03/09/2026
4 ستمبر.... آج مشتاق احمد یوسفی کا 103 واں یوم پیدائش ہے۔
مشتاق احمد یوسفی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو طنز اور مزاح نگار ہیں۔ یوسفی کئی قومی اور بین الاقوامی سرکاری اور مالیاتی اداروں کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں 1999 میں ستارہ امتیاز اور 2002 میں ہلال امتیاز ایوارڈ ملا، جو حکومت پاکستان کی طرف سے دیا جانے والا سب سے بڑا ادبی اعزاز ہے۔
یوسفی 4 ستمبر 1923 کو جے پور، راجستھان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عبدالکریم خان یوسفی جے پور میونسپلٹی کے چیئرمین اور بعد میں جے پور قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر رہے۔ یوسفی نے اپنی ابتدائی تعلیم راجپوتانہ میں مکمل کی اور بی اے کیا۔ آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے فلسفہ اور ایل ایل بی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کیا۔ ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کے بعد، ان کا خاندان کراچی، پاکستان ہجرت کر گیا۔ انہوں نے زندگی بھر اردو ادب کی خدمت کی۔
انہوں نے 1950 میں مسلم کمرشل بینک میں شمولیت اختیار کی، ڈپٹی جنرل منیجر بنے۔ مشتاق احمد یوسفی نے 1965 میں الائیڈ بینک لمیٹڈ میں بطور منیجنگ ڈائریکٹر شمولیت اختیار کی۔ 1974 میں وہ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے صدر بنے، 1977 میں وہ پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئرمین بنے۔ بینکنگ میں نمایاں خدمات پر انہیں قائداعظم میموریل میڈل سے نوازا گیا۔
یوسفی دور کا آغاز 1961 سے ہوا جب یوسفی کی پہلی کتاب 'چراغ تلے' شائع ہوئی۔ اس کتاب کے اب تک 11 ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ 2008 سے، وہ کراچی میں مقیم ہیں اور اکثر ٹی وی پروگراموں کے ساتھ ساتھ سیمینارز میں بھی نظر آتے ہیں۔
ان کا انتقال 20 جون 2018 کو ہوا۔
مشتاق احمد یوسفی کی درج ذیل کتابیں بہت مشہور ہیں:
1. چراغ تلے (1961)
2. خاکم بدہن (1969)
3. زرگزشت (1976)
4. آب گم (1990)
5. شامِ شعرِ یاراں (2014)
ان کا انتقال 20 جون 2018 کو ہوا۔
سرفراز احمد