Dil kay Qareeb Ho Tum

Dil kay Qareeb Ho Tum Just For Fun, Poetry.

تم مجھے نفرت سازش , عداوت یا منافقت کرتا کبھی نہیں پاؤ گے , میں یا تو محبت چاہت , خلوص اور اپنائیت کے ساتھ رہتا ہوں , یا...
17/06/2026

تم مجھے نفرت سازش , عداوت یا منافقت کرتا کبھی نہیں پاؤ گے , میں یا تو محبت چاہت , خلوص اور اپنائیت کے ساتھ رہتا ہوں , یا پھر بھلا دیتا ہوں
نظر انداز کرتا ہوں
چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔۔

دِلوں کے درمیاں جھوٹی مروّت آہی جاتی ہےہو اُلفت خام تو بوئے سیاست آہی جاتی ہےگِلا کیسا حسینوں سے بھلا نازک ادائی کا“خدا ...
18/05/2026

دِلوں کے درمیاں جھوٹی مروّت آہی جاتی ہے
ہو اُلفت خام تو بوئے سیاست آہی جاتی ہے

گِلا کیسا حسینوں سے بھلا نازک ادائی کا
“خدا جب حُسن دیتا ہے، نزاکت آہی جاتی ہے“

یہ ہے اک حادثہ یا حسن کی معجز نمائی ہے؟
نظر اُٹھتے ہی اُس کی اِک قیامت آہی جاتی ہے

یہ راہِ عشق ہے، اس میں ہزاروں موڑ آتے ہیں
بچاؤ لاکھ دامن پھر بھی تہمت آہی جاتی ہے

دل آخر دل ہے، سنبھلے گا کہاں تک منزلِ غم میں
لبِ آشفتہ خو پر آہِ حسرت آہی جاتی ہے

نہاں میری کہانی میں زمانے کا فسانہ ہے
کروں کیا درمیاں سب کی حکایت آہی جاتی ہے

جب اپنے ہی نہ ہوں اپنے، وہاں غیروں سے کیا شکوہ؟
کبھی تو کام غیروں کی رفاقت آہی جاتی ہے

“یہ دنیا ، بے وفا دُنیا، “خُدا نا آشنا دُنیا“
نہ چاہیں ہم مگر اِس پر طبیعت آہی جاتی ہے

(سرور عالم راز سرور)

کیا ہے! جو رکھ دیں آخری داؤ میں نقدِ جاں‏ویسے بھی ہم نے کھیل یہ۔۔۔۔۔ ہارا ہُوا تو ہے‏امجد اسلام امجد
18/05/2026

کیا ہے! جو رکھ دیں آخری داؤ میں نقدِ جاں
‏ویسے بھی ہم نے کھیل یہ۔۔۔۔۔ ہارا ہُوا تو ہے

‏امجد اسلام امجد

دنیا میں 4 قسم کی عورتیں پائی جاتی ہیں، ان چاروں کو نظر انداز کر کے اپنے کیریئر پر توجہ دیں ۔
05/05/2026

دنیا میں 4 قسم کی عورتیں پائی جاتی ہیں، ان چاروں کو نظر انداز کر کے اپنے کیریئر پر توجہ دیں ۔

میں خود کو چھوڑنے کے لیے ریلوے اسٹیشن پر گیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخری ٹرین جا چکی تھی۔میرے پاس کوئی سامان نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔می...
13/03/2026

میں خود کو چھوڑنے کے لیے ریلوے اسٹیشن پر گیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخری ٹرین جا چکی تھی۔
میرے پاس کوئی سامان نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔
میں نے خود کو بینچ پر بٹھایا اور
پانی لینے کے بہانے اسٹیشن سے باہر نکل گیا۔
اور کبھی مڑ کر نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی نہیں جانتا اس کے بعد میں کہیں گیا بھی یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہیں بینچ پر بیٹھا اپنے آنے کا انتظار کرتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

...ﺗﻢ ﺟﺐ ﺁﺅ ﮔﮯ ﻟﭙﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ...ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﺎﮨﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ ...ﺳﺎﺭﯼ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﭘﮭﭧ ﮔﺌﯽ ﻟﯿﮑﻦ ..ﺩﻭ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ ..ﺣﺸﺮ ...
28/01/2026

...ﺗﻢ ﺟﺐ ﺁﺅ ﮔﮯ ﻟﭙﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ
...ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﺎﮨﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ

...ﺳﺎﺭﯼ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﭘﮭﭧ ﮔﺌﯽ ﻟﯿﮑﻦ
..ﺩﻭ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ

..ﺣﺸﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﯽ ﺷﺎﯾﺪ
...ﭼﻨﺪ ﺁﮨﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ

...ﯾﺎﺭ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﮨﯿﮟ
..ﺑﺪﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ
.ﺯﻟﻒ ﻟﮩﺮﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺻﻨﻢ ﮐﯽ ﭘﮭﺮ
..ﮐﭽﮫ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ

...ﺳﺎﺭﯼ ﻏﺰﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﮐﺮ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﺍ.ﮐﯿﻮﮞ ﺟﻼﺋﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ

....ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺁ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ.ﺩﻝ ﮐﯽ ﺭﺍﮨﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ

.ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﺳﺠﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ
...ﮐﮩﮑﺸﺎﺋﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿں

...ﺁﺅ ﻟﮯ ﺟﺎﺅ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﮯ
...ﺳﺐ ﻭﻓﺎﺋﯿﮟ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ

ڈوب  جائے نہ مری  ناؤ ,  بچا لے  مجھ کو یوں نہ کر درد  کی  لہروں کے حوالے مجھ کو میں کسی اجڑی ہوئی   شاخ  کا  ٹوٹا  پتا ...
28/01/2026

ڈوب جائے نہ مری ناؤ , بچا لے مجھ کو
یوں نہ کر درد کی لہروں کے حوالے مجھ کو

میں کسی اجڑی ہوئی شاخ کا ٹوٹا پتا
کوئی روندے یا سمیٹے کہ جلالے مجھ کو

بھول جاؤنگی غم ِ ہجر کی تلخی یکسر
صرف اک بار گلے آ کے لگا لے مجھ کو

ہنس کے ہر درد کے صحرا سے گزر کر آئی
روک پائے نہ یہ رِ ستے ھوئے چھالے مجھ کو

روٹھنے والے تو اب اتنی بھی تاخیر نہ کر
وقت کی گرد ہی نہ تجھ سے چھپا لے مجھ کو

دل کے صحرا کو نہ مل جا ئے برستا بادل
تو کسی زُعم میں کھو دے نہ ، بچا لے مجھ کو

میں اذیت کے کٹہر ے میں ہوں چپ چاپ کھڑی
طعنہ دیتے ہیں زباں پر لگے تالے مجھکو

ایک وعدے میں ہر اک سانس پڑی ھے گروی
کوئی لفظوں کی اذیت سے نکالے مجھ کو

اب نہ کھولوں گی کبھی ضبط کے بندھن مولا
جس کا دل چاہے وہی آکے ستا لے مجھ کو

میری گستاخ مزاجی سے ھے برہم دنیا
کر یہ احسان تو دنیا سے اٹھا لے مجھ کو
فوزیہ شیخ

Quaid-e-Azam believed in character, courage, and integrity. Today, let’s commit to becoming a nation that lives by these...
25/12/2025

Quaid-e-Azam believed in character, courage, and integrity. Today, let’s commit to becoming a nation that lives by these values and works with purpose for Pakistan’s future.

13/11/2025

ہم صاحبِ انا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے
مغرور، بے وفا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

ہم کون ہیں ؟ کہاں ہیں؟ اسے بھول جائیے
جیسے بھی ہیں، جہاں ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

بہتر ہے ہم سے دور رہیں صاحبِ کمال
ہم صاحبِ خطا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

بہتر ہے فاصلے سے ہی گزرا کریں جناب
مفلس ہیں ہم، گدا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

ہم آپ کے ہیں کون؟ ہمیں معاف کیجئے
ہم آپ سے جُدا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

ہم آپ سے خفا نہیں ہیں ، آپ جائیے!
خود ہی سے ہم خفا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

کچھ بھی نہیں بچا ہے علیؔ اب ہمارے پاس
کچھ لفظ ہم نوا ہیں ، "ہمیں تنگ نہ کیجئے!"😌🙏

اے آئی انسانی یاداشت کو مٹا دے گی ؟ہمارا دماغ ہر یادداشت میں جذبات، تجربات اور حواس کو بُنتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہو...
13/10/2025

اے آئی انسانی یاداشت کو مٹا دے گی ؟
ہمارا دماغ ہر یادداشت میں جذبات، تجربات اور حواس کو بُنتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث انسانی دماغ کو یادداشت اور تنقیدی سوچ میں کمی کا مسئلہ نمایاں ہو گیا ہے۔ جدید دور میں جہاں اے آئی اور ڈیجیٹل آلات زندگی کو آسان بنانے میں مدد دے رہے ہیں، وہاں انسانی ذہن پر انحصار بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ لوگ ضروری معلومات یاد رکھنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

