے تھے وہ بھی گویا نئی نسل کے ساتھ مل بیٹھے اور خشک ہو گئے اور سال ہا سال سے بہتے جھرنوں کی رفتار کافی سست ہو گئی ۔۔۔ اور یہ پہاڑ مسلسل سورج کی گرمی اور تپش جھیلنے لگے۔۔۔ اور سورج کی تپش نےان پتھروں کو توڑنا شروع کردیا۔۔۔ اور یہ بھربھرے ہونے لگے۔۔ یہی وقت تھا جب یہاں سیمنٹ فیکٹری لگائی گئی کہ یہ نرم پتھر سیمنٹ میں ڈھلنے لگے۔۔۔ اور یہیں پہ اٹامک انرجی کے یونٹ لگنے لگے۔۔ اور مملکت خداداد مضبوط اورملکی ودفاع ناقابل تسخیر بننے لگا
کم و بیش پچاس سال بعد موسمی تغیر واپس لوٹا تو پہلے خشک پہاڑ جو تپش سے تنگ اچکے تھے پانی کے سامنے ریت ثابت ہوئے ۔ انتہا کی لینڈ سلائینڈنگ ہوئی ۔۔ جس کی وجہ سے پانی کے پرانے راستے بند ہوتے اور نئے بنتے رہے۔۔ یہ لینڈ سلائینڈنگ دھوپ کا کرشمہ تھی۔۔۔
پانی کبھی کس جھرنے سے امنڈ پڑتا اور کبھی کسی بلندی سے۔۔۔ جہاں سے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا پانی وہاں سے دوڑتا ہوا اتآ۔۔۔
جونہیں پانی دامان میں داخل ہوتا تو ایک اب زمین ہموار اور دوسرا کارپٹ روڈ ۔۔ کارپٹ روڈ بند بنتے ۔پانی بستی گرا دیتا۔۔۔ اور یہی پانی نہروں کے کناروں جا ٹیک لگا تو گویا بڑا بند بن گیا۔۔۔ اب وہی نہر پانی کی رکاوٹ بنی تو پیچھے کئی بستیاں ڈوب گئیں ۔ پھر اس نہر کے کنارے کو توڑ کے نہر میں داخل ہو گیا تو وہ نہر اب اذدہا بن گئی جو کسی شہر یا بستی کو نگل سکتی تھی۔۔۔ اور جہاں جہاں گئی بربادی ہی کی۔۔۔ اور یہاں تو ایک نہیں دو دو نہریں اکٹھی تھیں۔۔ ایک کچھی ایک ڈی جی کینال۔۔
اور انھی نہروں نے ان ابادیوں کو بچا بھی لیا جو اس نہر کے پار عین رودکوہی کے قدیم راستوں پہ اباد ہیں۔۔۔۔
اب کوہسیلمان اور دریا سندھ کا فاصلہ جہاں کم و بیش بیس کلو میٹر ہے۔۔ جہاں اضافی پانی بنا کسی کو نقصان پہنچائے ارام سے بیس منٹ میں ہی پہنچ سکتا تھا۔۔۔ وہاں اس پانی کو اباد بستیوں ، کارپٹ روڈوں۔اور نہروں کی وجہ سے کئی کئی گھنٹے اور کہیں تو کئی دن تک لگ گئے۔۔۔۔
اب وجہ حکومت کی ناقص پالیسی یا کافی سال بارش نہ ہونے سے پہاڑوں کا بھرنا ۔۔سیمنٹ فیکٹری۔۔ لائینڈ سلائیڈنگ ۔۔ ابادئ کا جان بوجھ کے ابادکاری کرنا۔۔ روڈ بنوانا ۔۔ نہریں وغیرہ جو بھی ہو لاکھوں لوگ بے گھر ہیں۔۔ لاکھوں مکان گر چکے ہیں۔۔ ہزاروں جانور مر چکے یئں یا بہہ چکے ہیں۔۔ انسانئ جانوں کا بھی کافی نقصان ہوا۔۔۔۔
ہمارے ابا و اجداد گرچہ تعداد اور وسائل میں ہم سے بہت کم تھے پر وہ رود کوہیوں سے لڑ جاتے تھے اور اسے روک بھی لیتے تھے۔۔۔ پر اج ہم ابادی و وسائل میں ان سے بہت ہی زیادہ ہیں اور رود کوہی میں بہہ گئے ہیں۔۔۔
کہیں یہی زیادہ ابادی ہی وجہ تو نہیں۔۔۔ ؟
اس لیے حکمران چپ ہیں۔۔۔۔
محمد فہد سومرو

حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ(1845–1901)حضرت خواجہ غلام فرید کوریجہ 26 نومبر 1845ء بروز منگل کو بہاولپور کے قصبہ ...
24/08/2022

حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ(1845–1901)

حضرت خواجہ غلام فرید کوریجہ 26 نومبر 1845ء بروز منگل کو بہاولپور کے قصبہ چاچڑاں شریف میں پیدا ہوئے۔ آپٌ کے خاندان کا نسلی سلسلہ یا شجرہ نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپٌ کے خاندان میں ایک شخص، جس کا نام شیخ کوربن، حضرت شیخ پریا تھا اس لیے کور کی وجہ سے لفظ کوریجہ بن گیا۔

آپ کا تاریخی نام خورشید عالم رکھا گیا۔ آپ کے والد کا نام حضرت خواجہ خدا بخش عرف محبوب الہی تھا۔ آپ چار برس کے ہوئے تو آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور جب آپ کی عمر آٹھ برس ہوئی تو آپ کے والد بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

آپٌ نے قرآن کی تعلیم میاں صدرالدین اور میاں محمد بخش سے حاصل کی، آپ نے فارسی کی تعلیم میاں حافظ خواجہ جی اور میاں احمد یار خواجہ سے حاصل کی۔

حضرت خواجہ غلام فرید کے بزرگوں کے ایک مرید مٹھن خان جتوئی تھے، جس کے نام سے قصبہ مٹھن کوٹ آباد ہوا۔ جب مٹھن کوٹ پر قابض پنجاب کے سکھ حاکم مسلمانوں کو تنگ کرنے لگے تو آپ کے والد حضرت خواجہ خدا بخش اپنے خاندان کے ساتھ مٹھن کوٹ سے چاچڑاں شریف، ریاست بہاول پور منتقل ہوگئے۔

جب آپ نواب آف بہاول پور جس کا نام نواب فتح محمد جو کہ آپ کے والد کے مرید خاص بھی تھے کے پاس رہائش پذیر تھے تو وہاں پر بھی اساتذہ کرام موجود رہتے تھے جو آپ کو تعلیم دیتے تھے۔ آپ شاہی محل میں تقریباً چار سال رہے۔

جب آپ تیرہ برس کے ہوئے تو آپ نے اپنے بڑے بھائی حضرت فخر جہاں سے بعیت کی۔ جب آپٌ کی عمر 27 برس تھی تو اس وقت آپ کے مرشد اور بڑے بھائی حضرت فخر جہاں کا انتقال ہو گیا۔ پھر آپ سجادہ نشین بنے۔

آپ بڑے سخی تھے، آپ کے لنگر کا روزانہ کا خرچہ 12 من چاول اور 8 من گندم تھا۔ تقریباً 100 سے 500 آدمی ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ آپ کے پاس جو کچھ آتا سب شام تک غرباء و مساکین میں بانٹ دیتے تھے۔

جب آپ نواب صاحب کے ہاں دعوت پر جاتے تو نواب صاحب آپ کو آتے وقت پچیس تیس ہزار اور وہاں سے روانہ ہوتے وقت بھی تیس چالیس ہزار پیش کرتے۔ اتنی نذر نیاز حاصل ہوتے ہوئے بھی جب آپ چاچڑاں شریف آتے تو اکثر اوقات خرچ کے لیے قرض لے کر آتے۔

آپ کی جاگیر سے سالانہ آمدنی 35 ہزار روپے تھی، آپ انتہائی سادہ تھے۔ آپ دن میں گندم کی ایک روٹی کھاتے اور رات کو گائے کا دودھ پیتے تھے۔

آپ 18 برس روہی ( چولستان ) میں رہے۔ آپ نے اپنے مرید خاص نواب آف بہاولپور جس کا نام نواب صادق محمد رابع عباسی تھا کو نصیحت کی تھی کہ:

" زیر تھی، زبر نہ بن، متاں پیش آوی "

یعنی نرمی اختیار کرو، سختی نہ کیا کرو، ورنہ اللہ تعالٰی تم پر بھی سختی کر سکتے ہیں۔

