Naveed Live

Naveed Live Welcome to your page . share your best memories with us .

28/05/2025

*یوم تکبیر بہت بہت مبارک*

*جب پاکستان ایٹمی قوت بنا، اس تاریخی لمحات کی نشریات ملاحظہ کیجئے*

Celebrating my 10th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉
28/05/2025

Celebrating my 10th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

28/05/2025
ڈرامہ کرلوش عثمان میں آلہ الدین کا کردار کرنے والے اور گونجا کا شوہر کا کردار ادا کرنے والے نوجوان کا تعلق  #فورٹ عباس س...
17/12/2024

ڈرامہ کرلوش عثمان میں آلہ الدین کا کردار کرنے والے اور گونجا کا شوہر کا کردار ادا کرنے والے نوجوان کا تعلق #فورٹ عباس سے بتایا جارہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ ان کے آباواجداد آج سے 100 سال پہلے #فورٹ عباس سے ہجرت کرکے ترکی چلے گئے تھے۔ ان کا اصل نام ہے۔ ان کے پردادا کا نام ملک شرافت علی چودھری تھا جو فورٹ عباس سے ترکی جاکر آباد ہوئے تھے۔ لیکن تحقیق میں ابھی تک یہ نہیں پتہ چلا ہے کہ اس کا تعلق فورٹ عباس کے کونسے چک سے تھا۔ یہ تو مزید تحقیق کے بعد پتہ چلےگا۔

بحرحال آلہ الدین اور گونجا نے جو کردار اس ڈرامے میں نبھایا ہے وہ بےمثال ہے۔ گونجا کے رونے کی ایکٹنگ تو کمال کی ہے۔

  ✿ایک لڑکا آتا ہے کہتا ہے میں نصرانی ہوں پھر کہتا میں نے جھوٹ بولا میں نصرانی نہیں بس مجھے گھر جانا تھا جلدی اس لئے جھو...
11/10/2024



✿ایک لڑکا آتا ہے کہتا ہے میں نصرانی ہوں
پھر کہتا میں نے جھوٹ بولا میں نصرانی نہیں
بس مجھے گھر جانا تھا جلدی اس لئے جھوٹ بولا

✿پھر ایک اداکارہ آتی ہے جو کہتی ہے میں ملحد اور اداکارہ تھی آپ کی ویڈیوز دیکھ کر اداکاری چھوڑ چکی اب مسلمان ہوں میرا فلاں فلاں سوال ہے
پھر اس کا 2 دن بعد بیان آتا ہے میں نے اداکاری نہیں چھوڑی بس وہاں ویسے ہی کہہ دیا ۔
اوپر سے چوری پھر سینہ زوری کے مصداق کہتی ہے ڈاکٹر صاحب کو غلط فہمی ہوئی ۔

✿ایک لڑکا آتا ہے کہتا ہے میں ملحد ہوں ساتھ یہ بھی بتاتا ہے میں اکثر نماز پڑھتا ہوں آپ مجھے اب کلمہ پڑھا دیں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں نہیں ضرورت نہیں آپ مسلمان ہی ہیں وہ ضد کرتا ہے تو ڈاکٹر صاحب اس کی خواہش کا احترام کرتے اسے کلمہ پڑھاتے ہیں
اگلے دن وہ لڑکا کہتا ہے میں ملحد نہیں تھا بس کنفیوز (سادہ الفاظ میں ذرا ٹشن بنانے کے لئے ) ہو کر یہ کہہ دیا میں معافی مانگتا ہوں میں مسلمان ہی تھا ۔

✿یہ سب مذاق کئی روز سے ڈاکٹر صاحب سے ہو رہے ہیں لیکن کسی کو کوئی تکلیف نہیں بس تکلیف ہے تو اس بات کی کہ ایک لبرل عورت کے سازشی سوال کے جواب پر اللہ سے معافی مانگنے کا کیوں کہا ڈاکٹر صاحب نے۔

