07/03/2026
کرنا نہیں تھا عشق روانی میں ہو گیا
خانہ خراب عین جوانی میں ہو گیا
دو چار دن تو سب نے دلاسے دیئے ہمیں
پھر سب کا دھیان اپنی کہانی میں ہو گیا
تنہا تمام عمر نبھایا گیا اسے
وعدہ جو ایک شام سہانی میں ہوگیا
جو درد قہقہوں میں چھپا ہی گیا تھا میں
ایک دم عیاں وہ آنکھ کے پانی سے میں ہو گیا