11/05/2025
*رافیل کی تباہی، آسمان پر پاکستان کے راج کا اعلان، ایشیائی ٹیکنالوجی سے مغربی دنیا دنگ*
اسلام آباد : فرانسیسی ساختہ رافیل کی تباہی آسمان پر پاکستان کے راج کا اعلان ہے۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق مغربی ساختہ رافیل کو مار گرانے میں چینی طیاروں کی بظاہر شمولیت نے دفاعی حلقوں میں دھوم مچا دی تھی،صبح چار بجے جنگی میدان میں نہیں بلکہ سفارتی میدان میں ایک غیرمعمولی واقعہ ہوا، پاکستان میں چین کے سفیر نے مبینہ طور پر راولپنڈی سے فوری کال کی جس کے بعد جو کچھ ہوا وہ صرف ایک فضائی تصادم نہیں تھا ، یہ ایک ایسا انکشاف تھا جس نے بھارت کے فضائی تسلط کے افسانے کو توڑ دیا۔
ہندوستانی فضائیہ کئی دنوں سے جمع ہو رہی تھی، تقریباً 180 طیارے مغربی محاذ پر تھے جس کا مقصد بالاکوٹ کو دہرانا، پاکستانی دفاع کو توڑنا اور سٹریٹجک بالادستی کی تصویر کو بحال کرنا تھا لیکن موسم ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ بھارتی فضائیہ نے پاکستان کی حدود کوکراس نہیں کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس سے آگے کیا ہوگا؟چینی جے 10 سی ، PL-15 میزائل، 300 کلومیٹر سے زیادہ رینج کے ساتھ تیار تھے ، جو کچھ بھارت نے دیکھا وہ صرف پاکستانی پائلٹ نہیں تھے بلکہ یہ اسکردو سے پسنی تک پھیلا ہوا چین کا مکمل فضائی جنگ کا نظریہ تھا جسے رافیل نے کبھی آتے ہوئے نہیں دیکھا اور ایک رافیل جس کی قیمت $250 ملین ڈالر سے زیادہ تھی،مبینہ طور پر درمیانی فضا میں مار گرایا گیا،پیکٹرا ای ڈبلیو سسٹم جو اس کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا، مغلوب ہوگیا۔
پاکستانی فضائیہ نے چین ،سیٹلائٹس اور اواکس کی مدد سے ایک سینسر فیوژن کو ختم کیا، رافیل جس نے ہدف کو لاک کیا اور نہ ہی اپنے مخالف کو دیکھ سکا، میزائل کا نشانہ بنا اور ختم ہوگیا۔بھارت بھی جانتا تھا کہ اگر ایک رافیل گرسکتا ہے تو پھر پانچ بھی گرسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پورا فلیٹ ہی گراونڈ کردیا گیا اور یہی وجہ تھی کہ وہ سرحد سے 300کلومیٹر دور رہے اور اس کی وجہ حوصلے کی کمی نہیں بلکہ یقین کی کمی تھی ۔ مضمرات بہت زیادہ ہیں لیکن ہندوستان کا غرور سمجھے جانیوالے رافیل کو پاکستانی طیارے سے فائر ہونےو الے چینی میزائل نے مار گرایا، یہ صرف ایک حکمت عملی کی ناکامی نہیں بلکہ ایک جغرافیائی سیاسی پیغام ہے۔
یہاں تک کہ بلومبرگ نے اسے لکھا کہ" یہ چین اور پاکستان کا مربوط جنگ کا ایک لائیو مظاہرہ ہے"۔رپورٹ کے مطابق اس واقعے پر مغربی تجزیہ نگار دنگ رہ گئے اور فرانس کے دفاعی معاہدوں میں ہلچل مچ گئی لیکن چین اس دوران خاموشی سے دیکھتا اور مسکرارہا تھا۔بھارت اب جانتا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں کوئی بھی مہم جوئی J-10Cs، PL-15s اور پاکستانی عزم کے ذریعے بنائے گئے موت کے جال کو دعوت دینے کے مترادف ہے تو وہ پیچھے رہا، خوفزدہ ہے ، ریڈار سے اندھا ہوگیا اور ذلیل ہوا۔ رپورٹ میں مزید یہ بھی بتایاگیا ہے کہ بھارت اپنے پائلٹوں کی مہارت میں کمی کی وجہ سے ناکام نہیں ہوا بلکہ وہ میدان جنگ میں ناکام ہوا ہے جسے وہ دیکھ نہیں سکا تھا، جو سیٹلائٹ اور سینسر کے ذریعے بنائی گئی اور مشینوں کے ذریعے عمل درآمد کیا گیا۔