✿اور پاکستان کی باقی بچی ہوئی عوام ڈاکٹر صاحب پر میمز بنانے پر مصروف ہے۔
اس عوام سے خیر کی امید کی بھی نہیں جا سکتی جو صحابہؓ کی دفاع کی آڑ میں آل رسولﷺ اور حضرت علیؓ پر میمز بنا سکتے یہ باقیوں کو کیسے چھوڑ سکتے۔۔
آج کے دور کے انسان میں صرف شر ہے مجھے کسی سے خیر کی امید نہیں یہ لوگ کسی کے سگے نہیں اپنے بھی نہیں۔۔

۔

پینتیس منٹ کی فلائیٹ:میں کھڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا اور میرا دوست پہلی نشست پر تھا‘ درمیان کی سیٹ خالی تھی‘ میں نے ائیر ہوس...
05/10/2024

پینتیس منٹ کی فلائیٹ:
میں کھڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا اور میرا دوست پہلی نشست پر تھا‘ درمیان کی سیٹ خالی تھی‘ میں نے ائیر ہوسٹس سے پوچھا ”کیا ہم دونوں اکٹھے بیٹھ سکتے ہیں“ فضائی میزبان نے مسکرا کر جواب دیا ”سر یہ سیٹ بک ہے‘ آپ ٹیک آف کے بعد مسافر سے سیٹ ایڈجسٹ کر لیجئے گا“ ہم مسافر کا انتظار کرنے لگے‘ جہاز کے دروازے بند ہونے سے چند لمحے قبل وہ مسافر آگیا‘ وہ ایک لحیم شحیم بزرگ تھا‘ وہ شکل سے بیمار بھی دکھائی دے رہا تھا‘

میں نے اسے پیش کش کی آپ کھڑکی والی سیٹ لے لیں‘ ہم دوست اکٹھے بیٹھنا چاہتے ہیں مگر اس نے سر ہلا کر میری پیش کش مسترد کر دی اور وہ دھپ کر کے درمیان میں بیٹھ گیا‘ وہ دونوں سائیڈز سے باہر نکل رہا تھا‘ میں اس کی وجہ سے جہاز کی دیوار کے ساتھ پریس ہو گیاجبکہ میرا دوست سیٹ سے آدھا باہر لٹک گیا‘ موٹے آدمی کے جسم سے ناگوار بو بھی آ رہی تھی‘ وہ پورا منہ کھول کر سانس لے رہا تھا اور سانس کی آمدورفت سے ماحول میں بو پھیل رہی تھی‘ ہماری گفتگو بند ہو گئی‘ میں نے جیب سے تسبیح نکالی اور ورد کرنے لگا جبکہ میرا دوست موبائل فون کھول کر بیٹھ گیا‘ وہ میری زندگی کی مشکل ترین فلائیٹ تھی‘ میں نے وہ سفراذیت میں گزارا‘ ہم جب لاہور اترے تو میں نے اپنی ہڈیاں پسلیاں گنیں اور اطمینان کا سانس لیا‘ ہم ائیر پورٹ سے باہر آ گئے‘ میں نے اپنے دوست سے پوچھا ”سفر کیسا تھا“ وہ ہنس کر بولا ”زبردست‘ میں نے موبائل فون پر کتابیں ڈاؤن لوڈ کر رکھی ہیں‘ میں سفر کے دوران کتاب پڑھتا رہا“ میں نے پوچھا”کیا تم موٹے آدمی کی وجہ سے ڈسٹرب نہیں ہوئے“ وہ ہنس کر بولا ”شروع کے دو منٹ ہوا تھا لیکن پھر میں نے ایڈجسٹ کر لیا‘ میں نے اپنی کہنی اور پسلیاں اس کے پیٹ میں پھنسائیں اور چپ چاپ کتاب پڑھتا رہا“ میں نے پوچھا ”اور کیا تم اس کی بدبو سے بھی بیزار نہیں ہوئے“ وہ ہنس کر بولا ”شروع میں ہوا تھا لیکن میں جب کتاب میں گم ہو گیا تو بوآنا بند ہو گئی“ میں نے حیرت سے اس
کی طرف دیکھا اور پھر کہا ”لیکن میں پورے سفر کے دوران تنگ ہوتا رہا‘ میری سانس تک الجھتی رہی‘ میں اللہ سے دعا کرتا رہا یا اللہ یہ سفر
کب ختم ہوگا“ وہ ہنسا اور بولا ”میں بھی ایسی صورتحال میں پریشان ہوا کرتا تھا لیکن پھر میں نے اپنی پریشانی کا حل تلاش کر لیا‘ میں اب ایڈجسٹ کر لیتا ہوں“ میں رک گیا اور اسے غور سے دیکھنے لگا‘ وہ بولا ”ہم اس موٹے کے صرف 35 منٹ کے ساتھی تھے‘ وہ آیا‘ بیٹھا‘ جہاز اڑا‘ جہاز اترا اور ہم الگ الگ ہو گئے‘ وہ کون تھا‘ وہ کہاں سے آیا تھا اور وہ کہاں چلا گیا‘
ہم نہیں جانتے‘ تم اگر ان 35 منٹوں کو ایڈجسٹ کر لیتے تو تم تکلیف میں نہ آتے“ وہ رکا‘ لمبی سانس لی اور بولا ”ہماری ہر تکلیف کا ایک ایکسپائری ٹائم ہوتا ہے‘ ہم اگر اس ٹائم کا اندازہ کر لیں تو پھر ہماری تکلیف کم ہو جاتی ہے مثلاً وہ موٹا جب ہمارے درمیان بیٹھا تو میں نے فوراً ٹائم کیلکولیٹ کیا‘مجھے اندازہ ہوا یہ صرف 35 منٹ کی تکلیف ہے چنانچہ میں نے موٹے کے موٹاپے پر توجہ کی بجائے کتاب پڑھنا شروع کر دی‘ میری تکلیف چند منٹوں میں ختم ہو گئی‘ تم بھی تکلیف کے دورانئے کا اندازہ کر لیا کرو‘ تمہاری مشکل بھی آسان ہو جائے گی“۔

