Syed Neer Muqeet

Syed Neer Muqeet URDU POET | WRITER | RESEARCHER
اردو شاعر. مصنف. محقق| پیدائش 24 جولائی 2003، کراچی

نام : سید عبدالمقیت
اردو شاعر
پیدائش : 2003 جولائی 24
پاکستان کراچی


یہاں پر میں اپ کو اپنا مختصر سا تعارف کروانا چاہتا ہوں۔ میں 2003 24 جولائی کراچی میں پیدا ہوا مجھے شاعری سے لگاؤ کیسے ہوا یہ تو میں خود بھی نہیں جان پایا اور میں نے کب لکھنا شروع کر دیا اور کب میرے طبیعت میں شاعری پیدا ہو گئی اس کا اندازہ تو میں خود بھی نہیں لگا پایا مگر ان سب باتوں کی تفصیل میں جانے سے پہلے میں اپ کو کچھ بتان

ا چاہتا ہوں۔

میرے دادا 'سید محمد فہیم الدین'
یہ اپنی جوانی سے شاعری کا شوق رکھتے تھے اور بہت بہترین شاعری لکھتے بھی تھے 2011 میں ان کا انتقال ہوا اس وقت میری عمر 8 سال تھی اور اس عمر میں میں نے ان کو گنگناتے ہوئے اور شاعری کرتے ہوئے دیکھا تو مگر افسوس کہ میں ان کی شاعری کو سمجھ نہیں پاتا تھا اور نہ مجھے پتہ تھا کہ شاعری کیا ہوتی ہے۔ مگر اب مجھے ان کے پرانے غزلیں ملی ہیں جو بہت ہی بہترین ہیں جن کو پڑھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ بہت ہی اچھے غزل گو تھے۔ اور میں اور میرے والد مل کر اُن پرانے صفوں کو ایک کتاب کی شکل دینے کا سوچ رہے ہیں ہو سکتا ہے بہت جلد وہ غزلیں ایک کتاب بن کے اپ کے سامنے پیش ہوں۔

جیسا کہ میں نے اپ کو بتایا 2011 میں میرے دادا کا انتقال ہوا اس وقت میری عمر 8 سال تھی اس کے 5 سے 6 سال بعد میں نے لکھنا شروع کیا میری عمر اس وقت جب میں نے لکھنا شروع کیا 14 سے 15 سال تھی
میں لکھتا رہتا تھا لیکن مجھے پتہ نہیں ہوتا تھا کہ میں کیا لکھ رہا ہوں مجھے غزل نظم شیر ان سب کا فرق ہی نہیں پتہ ہوتا تھا مجھے بس یہ پتہ ہوتا تھا کہ میں کچھ نہ کچھ لکھ رہا ہوں اور میں لکھتا ہی رہتا تھا یعنی کہ تُک بندی کرتا رہتا تھا مجھے اپنے اسی وقت کے کچھ اشعار یاد ہیں جو میں یہاں پیش کر دیتا ہوں۔

میرے خیال میں یوں ہی ایک خیال آیا
دستک ہوئی دروازے پے کوئی آیا
دیکھنے میں شکل جانی پہچانی تھی
ستم یہ کہ میں اسے پہچان نہیں پایا

بس میں ایسا ہی کچھ لکھتا رہتا تھا کبھی کبھی تو لکھتا بھی نہیں تھا بس کہہ دیتا تھا مگر مجھے پتہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ میں نے شعر کہا غزل کہی نظم کہی جیسا کہ میں نے اپ کو بتایا اور اگر سچ بولوں تو میں اتنا سنجیدہ بھی نہیں تھا شاعری کو لے کے بس مجھے پتہ تھا کہ میں شاعری جیسا کچھ کر لیتا ہوں اور میں کرتا رہتا تھا جب دل کرتا تھا۔

پھر میں نے 'جناب جون ایلیا' کو جانا وہ اس ذریعے سے
ایک دن میری نظر میں جون ایلیا کا ایک شعر ایا اس شعر کو جب میں نے پڑھا تو اس کی بات کی کیفیت میں اپ کو بتا نہیں سکتا۔ وہ شعر بالکل میرے ذہن میں جا کے لگا اور میں کافی دیر تک بالکل سناٹے میں اگیا یعنی کہ میں اس شعر کی گہرائی میں جاتا گیا اور کافی دیر تک اس گہرائی میں رہا وہ شعر تھا جناب جون ایلیا کا

