NS reels

Directions

NS reels entertainment

10/10/2025

دیسی علاج
کچھ دن پہلے میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے ملتان گیا تو وہاں ایک عزیز کے ہاں ٹھہرا.. وہ مجھے لاہور میں رہنے کی وجہ سے کافی قابل اور جہاندیدہ سمجھتے ہوئے اپنے حالات اور دکھڑے سناتے رہے...
دکھوں میں سر فہرست ان کا بیٹا ارشاد تھا، جو کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا، بس گھر میں لیٹا رہتا یا باہر کسی تھڑے پر دوستوں کے ساتھ محفل جمائے رکھتا...
میرے عزیز جن کو میں چاچا جی کہتا ہوں، نے بتایا کہ ارشاد اوٹ پٹانگ شاعری کرتا رہتا ہے، محلے کی لڑکیوں پر نظر پڑے تو کھو سا جاتا ہے، بال بڑھائے ہوئے ہیں، شیو بڑھی ہوئی ہے، شال اوڑھے رکھتا ہے...
کبھی جون ایلیا بن جاتا ہے، کبھی اس میں ناصر کاظمی کی روح سرایت کر جاتی ہے اور کبھی خود کو احمد فراز سمجھ لیتا ہے، جسے میرے بڑھاپے کا سہارا ہونا چاہئے وہ خود سہارے تلاش کرتا پھر رہا ہے..
پھر کہنے لگے۔۔ "عین بیٹا، ارشاد تمہاری بات مانتا ہے، تم ذرا اسے سمجھاو، شاید راہ راست پر آ جائے"..
میں نے اپنا اچھا ہونے کا بھرم قائم رکھنے کی خواہش میں ان سے وعدہ کر لیا کہ مقدور بھر کوشش کروں گا، آگے اللہ کی مرضی...
شام کو میں ارشاد کے کمرے میں گیا، وہ کرسی پر بیٹھا چھت کو تکے جا رہا تھا میں نے اسے آواز دی۔۔ "ارشاد".... اس نے ایک لمحے کو میری جانب دیکھا پھر ساتھ پڑی ڈائری کھول کر مجھے ایک نظم سنانے لگ گیا، نظم میرے اوپر سے گزر گئی، جب نظم ختم ہوئی تو میں نے اسے دوبارہ مخاطب کیا "ارشاد"... اب اس نے ایک غزل ترنم میں سنانا شروع کر دی..
مجھے یقین ہو گیا کہ لڑکا تقریباً پاگل ہو چکا ہے...
میں نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔۔"یار، میں تم سے ملنے آیا ہوں اور تم مجھے اپنی رام لیلا سنانے لگ گئے ہو".. کہنے لگا۔۔"عین حیدر، تم نے خود ہی تو کہا تھا 'ارشاد'.. تب ہی تو میں نے سنانا شروع کیا"..
میں نے کہا "یار میں نے تو تمہارا نام لیا تھا"... بولا۔۔ "لیکن میرا نام تو ملک ارشاد حسین ہے"... میرا دل کیا کوئی چیز اٹھا کر اس کو دے ماروں، پھر سوچا، پہلے اسے سمجھا تو لوں، سمجھ گیا تو ٹھیک ورنہ یہ آپشن تو ہے ہی...
میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ "ارے یار کتنی گہری بات کہہ دی تم نے، میں معذرت خواہ ہوں، اتنی سی بات نہ سمجھ سکا"...
اس کے چہرے پر ایک تکلیف دہ قسم کی مسکراہٹ ابھری اور اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا، میں اس کے قریب پڑی چارپائی پر بیٹھ گیا اور مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔ "یار شادے، یہ تم نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے"... کہنے لگا "میری حالت پہ ہنستے ہو بڑے سنگدل ہو"..
میرا ماتھا ٹھنکا، کیس کافی ٹیڑھا لگ رہا تھا، میں نے پوچھا۔۔ "یار، دکھی آتما کیوں بنے ہوئے ہو، کیا روگ لگا بیٹھے ہو خود کو"..
چھت کو گھورتے ہوئے بولا "عین حیدر بابو، تم نہیں سمجھو گے ان باتوں کو"..
میں نے کہا۔۔ "یار شادے، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، بچپن میں تمہیں کوئی دماغی چوٹ بھی نہیں لگی، نہ تمہارے سر میں کوئی اینٹ لگی نہ ہی تم کبھی چھت سے گرے، پھر کیوں ایسے ہو گئے ہو"..
تلخی میں ڈوبا قہقہہ لگا کر بولا۔۔ "عشق والوں کا دنیا ہمیشہ مذاق اڑاتی رہی ہے، تم بھی مزاق اڑا لو عین حیدر"..
میں نے کہا۔۔ "یار تمہیں اگر کسی سے عشق ہے تو بتاو، میں چاچا جی سے بات کرتا ہوں، اور ان کے ساتھ جا کر تیرے لئے رشتہ بھی مانگنے کو تیار ہوں، تو مجھے بتا تو سہی"...
کہنے لگا۔۔ "عین حیدر، یہ عشق تو ہجر و فراق کی بھٹی میں جلنے کا نام ہے، عشق والے وصال کب مانگتے ہیں"..
میں خود کو باز نہ رکھ سکا اور کہا "شادے، جس دن تیرا وصال ہوا، لوگ چاول کھا رہے ہوں گے اور تم قبرستان شفٹ ہو جاو گے، عجیب ڈرامے ہو یار، اتنی گرمی میں بھلا شال اوڑھنے کی کیا تک بنتی ہے، بال اور شیو بڑھانے سے بندہ عاشق یا شاعر تھوڑی بن جاتا ہے، بتاو اصل سٹوری کیا ہے"...
