Ahlan

Ahlan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ahlan, www. ahlanpk. org, Karachi.

THE FIRST COMPLETE WEBSITE ON HOLY HIJAZ 'MAKKAH AND MADINA'
http://www.ahlanpk.org

Pioneer;
WASEEM AHMED SIDDIQUI
http://www.facebook.com/profile.php?id=100000719903974

پلیز میرے یوٹیوب چینل اھلا''  کے درج ذیل لنک  کو دیکھیں ، شیئر کریں اور SUBSCRIBE ضرور بضرور کریں۔  (  خاکروب حرم وسیم ا...
17/07/2021

پلیز میرے یوٹیوب چینل اھلا'' کے درج ذیل لنک کو دیکھیں ، شیئر کریں اور SUBSCRIBE ضرور بضرور کریں۔ ( خاکروب حرم وسیم احمد خاکی)

مکّہ بھی رمضان المبارک میں ہی فتح ہوا - ( ایک نادر تصویر جو آپکو اھلا'' کے علاوہ کہیں نہیں ملے گی )- ٢٠ رمضان المبارک یو...
02/05/2021

مکّہ بھی رمضان المبارک میں ہی فتح ہوا - ( ایک نادر تصویر جو آپکو اھلا'' کے علاوہ کہیں نہیں ملے گی )- ٢٠ رمضان المبارک یوم '' فتح مکّہ ہے )
================================================
رمضان اھلا'' کے ساتھہ
================
مکّہ بھی رمضان المبارک میں ہی فتح ہوا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شکرانے کے نوافل کعبہ مشرفہ کے اندر پڑھے - آج بھی کعبہ مشرفہ کے اندر سجدہ مبارک کے مقام پر نشان متبرک کو تمثیلا'' قایم رکھا گیا ہے - ( اھلا'' کےفورم سے پہلی بار اس تصویر کو پیش کیا جارہا ہے جس میں وہ مقام مبارک نظر آ رہا ہے جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شکرانے کے نوافل ادا کیے اور سجدہ شکر ادا کیاتصویر نمبر دو دیکھیں -) - نئی تعمیر کعبہ کے بعد اس مقام کو غلبا'' ایک مصلے کی شکل دے دی گئی ہے جیسا کہ تصویر نمبر ایک میں دیکھایا گیا ہے -
تصویر نمبر تین میں یہ دکھایا گیا ہے کہ آج بھی جو لوگ کعبہ مشرفہ کے اندر جانے کی سعادت حاصل کرتے ہیں وہ اس مقام پر نفل ادا کرتے ہیں (سرخ تیر کو دیکھیں ) جہاں کہا جاتا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فتح مکّہ کےدن بتوں سے کعبہ کو پاک کر کے نماز پڑھی اور الله کا شکر ادا کیا وہاں کالی پٹی پر ایک سفید نصف بیضوی نشان ہے -

تصویر نمبر چار میں کوئی خوش نصیب کعبہ مشرفہ کے اندر عین اس مقام پر سجدہ کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے جہاں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے لیے مرقوم ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فتح مکّہ کے موقع پر کعبہ مشرفہ کو بتوں سے پاک کرنے کے بعد نماز ادا کی اور الله رب العزت کا شکر ادا کیا -

پیچھے جہاں کچھہ لوگ کھڑے ہیں وہ کعبہ مشرفہ کا داخلی دروازہ ( باب کعبہ ) ہے -
اب تفصیل نیچے پڑھیں -

================================
فرام دی ڈیسک آف
خاکروب حرم === وسیم احمد خاکی
0334-3596158(pakistan)
http://www.ahlanpk.org/
==========================
فتح مکّہ والے دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم اُٹھے اور آگے پیچھے اور گردو پیش موجود انصار و مہاجرین کے جلو میں مسجد حرام کے اندر تشریف لائے۔ آگے بڑھ کر حجرِ اسود کو چُوما اور اس کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس وقت آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک کمان تھی اور بیت اللہ کے گرد اور اس کے چھت پر تین سو ساٹھ بُت تھے۔ آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اسی کمان سے ان بتوں کو ٹھوکر مارتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے:

جَآءَ ٱلْحَقُّ وَزَهَقَ ٱلْبَاطِلُ ۚ إِنَّ ٱلْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
(سورة الإسراء / بني إسرآءيل : 17 ، آیت : 81)

حق آگیا اور باطل چلا گیا، باطل جانے والی چیز ہے
جَآءَ ٱلْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ ٱلْبَٰطِلُ وَمَا يُعِيدُ
(سورة سبا : 34 ، آیت : 49)
حق آ گیا اور باطل کی چلت پھرت ختم ہو گئی۔
اور آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ٹھوکر سے بُت چہروں کے بل گرتے جاتے تھے۔

آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے طواف اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر فرمایا تھا اور حالتِ احرام میں نہ ہونے کی وجہ سے صرف طواف ہی پر اکتفا کیا۔ تکمیلِ طواف کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بن طلحہ کو بلا کر ان سے کعبہ کی کنجی لی۔ پھر آآپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے حکم سے خانہ کعبہ کھولا گیا۔ اندر داخل ہوئے تو تصویریں نظر آئیں جن میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی تھیں اور ان کے ہاتھ میں فال گیری کے تیر تھے۔ آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا "اللہ ان مشرکین کو ہلاک کرے۔ خدا کی قسم ان دونوں پیغمبروں نے کبھی بھی فال کے تیر استعمال نہیں کئے"۔ آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر لکڑی کی بنی ہوئی ایک کبوتری بھی دیکھی۔ اسے اپنے دست مبارک سے توڑ دیا اور تصویریں آ کے حکم سے مٹا دی گئی۔

اس کے بعد آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ حضرت اسامہ اور بلال رضی اللہ عنھما بھی اندر ہی تھے۔ پھر دروازے کے مقابل کی دیوار کا رُخ کیا ۔ ( اھلا'' کی جانب سے پیش کی جانے والی تصویر کو نظر میں رکھیں ) - جب دیوار صرف تین ہاتھ کے فاصلے پر رہ گئی تو وہیں ٹھہر گئے۔ دو کھمبے آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بائیں جانب تھے۔ ایک کھمبا داہنے جانب اور تین کھمبے پیچھے۔ ان دنوں خانہ کعبہ میں چھ کھمبے تھے۔ پھر وہیں آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔( تصویر میں سجدے کی جگہ نظر آ رہی ہے )-

اس کے بعد آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم بیت اللہ کے اندرونی حصے کا چکر لگایا۔ تمام گوشوں میں تکبیر و توحید کے کلمات کہے۔ پھر دروازہ کھول دیا۔ قریش (سامنے) مسجد حرام میں صفیں لگائے کچھا کھچ بھرے تھے۔ انہیں انتظار تھا کہ آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کیا کرتے ہیں۔ آ آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دروازے کے دونوں بازو پکڑ لیے، قریش نیچے تھے انہیں یوں مخاطب فرمایا:

" اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا سارے جتھوں کو شکست دی۔ سنو! بیت اللہ کی کلید برداری اور حاجیوں کو پانی پلانے کے علاوہ سارا اعزاز، یا کمال، یا خون میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے۔ یاد رکھو قتلِ خطا شبہ عمد میں جو کوڑے اور ڈنڈے سے ہو، مغلظ دیت ہے، یعنی سو اونٹ جن میں سے چالیس اونٹنیوں کے شکم میں ان کے بچے ہوں۔"