آپ نے شاعری بھی کی اور آپ کا زیادہ تر کلام سرائیکی زبان میں ہے۔ جس کا نام "دیوان فرید" ہے اس کے علاوہ اردو، عربی، فارسی، پوربی، سندھی اور ہندی میں شاعری بھی کی ہے اور آپ کا اردو دیوان بھی موجود ہے۔ آپ کے سرائیکی دیوان میں 272 کافیاں ہیں۔

حضرت خواجہ غلام فرید نے وصال کے وقت تین حسرتوں کا اظہار کیا تھا:

(1) کاش کوئی مجھ سے کہتا فرید مجھے راستہ بتاؤ۔
(2) کاش کوئی مجھ سے یکمشت ایک لاکھ روپے طلب کرتا۔
(3) کاش کوئی مجھ سے کہتا فرید مجھے پانی پلاؤ۔

وفات کے وقت کلمہ شہادت سے پہلے حضرت خواجہ غلام فرید نے کافی کا یہ بند پڑھا:

ٔآیا وقت فرید چلن دا
گزریا ویلھا کھلن ہسن دا
اوکھا پیندا یار ملن دا
جان لباں تے آندی اے

آپ کا وصال چاچڑاں شریف میں 24 جولائی 1901ء بروز بدھ ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر 56 برس تھی۔

آپ کا ایک بیٹا حضرت خواجہ محمد بخش عرف نازک کریم اور ایک بیٹی بھی تھیں۔

آپ کا مزار مٹھن کوٹ ( ضلع راجن پور ) میں ہے۔

22/08/2022
لال لائن پنجاب سندھ بلوچستان  کا بارڈر ہے.  لال لائن سے لے کر نیلی لائن (سندھ دریا) تک یہ سارا علاقہ ملیا میٹ  ہو گیا ہے...
22/08/2022

لال لائن پنجاب سندھ بلوچستان کا بارڈر ہے. لال لائن سے لے کر نیلی لائن (سندھ دریا) تک یہ سارا علاقہ ملیا میٹ ہو گیا ہے. راجن پور اور ڈیرہ غازی خان شہر مشکل سے بچاۓ گئے. اللہ ہمارے گناہ معاف کرے اور آسانی پیدا کرے. آمین.

اسی طرح پچھلے سال نیوزی لینڈ میں سیلاب پر ہماری ساری سوشل میڈیا سائٹس ان کیساتھ یکجہتی کے لئے کھڑی تھی مگر اب سرائیکی بی...
18/08/2022

اسی طرح پچھلے سال نیوزی لینڈ میں سیلاب پر ہماری ساری سوشل میڈیا سائٹس ان کیساتھ یکجہتی کے لئے کھڑی تھی مگر اب سرائیکی بیلٹ کے لوگوں کے حق میں کوئی نہیں بول رہا کیونکہ یہ سب لوگ وہ ہیں جن کے کچے مکان بہہ رہے ہیں اور مویشی مر رہے ہیں۔

گو سیلاب آنے کے بعد اس کو روکنا ناممکن ہوتا ہے مگر آبادی کا انخلاء اور اس کی رہائش و امداد کا بندوبست ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مگر ہمارے ملک کی سینئیر لیڈرشپ ایک ارب روپے ڈانس پارٹی پہ خرچ کرچکی ہے لیکن انہیں ان غریبوں کی پرواہ تک نہیں اور لوگ خود اپنی مدد آپ بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ سب نہایت افسوسناک ہے۔ گو میں وہاں کبھی نہیں گیا مگر سننے میں آتا ہے کہ ان علاقوں کے لوگ ساری عمر کی کمائی کے بعد ایک کچا مکان بنانا افورڈ کر سکتے ہیں تو ایسے میں وہی کچے مکان بہہ جاتے دیکھنا ان کے لئے کتنا تکلیف دہ ہو سکتا ہے اس چیز کو ہماری مجارٹی نہیں امیجن کر سکتی۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت کو اقدامات کرنے چاہیں اور صوبائی حکومت کو بھی تھوڑا اس طرف فوکس کرنا چاہیے۔

18/08/2022

مُلکی میڈیا کی یہ بے حسی ہے یا جنوبی پنجاب سے دشمنی
سیلاب سے اتنی بڑی تباہی کیوں نہیں دکھائی گئی

