Urdu stories

Urdu stories اردو اور رومن اردو میں اسثوری ریلس اور بہت کچھ

Whatsapp 03195323477
16/09/2024

Whatsapp 03195323477

Chek first come t
10/09/2024

Chek first come t

جادو کی تاریخ !! جادو کی تاریخ، انسانی تاریخ کی مانند بہت قدیم ہے، جادو ایک علم ہے جس کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں وسوسے پ...
09/09/2024

جادو کی تاریخ !!

جادو کی تاریخ، انسانی تاریخ کی مانند بہت قدیم ہے، جادو ایک علم ہے جس کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کر کے انھیں سیدھے راستے سے بھٹکایا جاتا ہے اور یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ جادو کابانی ابلیس تھا جس نے انسانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالے اور انہیں گمراہ کرنے کا چیلنج کیا تھا اور خدا نے اس کے وسوسوں سے بچنے کی تاکید کی تھی۔چونکہ جادو اللہ تعالیٰ کے اذن سے اثر کرتا ہے جس طرح دو ا اپنا اثر مریض پر مرتب کرتی ہے جب اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ جس طرح آگ جلاتی ہے، کینسر سے انسان سے مر جاتا ہے۔ اسی طرح جادو کے ذریعے انسان متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے اس امر کے واقعہ ہونے کو تسلیم کر لینا چاہئے۔لفظ جادو کو بہت سے معنوں میں لیا جاتا ہے۔مثلا ٹونہ سحر، منتر، جنتر، پراسرار اشاروں اور علامات کا استعمال کرنا تاکہ چڑیلوں اور بد روحوں کو بلایایا بھگایا جا سکے چنانچہ قربانیاں جادو ہی کی بنیاد پر دی جاتی تھیں۔قدیم مصری ، بائبل ، ویدک اور دیگر روایتوں میں دیوتائوں کی طاقت کا ذریعہ بھی جادو ہی کو خیال کیا جاتا تھا۔ یورپ میں باوجود عیسائیت کی اشاعت کے جادو کا رواج جاری رہا، افریقہ میں اب تک ایسے ڈاکٹر موجود ہیں جو جادو کے ذریعے علاج کرتے ہیں۔کالا جادو جنوں،دیوتائوں اور بدروحوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، اس کے علاوہ قدرتی جادو قدرت کے واقعات میں تصرف کے قابل بناتا ہے۔ تاریخ پڑھی جائے تو ایسا کوئی دور نہیں گزرا ہوگا جس میں جادو کا ذکر نہ ملے، دنیا کے تمام مذاہب بھی جادو پر یقین رکھتے ہیں لیکن ہر دور اور ہر معاشرے میں جادو کے طریقے اور رسوم و رواج مختلف رہے ہیں۔آج بھی عرب دنیا میں جہاں آپ سمجھتے ہونگے کہ یہ قبیح حرکات ناپید ہوں گی، وہاں بھی جادو ٹونے رائج اور عام ہیں، رسومات میں فرق ہے، یہی فرق پھر مختلف طریقوں میں واضح ہو جاتا ہے۔ عیسائیت اور مغربی دنیا میں اس وقت فری میسن اور اس جیسی تنظیموں کا چرچا زبان زد عام ہے،وہ فری میسن اور دوسری تنظیمیں جن کا نام لیا جاتا ہے، شیطان کے پیروکار کہلاتے ہیں اور اسی جادوئی دنیا کے پجاری ہیں(جاری ہے)
، وہاں یہ الگ طریقوں سے رائج ہے، بد روحوں سے شگون وہاں بھی لیے جاتے ہیں لیکن ہردوراور ہرمعاشرے میں جادو کے طریقے اور رسوم و رواج مختلف رہے ہیں یہی فرق پھر مختلف طریقوں میں واضح ہوجاتا ہے، اس شے نے معاشرے کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے، گھروں کے گھر تباہ کر دیئے ہیں۔جادو دنیاکی سب سے موثرقوت ہے جو غائبانہ طور پر بلاتجدید زمان و مکان انسانی مزاج اور جسم بلکہ زندگی پر کامل دسترس رکھتی ہے۔ یعنی جادو کے زیر اثر انسان کی بسا اوقات موت واقع ہو جاتی ہے۔
سحر وہ عمل ہے جس میں پہلے شیطان کا قرب حاصل کیا جاتا ہے اور پھر اس سے مدد لی جاتی ہے۔ سحر(جادو)دراصل کسی چیز کو اس کی حقیقت سے پھیر دینے کا نام ہے۔ سحر(جادوگر)جب باطل کو حق بنا کر پیش کرتا ہے اور کسی چیز کو اس کی حقیقت سے پلٹ کر سامنے لاتا ہے تو گویا وہ اسے دینی حقیقت سے پھیر دیتا ہے۔سحر تفریق کی کئی شکلیں ہوتی ہیں، مثلا بیماری میں مبتلا کرنا، مار ڈالنا، رشتے داروں میں پھوٹ ڈلوانا، مالی حالت برباد کر دینا، ماں اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالنا، باپ اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالنا، دو بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالنا، دو شریکوں میں جدائی ڈالنا، خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی ڈالنا اور یہ آخری شکل زیادہ عام ہے اور سب سے زیادہ خطرناک ہے،جادو کا علم حقیقت میں موجود ہے۔ جادو کی طاقت کا انحصار جادوگر عامل کی طاقت پر ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کالاعلم کیا ہے؟ کالے علم کا رنگ کالا نہیں ہوتا، بلکہ کالا کہتے ہیں ظلمت، گھپ اندھیرا، کفر، شرک اور اللہ کی ذات کو چھوڑ کر غیراللہ کی مد د کو پکارنا، دراصل کالا علم اور جادو ایک ہی بات ہے۔
