Rao Khurram Crime Reporter Karachi

Rao Khurram Crime Reporter Karachi Mera Pakistan News HD

24/11/2025

کراچی : سولجر بازار2نمبر تاج پمپ کےقریب بلڈنگ میں آگ لگ گئی ،ریسکیو حکام

ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کی ہدایات پر لیبر کالونی میں کومبنگ/سرچ آپریشن۔ 16 گھروں اور 1 دکان کی تلاشی، 35 افراد...
24/11/2025

ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کی ہدایات پر لیبر کالونی میں کومبنگ/سرچ آپریشن۔

16 گھروں اور 1 دکان کی تلاشی، 35 افراد کی بائیومیٹرک ویریفیکیشن۔ مقصد: امن و امان اور جرائم پیشہ عناصر کی روک تھام۔

ضلع ملیر پولیس کراچی24 نومبر 2025*پولیس مقابلہ**گلشن حدید فیز 2 کےقریب اسٹیل ٹاؤن پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان فائر...
24/11/2025

ضلع ملیر پولیس کراچی
24 نومبر 2025

*پولیس مقابلہ*

*گلشن حدید فیز 2 کےقریب اسٹیل ٹاؤن پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ،*

پولیسں نے موٹرسائیکل پر سوار نامعلوم اشخاص کو رکنے کا اشارہ کیا۔

مسلح ملزمان نے پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کردی۔

پولیس کی جوابی فائرنگ سے 1 ملزم زخمی حالت میں گرفتار جبکے ملزم کے ساتھی فرار۔

ملزمان شہریوں سے لوٹ مار کی واردات کی نیت سے علاقے میں گشت کر رہے تھے۔

زخمی ملزم کی شناخت پرویز کے نام سے ہوئی۔

ملزم کے قبضے سے عدد پسٹل بمعہ ایمونیشن، 1 عدد موٹرسائیکل اور کیش رقم برآمد ہوئی۔

ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والی موٹرسائیکل کا ریکارڈ AVLC سے چیک کیا جارہا ہے۔

پولیس کی جانب سے زخمی ملزم کو طبی امداد کیلئے ہسپتال روانہ کردیا گیا ہے۔

ملزم سے برآمد ہونے والے اسلح کو فرانزک کیلئے روانہ کیا جارہا ہے۔

زخمی ملزم کا مزید کرمنل ریکاڈ چیک کیا جارہا ہے

اسٹیل ٹاون پولیس کی جانب سے ضابطے کے تحت قانونی کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے، اور فرار ملزمان کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔

*ترجمان ملیر پولیس*

30/07/2025

صحافت چھوڑ دو ورنہ انجام برا ہوگا منشیات فروشوں کی دھمکی

منشیات فروش اور مافیا سے صحافی اپنے گھر میں بھی غیر محفوظ ہونے لگے۔

گڈاپ ٹاؤن خلجی گوٹھ میں منشیات فروشوں کی جانب سے صحافت کی خدمات انجام دینے والے شیرباز خان کو صحافت چھوڑنے کی دھمکی ۔

شہر قائد پر دن بہ دن مافیاز اور منشیات فروشوں کی پکڑ تیز ہو رہی ھے ۔

جہاں منشیات فروشوں کی چاندی ہو وہاں پولیس کی وردی میں ملبوس کالی بھیڑیں بھی ان کے نقش قدم پر چلتی ہیں ۔

کئی دفعہ نشان دہی کے باوجود خلجی گوٹھ کے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کے بجائے مزید سیکورٹی دی جاتی ہے ۔

شہر قائد میں سب سے زیادہ منشیات یہاں سے سپلائی کی جاتی ہے جس میں چرس ، آئس پوڈر وغیرہ شامل ھے ۔

کچھ روز قبل صحافی شیرباز خان کو ایک خط موصول ہوتا ہے جس میں دھمکی آمیز پیغام بھیجا گیا۔

خط میں کہا گیا کہ اپ کو اب ہم مزید برداشت نہیں کریں گے بلکہ منشیات یا دیگر کیس میں بند کردینگے اور اس دنیا سے رخصت کر دینگے اور اپ کو ہمارے تعلق کا نہیں پتا ورنہ ہم اپ کو دیگر جھوٹے کیسوں میں مفرور کر دیں گے ۔

اس سے بھی کچھ وقت پہلے سپر ہائی وے پر موٹر سائیکل پر سوار 2 افراد نے روک کر کہا کہ صحافت چھوڑو نہیں تو انجام برا ہوگا ۔

تھانہ گڈاپ سٹی کا تمام عملہ اس بات سے واقف ہے ۔ ہمارے ادارے اتنے کمزور اور مافیا اتنا طاقتور کیسے ہوگیا ھے ۔

ہم اعلی حکام سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس کا نوٹس لیا جائے اور ادارے سے اپیل ہے کہ صحافی شیرباز خان کو جانی تحفظ دیا جائے اور ہم اپنی صحافی برادری سے التماس کرتے ہیں کہ صحافیوں کے مدد کے لیے میدان میں اجائے اور صحافی شیرباز خان کی مدد کریں ۔

03/05/2025

کراچی:---
نیو کراچی گودھرا کے علاقے میں عوام نے ڈاکو کو پکڑ کر زندہ جلا دیا -!!!'