اے قریش کے لوگو! اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور باپ دادا پر فخر کا خاتمہ کر دیا۔ سارے لوگ آدم علیہ السلام سے ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے۔ اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَّأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
(سورة الحجرات : 49 ، آیت : 13)
("اے لوگو! ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ تم میں اللہ کے نزدیک سب سے باعزت وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے ''

اس مقام کی مزید دو اور تصویریں دیکھنے کے لیے اھلا' کے ان دو لنکس کو باری باری کلک کریں -

https://www.facebook.com/photo.php?fbid=455375414496451&set=a.455373541163305.109485.100000719903974&type=3&src=https%3A%2F%2Ffbcdn-sphotos-h-a.akamaihd.net%2Fhphotos-ak-ash2%2F552554_455375414496451_776877976_n.jpg&size=320%2C240

https://www.facebook.com/photo.php?fbid=455377131162946&set=a.455373541163305.109485.100000719903974&type=3&permPage=1

http://www.ahlanpk.org/11053408_10152919992392636...

غلاف کعبہ کے کنڈے اور پاکستانHOOKS OF KABA DRAPERY AND PAKISTAN==========================فرام دی ڈسک آفخاکروب حرم== وسیم...
23/03/2021

غلاف کعبہ کے کنڈے اور پاکستان
HOOKS OF KABA DRAPERY AND PAKISTAN
==========================
فرام دی ڈسک آف
خاکروب حرم== وسیم احمد خاکی...
AHLANPK.ORG
===============================

مسجد الحرام بشمول کعبہ مشرفہ کے 1996 میں ہونے والی جدید تعمیر کے دوران سعودی حکمرانوں کے یہ کوشش رہی کہ یہاں جو مٹیریل بھی لگایا جاتے وہ دنیا کا بہترین اور قیمتی مٹیریل ہو - اسی وجہہ سے سنگ مرمر ہو یا لکڑی کا کام، پیتل کا استمال ہو یا غلاف کعبہ کا کپڑا ہو ،میناروں کی سنھرے کلس ہوں یا حرم کا آڈیو سسٹم ، غرض ہر چیز اس کی تعمیر میں اعلی اور عمدہ استمال کی گئی - اس لیے سعودی حکومت نے دنیا کی طول اور عرض پر پہلے کئی ممالک سے یہ مٹیریل حاصل کیا -

ہم پاکستانیوں پر الله کا یہ بڑا کرم ہے کہ ہماری لاکھ برائیوں کی باوجود
وہ ہہم سے بھی کچھ ایسے کام لیے لیتا ہے ہے جس پر تعجب بھی ہوتا ہے اور اپنے اتنے معتبر ہونے پر رشک بھی آنے لگتا ہے اور ظاہر ہے خوشی تو ہوتی ہی ہے -

جی ہاں آپ اب کچھ کچھ سمجھ گیے ہیں ------- کعبہ مشرفہ کے بنیادوں میں پیوست یہ سنھرے کنڈے جو ایک قطار کے صورت میں آپکو لگے نظر آرہے ہیں جن سے غلاف کعبہ بندھا ہوا ہے ، ان پیتل کے کنڈوں کو بنا نے کا اعزاز ایک پاکستانی فرم کو حاصل ہے -

گویا ہم کہ سکتے ہے کعبہ کی قدموں میں لگنے والے یہ کنڈے پاکستان کی اعزاز اور وقار میں اضافہ کر گیے ہیں اور ہم جب بھی ان کنڈوں کو اس حقیقت کی تناظر میں دیکھیں گے تو ہمارے دلوں میں کچھ نہ کچھ جذبات ضرور پیدہ ہوں گے اور شاید ہماری آنکھیں نم بھی ہوجائیں -

اس کمپنی کے متعلق جاننے کے لیے آپ پلیز درج ذیل دونوں لنکس کو ضرور دیکھیں جس سے آپ کو اس کمپنی کے نام اور اس سے متعلق دیگر تفصیلات کی آگہی ( جانکاری ) حاصل ہوگی اور ان کنڈوں کی تصاویر بھی دیکھنے کو ملیں گی -
اسلئے ڈو نوٹ مس ٹو کلک -

http://www.zafir.us/photo.htm

http://www.zafir.us/index.htm
======================================

غزوہ خندق اوراسکا قبرستان===========================================فرام دی ڈسک آفخاکروب حرم== وسیم احمد خاکی...AHLANPK....
19/03/2021

غزوہ خندق اوراسکا قبرستان
===============
============================
فرام دی ڈسک آف
خاکروب حرم== وسیم احمد خاکی...
AHLANPK.ORG
==============================
غزوہ خندق اسلام کا تیسرا عظیم ترین حق و باطل کا معرکہ ہے جس کے مقام کو آج کے اہل مدینہ '' سبعہ مساجد '' کہ کر پکارتے ہیں اور یہ مدینہ شہر میں ہی موجود ہے - بہت کم ہی حجاج اور زایرین عمرہ ایسے ہونگے جنہوں نے اس مقام کی زیارت نہ کی ہوگی -

جنگ احد کے بعد قریش ، یہودی اور عرب کے دیگر بت پرست قبائل کے درمیان طے یہ پایا کہ مل جل کر اسلام کو ختم کیا جائے۔ اسلام کے خلاف اس اتحاد کو قرآن نے احزاب کا نام دیا ہے۔ اسی لیے جنگ خندق . جنگ احزاب کے نام سے بھی مشہور ہے -

ابوسفیان کی قیادت میں دیگر قبائل سیمت دس ہزار پیدل فوجی، 300 گھڑ سوار اور 1500 کے قریب شتر سوار (اونٹوں پر سوار) اس جنگ میں کفّار کی جانب سے لڑنے آیے ، جو اس زمانے میں اس علاقے کے لحاظ سے ایک انتہائی بڑی فوجی طاقت تھی۔

آقا دو جہاں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب اس سازش کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب سے مشورہ کیا۔ سیدنا سلمان فارسی جنکا تعلق فارس سے تھا ، نے ایک دفاعی خندق کھودنے کا مشورہ دیا جو عربوں کے لیے ایک نئی بات تھی۔ عرب خندق کے تصور سے اسوقت تک نہ آشنا تھے -

رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ مشورہ بہت پسند آیا چنانچہ خندق کی تعمیر شروع ہو گئی۔ کھدائی کے دوران حضرت سلمان فارسی کے سامنے ایک بڑا سفید پتھر آ گیا جو ان سے اور دوسرے ساتھیوں سے نہ ٹوٹا۔ آخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود تشریف لائے اور کلہاڑی کی ضرب لگائی۔ ایک بجلی سی چمکی اور پتھر کا ایک ٹکرا ٹوٹ کر الگ ہو گیا -

بیس دن میں خندق مکمل ہو گئی۔ جو تقریباً پانچ کلومیٹر لمبی تھی، پانچ ہاتھ (تقریباً سوا دو سے ڈھائی میٹر) گہری تھی اور اتنی چوڑی تھی کہ ایک گھڑ سوار جست لگا کر بھی پار نہ کر سکتا تھا۔ مسلمانوں کی تعداد 3000 کے قریب تھی -