اے اللہ میرے ملک پر رحم فرما اور خاص طور پر تونسہ شریف ڈی جی خان اور بلوچستان پر جہاں لوگ سیلاب میں گھرے ہوۓ ان کی مدد اور حفاظت فرما

18/08/2022

اساں 8 کروڑ سرائیکی سیلاب زدگان واسطے ہک روپیہ وی جوڑوں تاں ہک ڈینھ دا 8 کروڑ تے مہینے دا 2 ارب 40 کروڑ بنڑسے وسیب دے لوکو خدارا سیلاب زدگان توہاڈے منتظر ہن یار ہنا دی مدد کرو🙏🙏😢😭😭

شائد شہر میں بسنے والے یہ بات نہ سمجھ سکیں مگر گاؤں میں رہنے والے سادہ دل لوگوں کیلئے گھر میں پلا ھوا جانور ان کے اپنے ب...
17/08/2022

شائد شہر میں بسنے والے یہ بات نہ سمجھ سکیں مگر گاؤں میں رہنے والے سادہ دل لوگوں کیلئے گھر میں پلا ھوا جانور ان کے اپنے بچوں کی طرح ھوتا ھے، ان کے پاس وہ جانور نسل در نسل بڑھتا، پھلتا پھولتا اور پلتا ھے، دن رات ساتھ رہنا، اس کا کھانا پینا، صبح صادق اٹھ کر اپنےناشتے سے پہلے ان کو چارہ ڈالنا، خالص دودھ ، دہی، لسی، مکھن گھی سب انہیں سے حاصل ھوتا ھے، یہ جانور ان کا سب سے قیمتی سرمایہ ھوتے ھیں، نسلوں سے پالے ھوئے جانور سے ان کے لگاو، پیار محبت کا اندازہ آپ نہیں لگا سکتے، یہ ان کے بچے ھوتے ھیں، جیسے آپ کو اپنے بچے کا ہلکا سا سر درد بھی برداشت نہیں ھوتا ویسے ھی ان لوگوں سے اپنے بچے (گھر کے جانور) کی تکلیف برداشت نہیں ھوتی، گھر کا جانور تھوڑا سا بیمار ھو جائے یہ لوگ کئی کئی راتیں جاگ کر اس کی خدمت کرتے ھیں، یہ ان کیلئے جانور نہیں اوڑھنا بچھونا ھوتے ھیں،
پنجاب میں لمپی سکن نامی بیماری نے ان سادہ دل لوگوں کے بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ھے، دوائیاں ناپید ھو چکی ھیں یا بہت مہنگی بلیک پہ مل رھی ھیں، یہ لوگ جن کی کمر مہنگائی اور سیلاب نے پہلے ھی توڑ کے رکھ دی تھی بچی کھچی کسر اس بیماری نے پوری کر دی، ان کے بچے ان کے مال مویشی ان کی آنکھوں کے سامنے مر رھے ھیں اور یہ مجبور اتنے ھیں کچھ کر بھی نہیں پا رھے،نہ پوری دوائیاں ایویلیبل ھی نہ ڈاکٹر اور نہ ھی کوئی ویکسین،
خدارا ان کیلئے آواز اٹھائیں،سیاستدانوں کی آپس کی رسہ کشی بند ھو گئی ھو تو اس سسکتی عوام کیلئے کچھ کر لیں، یہ آپ کی توجہ، آپ کی امداد کے منتظر ھیں،
خدا ان کے حال پہ رحم فرمائیں، آمین،
زیر نظر تصویر ان کے جذبات و حالات کی عکاسی کیلئے کافی ھے، 😢

وسیب لمپی اسکن کی زد میں۔۔۔غریب کسانوں کی جمع پونجی ان کے مال مویشی روڈز پر مرے پڑے ہیں۔پنجاب حکومت،  لایئو سٹاک اور ضلع...
10/08/2022

وسیب لمپی اسکن کی زد میں۔۔۔
غریب کسانوں کی جمع پونجی ان کے مال مویشی روڈز پر مرے پڑے ہیں۔
پنجاب حکومت، لایئو سٹاک اور ضلعی حکومتوں کو اس پر نوٹس لینا چاہیئے۔

Address

Khairpur Sadat

Telephone

+923027318618

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mitti Saraiki di posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Mitti Saraiki di:

Share