12/02/2025

تھانہ ماچھیوال وہاڑی کی حدود 561 ای بی میں مولوی قاری مختاراحمدنامی امام مسجد قتل۔9 سالہ بچے نے محمدعمر ولدآصف نے امام مسجد پر مبینہ طور پرجنسی زیادتی کا الزام لگادیابچے کا ویڈیو بیان میرا پاکستان نیوز نے حاصل کرلی

11/02/2025

ٹینکر مافیا مطلب ان ٹینکر والوں کو ٹارگٹ ملا ہے کیا بندے مارنے کا اس کو اپنے سامنے کا بندہ نظر ہی نہیں آرہا، 😥

قیامت خود بتائے گی کہ قیامت کیوں ضروری ہے🥺ڈسکہ میں پیش آنے والا ایک نا قابل فراموش واقعہ جس میں ہمارے معاشرے کی ایک تلخ ...
18/11/2024

قیامت خود بتائے گی کہ قیامت کیوں ضروری ہے🥺

ڈسکہ میں پیش آنے والا ایک نا قابل فراموش واقعہ جس میں
ہمارے معاشرے کی ایک تلخ اور نا قابل برداشت حقیقت ہے

ہمارے ملک میں اور خاص طور پر ہمارے بزرگوں اور بڑوں میں یہ جملہ بہت عام ہے ۔
"اپنا مارے گا تو چھاؤں میں پھینکے گا"

مجھے ہمیشہ ہی اس جملے سے اختلاف رہا ہے کہ وہ اپنا ہی کیا جو مار دے؟
اور دھوپ چھاؤں سے کیا فرق پڑتا ہے مردہ انسان کو؟ یہ فرق تو زندہ انسانوں کو پڑتا ہے۔

بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں۔۔۔ تو بہو کیا بیٹی نہیں ہوتی؟؟؟

باپ دو دن سے بیٹی کے نمبر پر کال کر رہا تھا مگر نمبر بند تھا ،
وہ بیٹی کے سسرال چلا آیا اور پوچھا زارا کہاں ہے ؟ فون بند ہے اس کا ، جبکہ زارا کا دو سال کا بیٹا گھر میں موجود تھا ، ساس اور نندوں نے بتایا دو دن پہلے رات کو کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ، موبائل بھی ساتھ لے گئی ۔ ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، خاموشی سے تلاش کررہے ہیں ۔۔۔
باپ کو یقین نہ آیا ، چار سال پہلے اسنے بہت چاؤ سے اس کے خالہ زاد قدیر سے کی شادی کی تھی اور وہ دونوں بہت خوش تھے ، اس نے تلاش گمشدگی کے لیے پولیس کی مدد لی ، پولیس نے سسرالیوں کے بیان لیے ، ہر ایک کے بیان میں تضاد تھا ، چناچہ زارا کی ساس اور نندوں کو شامل تفتیش کیا گیا جس پر انہوں نے انکشاف کیا کہ زارا بھاگی نہیں بلکہ 11 نومبر کی رات انہوں اس کو مار کر پھینک دیا تھا۔ اور شوہر کو بھی یہی بتایا کہ وہ کسی سے رابطے میں تھی۔ زارا سات ماہ کی حاملہ تھی ، اس کے ساتھ ننھی جان بھی ماری گئی ۔