جادوگر کے پاس اپنی حاجات لے کر جانے والے اور پھر ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنے والے اپنے آپ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھیں ، شریر جنات اور شیاطین کے تعاون کے بغیر یہ عامل، جادو گر کوئی کارروائی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے۔ جنات ان سے تعاون کرنے کیلئے اس وقت تک تیار نہیں ہوتے جب تک ان سے کفر یہ اور شرکیہ کام نہیں کروا لیتے،چنانچہ انہیں جات کو تابع فرمان بنانے کیلئے اپنے ایمان کا سودا کرنا پڑتا ہے۔جادو گر شیاطین کو راضی کرنے کیلئے ایسے منتر اور کلمات ادا کرتے ہیں جن میں کفر و شرک ہوتا ہے۔شیاطین کی تعریف کی جاتی ہے کواکب و نجوم کی عبادت کی جاتی ہے۔ جادو گر ہر وہ کام کرتا ہے جن سے اللہ تعالی ناراض ہوتے اور شیاطین خوش ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ عام طور پر گندے اور ناپاک رہتے ہیں۔
دراصل جادو، جادوگر اور شیاطین کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کانام ہے۔ شیاطین کو راضی کرنے اور اس کا تقرب حاصل کرنے کیلئے جادو گروں کے مختلف شیطانی اعمال اور ناپاک وسائل ہیں۔ کچھ ہمیشہ ناپاک رہتے ہیں اور کچھ جادوگروں کو شیاطین کے لیے جانور ذبح کرنے پڑتے ہیں وہ بھی بسم اللہ پڑھے بغیر اور ذبح شدہ جانور کو ایسی جگہ پھینکنا پڑتا ہے جسے شیاطین خود طے کرتے ہیں۔ بعض جادوگر ستاروں کو سجدہ کرتے ہیں اور ان سے مخاطب ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیاطین جادوگروں سے پہلے کوئی حرام کام کرواتے ہیں پھر اس کی مدد اورخدمت کرتے ہیں۔اسی لیے کہا گیا ہے کہ جادو گر نجاست کا پلندہ ہوتا ہے۔ جب تک وہ گندہ نہیں ہوگا اس وقت تک اس کا جادو اثر انداز نہیں ہوگا۔
یہاں تک کہ جتنازیادہ عقیدہ اس کا غلط ہو گا، کفر زیادہ ہو گا، اتنا اس کا جادو موثر ہو گا اور جتنی اس کی گندی حالت ہو اس کا جادو تیز ہو گا، کیونکہ جادو شیطانیت اور شرارت کااثرہے جس وقت اس کی شرارت عروج کو پہنچے گی اتنا ہی اس کاجادو بھی تیز ہو گا۔
جن، شیطان اور جادو کے درمیان بہت گہرا تعلق ہوتا ہے بلکہ جادو کی بنیاد ہی جنات اور شیاطین ہیں،وقت کے ساتھ ساتھ جیسے حق کی قوتیں کام کرتی رہیں ویسے ہی بدی کی طاقتیں بھی اپنا اثرورسوخ بڑھاتی رہیں ،حق کے ماننے والے نوری علم سے جہاں پر لو گوں کے مسائل حل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور قرآن کی تعلیم کے ذریعے انہیں ذہنی آسودگی دیتے ہیں وہاں پر بدی کا ساتھ دینے والے شیطانی علوم سے عوام الناس کو مختلف مصائب میں مبتلا کرتے رہتے ہیں یہ لوگ نہ صرف کالے علم کی مختلف اقسام جیسے جنتر،منتر اور تنتر سے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر گمراہ کرتے ہیں بلکہ گندی روحوں،موکلوں اور دیگر کالی شکتیوں جیسے ہنومان ،کھیترپال ،بھیرو، ناگ دیوتا،لوناچماڑی، چڑیل،لکشمی دیوی ، کالا کلوا ،پاروتی دیوی ، کلوسادھن، پیچھل پیری ،ڈائن ،ہر بھنگ آکھپا جیسی دیگر بلائوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر ایک دوسرے کا مخالف بنا دیتے ہیں اور اس کے عوض ان سے ہزاروں روپے بٹورتے ہیں جبکہ بعض چالباز اور دولت کے پجاری عامل زہر سے لکھ کر تعویز دیتے ہیں جس کو گھول کر پینے والا نہ صرف مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلاہوجاتا ہے بلکہ بسااوقات ہلاک ہو جاتا ہے اور بعض اوقات زہر کے اثر کی وجہ سے پاگل ہوجاتاہے اور بعض اوقات عالم دیوانگی میں خود کشی کر کے ہلاک ہوجاتا ہے۔وطن عزیز کا کوئی شہر کوئی ایسا محلہ ،گلی ،بازار یا علاقہ نہیں ہے کہ جہاں پر کالے علم کے ذریعے کام کرنے والے جادوگر موجود نہ ہوں۔ معاشی ،سماجی اور گھریلو حالات سے پریشان ہو کر لوگ ان کے پاس چلے جاتے ہیں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر اپنا سب کچھ حتی کہ دین اور ایمان بھی گنوا بیٹھے ہیں جبکہ عورتیں گھریلو جھگڑوں جیسے شوہر بیوی کی ناچاقی ، ساس سسر کا مسئلہ، نندوں کے طعنوں سے تنگ آ کر ان کے پاس جاتی ہیں جن میں سے اکثر اپنی عزت بھی گنوا دیتی ہیں،یہ کالے جادوگر لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے بلند وبانگ دعوے کرتے ہیں اور خود کو عاملوں کا سردار ،جنات کا بادشاہ ،موکلوں کامالک اور زندہ پیر کامل اور جنات والے ظاہر کرتے ہیں اور اپنا تعلق بنگال،کیرالا، کالی گھاٹ ،تبت، نیپال اور سندر کے ہندو پجاریوں سے ملاتے ہیں، ہندو مذہب میں کالی ماتا (کالی دیوی) ایک بربادی اور تباہی کی دیوی سمجھی جاتی ہے اس کا مندر مغربی بنگال کے شہر کلکتہ میں واقع ہے اور اسے کالی گھاٹ بھی کہا جاتا ہے۔کالی دیوی اصل میں درگا دیوی کے پسینے سے پیدا ہونے والی سات دیویوں میں سے ایک ہے جبکہ دیگر دیویاں شیراں والی دیوی،ویشنودیوی ، لکشمی دیوی ، سرسوتی دیوی ، اورسنتوشی دیوی ہیں۔
کالی دیوی ایک کالے سیاہ رنگ کی عورت ہے جو آٹھ ہاتھ رکھتی ہے ایک میں تلوار دوسرے میں انسانی سر اور دیگر ہاتھوں میں بھی مختلف ہتھیار ہوتے ہیں اس کے گلے میں انسانی کھوپٹریوں کا ہار اور بدن پر انسانی چہروں اور بازں کا زیر جامہ ہوتا ہے اس کی آنکھیں سرخ ،گالوں اور سینے پر انسانی خون لگا ہوتا ہے جبکہ ایک انسانی لاش کے اوپر یہ کھڑی ہوتی ہے۔
