Khofnak Kahaniyan#1

Khofnak Kahaniyan#1 wellcom

25/01/2026

شاپ نمبر 144 درد بھری داستان

منظر کیسا ہوگا؟

گل پلازہ کی شاپ نمبر 144 کا شٹر آدھا گرا ہوا تھا۔ بجلی بند ہو جانے کے باعث اندر اندھیرا تھا، کچھ لوگوں نے موبائل فون کی ٹارچ جلائی ہوئی تھی۔ مگر روشنی بھی زندہ نہیں لگتی تھی۔ میزنائن فلور کی چھت کے نیچے جمع دھواں آہستہ آہستہ سانسوں کو نگل رہا تھا۔ کراکری کے شیلف اب بھی اپنی جگہ کھڑے تھے، جیسے کسی عجیب خاموشی میں منجمد ہوگئے ہوں۔ پلیٹوں، پیالیوں اور ڈنر سیٹس کے درمیان تقریبا دودرجن زندگیاں سمٹ کر کھڑی تھیں، ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی، ایک دوسرے کے سہارے پر۔

دکان کے مالک حاجی صاحب ، کانپتے ہاتھوں سے شٹر کو دوبارہ نیچے کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
"۔۔۔بس بند رکھو۔۔۔باہر آگ ہے، یہاں بچ جائیں گے ہم"
ان کی آواز میں خود اعتمادی کم اور خود کو تسلی زیادہ تھی۔

نوجوان سیلز مین ، جو روزانہ اسی دکان میں گاہکوں کو مسکرا کر برتن دکھاتا تھا، اب موبائل ہاتھ میں لیے نیٹ ورک تلاش کر رہا تھا۔
حاجی صاحب۔۔۔میڈیا والے آگئے ہوں گے نیچے۔۔۔ جیسے ہی خبرچلے گی، فائر بریگیڈ آجائے گی۔۔۔" وہ آگ بجھا دیں گے"۔

ایک کونے میں تین خواتین بیٹھی تھیں۔ جن میں ایک پچاس سالہ عورت اپنی بیٹی اور بھانجی کے ساتھ شاپنگ کے لیے آئے تھے ۔ ماں بار بار کہہ رہی تھی:
"ہم نے تو بس چائے کے کپ لینے تھے… اللہ ہمیں گھر واپس بھیج دے"
ان کی بیٹی خاموشی سے آنسو پونچھ رہی تھی، اور بھانجی کے ہونٹ مسلسل ہل رہے تھے، دعا میں، سسکی میں، شاید دونوں میں۔

قریب ہی باپ بیٹے کی جوڑی کھڑی تھی۔ باپ نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
"ڈرنا نہیں، میں ہوں نا بیٹا"
بیٹا شاید دس یا گیارہ سال کا تھا، اس کی آنکھیں شاپ کے کونے پر جمی تھیں شاید اس کی آنکھیں محفوظ جگہ کی تلاش میں تھیں ۔
"بابا"۔۔۔آج نانو کے گھر جانا تھا ، وہ انتظار کر رہی ہوں گی… انھوں نے آج میری پسند کے مٹر چاول بھی بنائے ہیں۔
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز ٹوٹ گئی، اور وہ دکان کے کونے میں جا کر سہم گیا، جیسے وہاں چھپ کر آگ کو دھوکا دے دے گا۔

ایک جوان بہن اپنے چھوٹے بھائی کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔
"امی نے کہا تھا زیادہ دیر نہ کرنا کیا پتہ ان کو ہماری خبر ہو یا نہ ہو"
بھائی نے سر اٹھا کر کہا،
"آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا آپا"
بہن مسکرانے کی کوشش میں رو پڑی۔

درمیان میں ایک پانچ افراد کی فیملی تھی۔ ماں، باپ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ فرش پر رکھے ڈنر سیٹس کے ڈبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے ماں بولی:
"بس یہ آخری خریداری تھی۔۔۔عید کے بعد شادی ہے۔۔۔ میری بچی کا گھر بس جائے گا"
باپ نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے چھت کے پار کچھ نظر آ جائے۔
"اللہ کرے ہم سب سلامت باہر نکل جائیں"

قریبی دکان کا ایک سیلز مین بھاگتا ہوا اندر آیا تھا۔
"میری دکان پوری جل چکی ہے میں ادھر چھپ رہا ہوں۔۔۔ یہ دکان محفوظ ہے نا؟"
کسی کے پاس جواب نہیں تھا، مگر سب نے سر ہلا دیا، کیونکہ اس وقت جھوٹ بھی امید لگتا تھا۔

دروازے کے پاس ایک سیکیورٹی گارڈ کھڑا تھا۔ وردی پر کالک جم رہی تھی۔
"فورسز آتی ہی ہوں گی۔۔۔میں نے دیکھا ہے، وہ سیلاب، زلزلہ سب آفتوں میں پہنچ جاتی ہیں۔۔۔ ہمیں بھی نکال لیں گی"
اس کے الفاظ مضبوط تھے، مگر آنکھیں خالی۔

وقت گزرتا گیا۔ دھواں گاڑھا ہوتا گیا۔ سانس لینا مشکل ہونے لگا۔
کسی نے کہا،
"ہمیں ریسکیو والے بچالیں گے، بس تھوڑا صبر"
کسی نے میڈیا پر بھروسا کیا،
"کیمرے آن ہوں گے، حکمران مجبور ہو جائیں گے"
ایک آدمی نے دو سیاسی جماعتوں کا نام لیا،
"میں نے ماضی میں ووٹ دیا ہے انھیں… وہ شہر کی نمائندہ ہیں… وہ ہمیں نہیں مرنے دیں گے"

