درویشؔ

درویشؔ نا میرا کوئی جواب مجھ سا
عجیب مشکل سوال ہوں میں

تمہیں ہر پل وہ میرا دل لَگانا  یاد  آئے  گاکبھی روٹھو گے جب میرا مَنانا  یاد آئے گاوہ جب دیکھو گے اپنا آپ تم یادوں کے در...
27/07/2024

تمہیں ہر پل وہ میرا دل لَگانا یاد آئے گا
کبھی روٹھو گے جب میرا مَنانا یاد آئے گا

وہ جب دیکھو گے اپنا آپ تم یادوں کے درپن میں
مری خاطر ترا خود کو سَجانا یاد آئے گا

کبھی بھیگے گا جب منظر تمہاری بالکونی کا
مری بانہوں میں یوں تیرا سَمانا یاد آئے گا

دیارِ دل کے دروازے تمہی کو بس پکاریں گے
ترا کھڑکی سے لگ کر مُسکرانا یاد آئے گا

بہت مشکل ہے یہ میری وفا کو بھول پاؤ تم
کبھی توڑے نہ جو وعدے نِبھانا یاد آئے گا

میں تم سے روٹھ جاؤں گا بچھڑنے سے ذرا پہلے
ترا پَلّوُ سے یوں آنسو چُھپانا یاد آئے گا

نہ حیرت سے تَکو مجھکو نہ مجھکو چھوڑ کر جاؤ
نیا کرلو گے حُب لیکن پُرانا یاد آئے گا

(درویشؔ)

تمکو تو ہے  پتہ کہ دلاسہ ہے زندگی اس نے بہت نچایا تماشہ ہے زندگیمستانہ دل اسی پہ ہے تکیہ کئے ہوئے معصوم دل ہے چڑیا تو با...
25/07/2024

تمکو تو ہے پتہ کہ دلاسہ ہے زندگی
اس نے بہت نچایا تماشہ ہے زندگی

مستانہ دل اسی پہ ہے تکیہ کئے ہوئے
معصوم دل ہے چڑیا تو باشہ (باز)ہے زندگی

امید پر تھے اسکی کہ قسمت کھلے کبھی
لیکن کسی فقیر کا کاسہ ہے زندگی

بھاتی نہیں اسے کبھی مزدور کی وفا
دن بھر اٹھائے پھرتے ہیں لاشہ ہے زندگی

لاچار بے بسی کی یہ مورت بنی ہوئی
آشا اسے نہ سمجھو نراشا ہے زندگی

تم مان لو یہ بات کہ مجھکو تو یوں لگے
بے چین دل کا کوئی خلاصہ ہے زندگی

(درویشؔ)

09/07/2024

تجھے میں کیسے کہوں یار خرافاتی ہے
پہلا پہلا جو ہوا پیار خرافاتی ہے

دھوپ سے جلتی رہی پیاس مری آنکھوں میں
تیرے چہرے کا تو دیدار خرافاتی ہے

دشمنی کرنے کو کیا میں ہی ملا تھا تجھکو
تونے جو چھپ کے کیا وار خرافاتی ہے

بولیاں لگتی یہاں روز پری زادوں کی
بِک رہے لوگ خریدار خرافاتی ہے

دل کی تسکیں کے لئے ساتھ ہی لے آیا تھا
پر حقیقت میں یہ پِنْدار خرافاتی ہے

(درویشؔ)

نا میرا کوئی جواب مجھ سا
عجیب مشکل سوال ہوں میں

29/06/2024

کردیا کیسا حال روٹی کا
ہے کمانا محال روٹی کا

وقت کیسے کسی کا اب گزرے
مہنگا ہے ماہ و سال روٹی کا

سیلری بٹ گئی شریفوں میں
پیچھے رہتا ملال روٹی کا

نفسِ انساں کو کھاگئی روٹی
بن گیا ہے وبال روٹی کا

پوچھتا ہوں میں وقتِ قاضی سے
کر رہا ہوں سوال روٹی کا

(درویشؔ)

نا میرا کوئی جواب مجھ سا
عجیب مشکل سوال ہوں میں

07/06/2024

جو دل سے تمہارے نکالے گئے
تو جیون سے سارے اجالے گئے

ہمیں تھی بہت اپنے سانپوں کی فکر
جو تھے آستیں میں وہ پالے گئے

یہ ڈر تھا ہمیں بچ نہ پائیں گے اب
ہم ایسے گرے نا سنبھالے گئے

افق سے پڑی مجھ پہ اک روشنی
مرے چاند کے سب ہی ہالے گئے

نہ لائیں گے شکوہ زباں پر کبھی
یوں پڑ اپنے ہونٹوں پہ تالے گئے

(درویشؔ)