مئی 2025 میں کھیل بدل گیا بھارت کا فضائی بالادستی کا دیرینہ خواب جو 36 رافیل طیاروں کی خریداری کیساتھ تشکیل پایا تھا، مقبوضہ کشمیر میں گر کر برباد ہوگیا، یہ ڈاگ فائٹ نہیں تھی،یہ ایک منصفانہ لڑائی بھی نہیں تھی، یہ ایک نظریاتی تباہی تھی، جس کا حقیقی وقت میں دنیا بھر کے ہر فوجی حکمت عملی کے ماہر نے مشاہدہ کیا۔رافیل کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ اسے کوئی چھو بھی نہیں سکتا، اس کی ٹیکنالوجی، بے مثال ہے لیکن اس منحوس دن، یہ ایک ایسے قاتل باکس میں گیا جہاں سے بچ کر واپس نہ آسکا۔برطانوی ادارے کا مزید کہناتھا کہ جیسا کہ بہت سے مغربی تجزیہ کاروں کا خیال تھا، چین نے ایسا کچھ نہیں کیا، کوئی J-20s یا جنگی اعلانات نہیں تھے لیکن وہاں ایک جال تھا، ایک نیٹ ورک تھا ، خاموشی سے مشاہدے اور پھر اس پر عمل کا ایک سلسلہ تھا۔
پاک بھارت فضائی جھڑپ نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی ہے اور اسے جدید فضائی ہتھیاروں، پائلٹوں کی مہارت اور لڑاکا طیاروں کی کارکردگی کو جانچنے کا ایک بہترین موقع قرار دیا جارہا ہے۔چینی ساختہ پاکستانی لڑاکا طیاروں اور فرانسیسی ساختہ بھارتی رافیل طیاروں کے درمیان ہونے والی اس فضائی جھڑپ کا دنیا بھر کی افواج تجزیہ کریں گی تاکہ مستقبل کی جنگوں میں برتری حاصل کرنے کے لیے قیمتی معلومات حاصل کی جا سکیں۔پاکستان اور بھارت کی فضائیہ کے درمیان 6 اور 7 مئی کی شب ہونے والی جھڑپ حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی اور طویل ترین لڑائی ہے۔سینئر پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس لڑائی میں دونوں طرف کے تقریباً125 طیارے شریک تھے، دونوں ملکوں کے جنگی طیارے اپنی فضائی حدود سے باہر نہیں نکلے۔ اس لڑائی کے دوران کچھ موقعوں پر 160 کلومیٹر کے فاصلے سے بھی ایک دوسرے پر میزائل داغے گئے۔انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے سینئر رکن کا کہنا ہے امریکا اور کئی یورپی ممالک کی فضائیہ پاک بھارت معرکے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں، طریقہ کار اور حکمتِ عملی کے ہر پہلو کا گہرائی سے تجزیہ کرنے میں دلچسپی لیں گی۔
ایوی ایشن ذرائع نے کنفرم کیا ہے کہ7مئی کو 59منٹ کا اعصاب شکن معرکہ ہوا جس میں پاکستان کو شاندار کامیابی ملی۔ بھارت نے اپنے ‘اسٹرایٹجک اسکواڈرن‘ کو پاکستانی فضاو¿ں کی طرف روانہ کیا جس میں جدید ترین رافیل، SU-30 اور دیگر مگ سیریز کے طیارے فل اسکواڈرن کی شکل میں فضائی محاذ پر تعینات کیے گئے، ان کا ہدف پاکستان کی فضائی حدود کو چیرنا، اپنے خنجر کو ہماری خودمختاری میں پیوست کرنا اور ایک نئی فضائی جارحیت کو جنم دینا تھا۔پاکستانی فضائیہ نے برق رفتاری سے آپریشنل الرٹ جاری کیا اور ہمارے شاہینوں نے اپنی کمبیٹ پوزیشنز سنبھال لیں۔JF-17 تھنڈر بلاک 3، F-16 فالکن اور گراو¿نڈ بیسڈ میزائل ڈیفنس سسٹمز نے ایک مشترکہ کمان کے تحت اپنی پوزیشنز لیں، دشمن کے اسکواڈرن کو ’ریڈار لاک‘ کرکے بیونڈ وڑوئل رینج (BVR) کلنگ زون میں لاکر پھنسایا گیا۔فضا میں وہ لمحہ ایک ڈاگ فائٹ کا نقطہ آغاز بن چکا تھا ایک طرف اربوں ڈالر کے فرانسیسی رافیل، دوسری طرف مٹی کے بیٹے، پاکستانی تھنڈر جذبے سے آراستہ، ایمان سے لیس تھے۔