جھگڑا کیا تھا؟ وہی ساس بہو کی ازلی چپقلش اور نند بھابی کا بیر ۔۔۔ زارا کی پانچ نندیں تھیں اور قدیر ان کا اکلوتا بھائی ۔۔ اور انہوں نے خود زارا کا رشتہ مانگا اور اپنے ہاتھوں سے رخصت کرکے گھر لائیں ۔ جھگڑا پیسے کا تھا ، ان کا خیال تھا ان کا بیٹا سارا خرچ بہو کے ہاتھ رکھتا ہے جبکہ اسے سب کچھ ماں بہنوں کو دینا چاہیے ، وہ خود زارا کو دیں ۔ انہی جھگڑوں سے تنگ آ کر قدیر اسے اٹلی بھی لے گیا اور کچھ ماہ پہلے سسرال چھوڑ گیا ۔ اس بار ساس اور نندوں نے سوچا کہ زارا کو واپس ہی نہ جانے دیا جائے ۔۔ اور قصہ تمام کرکے الزام لگا دیں گے کہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ۔ لاہور سے کسی رشتے دار کو بلایا ، فجر سے کچھ دیر پہلے سوئی ہوئی زارا کے منہ پر تکیہ رکھ کر سانس بند کی اور موت کے حوالے کردیا ۔۔۔ اب مسئلہ لاش کا تھا کہ وہ کہاں کریں ۔۔ اور شناخت کیسے چھپائیں تو سر کو دھڑ سے الگ کرکے چولہے پر جلایا گیا تاکہ نین نقش مسخ ہوجائیں ، پھر جسم کاٹ کر دو الگ الگ بوریوں میں ڈالا ، ایک بوری نہر میں اور ایک دور جھاڑیوں میں پھینک دی ۔ پولیس نے ان کی نشان دہی پر مختلف جگہوں سے جسم کی باقیات برآمد کر لیں ۔
لوگ کہتے ہیں رشتہ اپنوں میں کریں ۔۔ اپنا مارے گا بھی تو چھاؤں میں ڈالے گا۔۔ یہاں تو چھاؤں میں بھی نہیں ڈالا گیا ۔۔۔ بلکہ تپتی دھوپ بھی نصیب میں نہیں ہوئی آگ میں جلا دیا گیا کیا ساس بہو کی نفرت اس حد تک ہو سکتی ہے کیا انہیں اپنے بیٹے کا خیال نہیں آیا کیا اس ننھی جان جو اسکے پیٹ میں تھی اسکا خیال نہیں آیا کیا قیامت کا دن یاد نہیں آیا جب سب کچھ کھل جاۓ گا ایک عورت عورت پر اتنا ظلم کیسے کر سکتی ہے کیا پیسا اتنا ضروری ہے کے ہم انسانیت ہی بھول جائیں 💔
اگر بیٹا اتنا ہی پیارا ہوتا ہے کہ اس کی زندگی ،کمائی پیار میں کسی کی شراکت برداشت نہیں ہوتی تو کیوں کسی کے جگر کا ٹکڑا لا کر اسکے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاتے ہیں
یا اللہ ہوا کی بیٹیاں اتنی ہی بے مول ہیں کیا🥺🥺
یا اللہ تجھے تیری کبریائی کا واسطہ ایسے ظالموں کو عبرت بنا
آمین

pakistan news HD✍️

16/11/2024

گڈاپ پبلک اسکول میں چھٹی کلاس کا سٹوڈنٹ محمد ابراہیم گگو پر اسرار طور پر گم. گڈاپ پبلک سکول کی انتظامیہ کی نااہلی کا پول کھل گیا بچے اور بچیاں غیر محفوظ تفصیلات کے مطابق گڈاپ پبلک اسکول کے ہاسٹل میں رہنے والے بچے اور بچیاں غیر محفوظ گزشتہ روز گڈاپ پبلک اسکول میں چھٹی کلاس کا طالب علم محمد ابراہیم گگو پراسرار طور پر گم ہو گیا تھا جو کہ کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد جنگل سے مل گیا لاکھوں روپے فیس وصول کرنے کے باوجود بچے غیر محفوظ. والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی حفاظت خود کریں. حکام بالا سے گزارش ہے کہ گڈاپ پبلک سکول کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور غیر ذمہ دار عملے کو فوری طور پر فارغ کیا جائے تاکہ بچے اور بچیاں محفوظ رہ سکیں

08/11/2024

کراچی کے علائقے دنبا گوٹھ سپر ہائی وے پر قائم نجی بیوریجز کمپنی کے جانب سے کیمیکل زدہ زہریلا فضلہ ندی میں چھوڑنے کے خلاف علائقہ مکینوں کا احتجاجی مظاہرہ اور ریلی نکالی اور کمپنی انتظامیہ کے خلاف سخت نعری بازی کی گئی،
کراچی کے علاقے دنبہ گوٹھ سپر ہائی وے پر قائم پاکولا بیوریجز کمپنی نے ندیوں نالون میں کیمیکل زدہ فضلہ چھوڑ دیا جس کے باعث علاقہ مکینوں کا جینا اجیرن بن گیا، زہریلے فضلے کے باعث آس پاس کے رہنے والے مکین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے جبکہ قدرتی تالابوں اور ندیوں کا پانی بھی زہریلا ہونے لگا، علاقہ مکینوں نے حاجی ریاض پالاری، ایاز پالاری، نظیر احمد پالاری، باسط علی، جان شیر خان جوکھیو، شمیم پالاری، نادر علی پالاری، عبدالکریم پالاری کی قیادت میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی انتظامیہ کو بار بار کہنے کے باوجود کیمیکل والا زہریلا پانی ندی میں چھوڑنے کی وجہ بچے بڑے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں یہ پانی کوئی جانور بھی پیتا ہے تو وہ بھی مرجاتا ہے اس وقت 80 فیصد لوگ ملیریا، ھیپاٹائٹس، دست، الٹی، ڈینگی وائرس اور چکن گونیا اور جلد، جگر سمیت سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں لیکن محکمہ صحت، سیپا اور ضلعی انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، علاقہ مکینوں نے حکام بالا اور منتخب نمائندگان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے دوسری طرف احتجاج کا دائرہ کار بڑھانے کا بھی عندیہ دیا ہے،

Address

Karachi
Karachi
053000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rao Khurram Crime Reporter Karachi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category