نا میرا کوئی جواب مجھ سا
عجیب مشکل سوال ہوں میں

زندگی قید ہے جُستجُو قید ہےمیرا ماضی مرے رُو برُو قید ہےیہ بھی میں نے سنا ہے مری آنکھ میںاک حسینہ بڑی خوبرُو قید ہےداستا...
30/05/2024

زندگی قید ہے جُستجُو قید ہے
میرا ماضی مرے رُو برُو قید ہے

یہ بھی میں نے سنا ہے مری آنکھ میں
اک حسینہ بڑی خوبرُو قید ہے

داستاں پیار کی تم نہ سمجھے کبھی
صرف سپنا نہیں آرزُو قید ہے

مجھ سے حالت نہ پوچھو مرے خائفو
جان و عزت مری آبرُو قید ہے

بات آگاہی کی اب نہ پھیلے کہیں
بات رسوائی کی کوُ بہ کوُ قید ہے

منتشر ہوگئے سارے الفاظ جب
لب پہ رشکِ قمر اب لہوُ قید ہے

تجھ کو کیسے کہوں دل کی تو ہے مکیں
قلبِ درویشؔ میں تُو ہی تُو قید ہے

(درویشؔ)

ہے  بات  جاناں  یہ ابتدائیامید آنکھوں میں جگمگائیمجھے یہ لگتا  تھا زندگی بھیکبھی تھی مجھ پر بھی مسکرائیکہاں سے سیکھا تھا...
21/05/2024

ہے بات جاناں یہ ابتدائی
امید آنکھوں میں جگمگائی

مجھے یہ لگتا تھا زندگی بھی
کبھی تھی مجھ پر بھی مسکرائی

کہاں سے سیکھا تھا دل چرانا
کہاں سے سیکھی تھی دلربائی

جو تم نے چھوڑا تھا مجھکو دلبر
ہوئی تھی میری بھی جگ ہسائی

تمہی کو آتا نظر سے گرنا
تمہی پہ جچتی ہے بے حیائی

وہ ڈھیل دیتا ہے ظالموں کو
انہی کو ملتی ہے ناخدائی

تمہاری ضد ہے مجھے جھکانا
نہ مجھ کو آتی یہ پارسائی

نہیں ملیں گے اب اس جہاں میں
یہ فیصلہ بھی ہے انتہائی

مجھے نہ بالکل بھی راس آئی
ذرا سی تیری وہ بے وفائی

(درویشؔ)

صبح دھوکے سے شام دھوکے سےچل رہے سارے کام دھوکے سےیہی اک خاصیت ہے دھوکے کیگرتے سب کے مقام دھوکے سےاِس نے چھوڑا نہ کوئی بھ...
25/03/2024

صبح دھوکے سے شام دھوکے سے
چل رہے سارے کام دھوکے سے

یہی اک خاصیت ہے دھوکے کی
گرتے سب کے مقام دھوکے سے

اِس نے چھوڑا نہ کوئی بھی اپنا
مر گئے خاص و عام دھوکے سے

بھوک لگنے پہ کھائیں گے دھوکہ
کچھ کرو اہتمام دھوکے سے

بے وفاؤں نے بس فریب دیا
بار ہا تیز گام دھوکے سے

اب تو بس خواہشیں سسکتی ہیں
لٹ گئے در و بام دھوکے سے

کلمہ اپنا طریق ہونا تھا
کس نے بدلا نظام دھوکے سے

اب غلامی نہ مار ڈالے کہیں
بن گئے ہم غلام دھوکے سے

(درویشؔ)

بات تو بات ہے کس بات میں دم رکھا ہےبعد عرصے کی ملاقات میں غم رکھا ہےبات کیا کرتے ہو تم رہنے دو اب جانے دومیں نے تو تیری ...
19/03/2024