میں نے اس سے پوچھا ”تم نے یہ آرٹ کس سے سیکھا تھا“ وہ ہنس کر بولا ”میں نے یہ فن اپنے والد سے سیکھا تھا‘ میرے بچپن میں ہمارے ہمسائے میں ایک پھڈے باز شخص آ گیاتھا‘ ہم لوگ گلی میں کرکٹ کھیلتے تھے اور وہ ہماری وکٹیں اکھاڑ دیتا تھا‘ ہمارے گیند چھین لیتا تھا‘ وہ گلی میں نکل کر ہمارا کھیل بھی بند کرا دیتا تھا‘ میں بہت دل گرفتہ ہوتا تھا‘ میں نے ایک دن اپنے والد سے اس کی شکایت کی‘ میرے والد نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا‘ بیٹا یہ شخص کرائے دار ہے‘ یہ آیا ہے اور یہ چلا جائے گا‘

ہمیں اس سے لڑنے اور الجھنے کے بجائے اس کے جانے کا انتظار کرنا چاہیے‘ میں نے والد سے پوچھا‘ کیا میں احتجاج بھی نہ کروں‘ وہ بولے ہاں تم ضرور کرو لیکن اس کا تمہیں نقصان ہوگا‘یہ شخص تو اپنے وقت پر جائے گالیکن تم احتجاج کی وجہ سے بدمزاج ہو چکے ہو گے‘ تم اس کے بعد لائف کو انجوائے نہیں کر سکو گے چنانچہ میرا مشورہ ہے تم اپنی لائف پر فوکس کرو‘ تم اپنی خوشیوں پر دھیان دو‘ یہ اور اس جیسے لوگ آتے اور جاتے رہیں گے‘ یہ آج ہیں اور کل نہیں ہوں گے‘

تمہیں اپنا مزاج خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں بچہ تھا میں نے اپنے والد کی بات سے اتفاق نہ کیا لیکن ہمارا ہمسایہ واقعی دو ماہ بعد چلا گیا اور یوں ہم پرانی سپرٹ کے ساتھ گلی میں کھیلنے لگے‘ ہم دو ہفتوں میں اس چڑچڑے کھوسٹ کو بھول بھی گئے۔ میرے والد مجھے بچپن میں اپنے چچا کی بات بھی سنایا کرتے تھے‘ ہمارے دادا فوت ہوئے تو میرے والد کو وراثت میں ایک مکان ملا‘ مکان پر میرے والد کے چچا نے قبضہ کر لیا‘ میرے والد نے چچا کے ساتھ لڑنے کی بجائے ملکیت کا مقدمہ کیا اور وہ آہستہ آہستہ مقدمہ لڑتے رہے‘

