27/07/2024
تمہیں ہر پل وہ میرا دل لَگانا یاد آئے گا
کبھی روٹھو گے جب میرا مَنانا یاد آئے گا
وہ جب دیکھو گے اپنا آپ تم یادوں کے درپن میں
مری خاطر ترا خود کو سَجانا یاد آئے گا
کبھی بھیگے گا جب منظر تمہاری بالکونی کا
مری بانہوں میں یوں تیرا سَمانا یاد آئے گا
دیارِ دل کے دروازے تمہی کو بس پکاریں گے
ترا کھڑکی سے لگ کر مُسکرانا یاد آئے گا
بہت مشکل ہے یہ میری وفا کو بھول پاؤ تم
کبھی توڑے نہ جو وعدے نِبھانا یاد آئے گا
میں تم سے روٹھ جاؤں گا بچھڑنے سے ذرا پہلے
ترا پَلّوُ سے یوں آنسو چُھپانا یاد آئے گا
نہ حیرت سے تَکو مجھکو نہ مجھکو چھوڑ کر جاؤ
نیا کرلو گے حُب لیکن پُرانا یاد آئے گا
(درویشؔ)