Jollygud Entertainment

Jollygud Entertainment “Life is a theatre set in which there are but few practicable entrances.”

Jolly gud entertainment is a theater company, offers diversified entertainment like stage shows, musical nights, and variety of entertainment services at public, corporate and universities level in safe environment...
Our objective is to provide best platform to talented youth who are dedicated in promoting Pakistani theater shows at global platform with us. We are blessed that we are working unde

r the supervision of the legends of Pakistani Media and many other giants of this field, and not only from Pakistan few big names across the border are also guiding us...

17/05/2026
07/05/2026

Team Jollygud Entertainment is proud to be the part of this project penned by a legend and performed by a legend..
HBL presents US GALI NA JAWIN..
An Urdu play with a Punjabi title written and directed by the genius of the millennium Sarmad Sehbai..
The legendary versatile actor Shakeel is to perform a solo performance at theatre, a trend in performing arts rarely seen in Pakistan.
Shakeel, known for his memorable roles in television plays like Uncle Urfi , Unkahi and Angan Thera, will be a big attraction for his fans in Karachi.
When asked what made him act in the play for a second time, Shakeel said at the first place solo performances were something rare in Pakistan; secondly, the script of the play was so powerful and gripping that he would love to do that again and again.
“Three cheers for Sarmad for writing such as masterpiece,” he said.
‘Us Gali Na Jawin’ is a serious and experimental play.

زمانہ عالمی جنگوں میں گم تھا جس لمحےتیری کلائی کے گجرے پرو رہا تھا میں ۔ ۔۔💔
05/05/2026

زمانہ عالمی جنگوں میں گم تھا جس لمحے
تیری کلائی کے گجرے پرو رہا تھا میں ۔ ۔۔💔

30th April... Dafli waala bhi chala Gaya..Jab Covid apni peak per tha to ye us ka tweet tha... " People of Pakistan are ...
30/04/2026

30th April... Dafli waala bhi chala Gaya..
Jab Covid apni peak per tha to ye us ka tweet tha...
" People of Pakistan are also dear to us. Once we were one. We are concerned too. This is a global crisis. No ego matter this. We love you guys. Humanity zindabad!”

29/04/2026

عرفان خان نے کینسر کی تشخیص کے بعد جون 2018 میں یہ درد بھرا خط اپنے مداحوں کے نام لکھا تھا. آج یہ عظیم اداکار اس جان لیوا بیماری سے لڑتا ہوا ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا. پروردگار مغفرت فرمائے، آمین

کچھ مہینے پہلے اچانک مجھے پتا چلا تھا کہ میں نیورواینڈوکرن کینسر میں مبتلا ہوں۔ میں نے پہلی بار یہ لفظ سنا تھا۔ سرچ کرنے پر میں نے پایا کہ اس لفظ پر بہت زیادہ ریسرچ نہیں ہوئی ہے ۔ کیونکہ یہ ایک نایاب جسمانی حالت کا نام ہے اور اس وجہ سے ا س کے علاج میں غیریقینی زیادہ ہے۔ ابھی تک اپنے سفر میں ،میں تیزگامی سے چلتا چلا جا رہا تھا… میرے ساتھ میرے منصوبے، توقعات، خواب اور منزلیں تھیں۔ میں ان میں ملوث بڑھا جا رہا تھا کہ اچانک ٹی سی نے پیٹھ پر ٹیپ کیا، ‘ آپ کا اسٹیشن آ رہا ہے، پلیز اتر جائیں۔ ‘ میری سمجھ میں نہیں آیا…نہ نہ، میرا اسٹیشن ابھی نہیں آیا ہے… جواب ملا اگلے کسی بھی اسٹاپ پر اترنا ہوگا،آپ کی منزل آ گئی… اچانک احساس ہوا کہ آپ کسی ڈھکن (کارک )کی طرح انجان ساگر میں غیر متوقع لہروں پر بہہ رہے ہیں۔ لہروں کو قابو کرنے کی غلط فہمی لیے۔

اس ہڑبونگ، سہم اور ڈر میں گھبراکر میں اپنے بیٹے سے کہتا ہوں، ‘ آج کی اس حالت میں میں صرف اتناہی چاہتا ہوں… میں اس ذہنی حالت کو ہڑبڑاہٹ، ڈر، بدحواسی کی حالت میں نہیں جینا چاہتا۔ مجھے کسی بھی صورت میں میرے پیر چاہیے ، جن پر کھڑا ہوکر اپنی حالت کو غیر جانبدار ہوکر جی پاؤں۔ میں کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔ ‘