لیکن امید کا وزن دھوئیں سے ہلکا ہوتا جا رہا تھا۔

خواتین کی دعائیں بلند ہو گئیں۔
"یا اللہ۔۔۔یا اللہ"
ایک عورت نے روتے ہوئے کہا،
"میری بچی کی شادی رہ گئی ہے"
دوسری نے ہاتھ اٹھا کر کہا،
"یا اللہ، اگر یہاں سے نہیں نکالنا تو کم از کم آسانی دے دے"

بچہ کونے میں کان بند کیے بیٹھا تھا۔
"نانو پیاری نانو"
اس کی آواز اب صرف ہونٹوں کی حرکت تھی۔

گرمی بڑھنے لگی۔ ہوا جلنے لگی۔
سیلز مین نے ہانپتے ہوئے کہا،
"حاجی صاحب۔۔۔شاید شٹر کھولنا پڑے"
حاجی صاحب نے سر ہلایا،
"باہر شدید آگ ہے۔۔۔اللہ سے دعا کرو شاید"

آخری لمحوں میں باتیں ٹوٹنے لگیں۔ جملے ادھورے۔
سیکیورٹی گارڈ نے وردی کے بٹن کھولتے ہوئے کہا،
"میرا فرض۔۔۔بس یہی تھا"
باپ نے بیٹے کو سینے میں بھینچا،
"آنکھیں بند کر لو میری جان اور مجھے معاف کردو"

دعا، امید، سیاست، میڈیا،سب دھوئیں میں گھل گئے۔

آخری دو لمحے چیخ نہیں تھے، وہ سرگوشیاں تھیں۔
"اللہ"
"امی"
"معاف کردیں"

اور گل پلازہ کی شاپ نمبر 144، جو کبھی چمکتے برتنوں کی دکان تھی،
خاموشی کا ایک بند کمرہ بن گئی. جہاں یقین زندہ رہا، مگر زندگی نہ بچ سکی۔
یہ واجد رضا اصفہانی کی تحریر

03/04/2025

خوفناک کہانی: "کالے درخت کا جن"

(منظر: ایک سنسان گاؤں، جہاں ایک پراسرار درخت صدیوں سے کھڑا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے نیچے جو بھی رات گزارتا ہے، وہ پھر کبھی ویسا نہیں رہتا...)

ریاض ایک نوجوان لڑکا تھا، جو ہمیشہ مہم جوئی کا شوقین رہتا تھا۔ اسے اپنے دادا کی وہ بات یاد تھی،
"کبھی بھی کالے درخت کے قریب نہ جانا، وہ منحوس ہے!"

مگر جتنی بار اسے روکا جاتا، اتنا ہی اس کا تجسس بڑھتا۔ آخر ایک رات، اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ خود جا کر دیکھے گا کہ آخر یہ درخت اتنا خاص کیوں ہے؟

گاؤں کے کنارے، ایک بڑا اور سوکھا ہوا درخت کھڑا تھا، جیسے برسوں سے وہاں موت کا پہرہ ہو۔ چاندنی رات میں اس کی سائے دار شاخیں عجیب سی شکلیں بنا رہی تھیں۔

ریاض نے درخت کو چھوا، تو ایک دم یخ ٹھنڈک اس کے جسم میں سرایت کر گئی۔ اچانک، ہوا ساکت ہو گئی، پرندے چپ ہو گئے، اور درخت کے پتوں میں سرسراہٹ ہونے لگی۔

پھر ایک سرگوشی ابھری،
"تم یہاں کیوں آئے ہو؟"

ریاض پیچھے ہٹا، مگر اس کے قدم جم گئے، جیسے کسی نے انہیں جکڑ لیا ہو۔ درخت کے تنے سے ایک دھندلی، مگر خوفناک شبیہہ نمودار ہوئی۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح جل رہی تھیں، اور اس کا چہرہ مسخ شدہ تھا۔

"یہ درخت تمہارے لیے نہیں، یہ میرا ہے!" جن کی بھاری آواز گونجی۔

ریاض نے ہمت کر کے پوچھا،
"تم کون ہو؟"

جن ہنسنے لگا،
"میں وہ ہوں جو صدیوں سے یہاں ہوں، جو اس درخت کے ساتھ دفن کیا گیا تھا، اور جو ہر اس شخص کو سزا دیتا ہے جو میرے سکون کو توڑتا ہے!"

ریاض کا جسم کانپنے لگا۔ اچانک، اس کے ارد گرد ہر چیز بدلنے لگی۔ درخت کی شاخیں لمبی ہو کر ہاتھوں میں بدل گئیں، اور زمین میں سے سائے نکلنے لگے۔

اس نے چیخنے کی کوشش کی، مگر اس کی آواز بند ہو گئی۔ وہ بھاگنا چاہتا تھا، مگر اس کے پیروں میں گویا زنجیریں پڑ چکی تھیں۔

پھر جن نے آخری بار کہا،
"جو یہاں آیا، وہ کبھی صحیح سلامت نہیں لوٹا!"