کچھ دن کے بعد عمرو ابن عبدود کی قیادت میں پانچ سواروں نے خندق کو ایک کم چوڑی جگہ سے پار کر لیا۔ عمرو بن عبدود عرب کا مشہور سورما تھا اور اس کی دہشت سے لوگ کانپتے تھے -

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی اپنا عمامہ اور تلوار عطا کی اور فرمایا کہ ' کل ایمان کل کفر کے مقابلے پر جا رہا ہے' ۔ سیدنا علی نے عمرو بن عبدود جہنم واصل کیا -

پھر ایک رات الله سبحان و تعالی کی مدد ائی اور شدید اور سرد آندھی چلی جس نے مشرکین کے خیموں کو اکھاڑ پھینکا اور ان کی روشنیاں بجھا دیں۔ شدید گردو غبار سے فضا تاریک ہو گئی۔۔ مشرکین نے فرار ہونے کو ترجیح دی اور مکہ کہ طرف روانہ ہو گئے۔ مسلمانو کو فتح نصیب ہوئی - اس جنگ کے بارے میں سورۃ احزاب میں آیات 9 سے 25 نازل ہوئیں۔

اس جنگ میں مسلمانوں کے چھ افراد شہید ہوئے جن میں سے پانچ کے اسما گرامی یہ ہیں - انس بن اوس ، عبدللہ بن سھل.، الطفیل بن نعمان ، سلمتھ.بن غنمتھ اور کعب بن زید ( ر - ض ) ۔ لیکن مناسب رہنمائی نہ ہونے کی وجہہ سے کم ہی لوگوں کو علم ہے کہ ان شہدا کی قبور بھی میدان خندق یا جسکو آج کل '' سبعہ مساجد '' کہتے ہیں میں موجود ہیں -

زایرین اس میدان میں موجود چھوٹی چھوٹی چند مساجد جہاں صحابہ اکرم نے اپنے خیمے نصب کے تھے ، انکی زیارت تو کرتے ہیں جو بڑی سعادت کی بات بھی ہے لیکن اس مقام کے قریب سے گزرنے کے باوجود ان عظیم شہدا کی قبور کی زیارت سے محروم رہتے ہیں - اب اس مقام پر ایک بڑی خوبصورت مسجد بھی بنا دی گئی ہے -

see pic above and read green and red description below
اس مقام پر موجود مساجد میں سے دو مساجد بہت اہم ہیں - ایک مسجد فتح جو زیر نظر تصویر میں ایک چھوٹی سی پہاڑی پر نظر آرہی ہے جس پر میں نے نیلا چوکور نشان لگا دیا ہے - اس مقام پر آقا دو جہاں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے الله سبحان و تعالی سے مسلمانوں کی فتح کے لیے گڑ گڑا ، گڑ گڑا کر دعا مانگی اور پھر کامیابی کی نوید وحی کی صورت میں آپکے قلب اطہر پر نازل ہوئی -

دوسری اہم مسجد '' مسجد سلمان فارسی ( ر - ض ) '' ہے جو اس پہاڑی کے دامن میں ہے اور اس تصویر میں ، میں نے اسپر سرخ چوکور نشان لگا دیا ہے - یہ وہ مقام ہے جہاں جنگ کے دوران سیدنا سلمان فارسی ( ر - ض ) نے اپنا خیمہ نصب کیا تھا - زایرین اس مسجد کی زیارت کے بعد پہاڑی پر چڑھتے ہیں تا کہ وہ مسجد فتح کے عظیم مقام تک پہنچ جائیں پر وہ قریب ہی موجود اس بانڈری وال کو نظر انداز کر دیتے ہیں جسکو اس تصویر میں میں نے کالے چوکور نشان سے دیکھایا ہے --- اور یہی در حقیقت وہ مقام ہے جہاں غزوہ خندق کے عظیم شہدا کی قبور ہیں -
======================================

'مکیدہ ''جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو زہر دینے کی کوشش ہوئی======================دی ڈسک آفخاکروب حرم== وسیم احمد...
28/02/2021

'مکیدہ ''

جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو زہر دینے کی کوشش ہوئی
======================
دی ڈسک آف
خاکروب حرم== وسیم احمد خاکی...
AHLANPK.ORG
==============================

غزوہ خیبر کی واپسی پر یہودی عورت نے اس مقام پر جسکی تصویر زیر نظر ہے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو شازش کے ذریعے زہریلا گوشت پیش کیا - اس بستی کا نام ''مکیدہ '' ہے جسکے معنی ''سازش ''یا ''فتنه '' کے ہوتے ہیں - الله سبحان و تعالی بہتر جانتے ہیں لیکن کتابوں میں درج ہے کہ غالبا'' '' آپ صلی الله علیہ وسلم کا وصال مبارک بھی اسی وجھہ سے ہوا -
====================================
مروی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے ہاتھوں فتح خیبر کے بعد یہودی عمائدین میں سے سلّام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث نے اپنے باپ حارث، چچا اور شوہر کا بدلہ لینے کی غرض سے زہریلا گوشت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کیا۔ رسول خدا(ص) اور بشر بن براء سمیت بعض صحابہ نے اس گوشت میں ایک ایک نوالہ تناول کیا اور پھر سب نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی ہدایت پر ہاتھ کھینچ لیا۔ بشر موقع پر ہی (یا ایک سال علالت کے بعد) اسی مسمومیت کی وجہ سے انتقال کرگئے؛ جیسا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے وصال مبارک کو بھی اسی زہریلے گوشت کا نتیجہ سمجھا جاتا
اس جنگ سے مسلمانوں کو ایک حد تک یہودیوں کی گھناؤنی سازشوں سے نجات مل گئی اور انہیں معاشی فوائد بھی حاصل ہوئے۔ اسی جنگ کے بعد بنو نضیر کی ایک یہودی عورت نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھیڑ کا گوشت پیش کیا جس میں ایک سریع الاثر زھر ملا ہوا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے یہ محسوس ہونے پر تھوک دیا کہ اس میں زھر ہے مگر ان کے ایک صحابی جو ان کےساتھ کھانے میں شریک تھے، شہید ہو گئے۔ ایک صحابی کی روایت کے مطابق بسترِ وفات پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان کی بیماری اس زھر کا اثر ہے جو خیبر میں دیا گیا تھا۔

اس بستی کو آج کل '' مکیدہ '' کہتے ہیں جس کے معنی
'' سازش '' یا ''فتنه '' کے ہیں - اسکا مجھے علم نہیں کہ اس واقعہ کے بعد اس کا یہ نام پڑا یا پہلے سے ہی تھا . اغلب امکان ہے کہ اس واقعہ کے بعد ہی اسے '' مکیدہ '' کہا جانے لگا ہو گا -
( حوالہ :- السیرۃ النبویۃ از ابن ھشام صفحہ ١٤٤ سے ١٤٩ ٠٠٠٠
ALMIGHTY ALLAH KNOWS THE BEST AND ALL.

