Urdu poetry funs

Urdu poetry funs This is Urdu Lovers page. You can share appropriate Urdu Ashaar and Nassar freely.

08/09/2024

خموشی توڑ کے اک دن سبھی کردار بولیں گے
سنائی دے اگر تم کو، در و دیوار بولیں گے

مرے حق میں نہیں ہو تم، یہ میری بدنصیبی ہے
مرے حق میں مگر میرے، کئی غمخوار بولیں گے

میں کیسا ہوں میں کیسا تھا تمہیں کیسے بتاؤں میں
میں کیسا ہوں میں کیسا تھا مرے سب یار بولیں گے

اگر چپ سادھ بھی لوں میں مجھے اتنی سہولت ہے
مری غزلیں، مری نظمیں، مرے اشعار بولیں گے

کبھی جو پھر ملیں دونوں چھڑیں گے پھر نئے قصے
کبھی کچھ کام کی باتیں، کبھی بیکار بولیں گے

زباں کو تم نہ کھولو گے مجھے معلوم ہے لیکن
تری پلکیں، تری نظریں، ترے رخسار بولیں گے

چھپانا بھی اگر چاہو مجھے کتنا چھپاؤ گے
ترے بھیتر ارے ناداں، مرے آثار بولیں گے

انہیں تم لاکھ سمجھا لو مگر سمجھا نہ پاؤ گے
جہاں بیٹھے تھے ہم مل کر، وہی اشجار بولیں گے

میں تم کو بھول بھی جاؤں جہاں والے نہ بھولیں گے
تو میرا تھا، تو میرا ہے، یہی ہر بار بولیں گے

06/09/2024

سرد شاموں میں دریچہ ادھ کُھلا رہ جائے گا
کوئی ہم کو عمر بھر اب ڈھونڈتا رہ جائے گا

آندھیاں سارے ورق میرے اُڑا لے جائیں گی
طاق پر رکھا دیا بس ______ اُونگھتا رہ جائے گا

ہم چلے جائیں گے خاموشی سے بستی چھوڑ کر
دُور سے ____ تُو دیکھتا بس دیکھتا رہ جائے گا

بھول جائیں گی نئی نسلیں ہماری شاعری
بس کتابوں میں _ ہمارا تذکرہ رہ جائے گا

ہجرتوں کا فیصلہ یکدم سُنا دے گا _____ کوئی
سب کا سب سامان یونہی گھر پڑا رہ جائے گا

فرق کوئی بھی نہیں پڑنا ہمارے کوچ سے
کوئی تکیہ رات بھر بس بھیگتا رہ جائے گا

ہم ہلا کر ہاتھ کشتی سے کہیں گے الوداع
اور کنارے پر کوئی __ پہچانتا رہ جائے گا

13/04/2024
25/05/2023

مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے​
شاید اب بھی تیرا غم دل سے لگا رکھا ہو​
ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید​
اپنے خوابوں کے جزیرے کو سجا رکھا ہو​

میں نے مانا کہ وہ بیگانہ ٴپیمانِ وفا​
کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں​
شاید اب لوٹ کے نا آئے تیری محفل میں​
اور کوئی دُکھ نا رلائے تجھے تنہائی میں​

میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں​
وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ​
چاہے امید کی شمعیں ہوں یا یادوں کے چراغ​
مستقل بُعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ​

پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے​
مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں​
زخم بھر بھی جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہے​
دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں​

یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر​
تیرے پاس آئے دنیا سے کنارہ کر لے​
تُو کہ معصوم بھی ہے، زُود فراموش بھی ہے​
اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارہ کر لے​

اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا
ایک درد اور بھی پہلے کی طرح سہہ جاؤں​
جس پہ پہلے بھی کئی عہدِ وفا ٹوٹے ہیں​
اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں

04/03/2023

جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا

مجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتا

غلط باتوں کو خاموشی سے سننا حامی بھر لینا

بہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا

مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے

کسی کا بھی ہو سر قدموں میں سر اچھا نہیں لگتا

بلندی پر انہیں مٹی کی خوشبو تک نہیں آتی

یہ وہ شاخیں ہیں جن کو اب شجر اچھا نہیں لگتا

یہ کیوں باقی رہے آتش زنو یہ بھی جلا ڈالو

کہ سب بے گھر ہوں اور میرا ہو گھر اچھا نہیں لگتا

24/02/2023

سیرت النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم"...ڈاکٹر اسرار احمد کےسیرت النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم پرخطبات کا مجموعہ ہے، جو مرکزی انجمن خدام القران لاہور کےزیر اہتمام شائع کی گئی مختلف کتب کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے.
Free Delivery
https://bookshoppk.com/new-books/details/seerat-un-nabi-dr-israr-ahmad