اگلی صبح، لوگ ریاض کو درخت کے نیچے بے ہوش پایا۔ جب وہ ہوش میں آیا، تو وہ پہلے جیسا نہ رہا۔ اس کی آنکھیں خوف سے بھری ہوئی تھیں، اور وہ بس ایک ہی جملہ دہرا رہا تھا،
"وہ وہاں ہے... وہ ہمیشہ وہاں رہے گا..."

اس کے بعد کوئی بھی اس درخت کے قریب جانے کی ہمت نہ کر سکا۔ کچھ کہتے ہیں کہ وہ درخت اب بھی زندہ ہے، اور جو بھی اس کے قریب جاتا ہے، وہ کسی نہ کسی خوفناک انجام کا شکار ہو جاتا ہے۔

"کیا آپ بھی اس درخت کے نیچے رات گزارنا چاہیں گے؟"

آپ کو یہ کہانی کیسی لگی؟ مزید کہانیوں کے لیے فولو کریں

03/04/2025

Urdu Horror Story

27/03/2025

خوفناک کہانی: "سرخ دروازہ"

(منظر: ایک پرانی، ویران حویلی، جہاں ایک بند دروازہ صدیوں سے مقفل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جو بھی اسے کھولتا ہے، وہ کبھی واپس نہیں آتا...)

احمد کو پرانی حویلی کی کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا۔ گاؤں کے بزرگ ہمیشہ ایک بات کہتے تھے،
"اس حویلی میں سب کچھ کھلا ہے، مگر سرخ دروازہ کبھی مت کھولنا!"

یہ سن کر احمد کا تجسس بڑھ گیا۔ وہ سوچنے لگا، آخر اس دروازے میں ایسا کیا ہے جسے کھولنا منع ہے؟

ایک رات، وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اس حویلی میں چلا گیا۔ اندر ہر چیز بوسیدہ اور گرد سے بھری ہوئی تھی، لیکن سب سے زیادہ پراسرار چیز وہی سرخ دروازہ تھا، جو حویلی کے بیچوں بیچ بنا تھا۔

دروازے پر عجیب و غریب نقوش بنے ہوئے تھے، جیسے کسی قدیم زبان میں کوئی وارننگ لکھی ہو۔ احمد نے دروازے کو چھوا، تو اس کے بدن میں ایک خوفناک سردی دوڑ گئی۔

اچانک، دروازے کے پیچھے سے کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی...

احمد نے پیچھے مڑ کر اپنے دوستوں کی طرف دیکھا، مگر وہ سب غائب ہو چکے تھے۔ حویلی کے اندر ہر طرف ایک گہری خاموشی چھا گئی۔

اچانک، دروازے کے پیچھے سے ایک بھاری آواز گونجی،
"تم نے ہمیں جگا دیا ہے..."

احمد نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی، مگر وہ جیسے کسی غیبی طاقت کے قابو میں آ گیا تھا۔ دروازہ خودبخود کھل گیا، اور اندر ایک اندھیرا تھا—گہرا، بے انتہا، اور بے حد خوفناک۔

پھر ایک سایہ ابھرا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ایک لمبے، بھیانک جن کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں، اور اس کی آواز کسی غار سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔

"میں صدیوں سے قید تھا... اور اب تمہاری وجہ سے آزاد ہو گیا ہوں

احمد کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ پیچھے ہٹنا چاہتا تھا، مگر اس کے پیر جیسے زمین سے چپک گئے تھے۔

اچانک، پورے حویلی میں زوردار دھماکہ ہوا، اور ہر چیز ہلنے لگی۔ جن نے ہاتھ اٹھایا، اور احمد کی چیخیں فضا میں گونج گئیں...

اگلی صبح، گاؤں والوں کو وہ سرخ دروازہ کھلا ملا، مگر اندر کچھ نہیں تھا—نہ احمد، نہ اس کے دوست، اور نہ ہی وہ بھیانک سایہ۔

کہا جاتا ہے کہ جو بھی اس دروازے کو کھولتا ہے، وہ خود کسی اور دنیا میں قید ہو جاتا ہے... اور دروازہ انتظار کرتا ہے کہ کوئی اور نادان اسے کھولنے آئے!

اب بھی کچھ لوگ رات کے وقت اس حویلی کے پاس سے گزرتے ہیں، تو انہیں اندر سے سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔ جیسے کوئی کہہ رہا ہو...

آپ کو یہ کہانی کیسی لگی؟ مزید کہانیاں بھی حاضر ہیں!

24/03/2025

خوفناک کہانی: "چلتی ہوئی لاش"

(منظر: ایک ویران قبرستان، جہاں ایک مخصوص قبر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں دفن مردہ اب بھی چلتا پھرتا نظر آتا ہے...)

حسن اور اس کے دوستوں کو خوفناک جگہوں پر جانے کا شوق تھا۔ ایک رات، انہوں نے گاؤں کے پرانے قبرستان جانے کا فیصلہ کیا۔

اس قبرستان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں ایک قبر ہے، جس پر کسی کا نام نہیں لکھا۔ لوگ کہتے تھے کہ جو بھی اس قبر کے قریب جاتا ہے، وہ کسی نہ کسی مصیبت میں پھنس جاتا ہے۔

حسن کو ان کہانیوں پر یقین نہیں تھا۔ وہ ہنستے ہوئے بولا،
"یہ سب فضول باتیں ہیں! دیکھنا، میں اس قبر کو چھو کر بھی آؤں گا، کچھ نہیں ہوگا!"