اسی پرسکون لہجے میں گویا ہوا۔۔ "سردی گرمی کی پروا کسے ہے... اور میرے بالوں کے بڑھنے سے کسی کو کیا مسئلہ ہے، اور یہ شال تو میں خود کو مذید بکھرنے سے بچانے کیلئے اوڑھتا ہوں"...
میں اس کے پرسکون انداز سے چڑ رہا تھا، عجیب شخص تھا، نہ کچھ سمجھتا تھا نہ غصہ کرتا تھا...
میں نے کہا "شادے، کوئی کام دھندہ کیوں نہیں کرتے، تیرے سارے رشتہ دار اور دوست کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں، صرف تم ہی نکمے ہو، ایک ٹکا نہیں کماتے، گھر میں بوڑھے والدین اور جوان بہنیں ہیں، کچھ ان کا ہی خیال کر لو"..
کہنے لگا "عین حیدر، جن لوگوں کے بیٹے نہیں ہوتے صرف بیٹیاں ہوتی ہیں، وہ بھی تو آخر زندہ رہتے ہیں نا، میرے گھر والوں کا بھی اللہ مالک ہے"..
مجھے مذید غصہ آ گیا، میں نے کہا۔۔ "یار، تم مجھ سے بھی زیادہ بہانے باز ہو، دن میں چھ چھ کپ تیز پتی والی چائے پی جاتے ہو، سگریٹ کی بھی ایک ڈبی پھونک جاتے ہو، کب تک چاچا جی تمہارے چونچلے پورے کرتے رہیں گے، میری مانو تو چنگچی چلانا شروع کر دو، یا رفیق کے تندور پر کلچے لگانا سیکھ لو، اچھی دیہاڑی لگ جائے گی، یا پھر سبزی کی دکان کھول لو"...
کہنے لگا۔۔ "عین حیدر، افسوس تم نے بھی ملک ارشاد حسین کو نہیں پہچانا، تمہارے نزدیک بھی گویا عشق کوئی کام نہیں ہے، تمہیں کیا پتا عشق کے رتبے کا، یہ جس تن نوں لاگے، وہ تن جانے"....
یار بہت ہی ٹیڑھی کھیر قسم کی شخصیت تھا... میں نے سوچا، کاش سیفی کو ساتھ لے آتا، وہ اس کو صحیح ڈیل کر سکتا تھا... میں نے کہا۔۔ "یار شادے، پھر تم ایک دو عشق اور کر لو، تاکہ چاچا جی کی آنکھیں بنوائی جا سکیں"..
کہنے لگا "عین حیدر، جو میں سوچتا ہوں اور دیکھتا ہوں، تم اس کی الف ب بھی نہیں جانتے"..
میں بے اختیار ہنس پڑا، ارشاد مجھے حیرت سے دیکھنے لگا، میں نے کہا۔۔ "یار، میرا خیال تھا، میں اور سیفی بہت بڑی فلمیں ہیں اور ہم سے بڑا ہڈ حرام، بہانے خور اور نکما بندہ شاید ہی دنیا میں کوئی اور ہو، لیکن مہاراج، آپ ہمارے بھی گرو ہو"...
معصومیت سے بولا۔۔ "تمہارے دوست سیف اللہ خان کا کیا حال ہے".. ارشاد لوگوں کو ان کے پورے نام سے بلاتا تھا..
میں نے کہا۔۔ "یار، تم کسی طرح لاہور آ جاو، ہم لوگوں کو تم سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا، قسم سے نان سٹاپ قسم کی فل پیکج والی فلم ہو"...
اسی سنجیدگی سے بولا "عین حیدر کیا کروں، ابا جی نہیں مانتے"..
اتنے میں ارشاد کے والد کمرے میں داخل ہوئے اور مجھ سے پوچھنے لگے۔۔ "ہاں، عین پتر، کچھ سمجھ لگی"...
میں نے کہا "چاچا جی، شادا لا علاج اے، اینکوں لاہور گھن ونجو (چاچا جی، ارشاد لاعلاج ہے، اس کو لاہور لے جائیں)".....
چاچا جی کے چہرے پر یکایک پریشانی کے سائے پھیل گئے، پوچھنے لگے۔۔ "اسے کیا بیماری ہے بھلا، اور اس کا علاج کہاں ہو گا"..؟
میں نے کہا "چاچا جی، بیماری کا ایلو پیتھک نام تو مجھے بھی نہیں پتا، اور اس کا علاج بھی کافی مہنگا ہے، ہاں اس کا دیسی علاج ممکن ہے اور گھر میں ہی ہو سکتا ہے"۔۔
کہنے لگے۔۔ "پتر، بتاو تو سہی، میں اپنے شادے کا علاج کروانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا"....
میں نے ہمت کر کے بتایا۔۔ "چاچا جی، بیماری کا نام ہے نکما پن اور ہڈ حرامی، اور اس کا علاج صرف ایک ہی ہے لتر، لتر اور بس لتر"..
میری بات سنتے ہی چاچا جی نے اپنا گیارہ نمبر کا کلغی والا کھسہ اتارتے ہوئے کہا۔۔ "عین، شک تو مجھے بھی یہی تھا، اب تم نے کنفرم کر دیا ہے تو ابھی سے علاج شروع کر دیتا ہوں، اس کو ملتان میں ہی لاہور نہ دکھا دیا تو میرا نام بھی ملک دلشاد نہیں"..
میں ڈاکٹر اور مریض کو کمرے میں چھوڑ کر فوراً باہر چلا گیا...چاچا جی نے اچانک ہی علاج شروع کر دیا، شادے کی ترنم سے بھرپور چیخیں باہر تک آ رہی تھیں، کمرے میں تو یقیناً قطعوں اور ربائیوں کا ڈھیر لگ گیا ہو گا...
اب میرا فوری طور پر لاہور واپس جانا ناگزیر ہو چکا تھا، اس سے پہلے کہ ملک دلشاد اور زین بھائی کی آپس میں بات چیت ہو اور زین بھائی مجھے بھی ارشاد والے وارڈ میں داخل کروا دیں۔۔
زین بھائی کے خیال میں مجھے بھی کم و بیش ملک ارشاد والی بیماری ہی لاحق ہے..😉

