Darrrrrrr Saaaathhhhhhhh hai.".

Darrrrrrr Saaaathhhhhhhh hai.". this page concept is to spread awareness about paranormal activities and save you from it's impects

17/01/2026

Celebrating my 7th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

Have you witness the read Son today,The color is strange
30/12/2025

Have you witness the read Son today,

The color is strange

30/12/2025

محطہ پیلس کی ایک اور خوفناک کہانی
طلحہ ایک انتہائی ذمہ دار اور شریف انسان تھا۔
ایک دفعہ کسی ضروری کام کے سلسلے میں وہ ڈیفنس گیا، مگر واپسی پر اسے کافی رات ہو چکی تھی۔
راستے میں اچانک اس کی موٹر سائیکل خراب ہو گئی۔
مجبوراً طلحہ نے پیدل ہی گھر کی طرف چلنے کا فیصلہ کیا۔
اس کا راستہ اسی سڑک سے ہو کر جاتا تھا
جہاں محطہ پیلس واقع ہے۔
جب طلحہ پیلس کے قریب پہنچا
تو اچانک کسی نے بھاری اور سرد آواز میں پکارا:
“کیا آپ کو مدد چاہیے؟”
طلحہ نے چونک کر چاروں طرف دیکھا
مگر کوئی نظر نہ آیا۔
چند لمحوں بعد
اسے ایک انسانی سائے کی جھلک دکھائی دی۔
وہ سایہ آہستہ آہستہ
پیلس کے عقب کی طرف بڑھ رہا تھا۔
طلحہ نہ جانے کیوں
بے اختیار اس کے پیچھے چل پڑا۔
جوں جوں وہ محطہ پیلس کے پیچھے کے سنسان حصے میں پہنچتا گیا
اس کے دل میں ایک انجانا خوف سر اٹھانے لگا۔
اچانک اسے شدت سے احساس ہوا
کہ… کچھ بہت غلط ہے۔
اس نے پلٹ کر واپس جانا چاہا
مگر اس کے قدم وہیں جم گئے۔
وہ چاہ کر بھی ہل نہ سکا۔
اس کے جسم سے ٹھنڈے پسینے بہنے لگے
سانس بھاری ہونے لگی
اور سینے پر ایسا محسوس ہوا
جیسے کسی نے وزنی بوجھ رکھ دیا ہو۔
فضا میں اچانک عجیب سی خاموشی چھا گئی
اور پیلس کی دیواروں سے
جیسے سرگوشیاں ٹکرانے لگیں…
طلحہ نے پوری طاقت سے
کلمہ پڑھنے کی کوشش کی
مگر اس کی آواز
حلق میں ہی دب کر رہ گئی…
اور پھر…
پیچھے سے وہی بھاری آواز دوبارہ آئی:
“اب تم یہاں سے نہیں جا سکتے

طلہ کو سنبھالتے ہوئے
پوری طاقت جمع کی
اور کانپتی ہوئی مگر بلند آواز میں اللہ کو پکارا۔
“یا اللہ… میری مدد فرما!”
اچانک فضا میں
ایک شدید نور پھیل گیا
ایسی روشنی…
جو آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی تھی۔
طلحہ نے جب دوبارہ آنکھیں کھولیں
تو اس نے خود کو
محطہ پیلس کے باہر، مرکزی سڑک پر کھڑا پایا۔
وہ حیران تھا…
اس کا جسم کانپ رہا تھا
مگر دل میں ایک عجیب سا سکون اتر آیا تھا۔
پیلس اب اس سے کچھ فاصلے پر تھا
اور وہ سنسان عقبی راستہ
جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔
طلحہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا
تو محطہ پیلس کی عمارت
اندھیرے میں اور بھی زیادہ پراسرار لگ رہی تھی
جیسے وہ سب کچھ
خاموشی سے دیکھ رہی ہو۔
طلحہ نے وہ رات
بغیر رکے دوڑتے ہوئے
گھر پہنچ کر گزاری۔
اس واقعے کے بعد
اس نے قسم کھا لی
کہ وہ کبھی رات کے وقت اس راستے سے نہیں گزرے گا۔
یہ واقعہ محض ایک کہانی نہیں
بلکہ ایک سچا واقعہ بتایا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے
آج بھی رات کے وقت محطہ پیلس کے قریب جانے پر پابندی ہے۔
کہتے ہیں
کہ اندھیرے میں
وہ آواز آج بھی
کچھ لوگوں کو پکارتی ہے…
“کیا آپ کو مدد چاہیے…؟”