مسجد فسح=========اور ظہر کی نماز یادگار بن گیئ======================دی ڈسک آفخاکروب حرم== وسیم احمد خاکی...AHLANPK.ORG==...
21/02/2021

مسجد فسح
=========
اور ظہر کی نماز یادگار بن گیئ
======================
دی ڈسک آف
خاکروب حرم== وسیم احمد خاکی...
AHLANPK.ORG
==============================
غزوات كا ذکر آتے ہی ذہنوں میں بدر اور احد کے معرکے گھومنے لگتے ہیں - بدر کل مقام تو مدینہ سے قدرے دور ہے لکن احد مدینہ میں ہی موجود ہے اور پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مدینہ جایے اور احد کی زیارت نہ کرے - لیکن وہاں ایک ایسا مقام بھی ہے جس کے بارے میں نہ تو زیادہ لوگوں کو علم ہے ور نہ ہے وہاں کے لوگ اس مقام کے بارے میں کچھ بتاتے ہیں -

آج کی تصویر احد پہاڑ کے دامن کی ہے جہاں آپکو شکست و ریخت سے پر ایک ٹوٹ پھوٹا سا مقام نظر آرہا ہے - یہ در اصل وہ مقام ہے جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے احد کی جنگ والے دن ظہر کی نماز کی امامت فرمائی تھی - ظاہر ہے اس وقت یہ ایک کھلی جگہہ تھی لیکن بعد میں اس مقام پریادگار کے طور پر ایک چھوٹی سی مسجد بنا دی دی گیئ تھی اور اس کا ایک نام بھی رکھا گیا تھا -

بات اگر صرف مسجد تک محدود ہوتی تو شاید اتنی دلچسپ نہ ہوتی لیکن اس دن ظہر کی نماز جو اس مقام پر ادا کی گیئ وہر خود کسی وجھہ سے ایک منفرد تاریخی اور یادگار نماز بن گیئ تھی -
کیا آپ بتا سکتے ہیں :
١- اس مسجد کا کیا نام تھا ؟ اور
٢- اس ظہرکی نماز میں ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ ایک منفرد اور یادگار نماز بن گیئ تھی؟
================
جواب حاضر ہے
================
احد کی جنگ کے دوران جس وقت رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس مقام پر ظہر کی نماز کی امامت فرمائی فرمائی ، یہ ایک کھلی جگہ تھی مگر سیدنا عمر بن عبد لعزیز کی دور میں اس مقام پر ایک چھوٹی سے یادگار مسجد بنوادی تھی جس کا نام '' مسجد فسح " رکھا گیا - عربی میں فسح--'' راستہ بناؤ ''-- کو کہتے ہیں -

ظہر کے اس نماز سے قبل کیوں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سمیت بہت سے صحابہ اکرم شدید زخمی ہو چکے تھے اور رسول الله صلی الله
علیہ وسلم کی دندان مبارک پر بھی شدید ضرب لگی تھی ، اس لیے اس نماز کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پڑھانے کی بجاے بیٹھ کر پڑھایا تھا اور تمام صحابہ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پیروی کر کرتے ہوے بیٹھ کر ہی نماز ادا کی . گویا اس نماز میں کسی نے " قیام " نہیں کیا اور اس لحاظ سے یہ نماز ایک انوکھی اور یادگار تاریخی نماز بن گئی

احد کے پہاڑ پر نیچے دامن میں مسجد فسح اور پہاڑ کی بلندی پر وہ غار نظر
آ رہی ہے جسمیں احد کی جنگ کے دوران زخمی ہونے کے بعد ہادی برحق
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے آرام فرمایا تھا اور اس غار کو
'' شق المھراس '' کہتے ہیں

خوش قسمت غوطہ خور اور نوادرات============================فرام دی ڈسک آفخاکروب حرم== وسیم احمد خاکی...AHLANPK.ORG========...
14/02/2021

خوش قسمت غوطہ خور اور نوادرات
============================
فرام دی ڈسک آف
خاکروب حرم== وسیم احمد خاکی...
AHLANPK.ORG
==============================

زم زم پینا ایک بہت بڑی سعادت ہے لیکن اگر کسی انسان کو زم زم کے کنویں میں غوطہ مارنے کی سعادت حاصل ہو جایے تو اسکے نصیب کو آپ کیا کہیں گے -
جی ہان آج سے انتالیس سال پہلے محمد لطیف اور محمّد یونس دو ایسے خوش قسمت انسان تھے جہاں الله سبحان و تعالی نے زم زم کے کنویں میں اترنے کی سعادت نصیب فرمائی -
زیر نظر تصویر میں دو نیلے تیروں کی مدد سے ان دونوں خوش نصیب انسانوں کو دیکھایا گیا ہے جو زم زم کے کنویں کے قریب غوطہ خوری کا لباس زیب تن کے کنویں میں اترنے کے لیے تیار ہیں جبکہ لال تیر سے ایک غوطہ خور کو زم زم میں تیرتے ہوے دیکھایا گیا ہے - سبز تیر میں غوطہ خور زم زم کے کنویں کے دھانے پر نظر آرہے ہیں -
صدیوں سے آب زمزم کا کنواں خانہ کعبہ سے 21 میٹر دور ، مشرق میں ملتزم کے بالمقابل ، خانہ کعبہ سے متصل واقع ہے۔ آب زمزم کے کنوئیں میں چٹانوں سے پانی آتا ہے۔ یہ ریخیں خانہ کعبہ ، صفا و مروہ کے اطراف پھیلی ہوئی ہیں۔ ان سے نکلنے والا پانی کنوئیں میں آکر گرتا ہے ۔ آب زمزم کا مبارک چشمہ ہی مکہ مکرمہ کی تعمیر کا اہم سبب بنا -
آب زمزم کے فضائل وخصوصیات متعدد ہیں ، چند کا ذکر کیا جارہا ہے: آب زمزم جنت کے چشموں میں سے ایک ہے( مصنف بن ابی شیبہ)
آب زمزم روئے زمین کا افضل ترین ـپانی ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ روئے زمین کا سب سے افضل پانی زمزم ہے ، اس میں غذائیت بھی ہے اور مرض سے شفا بھی (طبرانی )
آب زمزم کا چشمہ روئے زمین کے سب سے مقدس مقام پر ہے ۔
زمزم کے چشمے کا وجود اور ظہور حضرت جبریل ؑکے واسطے سے ہوا جو اس کی فضیلت کے لئے کافی ہے ۔
آب زمزم کے ذ ریعے رسول اللہ ﷺ کا قلب اطہر4 بار مختلف موقعوں پر دھویا گیا یعنی حلیمہ سعدیہ ؓ کے یہاں بکریاں چرا نے کے دوران ، آپکے بچپن میں، نبوت و بعثت سے قبل اور واقعہ معراج سے قبل ۔
آب زمزم خوب سیر ہوکر پینا ایمان کی علامت قرار دیا گیا ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’خوب سیر ہوکر زمزم پینا نفاق سے برأت ہے کیونکہ منافقین اسے خوب سیرابی کی حد تک نہیں پیتے ‘‘ آب زمزم خوب سیر ہوکر پینے کے بعد قبولیت ِ دعا کا موقع ہوتا ہے ، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ آب زمزم پینے کے بعد یہ دعا مانگا کرتے تھے:-
’’ اے اللہ ! میں تجھ سے علم نافع ، رزق واسع او ر ہرمرض سے شفائے کلی کا سوال کرتا ہوں ‘‘ آب زمزم کا پینا بہت سارے امراض سے شفا یابی کا سبب بنتا
ہے- ''
قیامت سے قبل سارے چشمے خشک ہوجائیں گے مگر آب زمزم کا چشمہ قیامت تک جاری و ساری رہے گا ۔ ضحاک بن مزاحم کی روایت ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ میٹھے پانی کو قیامت سے قبل اٹھالے گااور زمزم کے علاوہ سارا پانی زیر زمین چلا جائے گا۔ زمین اپناسارا سونا چاندی اگل دے گی، ایسا وقت آئے گا کہ ایک شخص تھیلا بھر کر سونا چاندی لیکر گھومے گا اور اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا٠
آج کل تو زم زم کا کنواں سیل پیک ہے اور عام زایرین کی پہنچ اسکے دھانے تک ممکن نہیں لیکن صدیوں سے جاری و ساری زم زم کے کنویں میں لوگ آج سے اسی ، پچاسی سال قبل تک چرخی پر چلنے والی رسیوں میں بندھے ڈولوں کی مدد سے پانی نکالا کرتے تھے اور اس دوران چرخیاں ، ڈول ، رسی اور دیگر اشیا اس میں غیر دانستہ ، بشری کمزوریوں کے باعث گر جایا کرتی تھیں اور بہت ابتدائی زمانوں میں تو جو حکمران مکّہ مکرمہ میں شکست کھا جاتے تھے وہ کعبہ مشرفہ کے نوادرات جان بوجھہ کر اس میں چھپا جاتے تھے -