پانچ سال بعد میرے والد کے حق میں فیصلہ ہو گیا لیکن چچا نے مکان خالی نہ کیا‘ میرے والد نے قبضے کے حصول کیلئے درخواست دی اور وہ آہستہ آہستہ اس درخواست کا پیچھا کرتے رہے‘ اگلے دو برسوں میں والد کے چچا کا انتقال ہو گیا‘ والد کو مکان مل گیا‘ میرے والد کا کہنا تھا‘ چچا نے جب ہمارے مکان پر قبضہ کیا تو مجھے بہت غصہ آیا لیکن پھر میں نے سوچا‘ میں اگر ان کے ساتھ لڑتا ہوں تو میں زخمی ہو جاؤں گااور یوں یہ مکان پیچھے چلا جائے گا اور دشمنی آگے آ جائے گی‘ ہم تھانوں اور کچہریوں میں بھی جائیں گے‘


ہمارا وقت اور پیسہ بھی برباد ہو گا اور ہمیں مکان بھی نہیں ملے گا‘ چچا بوڑھے شخص ہیں‘ یہ کتنی دیر زندہ رہ لیں گے چنانچہ میں نے مقدمہ کیا اور آہستہ آہستہ مقدمہ چلاتا رہا یہاں تک کہ چچا طبعی زندگی گزار کرفوت ہو گئے‘ مجھے اپنا مکان بھی مل گیا اور میرے صبر کا صلہ بھی۔ میرے چچا نے جب مکان پر قبضہ کیا تھا تو وہ فقط ایک مکان تھا‘ آٹھ برسوں میں ہماری گلی کمرشلائزڈ ہو گئی‘ مکان کی قیمت میں بیس گنا اضافہ ہو گیا یوں مجھے مکان بھی مل گیا اور مالیت میں بھی بیس گنا اضافہ ہو گیا‘

میں اس دوران اطمینان سے اپنے دفتر بھی جاتا رہا‘ میں نے اپنے بچے بھی پال لئے اور میں زندگی کی خوشیوں سے بھی لطف اندوز ہوتا رہا‘ میرے والد مجھے یہ واقعہ سنانے کے بعد اکثر کہا کرتے تھے آپ جب بھی تکلیف میں آئیں آپ اس تکلیف کا دورانیہ کیلکولیٹ کریں اور اپنی توجہ کسی تعمیری کام پر لگا دیں‘ آپ کو وہ تکلیف تکلیف نہیں لگے گی‘ میں نے اپنے والد کی بات پلے باندھ لی چنانچہ میں تکلیف کا دورانیہ نکالتا ہوں اور اپنی توجہ کسی تعمیری کام پر مبذول کر لیتا ہوں“ وہ خاموش ہو گیا۔

یہ نقطہ میرے لئے نیا بھی تھا اور انوکھا بھی‘ میں نے اس سے پوچھا ”کیا یہ تمہاری روٹین ہے“ وہ قہقہہ لگا کر بولا ”ہاں مجھے جب بھی کوئی تکلیف دیتا ہے میں دل ہی دل میں کہتا ہوں یہ آج کا ایشو ہے‘ یہ کل نہیں ہوگا‘ میں اس کی وجہ سے اپنا آج اور کل کیوں برباد کروں اور میری تکلیف ختم ہو جاتی ہے“ میں نے پوچھا ”مثلاً“ وہ بولا ”مثلاً وہ موٹا شخص صرف 35 منٹ کی تکلیف تھا‘ ہم نے صرف 35 منٹ گزارنے تھے اور اس تکلیف نے ہماری زندگی سے نکل جانا تھا‘ مثلاً کوئی شخص میرے ساتھ دھوکہ کرتا ہے‘

میں اس شخص اور دھوکے دونوں پر قہقہہ لگاتا ہوں اور آگے چل پڑتا ہوں‘ یقین کرو وہ دھوکہ اور وہ شخص دونوں چند دن بعد میرے لئے بھولی ہوئی داستان بن چکے ہوتے ہیں‘ مجھے کیریئر میں بے شمار مشکل باس اور خوفناک کولیگز ملے‘ میں ہر مشکل باس کو دیکھ کر کہتا تھا‘ یہ آیا ہے اور یہ چلا جائے گا‘ مجھے اپنی زندگی برباد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں خوفناک کولیگ پر بھی ہمیشہ سوچتا رہا‘ یہ مختصر سفر کا مختصر ترین مسافر ہے‘ یہ اپنی منزل پر اترجائے گا یا پھر میں اپنے سٹاپ پرچلا جاؤں گا‘

