Mustafa Hasan

Mustafa Hasan Visit my official page and enjoy alot. www.facebook.com/mustafahasanoffical

12/10/2025

معاشرے کے کچھ تلخ حقائق
1۔عورت کی تعلیم اور مرد کا پیسہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔
2۔جس لڑکی کی طلاق ہو جاۓ اور ساتھ ایک دو بچے بھی ہوں اسکی دوبارہ شادی کے چانس 10 فیصد سے زائد نہیں۔
3۔پچھلے آٹھ سالوں میں میں نے کوئ ایسا عظیم مرد نہیں دیکھا جس نے عورت کو بچے سمیت قبول کیا ہو۔
4۔اکثر لڑکیوں کے لیے شادی نام ہی پیسے کا ہے۔
5۔مرد خوبصورتی کے قائل ہوتے ہیں۔
6۔مرد اپنے سے بہت کم پڑھی لکھی لڑکی سے شادی کرسکتا ہے مگر عورت خصوصاً جو گزٹڈ ہو وہ کنواری مر جاۓ گی لیکن کم تعلیم یافتہ مرد سے شادی نہیں کرے گی۔
7۔ڈاکٹر ڈاکٹر سے شادی کو اپنا حق سمجھتے ہیں
8۔رشتوں کے اتنے مسائل نہیں جتنا معیار کا مسلہ ہے بلکل جیسے پاکستان میں اتنی بیروزگاری نہیں بلکل اصل مسلہ تعلیم اور معیار کے مطابق جاب نہ ملنا ہے۔
9۔بہت سے گھروں کی لڑکیاں ہنسی خوشی اپنے گھر میں رہنا پسند کریں گی مگر معیار سے نیچے شادی نہیں کرنا پسند کرتیں۔
10۔بہت ساری شادیاں خود غرضی کی وجہ سے نہیں ہو پاتیں۔طلاق یافتہ خواتین و حضرات جنکے ہمراہ بچے ہوں۔وہ بھی چاہتے ہیں انکو بنا بچوں کے ہمسفر ملے جو بانجھ ہو یا جس کو بچے نہ ہونے کی وجہ سے طلاق ہو گئی ہو۔
11۔ڈھلتی ہوئ عمر کی کنواریاں جنکی عمر چالیس کے قریب ہو انکی ڈیمانڈ میں کوئ خاص کمی نہیں آتی۔
12۔عورت کی عمر 35 سال ہوتے ہی بہت کم رشتے ملتے ہیں۔کیونکہ پاکستان میں یہ خیال عام ہے کہ تیس سال کے بعد عورت کے بچے ہونے کے چانس بہت کم ہوتے ہیں اگر پہلے بچے نہ ہوں۔
13۔جو لوگ شادی نہیں کرتے بڑھاپے میں سخت پچھتاتے ہیں چاہے وہ جتنے وہ جتنے مرضی دولت مند ہوں
14۔شادی ہر انسان کی ضرورت ہے۔جلدی کرنے والے فائدہ میں رہتے ہیں ۔
15۔شادی نہ کرنے والے یا طلاق یافتہ تنہا لوگ زہنی مریض بن جاتے ہیں۔
16۔شہروں کے لوگ بہت زیادہ ڈیمانڈنگ ہوتے ہیں ۔شہر میں شادی بزنس بن چکی ہے۔
17۔شادی سے پہلے عورتیں دولت اور مرد خوبصورتی کو ترجیح دیتے ہیں شادی کے بعد سیرت ہی سب کچھ لگتی ہے....
18. کم پڑھے لڑکے بھی چاہتے ہیں انکی بیوی ماسٹر ڈگری ہولڈر ہو اور گھر داری میں بھی ماہر ہو چھوٹی سی فیملی ہو اور ٹرک بھر جہیز کے علاؤہ کاروبار میں مالی سپورٹ بھی ہو
19..پیسہ زیادہ ہو تو پہلی بیوی بچے بھی قبول ہوتے ہیں بس پیسہ ذرا کھلا ڈلا ہونا چاہیے پھر نہ یونین کونسل کی اجازت نامے کا رولا نہ پہلی بیوی کی اجازت کی ٹینشن
20 ۔۔سرکاری محکمے میں لگا چپڑاسی اور کلرک بھی لیکچرار ڈاکٹر گورنمنٹ سکول ٹیچر انجنئیر لڑکیوں سے شادی کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور یوں فخر سے بتاتے ہیں فلاں محکمے میں ہیں پانچویں سکیل گیارویں سکیل میں
21۔۔جن کی بیٹیاں جب انجنئیرنگ یا ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرتی ہیں تو وہ کسی کو انسان ہی نہیں سمجھتے مانو تو کوئی اور ہی مخلوق ہے جیسے ایلینز یہ نشہ تب اترنا شروع ہوتا ہے جب بیٹی 35 کی ہو جاتی ہے
22.. چھوٹی چھوٹی بات پر طلاق لیتی لڑکیاں اپنے والدین کی بھرپور گھر اجاڑو پالیسی پر عمل کرتے ہوۓ واپس گھر پہنچتی ہیں تو سمجھتی ہیں وہ حق پر ہیں مگر کچھ ہی عرصے میں جب رشتہ نہیں ہوتا اور والدین وقت سے پہلے اوپر پہنچ جاتے ہیں تب بھابیوں کے ہاتھ ذلیل ہوتے ہوۓ اکثر سوچتی ہیں کہ یہ سب ہی سننا تھا تو شوہر کیا برا تھا۔۔