کالی ماتاکے ماننے والے اس کے چرنوں میں قربانی پیش کرتے ہیں جبکہ قدیم دور میں انسانوں کی قربانی بھی بھینٹ کی جاتی تھی اگرچہ اب بھی بنیاد پرست ہندوئوں کا یہی عقیدہ ہے اوروہ چھپ چھپاکرایسا کام کرتے رہتے ہیں۔بھارت میں کئی لوگ ان دیوی دیوتائوں کے چرنوں میں انسانی بچوں کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔گائے،بھینس، بکرے یا بکری کے دست یعنی شانے کی ثابت ہڈی کالے جادو اور سفلی عمل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ قصاب ہمیشہ اس پتلی اور چپٹی ہڈی کو گوشت الگ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں۔اس کے علاوہ عموما بکری کے دل پر بھی کٹ لگا دیتے ہیں کیونکہ ثابت دل پر عمل چلتا ہے اسی طرح کمہار کبھی بھٹی سے اتارا گیا تازہ برتن کبھی حوالے نہیں کرے گا اور اسے پکاکر ہی فروخت کرے گا۔سفلی اور کالا جادوکرنے والے لوگ جان پہچان کے کمہاروں سے کور برتن لے جاتے ہیں جبکہ کمہار کے کام میں استعمال ہونے والا دھاگا بھی کالے علم میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے،دست کی ہڈی عموما محبوب کو تابع کرنے یا مختلف کو برباد کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہے ۔بعض اسے عورت کی کوکھ باندھنے کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں،چند عملیات میں عورت کی کوکھ باندھنے کیلئے تلے پر عمل کر کے اسے کنویں، دریا یا سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے ،اس کے علاوہ کالے جادو اور سفلی عمل میں کثرت سے استعمال ہونے والی اشیا درج ذیل ہیں۔
گوگل،ماش کی ڈال،انڈے،سپاری،ناریل،زعفران،دھتورا، مور کے پر، کیز کے پھول، شہد،آک کا پودہ، کوے کے سیدھے بازو کا پر، گیدڑ کی آنکھ اور دم، الو کی بیٹ ، انسانی ناخن، جانوروں اور انسانوں کے جسم کی مختلف ہڈیاں، سیندور،لونگ، سوئیاں، ہینگ، کسی خوبصورت عورت کے بال جو تازہ تازہ مری ہو اور انسانی کھوپڑی وغیرہ،
ڈھائیاں جادو ڈھائیا انتہائی سریع الاثر اور خطرناک تصور کیا جاتا ہے، اسے ڈھائیا اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ڈھائی پل یا سیکنڈ، ڈھائی منٹ، ڈھائی گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ ڈھائی دن میں اپنا اثر دکھاتا ہے اس سے زیادہ وقت نہیں لیتا، اس عمل کاسب سے کارآمد ہتھیار “ہانڈی ہے جو کسی کی جان لینے کیلئے چڑھائی جاتی ہے۔ہانڈی کے اندر عموما چاقو،چھری،قینچی،استرا،سوئیاں اور ایک دیا رکھا جاتا ہے۔اس بارے میں مشہور ہے کہ کالے علم کے زور پر جلایا گیا یہ دیا اس قدر طاقتور ہوتا ہے کہ اگر کوئی طوفان بھی ہو تو یہ جلتا رہے گا اور منزل مقصود پر پہنچے گا۔
اس طرح بھان متی کا جادو بھی انتہائی جان لیوا ہے اور اس کا توڑ بہت مشکل سے کیا جاتا ہے یہ بھی سفلی عمل کی ایک قسم ہے۔ڈھائیاں کی طرح بھان متی بھی سفلی عمل ہے ،بھان متی پتلے پہ منتروں کا جاپ کر کے دشمن کو نقصان پہنچانے کیلئے کیا جاتا ہے اور عامل کوسوں دور بیٹھ کر پتلے کے ساتھ جو سلوک کرے گا، اس کا دشمن پر بھر پور عمل ہوتا ہے بھان متی کے جادوگروں کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ ہر سال دیوالی کی رات اپنا جادو جگاتے ہیں اگر اس سال انہیں موقع نہ ملے تو سارے سال کیلئے بیکار ہو جاتے ہیں۔کالا جادو کرنے والے عاملین لوگوں کو کالاجادو کرنے کیلئے عجیب وغریب طریقے بتاتے ہیں۔بسا اوقات اس کیلئے انتہائی گھنائونے کام بھی کیے جاتے ہیں۔ کچھ جادو مقدس کتابوں پر بیٹھ کر، ان کے اوراق جلاکر کیے جاتے ہیں۔
بعض کیلئے40روز تک نجس رہنے کی شرط رکھی جاتی ہے۔ کبھی کبھی جادو کرنے والے کو حرام گوشت بھی کھانا پڑتا ہے ،کسی کو بتائے بغیر ان جانوروں کی ہڈیوں کا سفوف بھی چٹایا جاتا ہے، کبھی کسی عورت کو قبرستان میں تازہ مردہ بچے کی لاش پہ نہانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔کسی عورت کو اندھیری رات میں دریا کے کنارے پر ویران جگہ نہانے کیلئے کہا جاتا ہے،کئی اعمال کالی دیوی، سرسوتی، ہنومان، کالی ماتا، مچھیا اور کالی دیوی کے نام پر کیے جاتے ہیں۔ مچھیا اور کالی دیوی کا جادو صرف گند کھاکر ہوتا ہے۔بعض عامل کسی ایسے ہندو مردے کی چتا کی چٹکی بھر راکھ بھی اپنے مخالف فریق کو کھلاتے ہیں جس ہندو نے زندگی بھر گوشت نہ کھایا ہو۔ جادوگروں کے بقول یہ راکھ جس کو بھی کھلائی جائے اس کی اذیت ناک موت کو کوئی نہیں روک سکتا۔