اس کے دوستوں نے اسے منع کیا، مگر وہ نہیں رکا۔

جیسے ہی حسن اس بے نام قبر کے قریب پہنچا، اچانک ہوا میں ایک عجیب سی بو پھیل گئی۔ درختوں کی شاخیں لرزنے لگیں، اور دور کسی نامعلوم جانور کے چلانے کی آواز آئی۔

حسن نے قبر کو چھوا، تو زمین جیسے ہلنے لگی۔ قبر کے نیچے سے سرسراہٹ کی آوازیں آنے لگیں، جیسے کوئی مٹی کے نیچے حرکت کر رہا ہو۔

پھر قبر کے بیچ میں ایک دراڑ پڑ گئی... اور ایک ہاتھ باہر نکل آیا—کالا، سڑا ہوا، اور ناخنوں سے بھرا ہوا۔

حسن پیچھے ہٹا، مگر زمین جیسے اس کے پیروں سے چپک گئی تھی۔ قبر سے ایک خوفناک لاش باہر آئی—اس کی آنکھیں سفید، جسم گل سڑ چکا، اور وہ کانپتے ہوئے چلنے لگی۔

"تم نے میری نیند توڑی ہے..." لاش نے ایک بھیانک سرگوشی میں کہا۔

حسن چیخنے لگا، مگر اس کے دوست بھاگ چکے تھے۔ لاش آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہی تھی، اس کے سڑے ہوئے ہاتھ ہوا میں لرز رہے تھے۔

اچانک، لاش نے حسن کا بازو پکڑ لیا۔ حسن نے اسے جھٹکنے کی کوشش کی، مگر وہ کسی جکڑ میں آ چکا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا، اور آخری چیز جو اس نے سنی، وہ ایک زوردار چیخ تھی۔

اگلی صبح، قبرستان میں حسن کی لاش ملی، مگر اس کے چہرے پر ایسا خوف جما ہوا تھا، جیسے وہ مرتے وقت کسی ناقابلِ بیان دہشت کا سامنا کر چکا ہو۔

اور سب سے عجیب بات؟ وہ بے نام قبر دوبارہ بالکل ٹھیک نظر آ رہی تھی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو.

آج بھی کچھ لوگ رات کے وقت اس قبرستان کے پاس سے گزرتے ہیں، تو انہیں وہاں سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں... جیسے کوئی مٹی کے نیچے سے کہہ رہا ہو،

"تم نے میری نیند توڑ دی... اب میں تمہیں بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گا..."

آپ کو یہ کہانی کیسی لگی؟ مزید سننی ہیں؟

بند کمرے کی دلہن مکمل کہانی تحریر ناصر حسین ____________________________________یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب میں دسویں کلاس ...
22/08/2024