کتابوں میں حجر اسود کے متعلق بھی آیا ہے کہ '' بنو جرہم کے'' قبیلے نے جب شکست کھائی تو اسنے حجر اسود تک کو زم زم برد کر دیا تھا - وہ تو الله سبحان و تعالی کی مشیت تھی کہ وہ جب ایسا کر رہے تھے ، ایک خاتون نے انھیں ایسا کرتا دیکھ لیا جو بعد میں حجر اسود کی بازیابی کا ذریعہ بنا -

اسلئے بہت ضروری تھا کہ زم زم کے کنویں کی صفائی کرائی جایے اور اس میں گر جانے والی یا چھپا دینے والی اشیا سے اسے پاک کیا جایے - اس لیے
1399 ھ یعنی انیس سو اٹھتر عیسوی میں دو غوطہ خوروں یعنی محمد لطیف اور محمّد یونس کی مدد سے پہلی مرتبہ آب زمزم کے کنوئیں کا معائنہ کرایا گیا۔ غوطہ خوروں نے کنوئیں کی پیمائش کی، اسے صاف کیا ۔ اس کی تطہیر
( PURIFICATION) کی۔ کلورین سے تعقیم ( Sterilization) کی گئی۔ اس کی دیواروں کو دھویا گیا اور اس کا پانی پمپ سے نکالا گیا۔

کنوئیں کا عرض تقریباً 4 میٹر پایا گیا۔ کنوئیں کی دیواریں کنوئیں کے منہ سے تقریباً 16 میٹر 18 سینٹی میٹر کی گہرائی کے ساتھ اندر سے قلعی کردہ پائی گیئں اور زیر نظر تصویر کے غوطہ خوروں نے اس میں سے انگنت اشیا برآمد کیں جن کی تصویر بھی آپ دیکھ رہے ہیں جس میں ڈول یعنی بالٹی ، صراحیاں ، سکے اور دیگر اشیا نظر آ رہی ہیں - یہی وہ نوادرات ہیں جو زم زم کے کنویں سے بازیافت کی گئیں جن میں سے کچھ غالبا'' '' مکّہ میوزیم کی زینت بنی ہوئی ہیں ٠ الله اعلم
اھلا'' کے فورم سے اس پوسٹ کا اصل مقصد اس اہم معلومات کے ساتھہ غوطہ خوروں کی بذات خود اور انکے ہاتھوں زم زم کے کنویں سے برآمد ہونے والی اشیا کی نادر اور نایاب تصاویر آپکو دیکھنا مقصود تھا - اب مجھے یہ علم نہیں کہ آپکو یہ پوسٹ اور تصاویر اچھی بھی لگیں یا نہیں ؟
اور ہان اگر آپ ان غوطہ خوروں کی زم زم کے کنویں میں اترنے کی ویڈو دیکھنا چاہیں تو پلیز اس لنک کو کلک کرنا نہ بھولیں -
https://www.youtube.com/watch?v=yuFR_Z4eEFw
===============================

متبرک میز============================فرام دی ڈسک آفخاکروب حرم== وسیم احمد خاکی...AHLANPK.ORG============================...
10/02/2021

متبرک میز
============================
فرام دی ڈسک آف
خاکروب حرم== وسیم احمد خاکی...
AHLANPK.ORG
==============================
مکّہ مکرمہ سے باہر تقریبا'' پندرہ بیس کلو میٹر کے فاصلے پر پرانی '' مکّہ جدہ '' ہائی وے پر جو مکّہ میوزیم قایم ہے اسمیں دیگر نادر ، یادگار اور حرمین شریفین سے نسبت رکھنے والی اشیا کے ساتھہ ایک جگہ یہ میز بھی رکھی ہے - اس میز پر رکھے ایک ''سائیں کارڈ '' پر کچھہ لکھا ہے جو اس میز کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کافی ہے - لیکن میں نے مصلحتا'' اس تحریر کو مٹا دیا ہے تاکہ اسکو '' اھلا '' کویز '' بنا کے آپکی خدمت میں پیش کیا جا سکے - جواب دیتے وقت میں وہ تحریر لکھی تصویر بھی آپکی خدمت میں پیش کر دوں گا -

بس کو آپکو دو باتیں بتانی ہیں - اول تو یہ کہ اس میز کا حرمین شریفین سے ایسا کونسا مبارک تعلق رہا ہے کہ اب اس کو یادگار کے طور پر '' مکّہ میوزیم '' میں رکھہ دیا گیا ہے اور اسکی زیارت ''عاشقان حرمین شریفین '' کے خون کو گرما دیتی ہے -

اس کے علاوہ دوسری بات یہ ہے کہ ایک ایسی ہی میز '' مکّہ میوزیم '' میں اور بھی موجود ہے جو آپ اس لنک میں دیکھہ سکتے ہیں - پہلے آپ الگ ونڈو کھول کر اس لنک کو دیکھہ لیں :-
https://web.facebook.com/photo.php?fbid=717863911580932&set=a.217086694991992.62782.100000719903974&type=3&theater

اس لنک والی تصویر میں جو میز نظر آ رہی ہے اس پر بھی جو
''سائیں کارڈ '' رکھا ہے اس پر بھی کم و بیش وہی تحریر درج ہے جو اوپر والی تصویر میں ہے . گویا انکا مقصد اور استمعال ایک جیسا ہے اور دونوں کا تعلق بھی '' حرمین شریفین '' سے ہے تا ہم ان دونوں میزوں کی حرم کعبہ سے جو نسبت ہے اسمیں ایک واضح فرق ہے -
==========================================================================

جواب نوٹ کرلیں پلیز
==============
اوپر کی تصویر میں جو میز دیکھائی دے رہی ہے اس کا براہ راست تعلق حرم مکی میں موجود کعبہ مشرفہ سے ہے اور یہ میز سالوں سال کعبہ مشرفہ کے اندر رکھی رہی ہے -

