Horror stories in Urdu

Horror stories in Urdu Ye ek story page hy yaha sirf khylat or real waqiyat ki stories s share ki jati hyn

06/09/2026

Hello friends welcome to your,s Page horror stories in Urdu
Friends agr ap ke Sath bhi koi horror real waqiya paish Aya hy to ap hamain ib Mai. Shear krain hum ap ki story page pr post krin gy.

28/05/2026

عید اُن لوگوں کے لیے بھی ہے جو اندر سے تھکے ہوئے ہیں، ٹوٹے ہوئے ہیں، تنہا ہیں یا الجھنوں میں الجھے ہوئے ہیں۔

اگر تمہاری زندگی میں دکھ، تنہائی یا ذہنی پریشانی ہے تو بھی *عید مناؤ* کیونکہ عید صرف خوشیوں کا نام نہیں، *امید کا نام* بھی ہے۔

عید کے دن
خود کو سب سے پہلے معاف کرو۔
جو گزر گیا، اُس پر افسوس کم کرو، شکر زیادہ۔
سادہ لباس بھی ہو تو خوشی سے پہنو، اپنے آپ کو کمتر مت سمجھو۔
اپنے آس پاس کے لوگوں سے مسکرا کر ملو، ہو سکتا ہے تمہاری مسکراہٹ کسی کا دن خوبصورت بنا دے۔
اگر ممکن ہو تو کسی محتاج، یتیم یا اکیلے انسان کو عید کا حصہ دو، دل سے… کیونکہ *خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔*
عید پر خود کو یہ احساس دلاؤ کہ تم محبت کے قابل ہو، اور تمہاری موجودگی اس دنیا کے لیے قیمتی ہے۔

*یاد رکھو* عید صرف کپڑوں، مہندی یا مٹھائی کا نام نہیں، بلکہ دل سے دل ملانے، ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرنے، اور نئی اُمیدوں کے ساتھ زندگی کو گلے لگانے کا دن ہے۔

عید تمہاری بھی ہے… پورے حق کے ساتھ مناؤ!

28/05/2026

عید کا دوسرا دن ہے، اور دماغ اب بھی اس کشمکش میں ہے کہ خوشی محسوس کرے یا پچھلے زخموں کو یاد کرے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ دماغ وہی سوچتا ہے جو آپ اسے سکھاتے ہیں۔ اگر آپ ہر وقت پریشان رہتے ہیں، زیادہ سوچتے ہیں، یا رشتوں میں ناکام ہوئے ہیں تو یاد رکھیں: یہ سب ماضی ہے، اور دماغ ماضی کو ریپیٹ کر کے خود کو تھکاتا ہے۔
آج اپنے دماغ کو 'ری پروگرام' کریں۔ خوشی کا سگنل بھیجیں، خود سے کہیں: میں ٹھیک ہوں، میں بہتر ہوں، اور میں آگے بڑھنے کے قابل ہوں۔ یہ عید دماغ کو سکون کا تحفہ دینے کا دن ہے۔ سچ یہ ہے کہ رشتے جائیں یا حالات بگڑیں، اگر دماغ مضبوط ہو تو انسان پھر بھی مسکرا سکتا ہے۔
سو، آج کے دن خود کو یہ موقع دیں کہ آپ خود کے ساتھ ایماندار رہیں، پرانے جذبات کا بوجھ اتاریں، اور زندگی کو نئے زاویے سے دیکھیں۔ کیونکہ دماغ جب ہلکا ہوتا ہے، تو دل خودبخود خوش ہو جاتا ہے۔

*آج اپنے اندر کی خوشی کو باہر نکالنے کا دن ہے۔*

23/05/2026

خالی کرسی part 2
ایک دم حسن کو ہوش آیا، اور وہ چیخنے لگا۔ اس نے اٹھ کر لائٹ آن کرنے کی کوسیش کی، لیکن لائٹ آن نہیں ہو رہی تھی۔ اچانک، اسے اپنے کندھے پر کسی کا لمس محسوس ہوا۔ وہ فوراً پھر سے چیخنے لگا، لیکن آواز اس کے گلے میں ہی پھنس گئی۔

سایہ بولی، "تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم میری کہانی سنو گے۔"

حسن نے ہمت کر کے پوچھا، "ک..ک..ک..کیسی کہانی؟"

سایہ نے جواب دیا، "میری زندگی کی کہانی۔ میں اس کرسی پر بیٹھتا تھا، اور تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم میری کہانی سنو گے۔"

حسن کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اس نے پوچھا، "ت..ت..تم ک..کو..ں ہو؟"

سایہ نے جواب دیا، "میں وہ ہوں جو اس کرسی پر بیٹھتا تھا، اور تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم میری کہانی سنو گے۔"

حسن نے ہمت کر کے کہا، "میں سننا چاہتا ہوں۔ بتاؤ، تم ک..کو..ں ہو؟"

سایہ نے اپنی کہانی شروع کی، "میں ایک شاعر تھا، اور اس کرسی پر بیٹھ کر اپنی شاعری لکھتا تھا۔ لیکن ایک دن، مجھے قتل کر دیا گیا۔ اور اب میں اس کرسی پر بیٹھتا ہوں، انتظار کرتا ہوں کہ کوئی میری کہانی سنے۔"

حسن کو سایہ کی کہانی سن کر رحم آ گیا۔ اس نے کہا، "میں سن رہا ہوں۔ بتاؤ، تم کیا چاہتے ہو؟"

سایہ نے جواب دیا، "میں چاہتا ہوں کہ تم میری کہانی لکھو، اور لوگوں کو بتاؤ کہ میں ک..کو..ں تھا۔"

حسن نے وعدہ کیا، "میں لکھوں گا۔ تم بے فکر رہو۔"

اس کے بعد، سایہ غائب ہو گیا، اور کمرے کی لائٹ آن ہو گئی۔ حسن نے سایہ کی کہانی لکھنی شروع کی، اور اس طرح ایک نئی کہانی جنم لی۔

23/05/2026
tell me
19/05/2026

tell me

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Horror stories in Urdu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share