23/06/2026
حضرت عمرؓ اور قیصرِ روم کا ایلچی
قیصرِ روم نے ایک خاص ایلچی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔ طویل اور دشوار سفر کے بعد جب وہ مدینہ منورہ پہنچا تو لوگوں سے پوچھنے لگا:
"مسلمانوں کے خلیفہ کا محل کہاں ہے؟"
یہ سن کر لوگ مسکرا دیے اور کہنے لگے:
"عمرؓ کا کوئی محل نہیں۔ ان کے نام کی ہیبت سے بڑے بڑے بادشاہ لرزتے ہیں، مگر ان کی زندگی ایک عام آدمی بلکہ فقیروں جیسی سادہ ہے۔"
یہ سن کر ایلچی حیرت میں ڈوب گیا۔ وہ خلیفۂ وقت کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہوگیا۔ اپنا سامان اور گھوڑا وہیں چھوڑ کر حضرت عمرؓ کی تلاش میں نکل پڑا۔
کافی جستجو کے بعد ایک دیہاتی خاتون نے بتایا:
"میں نے انہیں فلاں کھجور کے درخت کے نیچے آرام کرتے دیکھا ہے۔"
ایلچی فوراً وہاں پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ دنیا کی ایک عظیم سلطنت کا حکمران کھجور کے درخت کے نیچے تنہا زمین پر سو رہا ہے، نہ کوئی محافظ، نہ کوئی دربان، نہ کوئی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ۔
یہ منظر دیکھ کر وہ مبہوت رہ گیا۔
وہ کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا، لیکن اچانک اس کے دل پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ اس کے جسم میں کپکپی دوڑ گئی۔ اسے خود اپنی کیفیت پر حیرت ہونے لگی۔
وہ سوچنے لگا:
"میں نے جنگوں میں حصہ لیا، تلواروں کی جھنکار سنی، زخم کھائے، شیروں کا شکار کیا، بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار دیکھے، مگر کبھی خوف محسوس نہیں کیا۔ لیکن آج ایک شخص جو بغیر ہتھیار، بغیر محافظ اور بے فکر ہو کر زمین پر سو رہا ہے، اس کی ہیبت نے مجھے لرزا دیا ہے!"
اس نے دل ہی دل میں کہا:
"یقیناً یہ اللہ کا کوئی خاص بندہ ہے، جس کی عزت اور ہیبت اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں ڈال دی ہے۔"
وہ کافی دیر تک خاموشی سے کھڑا رہا۔ اس کی ہمت نہ ہوئی کہ آگے بڑھ کر حضرت عمرؓ کو جگا دے۔ کچھ دیر بعد جب حضرت عمر فاروقؓ بیدار ہوئے تو ایلچی آگے بڑھا، سلام کیا اور پھر گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔
🌹 سبق:
جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے دل کا سکون عطا فرماتا ہے۔ پھر وہ دنیا کی طاقتوں سے نہیں ڈرتا۔ ایسے بندے کی عزت، وقار اور ہیبت اللہ خود لوگوں کے دلوں میں پیدا فرما دیتا ہے۔
اور جو اللہ سے بے خوف ہوجائے، اس کا دل کمزور پڑ جاتا ہے اور وہ ہر چھوٹی بڑی چیز سے خوف کھانے لگتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سادگی، تقویٰ اور خوفِ خدا کی دولت عطا فرمائے۔ آمین۔
R. S"TANHA"S"