رافیل، جس پر بھارت نے اپنی پوری عسکری معیشت داﺅ پر لگا رکھی تھی جب ہمارے شاہینوں کی فضا شکن جھپٹ کا شکار ہوا تو اس کے کاک پٹ سے نکلتی آگ نے دشمن کی فضائی برتری کا دعویٰ جلا کر راکھ کردیا، ایک نہیں، 2 نہیں، 3 رافیل طیارے فضائی محاذ پر مکمل تباہ کیے گئے اور وہ بھی بغیر سرحد پار کیے۔یہ کوئی معمولی دفاع نہ تھا یہ ایک نیٹورک سینٹرک وارفیئر کا کلاسک کیس تھا، پاکستانی شاہینوں نے اپنی تمام کارروائیاں مکمل Beyond Visual Range میں رہ کر انجام دیں جہاں دشمن کی آنکھ دیکھ نہ سکی مگر ہمارے ہدف لاک میزائلوں نے دشمن کے پرخچے اڑا دیے۔یہ معرکہ چند منٹوں کا تبادلہ نہ تھا بلکہ گھنٹوں پر محیط وہ ہائی انٹینسٹی ائیریئل وار زون تھا جس میں الیکٹرانک وارفیئر، جیمنگ، ECM اور ریڈار نیوٹرلائزیشن کی تمام مہارتیں استعمال کی گئیں اور دشمن کے ’کمبیٹ ڈاٹرینا‘ کو خاک میں ملا دیا گیا۔
بھارت کی پوری فضائی کمان اپنے ہی بریفنگ رومز میں صدمے اور شرمندگی کی کیفیت میں گم ہوگئی۔رافیلز کا اسکواڈرن جو ایک زمانے میں بھارت کا ’گیم چینجر‘ کہلاتا تھا وہ پاک فضائیہ کے فضا شکن حملوں کے آگے نشانہ عبرت بن گیا، Scalp کروز میزائل، AESA ریڈار اور الیکٹرانک وارفیئر سے لیس یہ طیارے جب پاکستانی تھنڈر کے سامنے آئے تو ان کا انجام صرف ایک لفظ تھا: خاکستر۔اس لڑائی کی خاص بات یہ تھی کہ اس سے پہلے دنیا کی سب سے بڑی فضائی ڈاگ فائٹ 1973 میں اسرائیل اور مصر کے درمیان ہوئی تھی جو 53 منٹ جاری رہی لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی یہ جھڑپ 59 منٹ تک جاری رہی اور اسے اب تاریخ کی سب سے بڑی ڈاگ فائٹ مانا جا رہا ہے۔پاکستانی شاہینوں نے نہ صرف دشمن کو اس کے ’ڈیفنس انٹرسیپشن زون‘ میں گھیر کر نشانہ بنایا،بلکہ اسٹرائٹیجک نیوٹرلائزیشن کا وہ نمونہ پیش کیا جو جدید جنگی تاریخ میں ایک نیا باب بن چکا ہے۔
دشمن کا کوئی ایک میزائل پاکستانی فضا کو چیرنے میں کامیاب نہ ہو سکا کیونکہ ہر میزائل، ہر ریڈار، ہر اسکواڈرن کے آگے ایک مضبوط، مربوط اور ہائی مورال ڈیفنس شیلڈ موجود تھی۔بھارت کے پاس اس بار نہ کوئی فوٹیج تھی، نہ کوئی ونگ کمانڈر، نہ کوئی بریفنگ، صرف ایک چیز تھی: خاموشی، وہ خاموشی جو شکست کے بعد آتی ہے، وہ شرمندگی جو تکبر کی موت کے بعد جنازہ بنتی ہے۔ عالمی عسکری تھنک ٹینکس اس واقعے کو ’The Tactical Masterclass of the East‘ قرار دے چکے ہیں۔ چین، روس، ترکی، اور مغربی ممالک کے ماہرین بھی مان چکے ہیں کہ پاکستان نے جو کارکردگی دکھائی وہ کسی بھی جدید فضائیہ کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔یہ معرکہ صرف ایک دفاعی کامیابی نہیں، ایک نیا ریکارڈ، ایک نئی تاریخ اور ایک نیا فخر ہے پاکستان کے لیے، اور ہر اس شخص کے لیے جو اس پر یقین رکھتا ہے۔
💖🇵🇰💖