Funny Nasif

Funny Nasif Urdu funny lines

01/05/2026

1 like. "Me and my beloved family "

01/05/2026
27/04/2026

ایک شام عبدالحکیم ناصف کے نام

26/04/2026

Funny Urdu mushaira

23/09/2023

جنوری 1999 میں حیدرآباد سے معاشی بہتری کے لیے میں نے کراچی کا رُخ کیا ۔ شادمان ٹاؤن میں الحمرا کمپلیکس میں اس زمانے میں چھ ہزار ماہانہ پر ایک معقول رہائشی فلیٹ میں رہائش پذیر ہوا۔ جہاں پانچسو روپے یونین کے علاوہ میٹھے پانی کی مد میں روزانہ سو روپے نقد کی ادائی کرنی پڑتی تھی۔ گویا وہ فلیٹ مجھے ماہانہ ساڑھے نو ہزار روپے کا پڑتا تھا ۔ اس زمانے کے حساب سے قلیل تنخواہ میں یہ کرایہ میرے لیے ناقابلِ برداشت تھا ۔ پھر چھ ماہ کے دوران میں سیکٹر الیون ایچ میں اپنے کزن کے ایک فلیٹ میں منتقل ہو گیا جس پر ہاؤس بلڈنگ کا تقریباً ساڑھے تین لاکھ کا قرض واجب الادا تھا۔ انھوں نے زور دیا کہ میں ان سے وہ تین کمروں پر مشتمل فلیٹ خرید لوں ۔ انھوں نے سوا دو لاکھ کا مطالبہ کیا۔ میں نے ڈھیڑ لاکھ مالیت کی اپنی کار فروخت کی باقی رقم بیگم کے کچھ زیورات سے پوری کی اور چوتھی منزل پر واقع وہ فلیٹ خرید لیا۔ فلیٹ میں رہتے ہوئے اپنی سہولت سے گاہے گاہے ہاؤس بلڈنگ کا قرضہ بھی اپنی سہولت سے ادا کرتا رہا۔ اس دوران ادارے نے تین بار قرض کی ادائی میں کمی اور تاخیر پر فلیٹ سیلڈ یعنی قرقی کا نوٹیفیکشن بھی بھیجا لیکن ان کا شکریہ کہ وہ محض خالی خولی دھمکیاں تھیں عملی طور پر انھوں نے ایسا کرنے سے ہر بار گریز کیا۔ بعدازاں انھوں نے ایک اسکیم متعارف کرائی کہ ایک مقررہ وقت غالباً ایک ماہ میں جو صارف اپنے قرض کا نصف ادا کرے گا اس کا نصف قرضہ معاف کر دیا جائیگا۔ خیر بیگم صاحبہ نے اپنا باقی ماندہ زیور بھی بیچا اور ہم نے ہاؤس بلڈنگ کےقرض سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کی۔ وہاں الیون ایچ میں ہر بلڈنگ کا اپنا میٹھے پانی کا کنواں تھا جہاں پانی چوبیس گھنٹے دستیاب تھا۔ ایک ایک گھنٹے کے اسپیل سے چار بار دن میں لوڈشیڈنگ ہوتی تھی جو قابلِ برداشت تھی۔ پھر علاقے کا برا وقت شروع ہوا ۔ پانی کی زیرِ زمین فراوانی دیکھ کر پانی مافیا کے منہ میں بھی پانی بھر آنے لگا ،آٹھ سے دس پانی بیچنے والوں نے تین تین سو فٹ زیر زمیں چار چار بورنگز کرائیں نتیجتاً علاقے کے کنوئیں خشک ہو گئے۔ واٹر بورڈ پہلے ہی یہاں سے متنفر تھا۔ لہذا اب دو ہزار اٹھارہ سے پانی کا مسئلہ گمبھیر ہو گیا۔ پانی مافیا بھتہ دے کر کروڑ پتی ہو گیا۔ حتیٰ کہ یہ صورتِ حال ہو گئی کہ پندرہ سو روپے میں انھیں ظالموں سے ہمیں ہر دوسرے دن ایک ہزار لٹر پانی خریدنا پڑتا جو حقیقت میں آٹھ سو لٹر ہوتا۔ خیر اس ہوش ربا گرانی کے دور میں جہاں یوٹیلیٹیز بلز نے کمر توڑ رکھی ہے مھینے کا بیس بائیس ہزار کا پانی وبالِ جان بن گیا۔ مجھ جیسے بیروزگار اور بیمار حال شخص نے لامحالہ فلیٹ خالی کیا اور بچوں کے اصرار پر سرجانی 4 بی کے علاقے میں زمینی گھر کرائے پر لے لیا۔ لیکن یہاں لوڈشیڈنگ نے بغیر بجلی کے چودہ طبق روشن کر دیئے۔۔۔۔۔ لوڈشیڈنگ اسکیجیول ملاحظہ ہو؛
1. صبح نو بجے سے دوپہر بارہ بجے تین گھنٹے لوڈشیڈنگ
2. سہ پہر ڈیڑھ بجے سے شام ساڑھے چار بجے تین گھنٹے لوڈشیڈنگ
3. ساڑھے چھ بجے سے رات تین گھنٹے لوڈشیڈنگ
4. رات ساڑھے گیارہ بجے سے شب ایک بجے ڈیڑھ گھنٹہ لوڈشیڈنگ
5. رات سوا تین بجے سے صبح سوا چار بجے ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ ۔۔۔۔۔
6. اس کے علاوہ مقرہ اوقات سے دس سے پندرہ منٹ زائد بونس لوڈشیڈنگ۔۔۔۔
گویا چوبیس گھنٹے میں بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ۔
طرفہ تماشہ یہ کہ ابھی پہلے مہینے ہی جو بجلی کا بل موصول ہوا وہ دس ہزار پر مشتمل ہے۔ حالانکہ پورے گھر میں بارہ وولٹ کے بلبز اور کم وولٹس کے خورشید کے پنکھے لگے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کراچی میں کہیں قانون کی عمل داری ہے؟
میں شدید جسمانی علالت کے ساتھ اب ذہنی مریض بھی ہوتا جا رہا ہوں۔ کوئی ہے جو ایک دُکھی بیروزگار شاعر کی شنوائی کرے اور اس جیسے ہزاروں باقی ماندہ بیمار اور قریب المرگ افراد کی زندگی آسان کرے۔۔۔۔۔
ہے کوئی باضمیر ادارہ؟
ہے کوئی آخرت کے سخت ترین حساب پر یقین کرنے والا!؟

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Funny Nasif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Funny Nasif:

Share

Category