کعبہ مشرفہ کے اندر موجود اس میز پر عموما'' عطور ''یعنی خوشبو کی شیشیاں رکھی ہوتی ہیں اور ایسی ایک میز ہر وقت کعبہ کے اندر موجود رہتی ہے - کعبہ مشرفہ میں کافی عرصه گزرنے کے بعد یہ نئی میز سے تبدیل کر دی جاتی ہے - یہ میز کعبہ کے اندر موجود تین ستونوں میں سے ایک ستوں کے ساتھہ رکھی ہوتی ہے -

کعبہ مشرفہ کے اندرونے حصے کی بات ہورہی ہے تو آپکو یہ بھی بتا تا چلوں کہ کعبہ کی اندرونی چاروں دیواروں میں دس ایسی تختیاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر لگی ہیں جو EMBOSSED
ہیں اور انپر ان بادشاہوں یا حکمرانوں کے اس کام کی تفصیل بمعہ انکے ناموں کے ساتھہ درج ہیں جو انہوں نے مختلف صدیوں میں کعبہ مشرفہ کی تعمیر یا اسکی تزین کرتے ہوے کرایے- اس کے علاوہ کعبہ مشرفہ میں ایک سونے کا بنا ہوا دروازہ ہے جسے باب توبہ کہتے ہیں اور اگر اسے کھولا جایے تو اس کے اندر المونیم کی سیڑھیاں ہیں جو کعبہ مشرفہ کی چھت پر بنی کھڑکی تک جاتی ہیں جس کی مدد سے انسان کعبہ کی چھت تک پہنچ سکتا ہے - اس کے علاوہ کعبہ مشرفہ کی چھت اور اوپری دیواریں بھی خوبصورت غلاف سے کور ہوتی ہیں - کعبہ شریف کی چھت سے نیچے کعبہ کی دایئں سے بیان جانب لگی ایک ڈور پر کچھہ مختلف اشکال ( برتنوں یا لیمپس جیسی ) کی اشیا لٹکی نظر اتی ہیں جنکے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ پرانے وقت کے چڑھاوے والی اشیا ہیں جو لوگ کعبہ مشرفہ پر عقیدتا'' چڑھاتے تھے - و الله اعلم - کعبہ مشرفہ کے اندرونی حصے میں بجلی کی فٹنگ یا بلب وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں ہے - گویا اندر الیکتریفکیشن کا کوئی اہتمام نہیں ہے -

یہ تو میں نے آپکو کعبہ شریف کی اندر کی کچھہ کیفیت عرض کی - اب آئیےکویز کے دوسرے سوال پر جس میں میں آپکو یہ لنک دیا تھا -

https://web.facebook.com/photo.php?fbid=717863911580932&set=a.217086694991992.62782.100000719903974&type=3&theater

اور آپ سے پوچھا تھا کہ اس لنک میں نظر آنے والی میز اور اوپر کویز میں دیکھائی جانے والی میز میں اخر کیا فرق ہے جب کہ ان دونوں میزوں کا حرم سے تقریبا'' ایک جیسا ہی تعلق ہے تو عرض یہ کہ اوپر والی میز جیسا کہ میں لکھہ چکا ہوں کہ وہ میز ہے جو کعبہ کے اندر سالوں سال رکھی رہی لیکن لنک میں نظر آنے والی میز ابھی کعبہ مشرفہ میں رکھی نہیں گئی ہے لیکن اس کو کسی وقت کعبہ شریف میں رکھا جاسکتا ہے - یہ میز ١٤٠٤ ہجری میں ملک فہد بن عبد العزیز کے حکم پر بنوائی گئی تھی تا کہ وقت ضرورت اس کو فوری طور سے کعبہ مشرفہ میں رکھا جا سکے -

اب آپکی یہ بھی خواہش ہوسکتی ہے کہ آپ اس متبرک میز کا بھی دیدار کرسکیں جو اس وقت کعبہ مشرفہ میں موجود ہے تو پلیز آپ اھلا'' کے اس کلک کریں - جزاک الله
https://web.facebook.com/photo?fbid=1170464889654163&set=a.455373541163305

'' زلال جنتجنت کے باغ '' ریاض الجنه ''میں اسکا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں============================فرام دی ڈسک آفخاکرو...
07/02/2021