01/08/2025

پیسہ کامیابی کی دلیل نہیں، آزمائش ہے

جو لوگ 20 سے 30 سال کی عمر کے درمیان کامیاب ہو جاتے ہیں، وہ اکثر اپنے بارے میں کچھ زیادہ ہی سوچنے لگتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے باقی دنیا کی سمجھ بوجھ ختم ہو گئی ہے، اور صرف وہی سب کچھ جانتے ہیں۔ وہ خود کو “ملینئر” یا “بلینئر” کہہ کر باقی سب کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔

لیکن یاد رکھیں، کامیابی کا معیار صرف دولت نہیں ہوتا۔ جس کے پاس پیسہ ہے، وہ کامیاب نہیں، بلکہ آزمائش میں ہے۔

اکثر لوگ دولت ملنے کے بعد فرعون کی طرح بن جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کی بات سننا چھوڑ دیتے ہیں، خود کو سب سے افضل سمجھتے ہیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے، وہ آپ کی محنت کا پھل ضرور ہو سکتا ہے، مگر صرف محنت کی بنیاد پر اللہ کسی کو کامیاب نہیں کرتا — کیونکہ محنت تو ہر کوئی کر رہا ہے، پھر سب کو وہ مقام کیوں نہیں ملتا؟

شاید اللہ کو آپ کی کوئی ادا پسند آئی ہو، کوئی نیت، کوئی عمل… اور اسی وجہ سے آپ کو نواز دیا گیا ہو۔

لیکن اگر آپ غرور کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں، لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں، تو یہ مت بھولیں کہ یہ دنیا فانی ہے۔ یہاں ہر شے عارضی ہے۔ بڑے بڑے لوگ آئے اور چلے گئے، کچھ کو دنیا نے یاد رکھا، کچھ کو نہیں — فرق صرف “اخلاق” کا تھا۔

دولت سے انسان بڑا نہیں بنتا۔ جو چیز انسان کو بلند کرتی ہے، وہ ہے:
• اس کی عقل
• اس کا اخلاق
• اس کا دل
• اس کی عاجزی
• اور اس کی زبان کا وزن

اس لیے بڑے ہو کر غرور نہ کریں، بلکہ عاجزی کو اپنائیں۔ بڑے سے سیکھیں، چھوٹے سے سیکھیں۔ سب کی عزت کریں۔ پیسہ صرف ایک ذریعہ ہے، اصل طاقت اخلاق، کردار اور نیت کی ہے۔

یاد رکھیں، جس کے دل میں اللہ نے رحم رکھا ہو، وہی اصل میں کامیاب ہے۔

زندگی میں اگر واقعی کامیاب ہونا ہے تو دولت نہیں — نرمی، سچائی اور عزت کا راستہ اپنائیں

21/04/2024

22/02/2024

اصلاح نفس کے چار اصول ہیں:

1- "مشارطہ"
اپنے نفس کیساتھ"شرط" لگانا کہ"گناہ" نہیں کروں گا-

2- " مراقبہ"
خود کے اندر جھانک کے دیکھے گناہ تو نہیں کیا کہ آیا "گناہ" تو نہیں کیا-

3- "محاسبہ"
کہ اپنا حساب کرے کہ کتنے "گناہ"کیے اور کتنی "نیکیاں" کیں-

4- "مواخذه"
کہ"نفس" نے دن میں جو "نافرمانیاں" کیں ھیں اس کو ان کی"سزا" دینا اور وہ سزا یہ ھے کہ اس پر "عبادت" کا بوجھ ڈالے-

(امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ۔۔۔ احیاء علوم الدین)