(عین حیدر)


Everyone is Included-All People, All Places, All Ways

04/10/2025

میرے اس دوست نے اپنا نیا گھر دکھانے کا اغاز اپنے عالیشان محل کی بجائے خلاف توقع سرونٹ کوارٹر سے کیا اور میں مارے حیرت کے کبھی اسکو اور کبھی اسکے اس سرونٹ ایریا کو دیکھتا جو ہر لحاظ سے ایک شاہکار اور دنیا کی ہر جدید آسائیش سے مزین تھا ...

انسٹینٹ گیزر ، بہترین چولھا ، باتھ روم میں لگے انڈین اور انگلش کموڈ ، لانڈرھی میں فکس ہوئی مشین اور سب سے بڑھ کر کمرے میں لگے اے سی نے مجھے حیرت میں ڈال دیا جسکی وضاحت دیتے ہوئے میرے دوست نے بتایا کہ یار سارے گھر میں نئے اےسی لگائے تو بجائے پرانے اے سی پچاس پچاس ہزار میں بیچنے کے اپنے ڈرائیور اور گارڈ کو اٹھا دیے اور ہاں ...

ایک اے سی سرونٹ روم میں یوں لگا دیا کہ دن بھر تو ہر چیز سولر پر چلے گی تو میرا کیا جاتا ہے کہ اگر ملازمہ یا اسکے بچے بھی کچھ دیر کےلیے ٹھنڈی ہوا میں سو جائیں گے دوسرا شام کو یہ لوگ ویسے ہی چارپائیاں باہر لگاتے ہیں تو اےسی استمال ہی نہیں ہو گا میں حساسیت سے عاری ایک جانور نما انسان ہوں لہذا اپنے اس دوست کی ایسی پیچیدہ باتوں کو سمجھنا میرے لیے ایک مشکل عمل تھا دوسرے ...

میں اسکے بنے اس سرونٹ ایریے کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ اسکا سرونٹ کوارٹر ایسا ہے تو گھر کتنا عالیشان ہو گا مگر اس سے پہلے کہ میں اسکا محل نما عالیشان گھر دیکھتا وہ یہ کہتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گیا کہ یار گھر کو چھوڑو گھر تو سب کے ایک جیسے اور عالیشان ہی ہوتے ہیں بس سرونٹ ایریا دکھانا تھا جسے دیکھ کر میری طرح تجھے بھی یقینا دلی خوشی ہو گی ...

اپنے اس دوست کو دیکھا تو چشم تصور میں اونٹ کی مہار پکڑے اور خادم کو اونٹ پر بٹھائے لاکھوں مربع میل کے مالک عمر بن خطاب (ر) بھی آئے جو فلسطین کی سر زمینوں پر یوں داخل ہوئے کہ لوگوں کےلیے محمود و ایاز کی تفریق مشکل تھی ...

دنیا کے سات ارب لوگوں میں شاید ایسے سات لوگ بھی بمشکل اس دنیا میں موجود ہوں جیسا میرا یہ فرشتہ نما دوست ہے کہ جو اسقدر جداگانہ سوچتا ہے کہ واقعی ...

احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ورنہ
آنچل بھی اسی تار سے بنتا ہے کفن بھی

احمد افتخار قیصرانی
..کاپیڈ...
..منقول...


میری پوسٹس دوسروں کی وال پر نظر کیوں نہیں آتی🤔؟میری ریچ کیوں صفر ہے🥲؟آپ محنت سے تصویریں بناتے ہیں، اچھا سا کیپشن لکھتے ہ...
02/10/2025

میری پوسٹس دوسروں کی وال پر نظر کیوں نہیں آتی🤔؟میری ریچ کیوں صفر ہے🥲؟آپ محنت سے تصویریں بناتے ہیں، اچھا سا کیپشن لکھتے ہیں اور پوسٹ ڈال دیتے ہیں، لیکن لائکس اور کمنٹس آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر بالکل اسی طرح ہیں جیسے کوئی محفل میں بیٹھ کر سب کو نظر انداز کرے اور الگ تھلگ ہو جائے۔ بتائیے، ایسے میں کیا کوئی آپ سے بات کرے گا یا اگلی بار یاد رکھے گا؟ یقیناً آپ کا جواب نفی میں ہو گا

سوشل میڈیا بھی ایک محفل ہے جہاں لوگ آپس میں بات کرتے ہیں، رائے دیتے ہیں، دوسروں کو سپورٹ کرتے ہیں، تجربات شیئر کرتے ہیں اور تعلقات بناتے ہیں۔ اس محفل میں کامیاب وہی ہوتا ہے جو سب کو سلام کرتا ہے، حال احوال پوچھتا ہے، گفتگو میں حصہ لیتا ہے اور اپنے تعلقات کو بڑھاتا ہے۔ جتنا آپ کا حلقہ احباب وسیع ہوگا، اتنا ہی آپ کا بزنس آگے بڑھے گا۔ اور یہی ہے اورگینک مارکیٹنگ کا سب سے بڑا جادو۔ آپ دوسروں کے لیے سپورٹ بنیں گے تو وہ بھی آپ کے لیے سہارا بنیں گے ۔