'' زلال جنت
جنت کے باغ '' ریاض الجنه ''
میں اسکا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں
============================
فرام دی ڈسک آف
خاکروب حرم== وسیم احمد خاکی...
AHLANPK.ORG
==============================
اصل موضو ع کی جانب آنے سے پہلے آپ مختصرا'' ان باتوں کو جان لیں جو آپکے ذہن میں ایک نقشہ سا کھینچ دیں گی اور آپکو آج کی دلچسپ اور نادر پوسٹ کو پڑھنے اور کچھ حیرت انگیز جاننے کا موقع اس طرح ملے گا کہ اپکا مزہ دو چند ہوجایے گا اور آپکی روحانی لطافت نور اعلی نور کی منزل تک جا پہنچے گی-
اس تصویر میں روضۂ اقدس صلی الله علیہ وسلم کی سرہانے والی دیوار کی جالیاں اس طرح نظر آرہی ہیں کہ اسمیں تین ستونوں کے نصف کرّے روضۂ اقدس کے باہر ہمیں نظر آرہے ہیں جنکو میں نے مختلف رنگوں کے تیروں سے ظاہر کیا ہے جب کہ بقیہ نصف کرّے روضۂ اقدس کے اندر ہیں جو ہمیں نظر نہیں آ رہے -
یہ روضۂ اقدس صلی الله علیہ وسلم کی سرہانے والی دیوار ہے جس کے ساتھہ مسجد النبوی کا وہ فرش نظر آ رہا ہے جسکو رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم نے جنت کا باغ قرار دیا اور حرف عام میں ہم اسے '' '' ریاض الجنه '' کے نام سے جانتے ہیں اور اس دیوار میں بنے دروازے سے رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم اپنے حجرہ مبارک سے مسجد النبوی میں داخل ہوتے اور منبر شریف تک دن میں کم از کم پانچ بار نمازوں کی امامت کے لیے تشریف لیے جاتے اور اس کے علاوہ نہ جانے کتنی بار کرہ ارضی کے اس چھوٹے سے خوشقسمت قطعے نے رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کے قدمین مبارک کا بوسہ لیا ہوگا اور اس وجہ سے الله سبحانہ و تعالی کو پوری کایںات میں زمین کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا اتنا محبوب ہوگیا کہ آپ نے روز قیامت اسکو پورے کا پورا جنت میں اٹھا کر جنت کی کیاری بنانے کا وعدہ کیا -
اس تصویر میں پیلے تیر سے میں نے ان سبز قالینوں کو دیکھانے کی کوشش کی ہے جو '' ریاض الجنه '' میں بچھے ہوتے ہیں اور اس وقت انکا کچھ حصہ رول کر دیا گیا ہے تا کہ '' ریاض الجنه '' کا فرش نظر آ سکے - '' ریاض الجنه '' کے یہ سبز قالین پوری مسجد النبوی کے دیگر حصوں میں بچھے سرخ رنگ کے قالینوں سے صرف اس لیے مختلف رکھے گیے ہیں تا کہ لوگ جنت کے اس حصے کو آسانی سے پہچان سکیں -
اب آپ ذرا ستونوں پر نظر دوڑائیں تو دور والے ستوں کو میں نے براؤں کلر کے تیر سے دیکھایا ہے اور اس ستوں کو '' اسطوانہ سریر '' کہتے ہیں جہاں حالت اعتکاف میں رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کا سریر یعنی بستر لگایا جاتا تھا تا کہ آپ آرام کے وقت یہاں آرام کر سکیں اور حجرہ مبارک سے ایک کھڑکی اس مقام پر نکلتی تھی جس کا نشان آج بھی موجود ہے اور اندر سے بی بی اماں عائشہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے گپسو مبارک میں تیل ڈال دیا کرتی تھیں - آج کی پوسٹ میں ان مبارک ستونوں کا ذکر مقصود نہیں اسلئے بس 'مختصرا' اور اجمالا'' ان کا ذکر کر رہا ہوں - بیچ والے ستوں کو میں نے نیلے تیر سے ظاہر کیا ہے ، یہ '' اسطوانہ حرس '' یعنی محافظ والا ستوں کہلاتا ہے کیوں کہ اس مقام پر سیدنا علی رضی الله تعالی عنہ اس وقت تک رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی حفاظت کی پہرے داری کے فرایض انجام دیتے رہے جب تک الله سبحانہ و تعالی نے وحی کے ذریعے از خود رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی حفاظت کا ذمہ نہ لے لیا - اسکے بعد آپکو سب سے نزدیک '' کالے تیر '' والا ستوں نظر آ رہا ہے جو '' اسطوانہ وفود '' کہلاتا ہے کیوں کہ اس مقام پر رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم مختلف مقامات سے آنے والے وفود سے ملاقات کیا کرتے تھے -
اب ہم اپنے اصل موضو ع کی جانب آتے ہیں - کالے تیر والے ستوں یعنی '' اسطوانہ وفود '' اور نیلے تیر والے ستوں یعنی '' اسطوانہ حرس '' کے درمیان آپکو ایک دروازہ نظر آ رہا ہے جسکو میں نے '' سرخ تیر '' سے واضح کیا ہے اور اس دوازے کو '' باب وفود '' کہا جاتا ہے - بس ، بس ، بس اسی مقام پر رک جایے اور غور سے ان تین سبز تیروں کی جانب دیکھیں جو آج کی پوسٹ کی اصل روحانی کہانی ہے- کہانی نہیں بلکہ حقیقت ہے -
ترک سلطان عبدلمجید کے دور میں جب '' ریاض الجنه '' کی از سر نو تزین و آرایش ہو نے لگی اور چھت پر گنبد بناتے جانے لگے تو سلطان کی خواہش تھی کہ '' ریاض الجنه '' میں موجود اوپر بیان کردہ تین ستونوں سمیت جو کل چھہ روحانی اور تاریخی ستوں ہیں جن میں '' اسطوانہ عائشہ '' ، '' اسطوانہ
ابی لبابہ '' اور '' '' اسطوانہ مخلقه'' بھی شامل ہیں جن ذکر آج کی پوسٹ میں ، میں نے نہیں کیا ہے ، انکے مقامات میں ذرہ برابر تبدیلی نہ ہو - گویا چھت پر گنبد تو بنایے جائیں پر چھہ کے چھہ تاریخی ستون ایک انچ بھی اپنی جگہہ سے نہ ہٹیں -
اسی لیے آپ اگر کبھی '' ریاض الجنه '' میں کھڑے ہوکر چھت کی جانب دیکھیں یا اوپر جاکر چھت دیکھیں تو آپکو چھت پر بنے گنبد چھوٹے بڑے مختلف سایز کے نظر آئیں گے کیوں کہ بنانے والوں کی مجبوری تھی جن ستونوں پر چھت ڈال کر گنبد بنانے تھے کہ انھیں اپنے پرانے مقام سے ہٹانے کی اجازت نہ تھی -
اب اصل واقعہ پر آئین ----- '' ریاض الجنه '' کے مختلف حصوں میں جب کھدائی ہو رہی تھی تا کہ مظبوط ستوں استوار کے جائیں تو روضۂ مبارک کی دیوار میں '' باب الوفود '' ( لال تیر دیکھیں ) کے قریب '' ریاض الجنه '' میں جب کوئی آٹھہ ہاتھہ یعنی چار میٹر کھدائی کی گئی تو وہاں خلاف توقع اچانک ایک میٹھے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا - ( مقام کے تعین کے لیے تین سبز تیروں کو دیکھیں ) -
چشم دید لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پانی '' زلال جنت '' کی طرح سفید اور نہایت شرین تھا - زلال '' انڈے کی سفیدی کو کہتے ہیں '' - اس پانی سے فیضیاب ہونے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پانی پینے میں مدینہ منورہ کے دیگر کنووں کے مقابلے میں سب سے منفرد اوریکتا تھا - یہ بے مثل پانی تھا اور شاید '' ریاض الجنه '' میں ہونے کی وجہ سے جنت کا ہی پانی ہو - اس چشمے کے گرد پرانے کھجور کے درختوں کی سبز جڑیں بھی پائی گیئں -
یہ متبرک پانی سلطان عبدلمجید
کی خدمت میں بھی پیش کیا گیا مگر سلطان نے نامعلوم وجوہ کی بنا پر اس کو بند کروا دیا مگر یہ یقین کامل ہے کہ آج بھی یہ متبرک جنتی پانی تقریبا'' اس مقام پر جہاں تین سبز تیر بنے ہیں محض چار یا چھہ میٹر نیچے موجود ہوگا -
کیا اچھا ہو کہ اب جب کبھی ہم سب مدینہ منورہ بلایے جائیں تو چند ساعتیں یہاں رک کر اس معجزانہ پانی کا تصور اپنے ذہنوں میں گھومائیں اور اسکی روحانی لطافتوں سے محظوظ ہوں -
اس واقعہ کا ذکر '' اللوا صادق باشا '' نے اپنے عربی سفر نامے '' الرحلات
الحجازية '' میں کیا ہے جو انٹر نیٹ پر بھی موجود ہے - یہ سفر آپ نے انیسویں صدی کے آخر میں کیا تھا اور انہوں نے یہ واقعہ انجینئیر محمود آفندی سے نقل کیا ہے جو اس مبارک کام پر مامور تھے اور چشم دیدہ گواہ تھے - بقول '' اللوا صادق باشا ''کے انھیں بھی ان متبرک کھجوروں کی کچھ باقیات نصیب ہوئیں - الله أعلم
( میں نے اس پوسٹ کے کچھہ اختتامی پیرے '' جستجو ے مدینہ '' سے مستعار لیے ہیں - )

جبل المسخوطة=========الله سبحان و تعالی نے اپنی قدرت سے اسےپتھر کے مجسمے میں تبدیل کر دیا============================فرا...
06/02/2021

جبل المسخوطة
=========
الله سبحان و تعالی نے اپنی قدرت سے اسے
پتھر کے مجسمے میں تبدیل کر دیا
============================
فرام دی ڈسک آف
خاکروب حرم== وسیم احمد خاکی...
AHLANPK.ORG
===============================
مکّہ مکرمہ جانے والے حاجی اور زائرین عمرہ مکّہ میں موجود
'' جبل ثور '' کی زیارت کو بڑی اہمیت دیتے ہیں کیوں کہ یہ وہ پہاڑ ہے جس کی ایک تاریخ ساز غار '' غار ثور '' میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہجرت کے موقح سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ قیام کیا
تھا اور اپنے آپ کو دشمنوں سے چھپایا تھا -