مجھے اس سے لڑنے کی کیا ضرورت ہے‘ آپ یقین کرو میرے مشکل باس بھی چلے گئے اور خوفناک کولیگز بھی اور یوں میرا سفر جاری رہا‘ میری زندگی مزے سے گزری اور مزے سے گزر رہی ہے“ وہ رکا‘ ہنسا اور بولا ”آپ بھی یہ حقیقت پلے باندھ لو‘ زندگی 35 منٹ کی فلائیٹ ہے‘ آپ ساتھی مسافر کی وجہ سے اپنا سفر خراب نہ کرو‘ آپ تکلیف کا دورانیہ دیکھو اور اپنی توجہ کسی دوسری جانب مبذول کر لو‘ آپ کی زندگی بھی اچھی گزرے گی“ میں نے ہاں میں سر ہلایا‘

وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا اور میں اپنے دفتر چلا گیا لیکن وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں جب بھی کسی مسئلے‘ کسی تکلیف کا شکار ہوتا ہوں‘ میں دل ہی دل میں دوہراتا ہوں یہ 35 منٹ کی فلائیٹ ہے‘ یہ ختم ہو جائے گی اور میں جلد اس تکلیف کو بھول جاؤں گا‘مجھے کل یہ یاد بھی نہیں رہے گامیں کبھی ایک ایسے مسافر کے ساتھ بیٹھا تھا جس کی وجہ سے میرا سانس بند ہو گیا تھا اور جس نے مجھے پوسٹر کی طرح دیوار کے ساتھ چپکا دیا تھا‘ زندگی کا سفر انتہائی مختصر ہے‘

ہم اگر اس مختصر سفر کو شکایت دفتر بنالیں گے تو یہ مختصر سفر مشکل ہو جائے گا‘ ہم اپنی منزل سے ہزاروں میل پیچھے اترجائیں گے چنانچہ جانے دیں‘ تکلیف دینے والوں کو بھی اور اپنے آپ کو بھی‘ صرف سفر پر توجہ دیں اور یقین کریں ہماری مشکل‘ ہماری تکلیف ختم ہو جائے۔

‏جہاں مکان نمبر کی بجائے باپ دادا کے نام سے پہچان ہو اسے گاؤں کہتے ہیں
04/10/2024

‏جہاں مکان نمبر کی بجائے باپ دادا کے نام سے پہچان ہو اسے گاؤں کہتے ہیں

اس تصویر میں ساری پلیٹیں الٹی ہیں لیکن چند ایک سیدھی۔ جیسے ہی آپ کو سیدھی پلیٹ نظر آئے گی ویسے ہی سب کی سب پلیٹ سیدھی ہو...
04/10/2024

اس تصویر میں ساری پلیٹیں الٹی ہیں لیکن چند ایک سیدھی۔ جیسے ہی آپ کو سیدھی پلیٹ نظر آئے گی ویسے ہی سب کی سب پلیٹ سیدھی ہو جائیں گی۔
زندگی میں بھی اسی طرح ہوتا ہے جب ہماری سوچ مثبت ہونے لگتی ہے تو ہمیں ہر چیز مثبت لگنے لگتی ہے

ساگجاگ پنجابی جاگتیری پگ نوں لگ گیا ساگساگ پراکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ایسی سبزی ہے جو پتوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ پراک...
28/09/2024