بند کمرے کی دلہن
مکمل کہانی
تحریر ناصر حسین
____________________________________
یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب میں دسویں کلاس میں پڑھتا تھا ۔۔۔ میرے ابو کلرک تھے اور ان کا تبادلہ دوسرے شہر ہو گیا اس لئے ہم سب کو ان کے ساتھ دوسرے شہر شفٹ ہونا پڑا ۔۔۔ اپنا پرانا گھر چھوڑ کر ہم نے نیا گھر کرائے پر لیا اور وہیں شفٹ ہوگئے
نئے مکان کے دروازے لکڑی کے بنے ہوئے تھے
مکان پرانا مگر مضبوط تھا
مکان ایک پرانی گلی کے آخری کونے پے تھا ۔۔۔
امی سارا دن گھر کا کام کرتی اور ابو شام کو آفس سے گھر واپس آتے تھے ۔۔۔
ہمیں نئے گھر میں شفٹ ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا تھا اور اس ایک ہفتے میں ہمارے ساتھ کئی خوفناک واقعات پیش آئے ۔۔۔ لیکن ہم نظر انداز کرتے رہے ۔۔۔
کبھی کچن سے برتن خود بخود گر جاتے
کبھی سٹیل کے گلاس آپس میں ایسے میں ٹکراتے کے انکی آواز کانوں کو چیر دینے والی ہوتی.
کبھی کبھار پلیٹ میں چمچ بجنے کی آواز آتی کبھی
دروازہ خود بخود زور زور سے بجنے لگتا ۔۔۔۔
ہم جب دروازہ کھولتے تو سواۓ اندھیرے کے کچھ نظر نہ آتا ۔۔۔۔ ہم نے ان سارے واقعات کو اپنا وہم سمجھا ۔۔۔۔
اکثر میرا چھوٹا بھائی ڈر جاتا اور رونے لگتا ۔۔۔ امی آیت الکرسی پڑھ کر ہمیں دلاسا دیتیں ۔۔۔۔
پورے گھر میں ایک جگہ ایسی تھی
جو مجھے سب سے زیادہ عجیب اور خوفناک لگتی تھی
گھر کی سیڑھیاں ۔۔۔۔
گھر کی سیڑھیاں بہت پرانی اور لکڑی کی بنی ہوئی تھیں
ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی کے درمیان بہت فاصلہ تھا
ان سیڑھیوں میں ایک انجانہ خوف اور دہشت تھی
ان سیڑھیوں کے بالکل نیچے ایک چھوٹا سا دروازہ تھا
جس پر پتھر کا ایک مضبوط تالہ لگا ہوا تھا
یوں لگتا تھا کہ بہت ہی پرانا قور مضبوط قسم کا تالہ ہو
چونکہ سیڑھیاں زیادہ تھی
اور ان کے نیچے دروازہ تھا
تو ہمیں کبھی محسوس نہ ہوا کہ نیچے کوئ دروازہ بھی ہے .
مگر امی کو جب معلوم ہوا کہ سیڑھیوں کے نیچے دروازہ ہے تو وہ خوفزدہ ہوگئ ۔۔
اس دروازے کو دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے اندر بہت اندھیرا ہوگا ۔۔۔ میں نے امی سے کہا دروازہ کھول کر دیکھتے ہیں اندر کیا ہے ۔۔۔ امی نے کہا ۔۔۔ چلو کھول کر دیکھو اگر تم سے کھلتا ہے ۔۔۔۔ میں نے کمرے کا تالا ایک بہت بڑے پتھر سے توڑ ڈالا ۔۔۔
جیسے میں نے دروازہ کھولا ایک چیختی ہوئ آواز سنائی دی ۔۔۔
آواز اس قدر خوفناک تھی کہ امی کو لگا جیسے انکا دل باہر آجاۓ گا.
میری سانسوں کی رفتار تیز ہونے لگی
امی پوری طرح سے خوف کی زد میں آچکی تھی ۔۔۔ پھر امی نے مجھ سے کہا جلدی دروازہ بند کر دو ۔۔۔ میں نے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔
شام کو ابو آفس سے آۓ تو امی نے سارا قصہابو کو سنایا
ابو نے غور کیا سوچنے کے بعد آخر مجھے کمرے کو تالا لگانے کا حکم دیا ۔۔۔۔
امی بہت خوفزدہ ہوچکی تھی.
دوبارہ اس کمرے میں جانے کی ہمت نہ کرپائ.
میں دن بھر کام میں پڑھائی میں مصروف رہا اور اس کمرے کو تالا لگانا بھول گیا ۔۔۔۔ ابو شام کو واپس آۓ تو مجھ سے پوچھا کمرے کو تالا لگایا تھا.
میں نے ابو کی ڈانٹ سے بچنے کیلئے جھوٹ بول دیا کہ ہاں
میں نے تالا لگا دیا ۔۔۔۔
پھر میں نے سوچا صبح ابو نے کام پرجاتے ہوئے دیکھ لیا کہ تالا نہیں لگا تو میری بہت بے عزتی ہوجاۓ گی ۔۔۔ میں نے سوچا جب ابو اور امی سو جائیں گے تو جا کر کمرے میں تالا لگاوں گا ۔۔۔
رات تقریباً 12 بجے کا وقت تھا
میں نے
تیز تیز قدموں سے تالا اٹھایا اور پرانے کمرے کی طرف بڑھا
دروازہ کھلا تھا
میں نے تالا لگانے کے لئے دونوں دروازوں کو پکڑا
اچانک ایک خیال میرے دل میں آیا کہ ایک بار کمرے کے اندر جھانک کر دیکھ لوں کہ وہاں ہے کیا ۔ ۔
میں نے دروازہ بند کرنے کے بجاۓ دونوں ہاتھوں سے دروازہ پوری طرح سے کھول دیا.
دروازہ چھوٹا تھا مجھے جھک کر اندر داخل ہونا پڑا.