آج پاکستان میں جہاں قتل و غارت گری، سماجی برائیوں اور معاشی ابتری نے لوگوں کا سکون چھین لیا ہے، وہیں کالے جادو جیسی ایک بہت بڑی لعنت بھی اندھیری رات کی طرح مسلط دکھائی دیتی ہے۔اس کاسب سیبڑانقصان اس کوہوتا ہیجس پر کالا جادو کروایا جاتا ہے۔کسی پر کالا جادو کروانے خواہش مند بعض یہ لوگ کونوں، کھدروں، ویرانوں، مندروں اور مرگھٹوں پر جا کر روپے اور زیورات دے کر کسی اپنے یا غیر پر کالا جادو کرواتے ہیں چونکہ یہ ایک شیطانی عمل ہے، لہذا اس کی اپنی تباہ کاریاں ہوتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کالے جادو کی وجہ سے کسی کی کار چلتے چلتے اچانک کسی بڑے حادثے سے دو چار ہو جائے، اچھے بھلے کاروبار کا ایسا روگ لگ جائے کہ وہ کاروبار جگہ ویرانہ بن جائے، کسی کی شادی میں ایسی رکاوٹ ڈال دی جاتی ہے کہ وہ ساری زندگی بیاہ نہیں کر پاتا اور میاں بیوی صحیح سلامت ہونے کے باوجود بھی اولاد سے محروم رہ جاتے ہیں۔
اسی طرح کسی کے گھرکی دیواروں پر آپ ہی آپ خون کی لکیریں بن جاتی ہیں اور کسی کی جان کالے جادو کی مدد سے اس کے سر پر کسی مندر یا مرگھٹ سے اڑائی گئی ہانڈی آ کر لیتی ہے۔دوسری طرف جادو نگری کی چوکھٹوں پر بعض ضعیف الاعتقاد مسلمان مرد اورخواتین،جادو کی تباہ کاریوں اور اپنے برے انجام سے غافل ہوکرجائز اور ناجائز کاموں کیلئے چکر کاٹتے صاف نظر آئیں گے.اس میں جاہل اور عاقل کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ کوئی بیٹی کے بالوں میں اترتی چاندی دیکھ کر مجبور ہے تو کوئی بے روزگاری سے سڑکیں ناپ ناپ کر پریشان حال ہے۔ کوئی سکون کو تلاش کررہا ہے تو کوئی راتوں رات امارت کی منزلیں طے کرلینا چاہتا ہے۔آج کے بازار کی ہرچیز بکتی ہے۔ ان بازی گروں کے آستانوں اور نقلی پیر خانوں پر جیسے دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں۔ جسے ہر پیاسا یہاں نہال ہو جائے گا۔ ہر پریشانی اور بیماری کا حل جیسے ان کی پٹاری میں موجود ہے۔ اور ستم رسیدہ ہیں وہ لوگ جو علم و عمل کی شاہراہ سے بھٹک کر مافوق الفطرت کرامتوں کیلئے بیابانوں میں دھکے کھارہے ہیں۔
قابل رحم ہیں وہ لوگ جو بابا کی پھونک اور ایک تعویز کو ساری پریشانیوں کا حل سمجھ بیٹھے ہیں۔ قابل توجہ ہے ان کی بے بسی جو ایک رب کے در کو چھوڑکر دردر کی خاک چھانتے پھرتے ہیں۔ وہ یہ کیوں نہیں سمجھنا چاہتے کہ اگر اللہ تعالی نہ چاہے تو کون ہے جو ان کے مسئلوں کو حل کر دے۔
اگر ڈاکٹر شفا بانٹنے والے ہوتے تو کیوں خود دارِفانی سے کوچ کر جاتے؟ اگر طوطے ہی انسان کی قسمت بتانے پر قادر ہوتے تووہ خود کو اس بند پنجرے کی سلاخوں سے خود کو آزاد پہلے کراتے اور قسمت کے حال بتانے والے یوں فٹ پاتھوں پر اپنی قسمت کا رونا نہ رو رہے ہوتے.ملک بھر میں دن بدن بڑھتے ہوئے حسد کی وجہ سے کالے جادو کے ذریعے خواتین کو بانجھ بنانے کا مکرہ دھندا عروج پرگیا ہے۔ ملک بھر میں خاندانی جھگڑوں، جائیداد اور کاروباری تنازعات میں اپنے مخالف کو نشانہ بنانے کیلئے کالا جادو کرانے کا رجحان بہت بڑھ چکا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں سفلی عاملوں کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب سفلی عملیات کے توڑ کیلئے مسلمان عاملین میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان روحانی عاملوں کی بیشتر تعداد مختلف مدارس کے علما پر مشتمل ہیں۔ تاہم سفلی عاملوں کے مقابلے میں ان کی تعداد بہت کم ہے.
جادو کی خواہ کتنی بھی قسمیں ہوں ان کا سیکھنا اورکسی پر کروانا ہر حال میں حرام ہے۔ہمارے معاشرے کے کچھ افراد زبان سے کلمہ پڑھنے کے باوجود بھی عقیدے کیاتنیکچے ہوتے ہیں کہ وہ حسد، رقابت، جلن اور اپنی محرومیوں کا بدلہ ایک خوشحال اور ہنسے بستے گھرانے یا فرد سے اس طرح لیتے ہیں کہ وہ ذہنی اور مالی لحاظ سے تباہ حال اور کنگال ہو کے رہ جاتا ہے.سفلی عاملین رات کو ویران قبرستانوں میں بیٹھ کر بد روحوں کو اپنے قبضے میں لینے کا عمل کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ سفلی عامل چھوٹے بچوں کی تازہ لاشوں کو قبروں سے نکال کر یا ہندوں کے شمشان گھاٹ میں بچوں کی چتاکی راکھ سے مخصوص عمل کے ذریعے کلوہ کی طاقت حاصل کرتے ہیں جس کا شمار سفلی علوم کی خطرناک ترین جادوئی قوتوں میں ہوتا ہے۔
کلوہ کی رفتار اور طاقت جنات سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ سے کہ سفلی کے جان لیوا عمل کیلئے جادوئی ہانڈی بھی کلوہ سے بھجوائی جاتی ہے۔ جادوگروں کے قریبی ذرائع مطابق کلوہ کی رفتار انتہائی تیز ہونے کی وجہ سے ہدف سے پہلے اگر غلطی سے کوئی اور شخص درمیان آجائے تو جادوئی ہانڈی ٹکرانے سے اس کی جان جا سکتی ہے۔ بعض کالے جادوگر کلوہ کو کالی ماتا کی فوج بھی قرار دیتے ہیں۔ ہندو دھرم کے عالموں کے مطابق کلوہ نوزائیدہ بچے کی آتما (روح) ہوتی ہے جو مرنے کے بعد تین دن تک لاش کے قریب بھٹکتی رہتی ہے۔ اسے سفلی عامل مخصوص عمل کے ذریعے اپنے قبضے میں کر لیتے ہیں اور پھر ان سے گھنانے کام کراتے ہیں۔
