19/06/2026
ضبط کی حد سے بھی جس وقت گزر جاتا ہے
درد ہونٹوں پہ ہنسی بن کے بکھر جاتا ہے
رنگ بھر جاتا ہے پھر عشق کے افسانے میں
اشک بن بن کے اگر خونِ جگر جاتا ہے
آج تک عالمِ وحشت میں پئے جاتے ہیں
کتنی مدت میں گھٹاؤں کا اثر جاتا ہے
دورِ وحشت، میں محبت میں، جنوں میں ایسا
جو نہ ممکن ہو کسی طور وہ کر جاتا ہے
اپنے بے گانوں سے کچھ بیش تھے آزاری میں
بات رہ جاتی ہے اور وقت گزر جاتا ہے
کتنا بے خوف ہو، بے درد نہ کیوں ہو آخر
آئینہ دیکھ کے اعمال سے ڈر جاتا ہے
وقت کٹ جائے اگر عالمِ تنہائی میں
دل میں احساسِ ملاقات ہی مر جاتا ہے
وہ جو دنیا کی حقیقت کو سمجھ لے انساں
اپنی منزل کی طرف سینہ سپر جاتا ہے
عالمِ ناز میں کچھ بھی تو نہیں تیرے سوا
اک تصور ہے جو تا حدِّ نظر جاتا ہے
سینکڑوں داغ چمکتے ہیں تہہِ قلب اے شوق
کتنی گہرائی میں اُف عکس اتر جاتا ہے
(شوق مراد آبادی)💞
💞💫💥✍