23/09/2026
شامی صدر احمد الشرع:
جب میں وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملا تو جب انہوں نے کہا کہ گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کی ہیں، تو میں نے مذاقاً کہا:
"آپ نیو جرسی اسرائیلیوں کو کیوں نہیں دے دیتے؟ گولان کی پہاڑیاں دینے کے لیے آپ ان کے مالک نہیں ہیں، لیکن نیو جرسی آپ کی ملکیت ہے۔"
میرا خیال ہے کہ نیو جرسی ڈیموکریٹس سے بھرا ہوا ہے اور وہ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیتے، اس لیے اسے اسرائیلیوں کو دینا اچھا ہوگا۔ کم از کم یہ ایسی چیز ہے جو آپ کی ملکیت ہے۔ ٹرمپ گولان کی پہاڑیوں کے مالک نہیں ہیں۔
اس مذاق سے قطع نظر، گولان کی پہاڑیاں وہاں کے اپنے لوگوں کی ہیں۔ یہ نہ شامی صدر کی ملکیت ہیں، نہ امریکی صدر کی، اور نہ ہی کسی اور شخص کا اختیار ہے کہ وہ انہیں کسی دوسرے کے حوالے کرے یا ان سے دستبردار ہو جائے۔
یہ مناسب نہیں کہ 7 اکتوبر کو پیش آنے والے واقعات کو شام کے بارے میں اسرائیلی پالیسی کی بنیاد بنا دیا جائے۔ یہ منطقی نہیں ہے۔ اس سے مزید سکیورٹی خطرات پیدا ہوتے ہیں۔
اگر آپ اپنی سکیورٹی کا تحفظ چاہتے ہیں تو آپ کو دوسروں کی سکیورٹی کا بھی احترام کرنا ہوگا۔
اسرائیل کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ اپنی سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے اپنے اردگرد مسائل پیدا کر رہا ہے۔ یہ طریقہ ان کے لیے کارآمد ثابت نہیں ہو رہا۔
گولان کی پہاڑیاں اقوامِ متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ شامی علاقہ ہیں۔
ان علاقوں کے بارے میں اور یہ کہ وہ کس کے ہیں، کوئی بحث نہیں ہے۔
ہم اسرائیل کے ساتھ تقریباً 90 فیصد معاہدے تک پہنچ چکے تھے، لیکن پھر اسرائیل نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی۔
شام کے صدارتی محل کو بھی اسرائیل دو مرتبہ بمباری کا نشانہ بنا چکا ہے۔ ہمارے ہوائی اڈوں پر اسرائیل بمباری کر رہا ہے۔
کیا اس سے اسرائیلی شہری محفوظ ہو جائیں گے؟
امریکہ، برطانیہ اور لبنان کے ساتھ ہمارے تعلقات کو دیکھیں۔ یہ کامیاب ہیں۔
میرا خیال ہے کہ مسئلہ شام میں نہیں، بلکہ اسرائیل میں ہے۔
______________________
کمزور و بے بس حکمران، مگر اسرائیل کے ہاتھوں بکا ہوا نہیں ہے۔