میرا اپنا تجربہ بھی ایسا ہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میں صرف ایک سائلنٹ ریڈر تھی۔ دوسروں کی پوسٹس دیکھتی رہتی لیکن نہ لائک کرتی نہ کمنٹ۔ نتیجہ یہ کہ میری اپنی پوسٹس کی ریچ بالکل صفر تھی۔ پھر میں نے ایک ٹپ پڑھی کہ اگر ریچ بڑھانی ہے تو دوسروں کی پوسٹس پر کمنٹ اور لائک کریں، لیکن کمنٹ ہمیشہ پوسٹ سے جڑا ہوا ہو۔ مثال کے طور پر بزنس پوسٹ ہے تو اپنی رائے یا کوئی چھوٹی سی ٹِپ دے دیں۔ فوڈ پوسٹ ہے تو بتائیں کہ آپ نے بھی یہ ریسپی ٹرائی کی اور کیسی بنی۔
یہ نائس ،گڈ ورک ،ویل ڈن اور بمپ والے کمنٹس کرنے سے پرہیز کریں ۔
جب میں نے یہ طریقہ اپنایا تو میری ریچ آہستہ آہستہ بہتر ہونا شروع ہوگئی۔ لوگ مجھے پہچاننے لگے، میری پوسٹس پر بھی آ کر کمنٹس کرنے لگے اور میرا پیج مزید ایکٹو ہوگیا۔ جو ریچ پہلے صفر تھی وہ آج بہت بہتر ہے۔

اب آپ کی باری ہے۔ شکایتیں چھوڑیں اور عملی قدم اٹھائیں۔ دوسروں کی پوسٹس پر جا کر لائک اور کمنٹ کریں، تعلقات بنائیں اور خود دیکھیں کہ آپ کی پوسٹس پر کیسے جادو ہوتا ہے۔ آج سے ہی یہ عادت شروع کریں اور چند دنوں میں اپنی بڑھتی ہوئی ریچ دیکھ کر اپنی اور اپنے بزنس کی
HB
😂میں اضافہ کریں

تو کیا آپ تیار ہیں اپنا چپ کا روزہ توڑ کر دوسروں کے ساتھ گھلنے ملنے کے لیے؟





Everyone is Included-All People, All Places, All Ways

01/10/2025

غ زہ کی مدد کے لیے جانے والے بحری قافلوں کی افسوس ناک تاریخ:

غ زہ کی ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے دنیا بھر سے انسانیت کا درد رکھنے والے لوگ بارہا سمندر کا راستہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ یہ صرف امداد لے جانے والے جہاز نہیں تھے بلکہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر حق اور سچ کی جنگ کے لیے خالی ہاتھ نکلے بہادر اور عظیم لوگ تھے۔

ایک نظر تاریخ پر ڈالیے اور دیکھیے کہ ایک چھوٹے سے ملک نے کیسے برسوں سے غ زہ کا محاصرہ کر رکھا ہے کہ دنیا بھر سے لوگوں کا احتجاج ، کئی ملکوں کا دباؤ اور پرامن امدادی کوششیں بھی اس محاصرے کو ختم نہیں کرسکیں۔

2009 – Gaza Freedom March

قاہرہ سے نکلنے والے ہزاروں کارکنوں کو غ زہ کے قریب ہی روک دیا گیا۔

2010 – Gaza Freedom Flotilla / Mavi Marmara

چھ جہاز غ زہ روانہ ہوئے تھے لیکن ق ابض از+را+ئیلی فورسز نے بین الاقوامی پانیوں میں ان امن پسند اور نہتے لوگوں پر حملہ کردیا ۔ حملے میں ترکی کے دس لوگ شہید ہوئے۔

2011 – Freedom Flotilla II

تقریباً 10 جہاز غ زہ روانگی کے لیے اور مظلوموں کی مدد کے لیے جانے کے لیے تیار تھے، لیکن اس وقت کی یونانی حکومت نے از+را+ئیل کے دباؤ میں آ کر جہازوں کو بندرگاہوں سے نکلنے نہ دیا۔

2012 – Ship to Gaza (Estelle)

سویڈن سے غ زہ جانے کے لیے نکلی کشتی Estelle کو از+را+ئیل نے زبردستی ضبط کر لیا تھا۔

2015 – Freedom Flotilla III

جہاز Marianne of Gothenburg کو از+را+ئی+لی نیوی نے زبردستی روک کر عملے کو گرفتار کرلیا تھا۔

2016 – Women’s Boat to Gaza

دو کشتیوں میں صرف خواتین بھیجی گئی تھیں تاکہ کم از کم خواتین کو احتراما جانے دیا جائے لیکن خواتین کارکنان کی کشتیوں Zaytouna-Oliva کو بھی زبردستی روکا گیا اور سب خواتین کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

2018 – Freedom Flotilla Alliance

ناروے اور سویڈن سے نکلنے والے کئی جہاز (Freedom, al-Awda, Mairead) سب کو از+را+ئی+ل نے راستے میں روک لیا اور غ زہ نہیں پہنچنے دیا۔

2019–2023

غ زہ جانے کے لیے کئی چھوٹی چھوٹی کوششیں کی گئیں، مگر یا تو قاہرہ/قبرص میں روک دی گئیں یا از+را+ئی+ل نے سمندر میں روک لیا۔

