The New Born Sindh

The New Born Sindh Sindh, the land of love, peace and beauty.❤️

ایسی تصویر بنانے کے لئے اپنی تصویر کامینٹ کریں
03/06/2026

ایسی تصویر بنانے کے لئے اپنی تصویر کامینٹ کریں

31/05/2026
1927 میں قائم ہونے والی اس KMC مارکیٹ کی تعمیرِ نو اور تزئین و آرائش جاری ہے. بس یہ بتا دیں کہ یہ منی مارکیٹ کہاں واقع ہ...
31/05/2026

1927 میں قائم ہونے والی اس KMC مارکیٹ کی تعمیرِ نو اور تزئین و آرائش جاری ہے. بس یہ بتا دیں کہ یہ منی مارکیٹ کہاں واقع ہے.؟

حيدرآباد جو سيرھي عمارت لجپت روڊ تي آھي جيڪا چئن پاسن کان رستو رکي ٿي ھن ۾ ھيٺ مٿي ڪوارٽر ٽائيپ فليٽ آھن ھن بلڊنگ جو نال...
30/05/2026

حيدرآباد جو سير
ھي عمارت لجپت روڊ تي آھي جيڪا چئن پاسن کان رستو رکي ٿي ھن ۾ ھيٺ مٿي ڪوارٽر ٽائيپ فليٽ آھن ھن بلڊنگ جو نالو پوکياڻي بلڊنگ آھي ھن عمارت ۾ گھڻائي گھر ٺھيل ھيا ته ھن کي سوسائيٽي پڻ چوندا ھيا ھاڻي ھي علائقو گول بلڊنگ به سڏيو ٿو وڃي
(الطاف صديقي)

جنهن کي به ڪينسر جي بيماري آهي ته پير سائين سردار جن جي ڏنل هن نسخي کي آزمائي انشاءَالله تعالي شفا ٿي ويندس.
30/05/2026

جنهن کي به ڪينسر جي بيماري آهي ته پير سائين سردار جن جي ڏنل هن نسخي کي آزمائي انشاءَالله تعالي شفا ٿي ويندس.

مورو جي تاريخٽائون ڪاميٽي مورو جي لئبرري جي ھي بلڊنگ 1963 ۾ ان وقت موري ٽائون ڪاميٽي جي  چيئرمن محترم حاجي جان محمد سرھي...
30/05/2026

مورو جي تاريخ
ٽائون ڪاميٽي مورو جي لئبرري جي ھي بلڊنگ 1963 ۾ ان وقت موري ٽائون ڪاميٽي جي چيئرمن محترم حاجي جان محمد سرھي ٺھرائي ھئي . ھن تصوير ۾ انجنيئر قاضي منير احمد مورائي انجنيئر علي نذير جان وينجھر مورائي ۽ سندن ڪلاس ميٽ نظر اچي رھيا آھن . ھي يادگار تصوير ادا علي نذير جان فيس بوڪ تي شيئر ڪئي آھي ان کان اڳ ھڪ تصوير قاضي منير احمد پڻ شيئر ڪئي ھئي.

28/05/2026

اڄ جي چمچن لاء!!

نیا فراڈ اب صرف “او ٹی پی” یا “بینک کال” تک محدود نہیں رہا…اب معاملہ آپ کے پیسوں سے بھی آگے جا چکا ہے۔اب فراڈی آپ کا “ڈی...
28/05/2026

نیا فراڈ اب صرف “او ٹی پی” یا “بینک کال” تک محدود نہیں رہا…
اب معاملہ آپ کے پیسوں سے بھی آگے جا چکا ہے۔
اب فراڈی آپ کا “ڈیجیٹل وجود” چرانا چاہتے ہیں۔

اور افسوسناک بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ فراڈ صرف تب ہوتا ہے جب آپ کسی کو پاس ورڈ یا اے ٹی ایم پن بتا دیں۔
حالانکہ جدید دنیا میں آپ کی آواز، چہرہ، آنکھوں کی حرکت، فنگر پرنٹ، حتیٰ کہ آپ کے بولنے کا انداز بھی “ڈیٹا” بن چکا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں ایک انتہائی خطرناک “مدد مانگنے والا فراڈ” مختلف ممالک میں سامنے آیا ہے، جو اب ہمارے معاشرے تک بھی پہنچ رہا ہے۔