دروازے کے اندر داخل ہوتے ہی مجھے بہت عجیب خوشبو محسوس ہوئی ۔۔۔ میں نے اپنے موبائل کی لائٹ جلائی ۔۔۔۔اور اس پرانے کمرے کو دیکھنے لگا ۔۔۔
سامنے ایک خوبصورت بیڈ تھا
بیڈ کے کنارے قیمتی رنگ برنگے پھول لگے پوئے تھے ۔۔۔ اور اس بیڈ کو بہت اچھے سے سجایا گیا تھا ۔۔۔
یوں لگ رہا تھا کہ کسی پہلی رات کی دلہن کیلیے کمرہ سجایا گیا تھا ۔
ایک بات جو مجھے حیران کر رہی تھی کہ کمرے میں کوئی لائٹ وغیرہ نہیں تھی لیکن پورے کمرے میں ہر طرف روشنی آ رہی تھی ۔۔۔
ایسا خوبصورت کمرہ میں نے ساری زندگی میں نہیں دیکھا تھا..
پھولوں سے سجے بیڈ کے بالکل اوپر دیوار پر ایک خوبصورت دلہن کی بہت بڑی تصویر لگی تھی ۔۔۔
دلہن کی تصویر بہت خوبصورت اور پرکشش تھی.
ایسا لگ رہا تھا جیسے دلہن مسکراتے ہوئے میری ہی طرف دیکھ رہی ہو. ۔۔۔ میں اس دلہن کی تصویر کو دیکھتا رہا ۔۔ میں سوچ رہا تھا جانے وہ کون دلہن تھی اور اس کی تصویر یہاں کیا کر رہی تھی ۔۔۔ پھر اچانک
کمرے میں ہر طرف اندھیرا چھا گیا
مجھے کچھ دکھائی نہ دیا
کچھ لمحے تو میں حیران کھڑا رہا کہ کمرے میں اچانک اندھیرا کیسے ہو گیا ۔۔۔
مجھے پسینہ آنے لگا ۔۔ پھر اچانک کمرے میں روشنی ہوئی اور سامنے دیکھ کر میں صدمے میں آ گیا ۔۔۔
کیا دیکھتا ہوں میری آنکھوں کے سامنے وہی تصویر والی دلہن زندہ کھڑی تھی ۔۔
میں نے مڑ کر دیوار پر لگی تصویر دیکھنا چاہی لیکن
میری تو آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی.
وہاں دیوا پر کوئ تصویر موجود نہ تھی. میں خوفزدہ ہو گیا ۔۔۔ میرا جسم خوف سے کانپنے لگا ۔۔۔۔
وہ دلہن مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی اور بولی ۔۔۔
گھبراؤ مت آرام کرو ۔۔۔
میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔۔۔
کون ہو تم
وہ ہنسی اور بیڈ پر بیٹھ گئی.
میرا نام اسما ہے میں سو سالوں سے اپنے شوہر کا انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔ وہ شادی کی پہلی رات مجھے چھوڑ کر چلا گیا اور اس کا انتظار کرتے کرتے میں مر گئی ۔۔۔ اب تم آ گئے ہو تو تم مجھ سے شادی کر لو ۔۔۔۔۔۔ '
میں اس کی بات سن کر مزید خوفزدہ ہو گیا اور تیزی سے اس کمرے سے بھاگ کر باہر نکل آیا ۔۔۔۔ اور لمبی لمبی سانیسں لینے لگا ۔۔۔ میرے ہاتھ پاوں کانپ رہے تھے ۔۔۔ ماتھے پر پسینہ تھا
باہر آتے ہی دروازہ پوری مضبوطی سے بند ہوگیا.
صبح فجر کی اذان سنائی دی
۔۔۔۔ سامنے ابو اور امی کھڑے تھے ۔۔۔ میں نے ڈرتے ڈرتے سارا واقعہ ابو اور امی کو سنایا ۔۔۔
ابو نے مجھے تھپڑ مارا ۔۔۔ اور غصے سے بولے ۔۔۔
جاہل جب تمیں پتا تھا اس کمرے میں آسیب ہے تو کیوں گئے تھے یہاں ۔۔۔۔ https://youtu.be/m4RoABIYHM8
امی نے ابو کو مجھے مزید مارنے سے روکا ۔۔۔۔ اور ابو سے بولیں ۔۔
ماریے مت مارنے سے کیا ہوگا
مصیبت تو نہیں ٹلے گی نہ.
آپ جلدی کسی عامل کو بلوائیں.
امی رونے لگی
ابو نے کچھ عاملوں کو بلوایا اور ان عاملوں نے کچھ دم پھونک کر کے اس آسیب پر قابو پا لیا اور ابو سے بولے ۔۔۔۔
آسیب اب آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا لیکن آپ لوگوں کو یہ گھر چھوڑنا پڑے گا
کیونکہ اگر آپ یہاں رہے تو وہ دوبارہ آپ لوگوں پر حملہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
ابو نے عامل کی بات سن کر وہ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور ایک ہفتے بعد ہم ایک نئے گھر میں شفٹ ہو گئے ۔۔۔۔۔۔
وہ واقعہ میری زندگی کا بہت ہی خوفناک واقعہ تھا ۔۔۔۔۔
اگلی کہانی ' دولہا اور چار جن زادیاں ' اوپر دیئے گئے لنک پہ جا کر پڑھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
میں ایک پرائیویٹ ٹیچر تھی ۔۔۔
لاک ڈاون کی وجہ سے میری جاب ختم کر دی گئی ۔۔۔ میں اپنے اخراجات کے لئے خود کماتی ہوں برائے مہربانی مجھ پر احسان کر کے میرا چینل سبسکرائب کر دیں ۔۔۔۔۔
یہاں آپ کو بہت مزے مزے کی کہانیاں ملیں گی ایک بار وزٹ کر کے دیکھ لیں ۔۔۔
شکریہ
اللہ حافظ