بات تو بات ہے کس بات میں دم رکھا ہے
بعد عرصے کی ملاقات میں غم رکھا ہے

بات کیا کرتے ہو تم رہنے دو اب جانے دو
میں نے تو تیری ہی باتوں کا بھرم رکھا ہے

دیکھ یہ جھرّیاں ایسے ہی نہیں ماتھے پر
زیست نے مجھ پہ رواں روز ستم رکھا ہے

بات کرتے ہوئے میں زہر اگل سکتا ہوں
تیرے کوچے میں مگر خاص کرم رکھا ہے

میرے اشعار کی کڑواہٹیں محسوس کرو
میں نے بچپن سے بڑھاپے میں قدم رکھا ہے

(درویشؔ)

اپنی قسمت کا بار لوٹے ہیںجتنے اچھے ہیں یار لوٹے ہیںدوستوں کا شمار مشکل ہےیہاں تو بے شمار لوٹے ہیںکیا ملے گا صلہ محبت کات...
12/02/2024

اپنی قسمت کا بار لوٹے ہیں
جتنے اچھے ہیں یار لوٹے ہیں

دوستوں کا شمار مشکل ہے
یہاں تو بے شمار لوٹے ہیں

کیا ملے گا صلہ محبت کا
تیرا میرا خمار لوٹے ہیں

بولیاں لگ گئی کروڑوں میں
کتنے سستے کباڑ لوٹے ہیں

کرتے خدمت یہ اپنے مالک کی
بڑے خدمت گزار لوٹے ہیں

جب جنازہ اٹھے سیاست کا
تو سیاسی مدار لوٹے ہیں

کئی انسانوں سے سیانے ہیں
کتا ، بلی ، سیار لوٹے ہیں

خودی کو بیچ کے بھی زندہ ہیں
بڑے ہی جاں نثار لوٹے ہیں

(درویشؔ)

جہاں دیکھو خباثت ہے یہ کیوں ایسی ریاست ہےیہ سب ہم دیکھ کر زندہ ہیں اور اسمیں ہلاکت ہےکئی سرکاری بچھو ہیں جو معصوموں کو ڈ...
12/02/2024

جہاں دیکھو خباثت ہے یہ کیوں ایسی ریاست ہے
یہ سب ہم دیکھ کر زندہ ہیں اور اسمیں ہلاکت ہے

کئی سرکاری بچھو ہیں جو معصوموں کو ڈستے ہیں
وطن پر بدنما ہیں داغ رشوت کی نجاست ہے

یہاں اَسرار بکتے ہیں ، یہاں کردار بکتے ہیں
خدایا دور رکھ اس سے بڑی گندی سیاست ہے

یہ ساری لاٹھیاں جِن کی انہی کی ہیں یہ بھینسیں بھی
ہیں قاضی قوم کے مجرم عجب ہی کچھ حماقت ہے

ہے کھائی اب قسم ہم نے نہ ہاریں گے کرپٹوں سے
ابھی کچھ اور چلنا ہے بڑی لمبی مسافت ہے

(درویشؔ)

صبح آنکھیں ہیں شام آنکھیں ہیںاب جواب و سلام آنکھیں ہیںچار سُو حسرتوں سے تکتی ہیںہر جگہ تیز گام آنکھیں ہیںجنبشِ ابرو اِنک...
01/02/2024

صبح آنکھیں ہیں شام آنکھیں ہیں
اب جواب و سلام آنکھیں ہیں

چار سُو حسرتوں سے تکتی ہیں
ہر جگہ تیز گام آنکھیں ہیں

جنبشِ ابرو اِنکی کیا کہئیے
دلبروں کا پیام آنکھیں ہیں

طنز لہجے میں اُنکے جچتا ہے
جنکی حسنِ کلام آنکھیں ہیں

میر و غالب کو سب سمجھتے ہیں
شاعری کی امام آنکھیں ہیں

تم نے آنکھوں میں قید کر ڈالا
اب تمہاری غلام آنکھیں ہیں

تیری آنکھوں کی تشنگی کے سوا
جتنی دیکھیں ہیں عام آنکھیں ہیں

تیری آنکھوں میں نیم خوابی ہے
مے کشی کا یہ جام آنکھیں ہیں

وہ جو آنکھوں سے مے پلاتے ہیں
ہم پہ انکی حرام آنکھیں ہیں

دل تو اپنا نحل کے جیسا ہے
دل کا سارا نظام آنکھیں ہیں

اب تو آنکھوں پہ بوسہ بنتا ہے
کتنی عالی مقام آنکھیں ہیں

(درویشؔ)

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when درویشؔ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to درویشؔ:

Share

Category