24/02/2025
دل سے کعبے میں محبت کا حرم رکھا ھے
رب نے کھلتی ھوئی کلیوں کا بھرم رکھا ھے
آنکھ کو حد مقرر میں مقید کر کے
کس نے عریانیٔ نسواں کا شرم رکھا ھے
کاش کشکولِ ضرف بھی لبا لب بھر جائے
اس لیے میں نے بھی ان آنکھوں کو نم رکھا ھے
میں نے ھر آن خیالات رقم کرنے ہیں
اس لئے اج بھی ھاتھوں میں قلم رکھا ھے
کون کہتا ھے حیا ھو گئی مفقود افضال
کس لیے آنکھوں میں اللّٰہ نے غم رکھا ھے
🍁افضال حسین افضال🍁
23 فروری 2025 رات 1:45 بجے