ایسی میری منشاتھی، میرا ارادہ تھا…

کچھ ہفتوں کے بعد میں ایک ہاسپٹل میں بھرتی ہو گیا۔ بے انتہا درد ہو رہا ہے۔ یہ تو معلوم تھا کہ درد ہوگا، لیکن ایسا درد؟ اب درد کی شدت سمجھ میں آ رہی ہے۔ کچھ بھی کام نہیں کر رہا ہے۔ نہ کوئی تسلی اور نہ کوئی دلاسہ۔ پوری کائنات اس درد کے پل میں سمٹ آئی تھی۔ درد خدا سے بھی بڑا اور عظیم محسوس ہوا۔

میں جس ہاسپٹل میں بھرتی ہوں، اس میں بالکنی بھی ہے۔ باہر کا نظارہ دکھتا ہے۔ کوما وارڈ ٹھیک میرے اوپر ہے۔ سڑک کی ایک طرف میرا ہاسپٹل ہے اور دوسری طرف لارڈس اسٹیڈیم ہے۔ وہاں ووین رچرڈس کا مسکراتا پوسٹر ہے، میرے بچپن کے خوابوں کا مکہ۔ اس کو دیکھنےپر پہلی نظر میں مجھے کوئی احساس ہی نہیں ہوا۔ مانو وہ دنیا کبھی میری تھی ہی نہیں۔

میں درد کی گرفت میں ہوں۔

اور پھر ایک دن یہ احساس ہوا… جیسے میں کسی ایسی چیز کا حصہ نہیں ہوں، جو متعین ہونے کا دعویٰ کرے۔ نہ ہاسپٹل اور نہ اسٹیڈیم۔ میرے اندر جو باقی تھا، وہ اصل میں کائنات کی لامحدود قوت اور عقل کا اثر تھا۔ میرے ہاسپٹل کا وہاں ہونا تھا۔ من نے کہا، صرف غیریقینی ہی متعین ہے۔

اس احساس نے مجھے سپردگی اور بھروسے کے لئے تیار کیا۔ اب چاہے جو بھی نتیجہ ہو، یہ چاہے جہاں لے جائے، آج سے 8 مہینوں کے بعد، یا آج سے 4 مہینوں کے بعد، یا پھر 2 سال… فکر درکنار ہوئی اور پھر غائب ہونے لگی اور پھر میرے دماغ سے جینےمرنے کا حساب نکل گیا۔

پہلی بار مجھے لفظ ‘ آزادی ‘ کا احساس ہوا، صحیح معنی میں! ایک کامیابی کا احساس۔

اس کائنات کی کرنی میں میرا یقین ہی مکمل سچ بن گیا۔ اس کے بعد لگا کہ وہ یقین میرے ہر سیل میں پیٹھ گیا۔ وقت ہی بتائے‌گا کہ وہ ٹھہرتا ہے کہ نہیں! فی الحال میں یہی محسوس‌کر رہا ہوں۔

اس سفر میں ساری دنیا کے لوگ… سبھی ، میرے صحت مند ہونے کی دعا کر رہے ہیں، میں جن کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا، وہ سبھی الگ الگ جگہوں اور ٹائم زون سے میرے لئے عبادت کر رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی دعائیں مل‌کر ایک ہو گئی ہیں… ایک بڑی طاقت …تیز رفتار زندگی میرےاسپائن سے مجھ میں داخل ہو کر سر کے اوپر کھوپڑی سے پھوٹ رہی ہے۔

پھوٹ کر یہ کبھی کلی، کبھی پتی، کبھی ٹہنی اور کبھی شاخ بن جاتی ہے… میں خوش ہوکر ان کو دیکھتا ہوں۔ لوگوں کی اجتماعی دعا سے پھوٹی ہر ٹہنی، ہر پتی، ہر پھول مجھے ایک نئی دنیا دکھاتی ہے۔

احساس ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ لہروں پر ڈھکن (کارک) کا کنٹرول ہو… جیسے آپ قدرت کے پالنے میں جھول رہے ہوں!

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jollygud Entertainment posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share