ساگ
جاگ پنجابی جاگ
تیری پگ نوں لگ گیا ساگ
ساگ پراکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ایسی سبزی ہے جو پتوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ پراکرت سے اردو زبان میں آتے ہوئے لفظ ساگ کا جنسی صیغہ مذکر ہے اور یہ واحد کے طور پر مستعمل ہے۔ اس لیے یہ اردو زبان کا لفظ بھی شمار کیا جاتا ہے اور پنجابی زبان میں بھی ساگ ہی سے جانا جاتا ہے۔ساگ سب سے پہلے ایران میں دریافت ہوا اور سپناغ کے نام سے پکارا گیا۔ اسی سے ملتا جلتا نام سپائنچ (Spinach) انگریزی میں پایاجاتا ہے جو پالک کے ساگ کے لیے مخصوس ہے۔ساگ سبزی کی وہ قسم ہے جو صرف اور صرف پتوں پر مشتمل ہوتی ہے اور پکا کر کھائی جاتی ہے۔
ستمبر ختم ہونے کو ہے آگے اکتوبر سے نومبر آۓ گا۔
پہاڑوں پر خزاں اور پنجاب میں خزاں کے ساتھ ساتھ سبز بہار ہر طرف اپنے ڈیرے جمانے کو ہے جس کی لپیٹ میں سندھ بلوچستان پختونخواہ کشمیر اور گلگت بلتستان بھی رہیں گے وہ ایسی سبز بہار جو ہر طرف کھیتوں کھلیانوں سے پہاڑوں میدانوں سے ہوتی ہوٸی باورچی خانوں میں پھر دسترخوانوں میں ہانڈیوں چولہوں سے لیکر برتنوں سے ہوتی ہوٸی آپ کو اندر تک سبز کردے گی ناچاہتے یا چاہتے ہوۓ بھی آپ کو سبز ہونا پڑے گا جی ہاں آج کل ایک محاورہ بہت مشہور ہوا ہوا ہے کہ ہر گزرتا دن ہمیں ساگ کے قریب کر رہا ہے پنجاب کے ساتھ سارے ملک میں ساگ کا موسم چھا گیا ہے۔ ﺳﺎﮒ ﺍﯾﮏ ﺳﺒﺰ ﺭﻧﮓ ﮐﯽ ﮈﮬﯿﭧ ﻗﺴﻢ ﮐﯽﺳﺒﺰﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮈﮬﯿﭧ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺲ ﺟﺎﺋﮯ ﺩﻭ ﺩﻭ ﻣﺎﮦ ﭘﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﮒ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ دو ماہ ﮨﺮ ﻣﺮﺩ و ﻋﻮﺭﺕ ﭘﮧ ﻓﺮﺽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻏﻠﻂ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ۔
ہمارے ہاں تو اتنا پکتا تھا اور ہے کہ امی جان کو کہنا پڑتا تھا۔ امی جی ہن تے تنی وہ ہری ہو گٸ اے ۔😊😊
اس پتوں والی سبزی پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔ اس سے جڑی بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ فراز کیا خوب فرما گئے۔