اس پہاڑ کی عظمت سے تو شاید ہی کوئی مسلمان منکر ہو ، لیکن بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ اس پہاڑ کے سیدھے ھاتھہ پر ایک اور پہاڑ ہے جسکو '' جبل المسخوطة '' کہتے ہیں جو کھردرے اور بنجر ''جبل ثور '' کے مقابلے میں کچھ سر سبز اور شاداب نظر آتا ہے - اس تصویر نمبر ایک میں ہرے تیر سے میں نے ' جبل المسخوطة '' کو ظاہر کیا ہے جنکہ نیلے تیر سے میں نے '' جبل ثور '' کو دیکھایا ہے -

جب ہم کسی مذہب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اول نمبر پر ان باتوں پر یقین کرنا پڑتا ہے جو اس مذہب کی بنیادی کتاب (الہامی یا غیر الہامی ) میں درج ہوتی ہیں - دین اسلام میں اس مقام پر بلا شبہ '' قرآن حکیم '' ہے - دوم درجے پر وہ باتیں آتی ہیں جو اس مذہب کے داعی کے احکامات ہوتے ہیں یا اسکی حرکت و سکنات ہوتی ہیں جو اسکے سچے پیرو کار آئندہ کی نسلوں تک پہنچاتے ہیں - ان باتوں میں دائی کے زمانے میں موجود پیروکاروں کا سچا ہونا اور بعد کی نسلوں کا ان باتوں کو جوں کا توں رکھنا ان باتوں کے سچ ہونے کی بنیادی شرط ہوتی ہے - دین اسلام میں اس مقام پر '' احادیث صحیح '' کا مقام ہے اور یہ دنیا کا واحد مذہب ہے جسکے پیروکاروں نے اس پر بہت محنت کی اور احادیث مبارکہ کو دین اسلام میں '' قران پاک '' کے بعد یقین کے درجے تک پہنچایا ہے -

تیسری صورت تاریخی حوالوں کی ہوتی ہے جو مورخ تحریر کرتا ہے اور تاریخ کی کتابوں میں یہ حوالے ملتے ہیں - کیوں کہ تاریخ کا ہر صفحہ دنیاوی علوم کا ماہر ایک عام انسان تحریر کرتا ہے جس میں صرف اس حد تک تو ملاوٹ کی گنجائش موجود ہوسکتی ہے جہاں اس تاریخ دان کا کوئی ذاتی مفاد موجود ہو یا اس دور کے حکمران تاریخی واقعات کو اپنے مقاصد میں تبدیل کرنا چاہیں - لیکن ایک مخصوص موضوع کی تاریخ لکھنے والے صرف ایک خاص خطے کے لوگ نہیں ہوتے بلکہ وہی تاریخ دنیا کے دوسرے خطوں میں بسنے والے مورخ بھی لکھ رہے ہوتے ہیں ، اس لیے تاریخ بھی بہت حد تک قابل اعتبار دستاویز تصور کی جاتی ہے -

چوتھی صورت روایات کی ہوتی ہے جوزبانی ، سینہ بہ سینہ نسلوں میں منتقل ہوتی جاتی ہے اور کسی مستند کتاب میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوتا لیکن صدیوں سے یہ روایات اس قدر شد و مد
سے بہ زبان تذکرہ رہتی ہیں کہ ان کی سچائی پر یقین سا ہونے لگتا ہے - جیسے روایات میں ہی آیا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب '' غار ثور '' میں پناہ لی تو مکڑی نے اسکے دھانے پر جالا تن دیا اور کبوتریون نے اس پر انڈے دے دیے تاکہ قریش کے کافر جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی تلاش میں تھے انھیں یہ یقین دلایا جا سکے کہ اس غار کے اندر کوئی موجود نہیں کیوں کہ مکڑی کا جالا اور کبوتروں کے انڈے یہ ظاہر کر رہے تھے کہ اس غار کو بہت عرصے سے کسی نے استمعال ہی نہیں کیا - اب دیکھیں یہ واقعات روایات ہیں اور یقین کی حد تک پہنچ چکے ہیں -

اھلا'' کے آج کے کویز میں بھی جو سوال پوچھا گیا تھا وہ ایک مشہور روایت کے تناظر میں تھا - اب آپ جواب سنیں -

جبل ثور کے داہنی جانب موجود پہاڑ '' جبل المسخوطة '' دار اصل جبل ثور کا ہی تسلسل ہے لیکن روایات کہ مطابق یہاں ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ اس کو ' جبل المسخوطة '' کے نام سے مخصوص کر دیا گیا - ''مسخوطة'' کے معنی کلاسیکل عربی زبان میں '' "The Cursed کے ہیں یعنی جس پر'' تف ہو ''-

کہا جاتا ہے کہ ہجرت کے سفر کے موقع پر جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم ، سیدنا ابو بکرصدیق رضی الله تعالی عنہ کے ساتھہ '' غار ثور '' میں پناہ لیے ہوۓ تھے اور قریس کے کفّار تلواریں تھامے آپکی تلاش میں ''جبل ثور '' کی جانب بڑھ رہے تھے تو اس وقت '' جبل المسخوطة '' پر ایک عورت جو وہاں اپنی بھیڑیں چرا رہی تھی - اس نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم ، سیدنا ابو بکرصدیق رضی الله تعالی عنہ کو '' ثور '' کی غار کی جانب جاتے دیکھ لیا تھا - جب قریس کے کفّار نے اس عورت سے دریافت کیا کہ کیا اسنے دو اشخاص کو اس جانب آتے تو نہیں دیکھا تو اس عورت نے انکو یہ بات بتانا چاہی کہ اس نے '' غار ثور '' کی جانب دو لوگوں کو جاتے دیکھا ہے تو وہ عورت الله کریم کے عذاب سے دو چار ھوئی اور الله سبحان و تعالی نے اپنی قدرت سے اسے پتھر کے مجسمے میں تبدیل کر دیا اور اسی واقعہ کی وجھہ سے اس پہاڑ کو '' جبل المسخوطة '' کہا جانے
لگا - واللہ اعالم بالصواب ( الله ہی کو ہر ظاہر اور ڈھکی چھبی بات کا مکمل علم ہے -)

پچیس تیس سال پہلے تک اس پہاڑ پر ایک مجسمہ نما صورت موجود تھی اور اسکی ایک بلیک اینڈ واہیٹ اخباری تصویر بھی میرے پاس تھی پر نا جانے میں نے وہ کہاں رکھ دی ہے - بہت تلاش کی نہیں ملی - جب الله سبحان و تعالی کا حکم ہوگا وہ نادر تصویر مجھے مل جایے گی تو انشااللہ آپکی خدمت میں پیش کر دوں گا -
=========================

اور الحمد الله اب مجھے وہ تصویر مل گئی اور پیش خدمت ہے - بت کی صورت میں اس چرواہی کو دیکھا جا سکتا ہے - تصویر نمبر دو دیکھیں -
- اور ہر چیز کا مکمل اور بہترین علم الله سبحان و تعالی کو ہی ہے

Address

Www. Ahlanpk. Org
Karachi
33424

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahlan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Ahlan:

Share