24/02/2023

ابھی تو میں جوان ہوں

ہوا بھی خوشگوار ہے
گلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنّمِ ہزار ہے
بہارِ پُر بہار ہے
کہاں چلا ہے ساقیا
اِدھر تو لوٹ _____ اِدھر تو آ
یہ مجھ کو دیکھتا ہے کیا
اٹھا سبُو ____ سبُو اٹھا
سبُو اٹھا ____ پیالہ بھر
پیالہ بھر کے دے اِدھر
چمن کی سمت کر نظر
سماں تو دیکھ بے خبر
وہ کالی کالی بدلیاں
افق پہ ہو گئیں عیاں
وہ اِک ہجومِ مے کشاں
ہے سُوئے مے کدہ رواں
یہ کیا گماں ہے بدگماں
سمجھ نہ مجھ کو ناتواں
خیالِ زہد ابھی کہاں
ابھی تو میں جوان ہوں

عبادتوں کا ذکر ہے
نجات کی بھی فکر ہے
جنون ہے ثواب کا
خیال ہے عذاب کا
مگر سُنو تو شیخ جی
عجیب شے ہیں آپ بھی
بھلا شباب و عاشقی
الگ ہوئے بھی ہیں کبھی
حسِین جلوہ ریز ہوں
ادائیں فتنہ خیز ہوں
ہوائیں عِطر بیز ہوں
تو شوق کیوں نہ تیز ہوں
نگار ہائے فتنہ گر
کوئی اِدھر ____ کوئی اُدھر
اُبھارتے ہوں عیش پر
تو کیا کرے کوئی بشر
چلو جی قصّہ مختصر
تمہارا نقطۂ نظر
درست ہے تو ہو مگر
ابھی تو میں جوان ہوں

نہ غم کشود و بست کا
بلند کا نہ پست کا
نہ بود کا نہ ہست کا
نہ وعدۂ الست کا
امید اور یاس گم
حواس گم ____ قیاس گم
نظر کے آس پاس گم
ہمہ بجز گلاس گم
نہ مے میں کچھ کمی رہے
قدح سے ہمدمی رہے
نشست یہ جمی رہے
یہی ہما ہمی رہے
وہ راگ چھیڑ مُطربا
طرَب فزا ____ الَم رُبا
اثر صدائے ساز کا
جگر میں آگ دے لگا
ہر ایک لب پہ ہو صدا
نہ ہاتھ روک ساقیا
پلائے جا ____ پلائے جا
ابھی تو میں جوان ہوں

یہ گشت کوہسار کی
یہ سیر جوئبار کی
یہ بلبلوں کے چہچہے
یہ گلرخوں کے قہقہے
کسی سے میل ہو گیا
تو رنج و فکر کھو گیا
کبھی جو بخت سو گیا
یہ ہنس گیا ____ وہ رو گیا
یہ عشق کی کہانیاں
یہ رَس بھری جوانیاں
اِدھر سے مہربانیاں
اُدھر سے لن ترانیاں
یہ آسمان یہ زمیں
نظارہ ہائے دل نشیں
انہیں حیات آفریں
بھلا میں چھوڑ دوں یہیں
ہے موت اِس قدر قریں
مجھے نہ آئے گا یقیں
نہیں نہیں ابھی نہیں
ابھی تو میں جوان ہوں