27/12/2025

🏰 موہٹہ پیلس کا راز

کراچی ایک زندہ شہر ہے۔
روشنیوں، شور، ٹریفک اور سمندر کی لہروں سے بھرا ہوا۔
لیکن اسی شہر کے ایک خاموش کونے میں
کلفٹن کے علاقے میں
ایک عمارت آج بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہے—
موہٹہ پیلس۔
دن کے وقت یہ ایک شاندار میوزیم ہے۔
سرخ پتھر کی دیواریں، بلند ستون، ہرے بھرے لان
اور تاریخ کی خوشبو۔
لیکن
رات کے بعد…
یہ جگہ تاریخ نہیں
خاموش چیخیں سناتی ہے۔
🌑 رات کا پہلا قدم
عماد ایک نوجوان بلاگر تھا۔
اسے پراسرار اور ڈراؤنی جگہوں پر جانا پسند تھا۔
اس نے سنا تھا کہ موہٹہ پیلس
کراچی کی سب سے خوفناک جگہوں میں شمار ہوتا ہے۔
اسی تجسس میں
وہ ایک رات کیمرہ اور ٹارچ لے کر
چپکے سے موہٹہ پیلس کے اندر داخل ہوا۔
جاتے جاتے چوکیدار نے بس اتنا کہا:
“بیٹا… اگر اندر سے کوئی آواز آئے
تو پلٹ کر مت دیکھنا۔”
عماد مسکرا دیا۔
اسے لگا یہ سب کہانیاں ہیں۔
👣 عجیب آہٹیں
جیسے ہی عماد اندر بڑھا
اسے محسوس ہوا
کہ اس کے قدموں کی آواز
دو بار سنائی دے رہی ہے۔
جیسے
کوئی اس کے پیچھے
بالکل اس کی رفتار سے چل رہا ہو۔
وہ اچانک مڑا—
کوئی نہیں تھا۔
لیکن سردی کی ایک لہر
اس کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی۔
اسی لمحے
ایک مدھم سی آواز ابھری:
“تم یہاں کیوں آئے ہو…؟”
آواز عورت کی تھی
اور بہت قریب سے۔
🪞 شیشے کا کمرہ
موہٹہ پیلس کے اندر
ایک پرانا کمرہ ہے
جہاں ایک قدیم آئینہ لگا ہوا ہے۔
کہا جاتا ہے
یہ آئینہ صرف چہرہ نہیں
انسان کی نیت بھی دکھاتا ہے۔
عماد نے جیسے ہی آئینے میں دیکھا
اس کا عکس
ایک لمحہ دیر سے ہلا۔
اور پھر—
آئینے میں موجود اس کا عکس
مسکرانے لگا
جبکہ عماد خود نہیں مسکرا رہا تھا۔
آئینے پر آہستہ آہستہ
الفاظ ابھرنے لگے:
“جو دیکھ لے
وہ واپس نہیں جاتا”
عماد کے ہاتھ کانپنے لگے۔
💀 اصل حقیقت
کہتے ہیں
تقسیم سے پہلے
اس محل میں کچھ ایسے لوگ رہتے تھے
جو کالا علم کیا کرتے تھے۔
جب شہر خالی ہوا
تو سب لوگ نہیں گئے۔
کچھ روحیں
انہی دیواروں میں قید رہ گئیں۔
کچھ آئینوں میں
اور کچھ
راہ دیکھتی رہیں۔
😱 آخری منظر
عماد نے بھاگنے کی کوشش کی
لیکن ہر راستہ
اسی کمرے میں واپس آ جاتا تھا۔
اچانک
سامنے روشنی سی ہوئی۔
ایک عورت کھڑی تھی
قدیم لباس میں
اس کے پاؤں زمین کو نہیں چھو رہے تھے۔
اس کی آنکھیں خالی تھیں۔
اس نے آہستہ سے کہا:
“موہٹہ پیلس میوزیم نہیں
یہ ایک قید خانہ ہے۔”
عماد کا کیمرہ زمین پر گر گیا۔
🌅 صبح کا انکشاف
صبح جب عملہ اندر آیا
عماد کہیں نہیں تھا۔
صرف اس کا کیمرہ ملا۔
آخری ریکارڈنگ میں
بس ایک ہی آواز تھی:
“اگر تم یہ سن رہے ہو
تو میں موہٹہ پیلس کا حصہ بن چکا ہوں…”
اور آج بھی
کہتے ہیں
کہ جب رات کو اس محل کے آئینوں میں دیکھا جائے
تو ایک نیا چہرہ نظر آتا ہے—
جو کبھی یہاں سیر کے لیے آیا تھا۔ 👁️

26/12/2025

I want to give a huge shout-out to my top Stars senders. Thank you for all the support!

Muhammad Saqib Sial

26/12/2025

Hello,

Have you ever face any paranormal activity in your life

26/12/2025

Darrrrrrr Saaaathhhhhhhh hai.".

All members you may also send me real stories of videos of paranormal activities to post on this page

26/12/2025

New post is coming soon

Story of Mohata palace.

Stay tuned for the upcoming

26/12/2025

I need some recommendations to make video of haunted house/ places.

Plz share 5 names

Address

Karachi
75010

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darrrrrrr Saaaathhhhhhhh hai.". posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share