" اک گلی تھی جب اس سے ہم نکلے"
ایسے نکلے کہ جیسے دم نکلے

مجھے جب پتہ چلا کہ یہ شعر جون ایلیا کا ہے تو میں نے جون ایلیا کو اور جاننے کی کوشش کی اور میں ان کو جاننے کی کوشش میں لگ گیا اور پھر میں نے جون ایلیا کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا شروع کر دیا جیسے جیسے میں جون ایلیا کو پڑھتا رہا ویسے ویسے میری لکھنے کی صلاحیت بھی اچھی ہوتی رہی اور مجھے شاعری کو اور جاننے کا شوق ہوتا گیا سیکڑوں شاعروں کی سیکڑوں کتابیں پڑھ ڈالی شاعری کو سمجھنے کی کوشش میں اور ساتھ ساتھ اپنی لکھائی کو بھی جاری رکھا

ادھر ایک اچھا خاصا حصہ ہے جو میں اپ سے چھپا رہا ہوں بات یہ ہے کہ جون ایلیا صاحب کے اس شعر کا مجھ پہ اتنا اثر کیوں ہوا یہ میں اپ کو نہیں بتا سکتا مگر اگے کی بات تو اپ جان سکتے ہیں۔

اِس بات کو میں اِس طرح کہنا چاہوں گا۔ میرے اندر ایک چنگاری تھی جو چمکتی رہتی تھی مگر جون ایلیا کے اس شعر نے مجھے ایک دم سے بھڑکا دیا اور مجھے وہ شعر پڑھنے کے بعد پتہ چلا کہ شاعری اس طریقے سے بھی ہو سکتی ہے میں حیران ہو گیا کچھ دیر کے لیے سوچ اور فکر میں چلا گیا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ جون ایلیا کا وہ شعر میری نظر میں نہیں اتا تو کتنا اچھا ہوتا اور کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ کتنا اچھا ہوا کہ اس موقع پہ میری نظروں کے سامنے وہ شعر ایا۔

میں نے اپ کو بتایا کہ میرے دادا بھی شاعر تھے
اور میں نے اپنے دادا کی ساری غزلیں پڑھی ہیں اور اس کے علاوہ بہت سے دوسرے شاعروں کی بھی غزلیں پڑھی تھی مگر کسی کا بھی کوئی شعر مجھے بھڑکا نہیں سکا جس طریقے سے جناب جون ایلیا کے ایک شعر نے بھڑکا دیا
بس اس کے علاوہ میرے پاس کچھ زیادہ بتانے کو ہے نہیں کچھ باتیں ہیں جو میں نے ادھر نہیں بتائی وہ میں اپنی کتاب میں بتاؤں گا ابھی میں اپنی کتابوں پہ ہی کام کر رہا جو اپ کے سامنے انشاءاللہ بہت جلد پیش ہوگی
شکریہ

17/03/2026
مرا کمرہ بہت سنسان کیوں ہےاگر تُو ہے تو یہ زندان کیوں ہےابھی تک مجھ پہ یہ احسان کیوں ہےنہیں ہے تو تو یہ امکان کیوں ہےبہت...
17/03/2026

مرا کمرہ بہت سنسان کیوں ہے
اگر تُو ہے تو یہ زندان کیوں ہے

ابھی تک مجھ پہ یہ احسان کیوں ہے
نہیں ہے تو تو یہ امکان کیوں ہے

بہت مشکل ہے تجھ سے ہونا میرا
مری جاں تو یری یک جان کیوں ہے

اچانک آنا تم کو لازمی تھا
مرا گھر آج ہی ویران کیوں ہے

ترے شرر میں تھی شمشیرِ شمر کی بدبوگلے تو حق کی گواہی بنے خدا کی قسمنماز قبر میں ڈوبی، وضو لہو سے ہوایہ تو شبیری مناجات ہ...
11/02/2026

ترے شرر میں تھی شمشیرِ شمر کی بدبو
گلے تو حق کی گواہی بنے خدا کی قسم

نماز قبر میں ڈوبی، وضو لہو سے ہوا
یہ تو شبیری مناجات ہے خدا کی قسم

یہ بولتا ہے ابھی تک لہو شہیدوں کا
سنو سنو تمہیں نفرت ہے اِس گھرانے سے

رہے گا حشر تلک دیکھ لینا شور بپا
لہو ہے چپ نہیں رہتا ہے چپ کرانے سے

نظم
2026 6 فروری
سید نیر مقیت

میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ خوبصورت تصویریں امیروں کی بڑی اور صاف دیواروں پر اچھی لگتی ہیں۔ مفلس گھروں کی مفلس زدہ دیواروں...
06/02/2026

میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ خوبصورت تصویریں امیروں کی بڑی اور صاف دیواروں پر اچھی لگتی ہیں۔ مفلس گھروں کی مفلس زدہ دیواروں پر یہ تصویریں ایسی لگتی ہیں جیسے کوئی بے حد خوبصورت نوجوان برٹش لڑکی اپنے مکمل ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ غربت زدہ گاؤں میں کھڑی ہو۔