ساگِ گندل میں ساگِ باتھو بھی شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے ساگیں جو ساگوں میں ملیں ۔
ﺑﻌﺾ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﺮﺗﻦ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺟﺘﻨﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺳﺎﮒ بنتا ہے۔ ﺳﺎﮒ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﭘﮑﺎؤ، ﭼﺎﮨﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﭘﮑﺎؤ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﻧﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺪﻟﺘﺎ چاہے اس میں کچھ بھی ملا لو یہ اسے اپنے رنگ میں رنگ لیتا ہے اپنے اوپر کوٸی رنگ نہیں چڑھنے دیتا۔
ﻓﯽ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﺩ ﯾﮧ ﺩﻋﻮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺎﮒ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ وہ اس نشے سے واقف نہیں ہے یا پھر وہ ہی گل ہے ہندکو والی۔ کھوتیاں کدوں مرونڈے کھادے۔😜😜
آگے بڑھنے سے پہلے اس ڈھیٹ کی کچھ نسلیں جان لیں سرسوں کا ساگ
بتھوے کا ساگ خرفے کا ساگ مکو کا ساگ سوے کا ساگ پالک کا ساگ میتھی کا ساگ چولائی کا ساگ گندلوں کا ساگ قلفے کا ساگ
میرا تو ﻣﺎﻧﻨﺎ ہے کہ ﺳﺎﮒ ﺍﻭﺭ ﺁﮒ ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺑﭽﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺎﮒ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ خاص ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﭘﮑﺎﻭ ﺗﻮ ﮨﻔﺘﮧ ﮨﻔﺘﮧ ﭼﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺳﺎﮒ ﮐﻮ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻋﻠﻢ ﮨﻮ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﺎ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﻨﺪﮦ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﮧ ﺧﻮﺩ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
۔ ساگ کو بین الاقوامی سفارتی تعلقات میں اگر مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو شاید امہ کو فائدہ پہنچ سکے۔ اسرا ئیل اگر ساگ کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے اپنی قومی ڈش قرار دے دے تو سارا جھگڑا ہی منٹوں میں ختم ہو سکتا ہے۔
ذاتی طور پر مجھے ساگ بہت پسند ہے۔ اب تو کھا کھا کر میں خود ہلکے سبز رنگ کا دکھنے لگ گیا ہوں۔ ساگ کھاتے ہوئے گر بیچ میں مکھن کی ڈلی ڈال دی جائے تو نشہ دوبالا کرتا ہے
بچپن کی یادیں تازہ کروں تو بچپن میں مجھے ساگ پسند نہیں ہوا کرتا تھا۔ اس وقت میں انتہائی ناشکرا بچہ تھا اب جو سوچوں تو کئی بار استغفار پڑھتا ہوں کہ میں ساگ کو ناپسند کیا کرتا تھا ۔ ماں جی نے جب ساگ بنانا تو میں نے روٹھ جانا۔ ماں جی دو آپشنز دیا کرتیں۔ یا تو ساگ چپ چاپ کھا لوں یا پھر پہلے چھتر کھا لوں بعد میں ساگ۔ مجھ میں تب عقل و شعور بھی نہیں تھا لہذا ہر بار پہلے ماں سے چھتر کھاتا اس کے بعد روتے ہوئے ساگ😳😅
لڑکپن آیا تو مجھے جس سے پہلی نظر میں محبت ہوئی اس نے ساگ رنگ کا کرتہ پہن رکھا تھا اور سفید مکھن جیسی شلوار چلتی ہوٸی وہ کسی بانکی نار سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ میں نے اپنی بینگنی رنگی شرٹ پر سنہرے رنگ کا سویٹر پہن لیا۔ مجھے گمان تھا کہ شاید میں مکئی کی روٹی جیسا لگوں گا جو ساگ بنا ادھوری اور ساگ اس بن بیوہ ہے۔ اس نے مڑ کے دیکھا، گھورا اور پھر گرم ساگ میں گھلتے مکھن کی مانند بہتے اپنی گاڑی میں جا بیٹھی۔ یہ اس سے پہلی اور آخری ملاقات تھی۔ نجانے اب وہ کہاں کس باتھو والے ساگ میں گھل رہی ہو گی😜
ساگ میں ، کیلشیئم ، سوڈیم ، کلورین ، فاسفورس ، فولاد ، پروٹین ( جسم کو نشو و نما دینے والے اجزاء ) اور وٹامن اے ، بی اور ای کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ ساگ کے بارے میں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ساگ اور دودھ بڑی حد تک ایک دوسرے کا بدل ہو سکتے ہیں اور ساگ جسم میں بڑی حد تک دودھ کی کمی پورا کرسکتے ہیں۔ سرسوں کے پتّوں کے ساگ میں حیاتین ب ، کیلشیئم اور لوہے کے علاوہ گندھک بھی پوئی جاتی ہے۔اس کی غذائیت گوشت کے برابر ہے ۔ یہ ساگ خون کے زہریلے مادّوں کو ختم کرکے خون صاف کرتا ہے
اب تو یوں ہے کہ ساگ میری پسندیدہ ترین ڈش ہے۔ ساگ اور مکٸ کی روٹی ہو ساگ اور ابلے ہوۓ چاول ہوں ساگ یا چپاتی ہو بس مختصر یہ کے ساگ جیسا بھی ہو ساگ دے نعرے وجنے ای وجنے نے

یہ لوگ بھی اعتراض کر رہے ہیں ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان نہ آئے اگر آ رہا ھے تو ہمارے ساتھ مناظرہ کرے دسو جی
27/09/2024

یہ لوگ بھی اعتراض کر رہے ہیں ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان نہ آئے اگر آ رہا ھے تو ہمارے ساتھ مناظرہ کرے دسو جی

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naveed Live posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share