10/01/2025
میری پسندیدہ غزل۔۔۔۔۔!
حالِ دل تو جانے ہے وہ، مگر میں تو نہ بولوں
یوں تو زباں ہے مجھ میں، تیرے آگے نہ بولوں
اب تک نہ سمجھ سکے وہ کیوں؟ پوچھتا ہوں خود سے
کہ جس کا تصور ہے مجھ کو کتنا افزوں خلد سے
آشعار میرے کبھی پڑھو, تیرا پیکر تیرا چہرا
لبوں کی تیرے تاثر، مظہر وہ لالی تیرا مکھڑا
خواہش تو یہی ہے کاش! تم بھی مجھ کو چاہو
پھر تمنا کرتا ہوں، ملے تمہیں وہ، تم جس کو چاہو
صحراؤں میں ہم سے فقیروں کا، نہیں کوئی سوا تیرے
یہ دلِ بیکار عینی میرا، پسند ہے سبھی کو سوا تیرے
محبتوں میں وکیل مانگتے ہیں، تیرے بندے خدا
وکیل تو ہی میری محبت کا، ہم تیرے بندے خدا
امین علی