اب 2025 میں: Global Sumud Flotilla

یہ قافلہ صرف امداد نہیں لے جا رہا، بلکہ یہ اس پوری تاریخ کا تسلسل ہے۔ ہر بار دنیا بھر سے لوگ نکلے، ہر بار ناپا+ک طاقت نے ان کا راستہ روکا لیکن ہر بار لوگ پہلے سے بھی زیادہ جوش سے غ زہ جانے کے لیے نکلے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا اس وقت انتہائی خطرے کے علاقے میں ہے یہ وہی جگہیں ہیں، جہاں اس سے پہلے زبردستی جہازوں کے رخ موڑے گئے ، کئی جہازوں کو از+را+ئیل لے جا کر اس پر سوار لوگوں کو قید کیا گیا۔ ترکی کے امدادی کارکنان کی شہادت کا واقعہ پوری دنیا کو لرزا دینے والا تھا۔

تکلیف دہ سوال یہ ہے کہ:

کیا اس بار بھی تاریخ دہرائی جائے گی؟
کیا پھر سے امن ، انسانیت اور استقامت کے قافلے کو زبردستی روکا جائے گا؟
کیا ہم اتنا سب جاننے کے بعد بھی خاموش رہیں گے یا پھر گلوبل صمود فلوٹیلا کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر کے پوری دنیا کے ساتھ مل کر یہ دباؤ ڈالیں گے کہ غ زہ کی محصور ، مظلوم اور گلوبل صمود فلوٹیلا کی منتظر عوام تک امداد پہنچائی جائے۔
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کی کامیابی کے لیے دعائیں کریں اور اس کی حفاظت کے لیے آواز اٹھائیں۔