مختلف تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اے آئی پر زیادہ انحصار کرنے سے دماغی مشقوں میں کمی آ رہی ہے، جو کہ تخلیقی اور تجزیاتی صلاحیتوں کے زوال کا باعث بن سکتی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں بھی اس مسئلے کا اثر نظر آ رہا ہے۔ تعلیم کے روایتی طریقے جو طلباء کی ذہنی مشق اور یادداشت کو فروغ دیتے تھے، ان کی بجائے اب اے آئی اور دیگر تکنیکی آلات پر زیادہ انحصار کیا جانے لگا ہے۔ اس کی وجہ سے طلباء کی یادداشت، معلومات کو یاد رکھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے، جو کہ آگے جا کر ان کی تنقیدی سوچ کی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام کو اس طرح ڈھالنا ہوگا کہ اے آئی کو ایک معاون کے طور پر استعمال کیا جائے نہ کہ ذہنی صلاحیتوں کی جگہ لے لے۔ یادداشت، بار بار معلومات کو دہرانا اور ذہنی مشق کو لازمی سمجھ کر تدریسی نظام میں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ بچوں کی ذہنی نشونما برقرار رہے۔

مزید یہ کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کبھی بھی انسانی دل کی گہرائیوں میں بسنے والی خداداد خصوصیات جیسے ہمدردی، تخلیقیت اور عبادت کی صلاحیت کی نقل نہیں کر سکتا۔ اے آئی ہماری فکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر نہیں لے سکتا کیونکہ انسانی دماغ کی سوچ، ادراک اور تجزیہ کی طاقت منفرد ہے، جو مشینوں میں ممکن نہیں۔

انسانی یادداشت محض حقائق محفوظ کرنے کا نام نہیں ہے۔ ہمارا دماغ ہر یادداشت میں جذبات، تجربات اور حواس کو بُنتا ہے۔ بچپن کے کسی پسندیدہ کھانے کو یاد کریں، یہ صرف کھانے کی چیزوں کو یاد کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ باورچی خانے کی خوشبو، کھانے کی میز پر ہنسی، اور اس لمحے کی گرم جوشی کو یاد کرنے کا نام ہے۔ یہ جذباتی گہرائی ایسی چیز ہے جسے کوئی مشین دہرا نہیں سکتی۔

اس کے باوجود، یادداشت کے انداز میں تبدیلی آ رہی ہے کیونکہ اب ہم ٹیکنالوجی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ علمی سائنس کی تحقیقات نے ’گوگل ایفیکٹ‘ یا ’ڈیجیٹل ایمنیشیا‘ کی اصطلاح وضع کی ہے، جس کا مطلب ہے کہ جب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ معلومات ان کے آلات پر آسانی سے دستیاب ہیں، تو وہ خود اسے یاد رکھنے کی کوشش کم کرتے ہیں۔

ماہرین نے ’علمی تکمیل‘ کا تصور پیش کیا ہے، جس میں انسانی دماغ کی گہری سمجھ اور اے آئی کی صلاحیتوں کو ملا کر کام کیا جائے تاکہ اے آئی کی پیش کردہ معلومات کو بہتر انداز میں سمجھا اور استعمال کیا جا سکے۔چنانچہ ضروری ہے کہ انسان اپنی یادداشت اور فکری مشق کو برقرار رکھے تاکہ اے آئی کی مدد سے بہتر فیصلے کیے جا سکیں اور ذہنی صلاحیتوں کی کمی کو روکا جا سکے۔

برطانوی ماہر تعلیم کارل ہینڈرک کا کہنا ہے، ’سب سے جدید اے آئی آپ کی نقل کر سکتا ہے، لیکن آپ کے لیے سوچ نہیں سکتا۔ یہ کام مسلسل اور شاندار طریقے سے انسان کا ہی ہے۔‘

اس تیز رفتاری سے بدلتی دنیا میں، انسانی دماغ کی یادداشت، پیٹرن پہچاننے اور عمیق سوچ کی صلاحیتیں بدستور ناگزیر ہیں۔ انہی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا آج کی معلوماتی دنیا میں کامیابی کی کنجی ہے۔

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dil kay Qareeb Ho Tum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category