لوگوں کو فوری طور پر مارنے والا سفلی عمل صرف ہندو خاکروب یا کوہلی طبقے کے جادوگر کرتے ہیں، جس میں مخصوص جادوئی ہانڈی بھجوائی جاتی ہے یا سوئیاں لگے پتلے کو قبر کے نیچے دبا دیا جاتا ہے۔سخت ترین سفلی عمل چتاکی راکھ سے کیے جاتے ہیں۔عامل ، چتاکی راکھ (جلائے گئے ہندو مردے کی ہڈیوں کی راکھ) سے خطرناک سفلی عملیات سرانجام دیتا ہے۔
چتاکے جلنے کے بعد مرنے والے کے عزیز و اقارب اس کی راکھ کو سفلی عملیات میں استعمال ہونے سے بچانے کیلئے اس کی کھوپڑی اور دیگر سالم رہ جانے والی ہڈیوں کو توڑ دیتے ہیں۔ تاہم سفلی عملیات کرنے والے جادوگر اور سفلی عملیات کرانے کے خواہشمند، چتاکی راکھ ٹھنڈی ہونے کے بعد اسے حاصل کرنے کیلئے شمشان گھاٹ کے چکر کاٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ سفلی جادو میں گندے بیر یا موکلات کا حصول بنیادی جز قرار دیا جاتا ہے۔
چتاکی راکھ سے نہ صرف سفلی نقوش تحریر کئے جاتے ہیں بلکہ اس کو مٹی میں ملا کر اس سے بنائے گئے پتلوں پر سوئیاں چبھو کر کسی مطلوبہ شخص کو ہلاک کرنے کے علاوہ جسمانی اعضا اور بیماریوں میں بھی مبتلا کیا جاتا ہے۔
جبکہ چتا کی راکھ سفلی عملیات کا شکار بنائے جانے والے افراد کو گھول کر بھی پلائی جاتی ہے۔ شمشان گھاٹ میں کئے جانے والے سفلی عملیات میں خواتین کو بانجھ کرنے کا سفلی عمل بھی شامل ہے جس کیلئے تازہ انسانی لاش کا جگر جلا کر اس پر طلسمی عملیات کئے جاتے ہیں.سفلی عامل چتاکی راکھ پر شیطانی منتر پڑھتے ہیں۔ یہ راکھ جس دکان کے سامنے ڈال دی جائے اس کا کاروبار تباہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جس گھر کی دہلیز پر یہ راکھ بکھیر دی جائے وہاں ناچاقی شروع ہو جاتی ہے۔کالے جادو اور سفلی عاملوں میں کالی مائی، کالی دیوی یا کالکا دیوی اور ہنومان سخت ترین تصور کیا جاتا ہے اور جس کے قبضے میں ان میں سے ایک چیز بھی ہو وہ انتہائی طاقتور عامل یا سفلی گر سمجھا جاتا ہے۔
کالے جادو میں یہ سب سے سخت عمل کہلاتا ہے کیونکہ کالی مائی کو بار بار جانوروں کی بھینٹ دینا پڑتی ہے تاکہ عامل یا اس کی اولاد پر سختی نہ آئے ۔بعض شیطانی عملیات کے زریعے کالی تک پہنچنے کیلئے انسانی جان کی بھینٹ بھی دینی پڑتی ہے
کالے جادو کے عامل کالی دیوی اور ہنومان کے علاوہ شمشانک دیوی ، کملا دیوی،پدمنی دیوی، لکشمی دیوی، موہنی دیوی، کالا کلوا، گنیش جی ، دیوتا سروپ، ہمادیو وغیرہ کو تابع کرنے کیلئے عمل کرتے ہیں جس کیلئے عمل کیا جا رہا ہو عموما اس کی مورتی سامنے رکھنی پڑتی ہے۔یہ عمل کسی دریا کے کنارے، قبرستان، کسی ویران مکان یا پیپل کے درخت کے نیچے کئے جاتے ہیں.
کالاجادو کرنا اتنا بڑا گناہ اسی لئے ہے کہ اس میں براہ راست شیطان (ابلیس) اور اس کی اولاد سے مدد مانگی جاتی ہے جو منتر پڑھے جاتے ہیں ان میں اللہ اور اس کے رسول کا انکار اور ان کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے پھر ابلیس یا اسکی اولاد کو معبود یا مددگار مان کر ان سے مدد مانگی جاتی ہے۔
سخت ترین جادو میں تو نعوذ باللہ قراآن پاک کو الٹا لکھا یا پڑھا جاتا ہے یا حرام اور غلیظ سیاہی سے لکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات جادوگر قرآن پاک کو چھوٹے سائز میں بنوا کر اسیجوتیوں میں پہن لیتا ہے پھر بیت الخلا جا کر مشرکیہ منتر پڑھتا ہے جس سے شیاطین بہت خوش ہوتے ہیں اور اس جادوگر کے تابعبہت سی شیطانی بلائیں کر دی جاتی ہیں جو اس جادوگر کے کام آتی ہیں.
سفلی یا کالا جادو عام طورپر بعض دین سے گمراہ مرد یا عورتیں اپنوں کو قابو کرنے یا انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے کرواتے ہیں۔
مگر بعد میں جب یہی کالے علم کے شکار مریض اللہ تعالی کے کسی نیک اور پرہیز گار بندے کے پاس پہنچتے ہیں تو وہ اس شیطانی کالے علم کے اثرات کو مریض پر سے بالکل ایسے صاف کر دیتے ہیں،جیسے کوئی مکڑی کاجالا صاف کردے۔یہ حقیقت ہے کہ کالا جادو کیسی ہی خوف ناک تباہی کیوں نہ لائے۔ اللہ تعالی نیک اور پرہیز گار بندے قرآن مجید کی مدد سے کالے جادو کو ختم کر دیتے ہیں۔ بے شک اللہ کا علم ہی حق اور طاقت ور ترین ہے اور شیطانی علم (کالا جادو) بہرحال ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ باطل ہے۔اللہ تعالی کے نیک اور پرہیز گار بندے صوفیائے کرام گلستان اسلام کے وہ مہکتے پھول ہیں جنہوں نے ہر سو محبت کی خوشبوئیں بکھیریں، یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے امن کے دیپ چلائے اور قرآن و سنت کے ذریعے اسلام کا علم بلندکیا۔جب کوئی جادو کی بیماری میں ہو تو وہ اس کا علاج جادو سے نہ کرے کیونکہ شر، برائی کے ساتھ ختم نہیں ہوتا، اور نہ کفر، کفر کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ بلکہ شر اور برائی خیر اور بھلائی سے ختم ہوتے ہیں۔
بہترین مشورے اور علاج کے لئیے رابطہ کریں ...انشاء اللہ اللہ کی مدد سے اب بہتر ہوجائیگا .. .