یہ فراڈی عام چوروں جیسے نہیں ہوتے۔
نہ ان کے ہاتھ میں اسلحہ ہوتا ہے، نہ وہ جیب کاٹتے ہیں۔
بلکہ اکثر یہ مہذب لباس میں، پڑھے لکھے اور شریف دکھائی دینے والے لوگ ہوتے ہیں۔

یہ آپ کو مالز، میٹرو اسٹیشنز، بازاروں، ہسپتالوں یا عوامی مقامات پر ملتے ہیں۔
پھر نہایت معصوم لہجے میں کہتے ہیں:

“بیٹا ذرا یہ فون دیکھ دیں”
“مجھے سبسڈی چیک کرنی ہے”
“غلطی سے کوئی اسکرین کھل گئی”
“مجھے فون چلانا نہیں آتا”

اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ایک عام انسان اپنی “مہربانی” کی وجہ سے جال میں پھنس جاتا ہے۔

اصل خطرہ فون پکڑنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔

زیادہ تر کیسز میں فون پہلے سے ویڈیو کال پر ہوتا ہے، یا اس میں خفیہ اسکرین ریکارڈنگ، چہرہ شناخت کرنے والا سافٹ ویئر، یا مصنوعی ذہانت پر مبنی بایومیٹرک اسکیننگ نظام فعال ہوتا ہے۔

دوسری طرف بیٹھا شخص آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے…
آپ کے چہرے کے زاویے، آنکھوں کی حرکت، آواز کی لہریں، حتیٰ کہ انگلی رکھنے کے انداز تک کو محفوظ کیا جا رہا ہوتا ہے۔

آپ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ آپ مدد کر رہے ہیں…
جبکہ حقیقت میں آپ کا “ڈیجیٹل خاکہ” تیار کیا جا رہا ہوتا ہے۔

سائنس کی زبان میں اسے “بایومیٹرک ڈیٹا کلیکشن” کہا جاتا ہے۔

آج کے جدید مصنوعی ذہانت کے نظام صرف ایک تصویر سے انسان کی جعلی ویڈیو بنا سکتے ہیں۔
چند سیکنڈ کی آواز سے پورا آڈیو کلون تیار کیا جا سکتا ہے۔
اور اگر کسی کے پاس آپ کی آواز، چہرہ اور چند حرکات کا ڈیٹا آ جائے تو وہ آپ کی ایسی ڈیجیٹل نقل تیار کر سکتا ہے جو عام انسان کیلئے پہچاننا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

یہی ٹیکنالوجی “ڈیپ فیک” کہلاتی ہے۔

اب یہاں سب سے خوفناک حصہ شروع ہوتا ہے۔

یہ تمام ڈیٹا اکثر “ڈارک نیٹ” پر فروخت کیا جاتا ہے۔

‏یہ ریڑھی والا بابا کوئی عام شخص نہیں ہے یہ افغان آرمی کا جنرل شاہ محمود نیازی ہے😭انہوں نے رائیل ملٹری اکیڈمی UK سے 1958...
27/05/2026

‏یہ ریڑھی والا بابا کوئی عام شخص نہیں ہے یہ افغان آرمی کا جنرل شاہ محمود نیازی ہے😭
انہوں نے رائیل ملٹری اکیڈمی UK سے 1958 میں گریجویشن کی 1990 تک یہ افغان آرمی میں خدمات سرانجام دیتے رہے.
اس نے اپنے تین بیٹے اپنے ملک کے لیے قربان کیے.
اب یہ قندھار میں اپنی بیوی اور بہو کے ساتھ رہتے ہیں ان کی کفالت یہ ریڑھی چلا کر پھل اور سبزی بیچ کر کرتے ہیں 88 سال کی عمر میں یہ سخت محنت کرتے ہیں.
کوئی انہیں امداد یا خیرات دینا چاہے تو یہ سخت ناراض ہوتے ہیں اور سخت برا مناتے ہیں.
غیرت، خودی اور خودداری سے جینا اسے کہتے ہیں، جس رزق سے پرواز میں کوتاہی آتی ہے اس رزق کا انکار اسے کہتے ہیں.

جيڪو شاعر اوھان کي پسند آھي ان جو ھڪ شعر ٻڌايو
26/05/2026

جيڪو شاعر اوھان کي پسند آھي ان جو ھڪ شعر ٻڌايو

Address

Manora Karachi
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The New Born Sindh posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share