آپ سب کی محبت نے مجھے یہ سب لکھنے پر مجبور کیا۔ میں یہاں بہت کچھ لکھ سکتا ہوں، لیکن میں کچھ چھپانے اور کچھ بتانے کا عادی ہوں، اس لیے اتنا کافی ہے۔

آخر میں، آپ سب کا دل سے شکریہ اگر آپ اب تک میرے ساتھ ہیں۔

۲۰۲۵.۹. ۲۹

یہ مکمل تحریر دو پرچوں میں اپ تک پہنچا دی گئی ہے پڑھ لیجئے

mera nuqta-e-nazar yeh hai ke yeh khoobsurat tasweeren ameeron ki barri aur saaf deewaron par achhi lagti hain. Muflis gharon ki muflis-zadah deewaron par yeh tasweeren aisi lagti hain jaise koi be-had khoobsurat naujawan British ladki apne mukammal thath-baath ke saath ghurbat-zadah gaon mein khari ho.

Aap sab ki muhabbat ne mujhe yeh sab likhne par majboor kiya. Main yahan bohot kuch likh sakta hoon, lekin main kuch chhupane aur kuch batane ka aadi hoon is liye itna kaafi hai.

Aakhr mein, aap sab ka dil se shukriya agar aap ab tak mere saath hain.

Yeh mukammal tehreer do parchon mein aap tak pohancha di gayi hai, parh lijiye.
#2026

تھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہواجو ہوا جو بھی ہوا بھرپور شیطانی ہواُاُس کشش میں کیا نہیں تھا جو بھی تھا بہتا گیاوہ بد...
30/01/2026

تھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہوا
جو ہوا جو بھی ہوا بھرپور شیطانی ہوا

ُاُس کشش میں کیا نہیں تھا جو بھی تھا بہتا گیا
وہ بدن میری تپش سے سر بسر پانی ہوا

وہ جو تھا پیکر میرے پیکر پہ اب وہ ہے وہاں
کیا ہوا جو میرا عشق اک دم سے روحانی ہوا

جم کے ٹوٹا ہے لہو قلب و جگر کی بات کیا
کیوں نہ جانے تیرا موسم مجھ میں برفانی ہوا

آگئی شب صحن میں بیٹھے بٹھائے ایک کشش
ماند سبزہ میرے گھر کا رات کی رانی ہوا

میرے اندر ہو رہی تھی غم کی رم جھم بن رکے
قطرہ قطرہ مل کے دیکھا میں نے طغیانی ہوا

سوچ تک محدود کب تھا ماجرا اس عشق کا
ایک ہی لمحے میں سب کچھ کیفِ نفسانی ہوا

حرف جب حد سے بڑھے تو شعر خود ہی ہو گئے
میرا چپ رہنا بھی میرے حق میں نورانی ہوا

اے خدا کتنوں کے دل میں ہے بسا تیرا یقیں
کیا ستم ہے تو بھی مجھ میں آ کے امکانی ہوا

غزل : سید نیر مقیت ۲۰۲۳

Urdu #

30/01/2026

ہے ضبط مرا آج بھی حیرت کا ہی حقدار
اس صبر کے اعجاز کو تَقریر سے کہہ دو

سید نیر

22/01/2026

غزل

مغموم اگر ہوں میں تو رنجیدہ ہے وہ بھی
الجھا ہوں کسی سوچ میں، پیچیدہ ہے وہ بھی

کچھ کرنا ہے اب عشق کی معراج کے خاطر!
میں سوچ رہا ہوں میاں! سنجیدہ ہے وہ بھی

کچھ ہو رہا تھا، ہو چکاھ باہوں کی تپش میں!
میرا جنوں بھی ٹل گیا! خوابیدہ ہے وہ بھی

جو سوچ بدن سے کبھی ہونٹوں پہ نہ آئی !
اُس سوچ کی تاثیر سے شرمندہ ہے وہ بھی

آسودگی کے بعد کے منظر سے ہیں واقف
ڈرتا ہوں اب اُس لطف سے، لرزیدہ ہے وہ بھی

میں اس کے گماں میں ہوا فرسودہ بجا ہے
شاداب نہیں ہے میاں! بوسیدہ ہے وہ بھی

سید نیر مقیت

مغموم اگر ہوں میں تو رنجیدہ ہے وہ بھیالجھا ہوں کسی سوچ میں، پیچیدہ ہے وہ بھیکچھ کرنا ہے اب عشق کی معراج کے خاطر!میں سوچ ...
22/01/2026