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 ملک وقاص, Ch Hussain Hussain, سعی لاحاصل...
09/09/2024

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 ملک وقاص, Ch Hussain Hussain, سعی لاحاصل, Tabasum B, Bahare Gul, Sara Khan, Hassan Ali, Zubair Bhutta, Abdullah Khan, M Waseem M Waseem

کراچی سپر ہائی وے پر ہوٹلوں پر چھاپے، مختلف نسلوں کے کتے اور تیار کتے 5 سال سے کراچی کے شہریوں کو بکرے کا گوشت بول کہ کت...
09/09/2024

کراچی سپر ہائی وے پر ہوٹلوں پر چھاپے، مختلف نسلوں کے کتے اور تیار کتے 5 سال سے کراچی کے شہریوں کو بکرے کا گوشت بول کہ کتے کا گوشت کہلا رہے ۔۔۔
‏۔ ⚡ ❤‍🩹











Actres # jamilanagudu with and also known as in movie📽📺👈



Today Best Photo ❤️❤️




























Larson Jolie Fox Lopez Aniston Lawrence Stewart Steinfeld Fox


🔥🔥

۔

۔










Actres # jamilanagudu with and also known as in movie📽📺👈

سعادت حسن منٹو جیسے بڑے قلم کار نے کئی سال قبل اپنے وقت کی ایک بڑی گلوکارہ اور اداکارہ نور جہاں پر یہ مضمون لکھا تھا۔ اس...
09/09/2024

سعادت حسن منٹو جیسے بڑے قلم کار نے کئی سال قبل اپنے وقت کی ایک بڑی گلوکارہ اور اداکارہ نور جہاں پر یہ مضمون لکھا تھا۔ اس میں منٹو نے نور جہاں کے فن اور ان کی شخصیت سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کچھ دل چسپ باتیں بھی لکھی ہیں۔ مثلاً‌ وہ بتاتے ہیں کہ گلوکارہ اپنی آواز کے بگڑنے اور گلے کے خراب ہونے کا خیال کیے بغیر کھانے پینے میں کوئی احتیاط نہیں کرتی تھیں۔

منٹو نے ملکۂ ترنّم نور جہاں کے بارے میں لکھا: میں نے شاید پہلی مرتبہ نور جہاں کو فلم ’’خاندان‘‘ میں دیکھا تھا۔ ’نور جہاں‘ ان دنوں فلم بین لوگوں کے لئے ایک فتنہ تھی، قیامت تھی۔ لیکن مجھے اس کی شکل و صورت میں ایسی کوئی چیز نظر نہ آئی۔ ایک فقط اس کی آواز قیامت خیز تھی۔

سہگل کے بعد، میں نور جہاں کے گلے سے متاثر ہوا۔ اتنی صاف و شفاف آواز، مرکیاں اتنی واضح، کھرج اتنا ہموار، پنچم اتنا نوکیلا! میں نے سوچا، اگر یہ لڑکی چاہے تو گھنٹوں ایک سُر پر کھڑی رہ سکتی ہے، اسی طرح، جس طرح بازی گر تنے ہوئے رسہ پر بغیر کسی لغزش کے کھڑے رہتے ہیں۔

نور جہاں کی آواز میں اب وہ لوچ، وہ رس، وہ بچپنا اور وہ معصومیت نہیں رہی، جو کہ اس کے گلے کی امتیازی خصوصیت تھی۔ لیکن پھر بھی نور جہاں، نورجہاں ہے۔ گو لتا منگیشکر کی آواز کا جادو آج کل ہر جگہ چل رہا ہے۔ اگر کبھی نور جہاں کی آواز فضا میں بلند ہو تو کان اس سے بے اعتنائی نہیں برت سکتے۔

نور جہاں کے متعلق بہت کم آدمی جانتے ہیں کہ وہ راگ ودیا اتنا ہی جانتی ہے جتنا کہ کوئی استاد۔ وہ ٹھمری گاتی ہے، خیال گاتی ہے، دھرپد گاتی ہے، اور ایسا گاتی ہے کہ گانے کا حق ادا کرتی ہے۔ موسیقی کی تعلیم تو اس نے یقیناً حاصل کی تھی کہ وہ ایسے گھرانے میں پیدا ہوئی، جہاں کا ماحول ہی ایسا تھا۔ لیکن ایک چیز خداداد بھی ہوتی ہے۔ موسیقی کے علم سے کسی کا سینہ معمور ہو، مگر گلے میں رس نہ ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ خالی خولی علم سننے والوں پر کیا اثر کرسکے گا۔ نور جہاں کے پاس علم بھی تھا اور وہ خداداد چیز بھی کہ جسے گلا کہتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں مل جائیں تو قیامت کا برپا ہونا لازمی ہے۔

میں یہاں آپ کے لیے ایک دل چسپ بات بتاؤں کہ وہ لوگ جن پر خدا کی مہربانی ہوتی ہے، وہ اس سے ناجائز فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ میرا مطلب ابھی آپ پر واضح ہو جائے گا۔ چاہیے تو یہ کہ جو چیز خدا نے عطا کی ہو، اس کی حفاظت کی جائے، تاکہ وہ مسخ نہ ہو۔ لیکن میں نے اکثر دیکھا ہے کہ لوگ ان کی پروا نہیں کرتے۔ بلکہ غیر شعوری یا شعوری طور پرپوری کوشش کرتے ہیں کہ وہ تباہ و برباد ہو جائے۔

شراب گلے کے لئے سخت غیر مفید ہے لیکن سہگل مرحوم ساری عمر بلا نوشی کرتے رہے۔ کھٹی اور تیل کی چیزیں گلے کے لئے تباہ کن ہیں، یہ کون نہیں جانتا؟ مگر نور جہاں پاؤ پاؤ بھر تیل کا اچار کھا جاتی ہے۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ جب اسے فلم کے لئے گانا ہوتا ہے تو وہ خاص اہتمام سے پاؤ بھر اچار کھائے گی، اس کے بعد برف کا پانی پیے گی، پھر مائیکرو فون کے پاس جائے گی۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ ’’اس طرح آواز نکھر جاتی ہے۔‘‘