جب آپ بیوی بنیں تو ایک بار اپنے شوہر کے چہرے کو اس وقت دیکھیں جب وہ سو رہا ہو۔ یہ وہ شخص ہے جس کا آپ سے خون کا کوئی رشتہ...
29/07/2024

جب آپ بیوی بنیں تو ایک بار اپنے شوہر کے چہرے کو اس وقت دیکھیں جب وہ سو رہا ہو۔ یہ وہ شخص ہے جس کا آپ سے خون کا کوئی رشتہ نہیں ہے لیکن آپ سے خونی رشتوں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے۔یہ وہ شخص ہے جو باہر اپنا سب کچھ اپنا سکون اپنی انا تک بیچ کر اپنی بیوی بچوں کے لیۓ سکون اور خوشیاں خریدتا ہے۔باہر کی ہر سختی کو خود جھیلتا ہے پر اپنے گھر تک آنچ آنے بھی نہیں دیتا اللّٰہ پاک سب اپنی اپنی فیملی کے ساتھ خوش رکھے آمین ❤️ 🥀❤️

29/07/2024

طلاق مبارک

میری ایک کلائنٹ کی آپ بیتی ہے۔
ان کی اجازت سے اس لیے بیان کر رہی ہوں کہ شاید کوئی لڑکی سنبھل جائے۔
والدین کی اکلوتی ذرا نازوں سے پلی، ابو شروع سے ہی کہتے تھے کہ ایسے لاڈ نہ کیا کرو اس سے کہ جو کل کو اس کے لیے پریشانی کا باعث بنیں لیکن امی اپنی ناک کے نیچے ساری ضدیں پوری کیا کرتیں اور ابو کو خبر نہ ہوتی۔۔۔ جس کام کو ابو منع کرتے امی خاموشی سے اجازت دے دیتیں اور میں کر لیتی۔
انٹر کے بعد شادی ہوگئی، بیس سال کی عمر میں۔ اچھا پڑھا لکھا رشتہ تھا کھاتا کماتا۔ ابو نے چھان بین کر کے بیاہ دیا۔ امی راضی نہیں تھیں کہ ابھی اور اچھے رشتے آئیں گے ذرا انتظار کریں خیر ابو نے خاندان کے بڑوں کو شامل کر کے امی کو منوا لیا اور پھر میری بھی رضا تھی کہ چلو لڑکا پیسے والا بھی یے اور ہینڈسم بھی ہے۔
میں چونکہ بہت نازوں میں پلی تھی تو برداشت بہت کم تھی۔ تربیت کسی قسم کی کچھ تھی نہیں۔ میں نے اپنے شوہر کی باتیں امی کو بتانی شروع کر دیں۔ ذرا ذرا سی باتیں شکایت کی صورت میں بتانے لگی امی چونکہ خود یہ کام کرتی رہی تھیں اس لیے مزے لے لے کر سنتیں اور پھر الٹے سیدھے مشورے دیتیں۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہوگیا لیکن میرا یہی حال رہا۔ ایک دو بار میاں نے سختی کرنے کی کوشش کی تو میں بیماری کا ڈھونگ رچا کر میکے چلی گئی۔ ابو نے بہت سمجھایا سختی کی تو واپس آگئی لیکن عادت سے مجبور تھی سو وہ ہی سب کیا کہ غلطیاں کر کے سینہ چوڑا کر کے بدتمیزی کرنا اور اپنی غلطی نہ ماننا۔۔۔۔ میاں نے بھی پیار سے سمجھا کر ہر طرح کوشش کی کہ میں سدھر جاوں لیکن اس وقت مجھے یہ شخص دنیا کا سب سے برا آدمی لگتا تھا۔
ابو نے ڈانٹ کر پیار سے ، ہاتھ جوڑ کر ہر طرح سمجھایا کہ بیٹا اپنا گھر آباد رکھو ایسا نہ کرو۔۔۔۔ لیکن میری والدہ کی طرف سے ملنے والی ٹیوشن نے آخر کار وہ سیاہ دن دیکھا ہی دیا۔۔۔ کچھ دن سے شوہر سے ان بن چل رہی تھی۔ امی سے روز سبق لے رہی تھی میں بس صبح ہی صبح ذرا سی بات کا میں نے پتنگڑ بنایا جیسا کہ میں اکثر کیا کرتی تھی اور دس سال کی بھڑاس میرے میاں کے منہ سے طلاق کے تین لفظوں کی صورت میں نکل گئی۔۔۔
میں نے کال کر کے ابو کو کہا کہ لڑائی ہو گئی ہے آکر لے جائیں اس وقت طلاق کا نہیں بتایا تھا کیوں کہ مجھے پتا تھا کہ ابو کے لیے یہ بہٹ بڑا صدمہ ہوگا۔۔۔ ابو گھر میں آتے ہی میرے میاں سے کہنے لگے کہ اس کی طرف سے مجھے معافی مانگنے دو بیٹا مجھے پتا ہے میری بیٹی کی غلطی ہے کیوں کہ ایسی لڑائیاں میں اکثر کرتی رہتی تھی۔۔۔۔۔ میرے میاں نے بہت تحمل سے ابو کو طلاق کا بتا دیا۔
ابو نے کہا کہ مجھے رکشہ کروا دو میں اسے گھر لے جاوں میرے شوہر نے کہا کہ نہیں آپ گاڑی میں جائیں۔ اصرار کر کے ابو سے معافی مانگ کر گاڑی ڈرائیور کے ساتھ ہمیں چھوڑنے کے لیے بھیج دی۔۔۔۔۔ ابو گاڑی میں بلکل خاموش رہے گھر میں آتے ہی امی سے کہا لو تمھاری بیٹی کو صلہ مل گیا ہے اس کے کیے کا، اب تمھیں بھی یہ انعام ملنا چاہیے اور امی کو اسی وقت طلاق دے دی۔۔۔۔
مجھے نہیں پتا کہ ابو نے غلط کیا یا صحیح لیکن ابو کی حالت ایسی تھی کہ مجھ سے دیکھا نہیں جا رہا تھا۔