#صباایشل



#

01/10/2025

نیاز! یہ کالم پڑھو تو رابطہ کرو
نیاز تین چار سال پہلے میرا ڈرائیور تھا۔گاڑی بہت صاف رکھتا تھا‘ گھر کا چھوٹا موٹا پلمبرنگ کا کام بھی کردیتا تھا‘ خراب انرجی سیور بھی ٹھیک کرلیتا تھا‘ پانی والی موٹر کی ریپرئنگ بھی جانتا تھا۔۔۔الغرض ہر کام میں کچھ نہ کچھ ماہر تھا سوائے ڈرائیونگ کے۔اِس معاملے میں اُس کے اپنے ہی اصول تھے۔ مثلاً گاڑی ریورس کرتے ہوئے وہ شیشوں کی مدد لینے کا قائل نہیں تھا۔ جونہی ٹھاہ کی آواز آتی، خود ہی سمجھ جاتا کہ گاڑی اب مزید ریورس نہیں ہوسکتی۔اُس کے اکثر کام میرے ذمہ تھے۔ مثلاً شام کوکسی ڈنر میں جانے کے لیے خود ہی گاڑی لے کر نکل جاتا تو اکثر اُس کا میسج آجاتا’’سرجی! آتے ہوئے آدھی ڈبی سگریٹ لیتے آئیں‘‘۔ایک دفعہ میں رات کو دیر تک کام کرتے ہوئے مجھے بھوک لگ گئی۔ میں نے اسے تین سو روپے دے کر مارکیٹ بھیجا کہ دو برگر لے آؤ‘ ایک اپنے لیے ،ایک میرے لیے۔ موصوف نے واپسی پر ڈیڑھ سو روپے میرے ہاتھ پر رکھ دیے اور فرمایا’’اُس کے پاس صرف میرا ہی برگر بچا تھا‘ آپ کا نہیں ملا‘‘۔
نیاز کو بلاوجہ ہارن بجانے کی بیماری تھی۔ایک دفعہ مجھے شک گذر ا کہ اُس نے کافی دنوں سے گاڑی کا انجن آئل تبدیل نہیں کیا۔ میں نے کہا ذرا بونٹ کھولو۔ اُس نے فوراً ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور بونٹ کا بٹن کھینچ دیا۔ میں نے آئل چیک کیا ‘ واقعی بدلنے والا ہوگیا تھا۔ اتنے میں اُس نے ہارن پر ہاتھ مارا۔۔۔ایک تو بونٹ کھلا ہوا تھا اوپر سے میں لگ بھگ ہارن کے اوپر جھکا ہوا تھا۔۔۔پاںںں ۔۔۔کی آواز آئی اورمجھے یوں لگا جیسے میرے سامنے بلٹ ٹرین آگئی ہے۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا آگیا اور کان بند ہوگئے۔ میں نے کربناک چیخ ماری اور چکر کھا کرپوری ذمہ داری سے وہیں ڈھیر ہوگیا۔نیاز بوکھلا کر باہر نکلا اور جلدی سے مجھے اٹھایا ۔ میں نے ادھ کھلی آنکھوں سے نیاز کو دیکھااور لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں پوچھا’’مم۔۔۔میں کہاں ہوں‘‘۔ نیاز سمجھ گیا کہ میں ہوش میں نہیں ہوں‘ اُس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بونٹ میں سے ریڈی ایٹر والی پانی کی بوتل کا ڈھکن کھولا اور میرے منہ پر چھینٹے مارے۔ہوش بحال ہوتے ہی میں اُس پر برس پڑا کہ گیراج میں کھڑی گاڑی کا ہارن بجانے کی کیا تُک ہے؟ سہم کر بولا’’میں تو صرف آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ تیل پانی ٹھیک ہے ناں؟‘‘۔
نیاز چرس کا بھی پیتا تھا اور اکثر مختلف بہانوں سے مجھ سے پیسے اینٹھتا رہتا تھا۔چونکہ مجھے کچھ پتا نہیں ہوتا تھا کہ گاڑی چلاتے ہوئے وہ کس عالم میں ہے لہذا سختی سے ہدایات تھی کہ ڈرائیونگ کے دوران آرام سے اپنی لائن میں رہنا ہے‘ کسی گاڑی کے ساتھ ریس نہیں لگانی۔ایک دن میں پچھلی سیٹ پر لیپ ٹاپ کھولے ایک سکرپٹ پڑھ رہا تھا کہ اچانک گاڑی میں نیاز کی آواز گونجی’’سرجی! دعا کریں بچی بچ جائے‘‘۔میں اتنے زور سے اچھلا کہ میرا سر گاڑی کی چھت سے جاٹکرایا’ کون سی بچی ۔۔۔اوئے کسی بچی کو گاڑی کے نیچے تو نہیں دے دیا؟‘‘۔ نیازفوراً نے تسلی دی’’نہیں صاحب جی! اپنی بچی کی بات کر رہا ہوں‘‘۔ میں چونک اٹھا’’کیا ہوا تمہاری بچی کو؟‘‘۔ نیاز نے آہ بھری’’بس سرجی! گاؤں سے بیوی کا فون آیا تھا‘ بچی کی طبیعت خراب تھی‘ ہسپتال لے کر گئے تھے لیکن ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی میں سکتے میں آگیا۔ اگرچہ اس سے پہلے نیاز کئی دفعہ بچی کے علاج کے نام پر پیسے لے کر گاؤں بھیجنے کی بجائے جوئے میں لٹا چکا تھا لیکن بہرحال وہ باپ تھا اور ایک باپ اپنی بچی کے بارے میں اتنا بڑا جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔آفس پہنچ کر میں نے کچھ سوچا اور نیاز کے چھوٹے بھائی سعید کا فون ملایا۔ سعید گاؤں میں ہی رہتا تھا۔ سلام دعا کے بعد میں نے پوچھا کہ تمہار ابڑا بھائی بتا رہا تھا کہ تمہاری بھتیجی کو ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے؟‘‘۔ سعید خوشی سے بھرپور آواز میں بولا’’ہاں جی! کل ہی جواب دیا ہے۔‘‘ اُس کا لہجہ سن کر میں بوکھلا گیا’’کیا کہا ڈاکٹروں نے؟‘‘ دوسری طرف سے آواز آئی’’ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ یہ اب بالکل ٹھیک ہے اسے گھر لے جائیں‘‘۔ میں نے فوراً فون بند کیا اور غصے سے نیاز کو بلایا۔نیاز صاحب اندر تشریف لائے اور میرا چہرہ دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ کوئی اور جھوٹ پکڑ ا گیا ہے۔ میں نے اُسے بتایا کہ میری اُس کے چھوٹے بھائی سے کیا بات ہوئی ہے۔ نیاز نے فوراً دانت نکالے۔۔۔’’جی سر جی! میں بھی تو یہی بتا رہا تھا کہ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے کہ اب علاج کی کوئی ضرورت نہیں بچی ماشاء اللہ ٹھیک ٹھاک ہے‘‘۔ میں نے دانت پیسے اور پاس پڑا ہوا پیپر ویٹ اٹھا کر نیاز کی طرف پھینکا جو اس نے نہایت مہارت سے کیچ کر کے بڑے ادب سے دوبارہ ٹیبل پر رکھ دیا اورانتہائی مودبانہ انداز میں چھلانگ مار کر باہر نکل گیا۔۔۔!!!
دو ہفتوں بعد اس نے بتایا کہ بچی پھر بیمار ہوگئی ہے اور دوائیوں کے پیسے نہیں ہیں۔ میں نے پوچھا کتنے کی دوائیاں آئیں گی۔ جھٹ سے بولا’’دو ہزار کی‘‘۔ میں نے سرہلایا’’ٹھیک ہے! تم ایسا کرواپنی بیوی دوائیاں پوچھو‘ میں یہیں سے کورئیر کروا دیتا ہوں‘ کل مل جائیں گی۔‘‘ نیاز نے کنپٹی کھجائی’’سرجی !میری بیوی تو ان پڑھ ہے‘‘۔ میں نے دوسرا حل پیش کیا’’چلو پھر ایسا کرو کہ اُس سے کہو میڈیکل سٹور والے کے پاس نسخہ لے جاکر مجھ سے بات کروا دے ‘‘۔ نیا ز نے کنپٹی پر آیا ہوا پسینہ صاف کیا اور اٹکتے ہوئے بولا’’سرجی! میڈیکل سٹور تو شہر میں ہے اور ہمارا گاؤں شہر سے بیس میل دور ہے‘‘۔ میں نے غور کیا اور تیسرا حل پیش کیا’’اوکے! بیوی سے کہو گاؤں میں کسی پڑھے لکھے کے پاس چلی جائے اور میری بات کروا دے میں اُس سے دوائیوں کے نام پوچھ لوں گا‘‘۔نیاز اس حملے کے لیے تیار نہیں تھالہذا جلدی سے بولا ’’اچھا جی‘‘۔ شام کو دفتر سے واپسی پر اچانک مجھے صبح والی بات یاد آئی۔ میں نے پوچھا’’نیاز تم نے بیوی کو فون کیا تھا؟‘‘۔ آہ بھر کر بولا’’ہاں جی! وہ گئی تھی گاؤں کے پڑھے لکھے لوگوں کے پاس لیکن وہ سب کہتے ہی کہ ہم کیوں تمہیں نسخہ پڑھ کر بتائیں‘‘۔نیاز کا جواب سن کرحیرت سے میری آنکھیں پھیل گئیں۔’’ نیاز ! گاؤں میں تم ایسا کیا کرکے آئے ہو کہ لوگ تمہارا کاغذ کا ایک ٹکڑا تک پڑھنے کو تیار نہیں؟‘‘۔نیاز نے کائنات کا عجیب و غریب جواب دیا’’سرجی! غریب کا نسخہ کون پڑھتاہے‘‘۔
اگلا سارا دن میرا اسی کشمکش میں گذرا کہ کیا کروں۔ پتا نہیں کیوں مجھے یقین تھا کہ نیاز پھر فراڈ کر رہا ہے۔ شام کو اس نے ایک ہولناک خبر سنا دی کہ بچی کی طبیعت اچانک شدید خراب ہوگئی ہے اور اب اسے خون کی دو بوتلوں کی ضرورت ہے۔ میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ تصدیق کے لیے اُس کے چھوٹے بھائی کو فون کیا تو اُس کا نمبر بند تھا۔میں نے پریشانی کے عالم میں پوچھا کہ ’’نیاز بچی کی عمر کتنی ہے؟‘‘ ۔ جلدی سے بولا’’سرجی ! چھ مہینے‘‘۔۔۔مجھے غش پڑتے پڑتے بچا۔ ’’چھ مہینے۔۔۔اوئے چھ مہینے کی بچی میں تو دو بوتل خون کی جگہ ہی نہیں ہوتی‘‘۔نیاز کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ اور پھر اُس نے جو جملہ کہا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔۔۔بوکھلا کر بولا’’سرجی اصل میں ہاف لٹر والی دو بوتلیں لگنی ہیں۔۔۔!!!‘‘
مجھے نہیں پتا کہ اِس کے بعد کیا ہوا تھا‘ بس اتنا یاد ہے کہ تین چار منٹ بعد ہم دونوں شہر کی مصروف ترین سڑک کے فٹ پاتھ پر تیز تیز واک کر رہے تھے۔وہ آگے اور میں پیچھے تھا۔۔۔غالباً میرے ہاتھ میں اینٹ بھی تھی۔۔۔یہ اینٹ آج بھی اپنے شکار کو ترس رہی ہے۔
گل نوخیزاختر