مغموم اگر ہوں میں تو رنجیدہ ہے وہ بھی
الجھا ہوں کسی سوچ میں، پیچیدہ ہے وہ بھی

کچھ کرنا ہے اب عشق کی معراج کے خاطر!
میں سوچ رہا ہوں میاں! سنجیدہ ہے وہ بھی

کچھ ہو رہا تھا، ہو چکاھ باہوں کی تپش میں!
میرا جنوں بھی ٹل گیا! خوابیدہ ہے وہ بھی

جو سوچ بدن سے کبھی ہونٹوں پہ نہ آئی !
اُس سوچ کی تاثیر سے شرمندہ ہے وہ بھی

آسودگی کے بعد کے منظر سے ہیں واقف
ڈرتا ہوں اب اُس لطف سے، لرزیدہ ہے وہ بھی

میں اس کے گماں میں ہوا فرسودہ بجا ہے
شاداب نہیں ہے میاں! بوسیدہ ہے وہ بھی

سید نیر مقیت

22/01/2026

میں نہیں تھا! مجھے بنایا گیا
اِس خرابے میں پھر گھمایا گیا

Main nahi tha! Mujhe banaya gaya,
Is kharaabay mein phir ghumaya gaya.

میں کہاں تھا؟ خدا! بتا مجھ کو!
میں وہاں سے یہاں کیوں لایا گیا؟

Main kahan tha? Khuda! bata mujh ko!
Main wahan se yahan kyon laya gaya?

دشتِ امکاں سے ایک لاش ملی!
اُس کے تابوت کو سجایا گیا!!؟

Dasht-e-imkaan se aik laash mili!
Us ke taaboot ko sajaya gaya!!?

20/01/2026

غزل

مغموم اگر ہوں میں تو رنجیدہ ہے وہ بھی
الجھا ہوں کسی سوچ میں، پیچیدہ ہے وہ بھی

کچھ کرنا ہے اب عشق کی معراج کے خاطر!
میں سوچ رہا ہوں میاں! سنجیدہ ہے وہ بھی

کچھ ہو رہا تھا، ہو چکاھ باہوں کی تپش میں!
میرا جنوں بھی ٹل گیا! خوابیدہ ہے وہ بھی

جو سوچ بدن سے کبھی ہونٹوں پہ نہ آئی !
اُس سوچ کی تاثیر سے شرمندہ ہے وہ بھی

آسودگی کے بعد کے منظر سے ہیں واقف
ڈرتا ہوں اب اُس لطف سے، لرزیدہ ہے وہ بھی

میں اس کے گماں میں ہوا فرسودہ بجا ہے
شاداب نہیں ہے میاں! بوسیدہ ہے وہ بھی

سید نیر مقیت

17/01/2026

شبِ معراج کی رات، جب حضورِ اکرم ﷺ بارگاہِ الٰہی میں حاضری کے لیے تیار ہوئے، تو آپ ﷺ نے ایک خاص عمامہ زیبِ سر فرمایا۔ اس امامے کا رنگ کپاسی تھا، جسے انگریزی میں آف وائٹ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ عمامہ تھا جو شبِ معراج سے پہلے کسی اور نے نہیں پہنا تھا، اور جو بعد میں ایک مقدس امانت کے طور پر اہلِ بیتؑ میں منتقل ہوا۔ یہ امانت پہلے مولائے کائنات حضرت علیؑ کے پاس رہی، پھر ان کے بعد امامِ عالی مقام حضرت حسینؑ کے پاس محفوظ رہی۔

اور پھر یہی امامہ شبِ معراج کے بعد کربلا کے دن، جب حق و باطل کے درمیان معرکہ برپا تھا، تو حضرت حسینؑ نے اپنے 17 سالہ جگر کے گوشے حضرت علی اکبرؑ کے سر پر باندھا—گویا حضرت حسینؑ نے معراج کی خوشبو کو کربلا کے میدان میں اتارا تھا۔

حضرت علی اکبرؑ کی شجاعت و جرأت کا عالم یہ تھا کہ محض 17 برس کی عمر میں کربلا کے میدان میں جب وہ حق کے علم بردار بن کر نکلے تو پہلے ہی حملے میں 100 سے زائد یزیدیوں کو جہنم پہنچایا، اور پھر دوسرے حملے میں یہ تعداد دوگنی ہو گئی۔ یوں 300 سے زائد یزیدیوں کو جہنم پہنچانے کے بعد آپؑ کو شہادت نصیب ہوئی—بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہے کہ یہ شجاعت کی معراج فلک سے فرش پر حضرت علی اکبرؑ کو آغوش میں لینے کے لیے ائی

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Neer Muqeet posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Syed Neer Muqeet:

Share

Category