تم دونوں ماں بیٹی کو طلاق مبارک، اب ساتھ بیٹھ کر عدت کرنا( ابو نے اس وقت باقاعدہ تالیاں بجا کر کہا۔۔۔ شاید وہ اس وقت شدید زہنی دباو میں تھے) ابو یہ کہہ کر باہر چلے گئے۔۔۔۔ پھر چار دن ہوگئے ابو واپس نہیں آئے۔۔۔ ہم ڈھونڈتے رہے کہاں کی عدت اور کیسی عدت بس ابو کو ہر جگہ ڈھونڈا۔۔۔۔ کہیں نہیں ملے۔۔۔۔۔۔ خاندان والوں کی باتیں الگ اور ابو کی گمشدگی الگ۔۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔
پانچویں دن جمعے کی نماز کے وقت میرے موبائل پر تایا ذاد کی کال آئی کہ چچا مل گئے ہیں میں گھر لا رہا ہوں ان کو۔۔۔۔ میری کچھ سانس میں سانس آئی۔ ابو آئے تو۔۔۔۔۔ مگر ایدھی کی ایمبولینس میں کفن میں لپٹے ہوئے۔۔۔ پانچ دن ابو کہاں رہے نہیں معلوم بس ایدھی والوں کا کہنا تھا کہ یہ صاحب فٹھ پاتھ پر پڑے ملے تھے۔۔۔ نہ کوئی زخم نہ چوٹ کا نشان ابو کا دل بند ہونے سے ان کی موت ہوئی تھی۔۔۔۔
اور آپ کو پتا ہے فیض عالم کہ ان کا دل میں نے اور امی نے مل کر بند کیا ہے۔۔۔
اس چھتیس سالہ لڑکی کا یہ جملہ میرے دل پر گھونسے کی طرح لگا۔۔۔۔۔
پھر کہتی ہے کہ ابو نے ہمارے لیے گھر چھوڑا جو کہ وہ پہلے ہی امی کے نام کر چکے تھے۔۔۔ اوپر والا پورشن ہم نے کرائے پر اٹھا دیا، ابو کی پینشن بھی آتی ہے، کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑی، سفید پوشی میں اچھے سے گزارا ہو رہا ہے۔ ددھیال والے ہم سے ملتے نہیں ہیں کہتے کہ تم دونوں ہمارے بھائی کی موت کا سبب ہو۔۔۔۔ میرے تین میں سے دو بڑے بچے اپنی مرضی سے اپنے باپ کے پاس جا چکے ہیں۔ باقاعدہ لڑ کر گئے ہیں۔ ملنے بھی نہیں آتے۔ چھوٹے والا ابھی تین سال کا ہے تو وہ میرے پاس ہے مگر مجھے پتا ہے کہ وہ بھی چلا جائے گا۔۔۔
امی ابھی تک ویسی ہی ہیں۔ ابو کو بہت کوستی ہیں۔۔۔ اب میری اور امی کے گھمسان کے معرکے ہوتے ہیں۔۔۔۔ میں کہتی ہوں کے اگر ابو نے آپ کو پہلے ہی طلاق دے دی ہوتی تو آج مجھے طلاق نہ ہوتی۔
کھانے پینے کو سب ملتا ہے، رہنے کو سر پر چھت ہے مگر اب سکون نہیں ہے۔۔۔ ابو کا چہرہ دماغ میں گھومتا رہتا ہے۔ اپنا شوہر بھی یاد آتا ہے۔ وہ برا نہیں تھا میری تربیت بری تھی۔۔۔ آپ سمجھ رہی ہوں گی کہ میں ساری غلطی امی کی کیوں بتا رہی ہوں۔ میں تو بالغ تھی سب دیکھ اور سمجھ رہی تھی آخر کیوں امی کی باتوں میں آگئی۔۔۔ آپ بتائیں جس لڑکی کی تربیت ہی ایسی ہوئی ہو۔۔۔ میں نے ساری زندگی امی کو نانی سے یہی باتیں کرتے دیکھا تھا۔ بس نانی یہ کہتی تھیں دیکھو کچھ بھی ہو طلاق مت لینا تو امی طلاق کی نوبت نہیں آنے دیتی تھیں کچھ ابو بھی چپ ہو جاتے تھے۔ ہر کسی کے صبر کا پیمانہ ایک نہیں ہوتا۔ میرے شوہر نیک فطرت کے تھے لیکن بس اس دن ان کا پیمانہ چھلک گیا۔ میں نے ان کو اس حد تک پریشان کیا۔۔۔ کہ آخر نوبت یہاں تک آگئی۔۔۔
امی یہی کہتی تھیں کہ تمھاری شادی ہی غلط شخص سے ہوئی ہے۔۔۔ بس یہ بات میرے ذہن میں بیٹھ گئی تھی۔ ان کی اچھائی بھی برائی ہی لگتی تھی۔ میں آپ کے پاس اس لیے آئی ہوں کہ اب مجھے نیند نہیں آتی میں چوبیس میں سے بمشکل دو گھنٹے سو پاتی ہوں۔۔۔
آپ بتائیں کیا ابو کی جان لے کر اور اپنا گھر تباہ کر کے مجھے نیند آنی چاہیے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی کلائنٹ کی اس آب بیتی کو آپ سب کے سامنے رکھنے کا بس ایک مقصد ہے کہ تربیت پر کام کریں۔۔۔۔۔ اور بہت ذیادہ کریں۔ عورت بطور ماں گیم چینجر بن سکتی ہے۔
کون غلط ہے کون صحیح اس بحث میں جانے کی بجائے تربیت اولاد اور خود اپنا احتساب کریں۔ اولاد کے سامنے ہر وقت رونے مت روئیں۔ مظلوم بننے کی سوچ سے باہر آجائیں اور شادی شدہ بیٹیوں پر رحم کریں۔ ان کے کچن میں بیڈروم میں ان کے ذہن میں گھسنے کی کوشش نہ کریں۔۔۔۔۔ بیٹیوں کو بھڑکانے کی پالیسی ختم کر دیں۔
ماں کی بہت زیادہ مداخلت بیٹیوں کے گھر اجاڑنے کا ایک اہم سبب ہے۔ آپ نہایت سلجھی ہوئی باشعور خواتین ہیں اسی لیے مجھے امید ہے کہ کسی بھی قسم کے فیمنزم کا چشمہ لگائے بغیر اس تحریر کو پڑھ کر سبق حاصل کریں گی۔
وما علینا الاالبلاغ
فیض عالم

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khofnak Kahaniyan#1 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Khofnak Kahaniyan#1:

Share

Category