70ء اور 80ء کی دہائی میں اس کی شہرت اور دولت کا اتنا چرچا تھا کہ شہزادیاں اور شہزادے اسکے ساتھ ایک کپ کافی پینا اپنے لئے...
27/09/2025

70ء اور 80ء کی دہائی میں اس کی شہرت اور دولت کا اتنا چرچا تھا کہ شہزادیاں اور شہزادے اسکے ساتھ ایک کپ کافی پینا اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے.

وہ کینیا میں موجود اپنے وسیع و عریض فارم ہاوس میں چھٹیاں گزار رہا تھا ان کی کم سن بیٹی نے آئیسکریم اور چاکلیٹ کی خواہش کی انہوں نے اپنا ایک جہاز ال 747 بمع عملہ پیرس بھیجا جہاں سے آئیسکریم خریدنے کے بعد جنیوا سے چاکلیٹ لیکر اسی دن جہاز واپس کینیا پہنچا.اس کے ایک دن کا خرچہ 1 ملین ڈالرز تھا.

لندن، پیرس، نیویارک، سڈنی سمیت دنیا کے 12 مہنگے ترین شہروں میں اس کے لگژری محلات تھے.

انہیں عربی نسل گھوڑوں کا شوق تھا دنیا کے کئی ممالک میں ان کے خاص اصطبل تھے.

اس کی دی ہوئی طلاق آج تک دنیا کی مہنگی ترین طلاق سمجھی جاتی ہے جب اس نے 875 ملین ڈالر اپنی امریکی بیوی کے منہ پر مارے اور اسے طلاق دی.

اس کی ملکیت میں جو یاٹ تھی وہ اپنے دور کی سب سے بڑی یاٹ تھی،جو اس وقت بادشاہوں کو بھی نصیب نہ تھی

اس یاٹ میں 4 ہیلی کاپٹر ہر وقت تیار رہتے جب کہ 610 افراد پر مشتمل خدام اور عملہ تھا،وہ یاٹ بعد میں ان سے برونائی کے سلطان نے خریدی ان سے ہوتے ہوئے ڈونلڈ ٹرامپ تک پہنچی،ٹرامپ نے 29 ملین ڈالر میں خریدی.

ان کی اس یاٹ پر جیمز بانڈ سیریز کی فلموں سمیت کئی مشہور ہالی ووڈ فلمیں شوٹ کی گئیں.

اپنی پچاسویں سالگرہ پر اس نے سپین کے ساحل پر دنیا کی مہنگی ترین پارٹی دی جس میں دنیا کی 400 معروف شخصیات نے 5 دن تک خوب مستی کی.

امریکی صدر رچرڈ نکسن کی بیٹی کی ایک مسکراہٹ پر 60 ہزار پاونڈ مالیت کا طلائی ہار قربان کر دیا.

اسلحے کا بہت بڑا سوداگر تھا ملکوں کے درمیان وہ اسلحے کی ڈیل اور معاہدے کراتا تھا،سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان انہوں نے 20 ارب ڈالر کے معاہدے کرائے.

شراب اور شباب ان کی کمزوری تھی 4 جائز اور 8 ناجائز بیگمات ان کے عقد میں تھیں.