یوں آواز کیونکر نکھرتی ہے، گلا کیسے صاف ہوتا ہے، اس کے متعلق نور جہاں ہی بہتر جانتی ہے۔ یوں میں نے اشوک کمار کو بھی برف استعمال کرتے دیکھا ہے کہ جب اسے گانے کی صدا بندی کرانا ہوتی ہے وہ سارا وقت برف کے ٹکڑے چباتا رہتا ہے۔ جب تک ریکارڈ زندہ ہیں، سہگل مرحوم کی آواز کبھی نہیں مرسکتی۔ اسی طرح نور جہاں کی آواز بھی ایک عرصے تک زندہ رہے گی اور آنے والی نسلوں کے کانوں میں اپنا شہد ٹپکاتی رہے گی۔

عورت کو مرد سے کتنا جنسی لگاؤ ہوتا ہےمیاں بیوی کا رشتہ جتنا  مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی بیوی کا مزاج نازک ہوتا ہے  عورتوں میں...
09/09/2024

عورت کو مرد سے کتنا جنسی لگاؤ ہوتا ہے
میاں بیوی کا رشتہ جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی بیوی کا مزاج نازک ہوتا ہے عورتوں میں بہت کم ایسی ہوتی ہے جن کو مرد سے صرف دولت کی طلب ہوتی ہے عورت ایک مرد سے قلبی لگاؤ اور محبت و عزت کی طلب گار ہوتی ہے جب کہ اس کے مقابلہ میں مرد عوت سے جنسی طور پر لذت اندوز ہونے کو زیادہ پسند کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھے بغیر ازدواجی تعلقات بھی تکیلف کا باعث بنتے ہیں مر دوں اور عورتوں میں ایک بڑا نازک اور اہم فرق یہ ہوتا ہے کہ مرد اپنی بیوی سے جسمانی و جنسی لگاﺅ کا زیادہ خواہش مند ہو تا ہے ۔ جب کہ عورت کو اپنے مرد سے جذباتی اور قلبی لگاﺅ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ نازک فرق میاں اور بیوی کے درمیان ناچاقی کا باعث بھی بن جا تاہے ۔ جو مرد اپنی بیویوں سے کم کم بولتے ہیں ۔ ان کی باتوں پر توجہ نہیں دیتے ، انہیں صحت نامہ مشورے کے مطابق اس بات پر خاص توجہ دینی چاہیے کہ ان کی بیویاں ان کی آواز سننے کے لیے بے تاب رہتی ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر دفتر سے ان کے شوہر کا فون آجائے اور انہیں ایک جملہ ہی سننے کو مل جائے تو گھنٹوں شوہر کی آواز ان کے کانوں میں رس گھولتی رہتی ہے ۔ شوہروں کو چاہیے کہ گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر آتے وقت چند جملے دل لگی اور چاہت کے انداز میں ضرور کریں تاکہ وہ آپ کی عدم موجودگی میں آپ کی باتوں کو سوچ کر خوش و خرم رہے
گھریلو اشیا ءکے تحفے
تحفہ یقینا محبت بڑھا تا ہے اور الفت پیدا کرتا ہے اور میاں بیوی کے درمیان تعلق میں تو اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے لیکن تحفے کا انتخاب اصل چیز ہے ۔ مرد اپنی بیویوں کو کوئی گھریلو شے تحفے میں دے تو اس سے بیوی کو خاص دلچسپی نہیں ہوتی ۔ اس قسم کے تحفوں میں بیوی سے انس اور پیار و محبت کا عکس نظر نہیں آتا ۔ جب آپ اس قسم کا کوئی تحفہ اپنی بیوی کو دیتے ہیں تو بیوی پر یہ ظاہر ہو تاہے کہ آپ کو اپنی بیوی سے زیادہ اپنی پسند اور خواہش کی پرواہ ہے ۔ بیوی اپنے شوہر سے ایسا تحفہ چاہتی ہے جس سے یہ اظہار ہو کہ شوہر نے بیوی کی خواہش کا احترام کیا ہے ۔ مثال کے طور پر اپنی بیوی کو اس کی پسند کی کوئی کتاب ، رسالہ یا اس کی پسند کے کپڑے اور جیولری کا تحفہ دینا بیوی کے لیے زیادہ خوشی کا باعث ہوگا ۔ اس لیے شوہروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بیوی کی پسند پر نظر رکھیں اور پھر جان لینے کے بعد جب بھی موقع ملے ، چاہت سے پیش کر دیں یقینا آپ کی بیوی جھوم اٹھے گی ۔
اولین ترجیح کی تمنا
یہ با ت ذہن میں رکھئیے کہ مر د اور عورت کے حسد کی وجہ الگ الگ ہو تی ہے ۔ مثلا ًجنسی طور پر زیادہ فعال بیوی سے شوہر بدگمان ہو سکتا ہے ۔ جب کہ بیوی اس وقت کڑھتی ہے جب اس کا شوہر اس سے دور ہوتا ہے ۔ خواہ دوستوں میں بیٹھا ہو یا اخبار پڑھ رہا ہو ۔ ایک بیوی یہ محسوس کرنا چاہتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کی پہلی ترجیح ہے ۔ آپ ایک شوہر ہیں اور یقینا آپ کی بیوی آپ کی اولین ترجیح ہے ۔ اس لیے ہوسکتا ہے کہ آپ یہ کہیں کہ میری بیوی یہ جانتی ہے کہ وہ میری اولین ترجیح ہے ۔ لیکن جب آپ گھر سے باہر ہوتے ہیں تو آپ کی بیوی کئی قسم کے وسوسوں کا شکار ہو کر بعض اوقات اس شک میں مبتلا ہو سکتی ہے کہ شائد وہ آپ کی اولین پسند نہ ہو۔ یہی معاملہ اس وقت بھی پیش آسکتا ہے جب آپ گھر پر ہوتے ہوئے بھی بیوی پر بھر پو ر تو جہ نہ دے رہے ہو ں ۔ وہ ایسے میں خیا ل کر تی ہے کہ آپ اسے مسترد کر چکے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ جب آپ گھر پر ہوں تو اپنی بیوی پر بھرپور توجہ دیجئے ۔ اس کے کاموں کی تعریف کیجئے اور زیادہ سے زیادہ سے وقت اس کے ساتھ گزارئیے تاکہ آپ کی بیوی کسی بھی قسم کے وسوسے یا شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر گھریلو امن و سکون اور سلامتی کو تہہ و بالا نہ کردے۔ کامیاب زندگی گزارنے کے لیے یہ ایک اہم اصول اور بنیادی نقطہ ہے ۔
بیوی کا ہا تھ بٹائیں
آپ کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہوں ۔ گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے بیوی کے ساتھ کام کاج میں شرکت مفید ہے ۔ وہ چا ہتی ہے کہ چھٹی کے دن اگر وہ سالن بنا رہی ہے تو آپ سلاد کاٹ لیں وہ برتنوں پر صابن لگا کر پانی سے دھو رہی ہے تو آپ یہ بر تن اٹھا کر الماری میں رکھتے جائیں ۔ بیوی کو اس وقت بہت خوشی ہوتی ہے کہ جب وہ اپنے شوہر کو اپنے ساتھ گھریلو کام کاج کرتے دیکھتی ہے ۔ عام طور پر شوہر یہ سمجھتے ہیں کہ امور خانہ داری محض بیویوں کی ذمہ داری ہے اور وہ گھر میں کھانا کھانے ، اخبار پڑھنے اور صرف سونے آتے ہیں۔ سوچ کا یہ اندا ز بالکل غلط ہے ۔ گھر کی زندگی ایک جماعت اور ٹیم کی طر ح ہے۔ چنانچہ یہ گھریلو کام جس طرح عورت کی ذمہ داری ہے ، اسی طرح شوہر کی بھی ہیں ۔
یاد رکھئیے ! آپ کی بیوی آپ کو محض اپنا شریک حیات ہی تصور نہیں کرتی بلکہ وہ آپ کو اپنا شریک کار بھی بنانا چاہتی ہے۔ روزگار کے لیے گھر سے جانے سے پہلے اور آنے کے بعد ایک کونے میں پڑے رہنا یعنی بے اعتنائی والا رویہ ظاہر کرنا اور بیوی کو اپنے ذاتی کاموں کی فرمائشیں کر کے گھر یلو کام کاج میں بے وقت مخل ہوتے رہنا ، بیوی کو ہر گز پسند نہیں ہوتا۔
یاد رکھیں مکان کو گھر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ پیار محبت کے ساتھ وقت گزارہ جائے گھر والوں کو وقت دیا جائے ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے ان سے رائے لی جائے اور ایسے ہی ان کی رائے کو اہمیت دی جائے تا کہ انہیں بھی اس گھر کا فرد ہونے کا احساس ہو