20/09/2020

زبیر بن عبد المطلب ۔۔کفیل رسول
۔۔۔۔
کل ایک مضمون میں ضمنا نبی ﷺ کے تایا زبیر بن عبد المطلب کا ذکر ہوا اور ان کی کفالت کا تذکرہ ہوا تو بعض احباب حیران ہوئے ۔۔بلکہ بعض نے تو ان کے وجود سے ہی عدم آگہی کا اظہار کیا ۔ ۔۔۔
آپ کے دادا عبد المطلب کے بارہ بیٹے تھے اور ایک سے بڑھ کے ایک صاحب وجاہت اور با صلاحیت
جناب عبدالمطلب کے بیٹوں کے نام یوں ہیں۔
-1 حارث بن عبدالمطلب:
-2 زبیر بن عبدالمطلب: زبیر کو عبد المطلب نے اپنا جانشین بنایا۔
-3 ابو طالب بن عبد المطلب: ان کا نام عبد الکعبہ اور عبد مناف بھی بیان ہوا ہے۔ -
4 عبد اللہ بن عبد المطلب: حضور اقدسؐ کے والد گرامی ، یہ اپنے والد یعنی عبد المطلب کی زندگی ہی میں بھری جوانی میں شادی کے بعد انتقال کر گئے تھے۔
-5 ابولہب بن عبد المطلب:
-6 قثم بن عبد المطلب:
-7 ضرار بن عبد المطلب:
۔8 سیدنا حمزہ بن عبد المطلب۔
-9 المقوم بن عبد المطلب۔
-10 سیدنا عباسؓ عبد المطلب۔
-11 حجل بن عبد المطلب
-12 الغیداق بن عبد المطلب:
۔۔۔امام بن قتیبہ لکھتے ہیں کہ :
" فاطمہ بنت عمرو بن عائذ بن عمران بن مخزوم کے بطن سے عبد المطلب کے تین بیٹے تھے ؛ زبیر، ابو طالب اور عبدﷲ ۔۔۔۔
ان میں عبد الله نبی کریم کے والد تھے ۔۔۔
یہ تینوں بھائی ماں کی طرف سے حقیقی بھائی تھے ۔۔۔ امام ابن حزم بھی جمہرۃ الانساب میں یہی لکھتے ہیں کہ یہ تینوں حقیقی بھائی تھے ۔۔
زبیر ایک شاندار شخصیت کے مالک تھے اور روایتی عرب اوصاف کے حامل ۔۔ابن سعد اپنی کتاب طبقات میں لکھتے ہیں :
’’وَ الزُّبَیْرُ کَانَ شَاعِرًا شَرِیْفًا وَ اِلَیْہِ اَوْصَی عَبْدُ الْمُطَّلِبِ
زبیر شاعر اور باعزّت شخص تھے کہ جن کو عبد المطلب نے اپنا وصی مقرر کیا تھا۔۔۔۔
زبیر اپنے والد کے بڑے بیٹے تھے سو اسی رعایت سے قبیلے کے سردار بھی بنے ۔۔۔۔اسی منصب کے سبب عبد المطلب نے بوقت وفات اپنے چہیتے پوتے محمد (ﷺ) کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا اور دنیا سے رخصت ہوے ۔۔۔امام ابن ہجر الاصابہ میں لکھتے ہیں :
یہ میرے مرحوم بھائی کی نشانی ہے ، عیش سے جئے اور عزت میں کمال پائے ۔۔۔۔۔۔جی ہاں ہاتھوں میں جھولے جھلاتے تایا اپنے بھتیجے کو یہ دعائیں دیتے ۔
بچپن سے لڑکپن تک رسول مکرم جناب زبیر کہ زیر کفالت رہے اور جب وہ فوت ہوئے تو جناب ابوطالب سردار بنے ۔ ۔۔آپ بھی آپ کے حقیقی چچا تھے یوں کفالت کے حامل ہوئے گو رسول مکرم اب عمر میں بڑے ہو چکے تھے ۔۔البتہ ابوطالب نے جو ساتھ آپ کا بہت مشکل دور میں دیا بلا شبہ وہ انتہائی اہم ہے ۔۔۔
قاضی سلمان منصورپوری لکھتے ہیں کہ زبیر بن عبد المطلب کی وفات کے وقت نبی کریم کی عمر چوبیس برس تھی ۔۔۔یعنی چوبیس برس کی عمر تک آپ کی کفالت زبیر بن عبد المطلب نے کی ۔ ۔۔
جناب زبیر کی وفات کے بعد بھی آپ کی شفقتیں رسول مکرم کو قدم قدم یاد آتیں رہیں ۔۔۔جب آپ کے بیٹے جناب عبد الله آپ کے پاس آتے تو آپ محبت سے فرماتے کہ یہ میری ماں کا بیٹا آیا ۔۔۔ظاہر ہے اچھے دنوں کی یادیں قدم قدم انسان کے ساتھ رہتی ہیں ۔۔۔ابوبکر قدوسی

Address

Karachi

Telephone

03418554357

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mustafa Hasan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Mustafa Hasan:

Share