_______________
حفیظ جالندھری

18/02/2023

محترم جمیل جالبی صاحب کے یہاں ایک مرتبہ کسی صاحب نے فرمایا کہ ”رسی پر کپڑے سوکھنے کو ڈالے ہوئے تھے“ صدیقی صاحب مرحوم نے فوراً ٹوکا کہ اس کو رسی نہیں 'الگنی' بولتے ہیں۔پھر جمیل صاحب سے مخاطب ہو کر بولے رسی کو بلحاظِ استعمال مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔مثلا گھوڑے یا گھوڑی کو جب چرنے کیلئے چھوڑا جاتا تو اس ڈر سے کہ کہیں بھاگ نہ جائے اس کی اگلی ٹانگوں میں رسی باندھ دیتے ہیں اسے 'دھنگنا' کہتے ہیں۔گھوڑے کو جب تھان پر باندھتے ہیں تو گلے اور پچھلی ٹانگوں میں جو رسیاں باندھی جاتی ہیں وہ 'اگاڑی' 'پچھاڑی' کہلاتی ہیں۔گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر سوار جو رسی پکڑتا ہے وہ 'لگام' کہلاتی ہے اور گھوڑا یا گھوڑے تانگے اور بگھی وغیرہ میں جُتے ہوں تو یہ رسی 'راس' کہلاتی ہے۔اس لیے پرانے زمانے میں گھوڑے کی خرید و فروخت کیلئے جو رسید لکھی جاتی تھی اس پہ یہ الفاظ لکھے جاتے تھے 'یک راس گھوڑے کی قیمت' اور ہاتھی کیلئے 'یک زنجیر ہاتھی' استعمال ہوتا تھا۔گھوڑے کو جب ٹریننگ کیلئے سائیسں پھراتا ہے اور جسے 'کاوا پھرانا' بولتے ہیں۔اُس رسی کو جو سائیسں اس وقت پکڑتا ہے اسے 'باگ ڈور' کہتے ہیں۔پھر مرحوم نے کہا بیل کے ناک کے نتھنوں میں جو رسی ڈالتے ہیں اس کو 'ناتھ' بولتے ہیں (اسی لیے ایسے بیل کو 'نتھا ہوا بیل' بولتے ہیں۔اس کے بعد ہی بیل کوہلو یا ہل وغیرہ میں جوتنے کے کام میں آتا ہے)۔اونٹ کی ناک میں 'نکیل' ہوتی ہے اور کنویں سے بڑے ڈول کو یا رہٹ کو بیل کھینچتے ہیں اس میں جو موٹا رسا استعمال ہوتا ہے اسے 'برت' یا 'برتھ' بولتے ہیں۔

(نذر الحسن صدیقی کے محمد سلیم الرحمٰن کے نام خط سے اقتباس)

چارپائی جس رسی سے بُنی جاتی ہے اسے 'بان' اور چارپائی کی پائنتی میں استعمال ہونے والی رسی کو 'ادوائن' کہتے ہیں۔پھانسی کیلئے استعمال ہونے والی رسی 'پھندہ' کہلاتی ہے۔

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

15/02/2023

اگر کبھی میری یاد آئے
توچاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کِسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخلِ فلک سے اُڑ کر تمھارے قدموں میں آگرے تو
یہ جان لینا، وہ استعارہ تھا میرے دل کا،
اگر نہ آئے۔۔۔۔
مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے کہ تم کسی پر نگاہ ڈالو
تو اُس کی دیوارِ جاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ہستی نہ بُھول جائے!
اگر کبھی میری یاد آئے
گریز کرتی ہَوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
مَیں خوشبوؤں میں تمھیں ملوں گا۔
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
مَیں اوس قطروں کے آئینوں میں تمھیں مِلوں گا۔

اگر ستاروں میں‌، اوس قطروں میں، خوشبوؤں میں، نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
مَیں گَرد ہوتی مسافتوں میں تمھیں مِلوں گا۔
کہیں ہی روشن چراغ دیکھو تو جان لینا
کہ ہر پتنگے کے ساتھ مَیں بھی بِکھر چُکا ہوں
تم اپنے ہاتھوں سے اِن پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا
مَیں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گا۔
کِسی نہ دیکھے ہُوئے جزیرے پہ رُک کے تم کو صدائیں دُوں گا
سمندروں کے سَفر پہ نکلو تو اُس جزیرے پہ بھی اُترنا۔

امجد اسلام امجد

04/02/2023

دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے
دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے
بات چل نکلی ہے...
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے
دل کے افسانے...

سہمے سہمے ہوئے جذبات نے انگڑائی لی
سہمے سہمے ہوئے جذبات نے انگڑائی لی
سوئے سوئے ہوئے نغمات نے انگڑائی لی

خود سے شرمائے ہوئے اُن کے جہاں تک پہنچے
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے
دل کے افسانے...

جن کی آنکھوں نے کئی بار کیے ہم سے سوال
جن کی آنکھوں نے کئی بار کیے ہم سے سوال
اُن کی یادوں سے مہکنے لگے ویران خیال

لے کے دامن میں بہاریں وہ خزاں تک پہنچے
دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے
بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
دل کے افسانے...
ابنِ زکی

Address

Karachi
Karachi
65100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu poetry funs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Urdu poetry funs:

Share