میرے ایک دوست نے کہا کہ میں جب انگلینڈ سے پڑھ کر پاکستان لوٹا۔ اگلے روز ناشتے پر ابا جی  نے پوچھا کیا پڑھا ہے تم نے۔میں ...
09/09/2024

میرے ایک دوست نے کہا کہ
میں جب انگلینڈ سے پڑھ کر پاکستان لوٹا۔ اگلے روز ناشتے پر ابا جی نے پوچھا کیا پڑھا ہے تم نے۔
میں نے کہا ابا جی میں نے منطق کا علم حاصل کیا ہے
سادہ لوح باپ نے پوچھا اَیدا کی فَیدہ

میں نے جوش میں آ کر کہا ابا جی یہ میرے سامنے جو ایک انڈا پڑا ہوا ہے میں اپنے علم کی رُو سے ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ ایک نہیں بلکہ دو انڈے ہیں۔ اس کے بعد میں نے دلائل کے انبار لگا دئیے اور پھر بات ختم کرکے ابا جی کو فخریہ نظروں سے دیکھنے لگا۔

تب ابا جی نے میرے سامنے سے وہ انڈا اُٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیا اور بولا 'چنگا فیر اے میں کھا لیندا واں دُوجا جیڑا توں ثابت کیتا او تُوں کھا لے🙄😐

نتیجہ:- ابا فیر ابا ہی ہوندا اے۔

09/09/2024

ایک دوست فرما رہے تھے کہ مجھے ایک بار ایران کے ایک گمنام قصبے میں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ اصفہان اور شیراز کے درمیان تھا‘ میں اس کا نام بھول گیا ہوں‘ مجھے وہاں رات گزارنا پڑ گئی‘ میں یہ جان کر حیران رہ گیا پورے قصبے میں فریج نہیں تھا‘ میزبان نے بتایا ہم خوراک کو فریج میں رکھنا گناہ سمجھتے ہیں‘ میں حیران رہ گیا‘ وہ بولا‘ شاہ ایران کے دور میں حکومت عوام کو فریج خریدنے کی ترغیب دیتی تھی‘ قسطوں پر ٹی وی اور فریج مل جاتے تھے‘ پورے شہر نے فریج خرید لیے۔

ہمیں چند دن بعد احساس ہوا ہمارے دل تنگ ہو گئے ہیں‘ ہم نے فالتو کھانا فریجوں میں رکھنا شروع کر دیا ہے‘ لوگ اس سے پہلے اضافی کھانا ضرورت مندوں یا ہمسایوں میں بانٹ دیا کرتے تھے‘ ہم میں سے ہر شخص اپنی ڈش ہمسائے کے گھر بھجواتا تھا اور ہمسائے اپنا کھانا ہمیں دے دیتے تھے‘ فریج نے میزبانی اور محبت کا یہ سلسلہ روک دیا‘ ہمارے امام صاحب نے ایک دن پورے شہر کو اکٹھا کیا اور فریج کو حرام قرار دے دیا‘ حکومت نے بہت زور لگایا لیکن ہم لوگوں نے اپنے فریج بیچ دیے یا پھر اپنے دور دراز کے رشتے داروں کو دے دیے‘ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ہمارے قصبے میں فریج واپس نہیں آیا۔

میں نے پوچھا اس سے کیا فائدہ ہوا؟ وہ ہنس کر بولا ”بہت فائدہ ہوا‘ ہمارے پورے شہر میں کوئی شخص بھوکا نہیں سوتا‘ لوگ پیٹ بھر کرکھانا کھاتے ہیں اور باقی کھانا کسی نہ کسی مسکین‘ حاجت مند یا بھوکے کو دے دیتے ہیں‘ ہم لوگ ہمسایوں میں بھی کھانا بانٹتے ہیں یوں پورے شہر میں کوئی بھوکا نہیں رہتا

Address

Bahadurabad Karachi
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu stories posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Urdu stories:

Share