یتیموں پر دست شفقت رکھنا،بیواوں کا خیال،مسکینوں کی مدد،سیلاب اور زلزلوں میں انسانی ہمدردی کے تحت فلاحی کام ان سب سے اسے سخت الرجی تھی ان کا یہ جملہ مشہور تھا کہ آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد کی کفالت کی ذمہ داری مجھے نہیں سونپ دی ہے.

اسی کی دہائی میں وہ 40 ارب ڈالرز کے اثاثوں کا مالک تھا.

پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالی نے اس کی رسی کھینچ لی،اب تنزل و انحطاط کی طرف اس کا سفر شروع ہوا، اربوں ڈالرز کی مالیت کے ان کے ہیرے سمندر میں ڈوب گئے،کاروبار میں خسارے پہ خسارہ شروع ہوا،قرضے پہ قرضا چڑھا سب اثاثے فروخت کر ڈالے،ان کے دوست احباب،ان کے چاہنے والوں نے ان سے نظریں پھیر لی،یہ ایک لمبی مدت گمنامی کے پاتال میں چلا گیا،کسی کو خبر نہ تھی کہ کہاں ہے.

پھر ایک دن یہ لندن میں کسی سعودی تاجر کو ملا ،ان کی حالت غیر ہوچکی تھی،اس تاجر سے کہا وطن واپس جانا چاہتا ہوں لیکن کرایہ نہیں،اس سعودی تاجر نے اکانومی کلاس کا ٹکٹ خرید کر اسے دیا اور یہ جملہ کہا.

اے عدنان ! اللہ تعالی نے فقیروں اور غریبوں پر مال خرچ کرنے اور صدقہ کا حکم دیا ہے یہ ٹکٹ بھی صدقہ ہے.

اپنے دور کا یہ کھرپ پتی شخص صدقے کی ٹکٹ پر عام مسافروں کے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر جدہ پہنچ گیا.

اس عرب پتی تاجر کا نام عدنان خاشقجی تھا یہ عرب نژاد ترکی تھا،اس کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی ان کا والد شاہی طبیب تھا،یہ شخص ترکی میں قتل ہوئے صحافی جمال خاشقجی کا چچا تھا،2017 میں ان کا انتقال ہوا.

میں نے جب اس شخص کی زندگی کا مطالعہ کیا یقین کیجئے میں ہل کر رہ گیا اللہ تعالی کے انصاف پر میرا ایمان مزید پختہ ہوگیا،یاد رکھیں آپ جتنے بھی طاقت ور ہیں آپ جتنے بھی ثروت مند ہیں اللہ تعالی کے آگے بہت کمزور ہیں،اپنی دولت اور طاقت کو کبھی بغاوت کے لئے استعمال نہ کرنا اللہ تعالی کی پکڑ بڑی سخت ہے.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زوال نعمت سے ہمیشہ اللہ تعالی کی پناہ مانگتے تھے.

اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك.



27/09/2025

میں نے جب سے ہوش سنبھالا اماں نے ایک بات بار بار میرے ذہن میں بٹھائی تھی کہ
"مرد روتے نہیں"

کھیل کود میں چوٹ لگ جاتی یا ہم عمر بچوں کے ساتھ جھگڑا ہو جاتا تو میں روتا ہوا گھر آتا مگر اماں کی پہلی فکر یہ نہ ہوتی کہ چوٹ کہاں لگی ہے یا لڑائی کیوں ہوئی وہ فوراً میرا چہرہ دیکھ کر کہتیں
ارے! میرا بہادر پتر! شیر پتر روتے بھلے لگتے ہیں کیا؟ رونا بالکل نہیں… پہلے آنسو پونچھو پھر بتاؤ کیا ہوا ،

ان کے لہجے میں نرمی بھی ہوتی اور ایک عجیب سا حکم بھی جیسے میرے آنسو دنیا کی سب سے بڑی کمزوری ہوں میری آنکھوں میں اگرچہ آنسو باقی ہوتے مگر ان کی باتوں سے دل میں عجیب سی ہمت اتر جاتی اور بہتے آنسو رک جاتے۔

اس دوران اگر بابا موجود ہوتے تو دھیمی مسکراہٹ چہرے پہ سجا کر اماں سے کہتے ۔۔۔
ارے نیک بخت! رونے دیا کرو بچے کو کھل کر ،کچھ دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے کیوں اسے گھٹ کر رہنے کا درس دیتی ہو؟ مرد بھی انسان ہوتا ہے نا۔

لیکن اماں جواب میں مرد کے مضبوط رہنے پر طویل لیکچر سنا دیتیں اور بابا بس خاموشی سے سنتے رہتے

وقت تیزی سے آگے بڑھا پھر ایک سرد شام آئی جب پہاڑوں میں گھرے ہمارے چھوٹے سے گاؤں پر روئی کے گالوں جیسی برف برس رہی تھی وہ شام ہم پر بھاری پڑ گئی کیونکہ ہمارے عزیز جان بابا اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے اور پیچھے ہم رہ گئے میں، میری تین بڑی بہنیں اور ماں ۔۔! ہم پانچوں سائباں سے محروم ہو گئے تھے۔

بابا کی وفات کے بعد زندگی کا بوجھ اچانک میرے کندھوں پر آن پڑاگھر کی ہر ضرورت ہر فکر سب میرے حصے میں آ گئی۔

ذرائع معاش کے زیادہ راستے نہ تھے جو بھی ہاتھ آیا اسے تھام کر گھر چلانے کی کوشش کی ، ماں کی آنکھوں کی نمی چھپانے کے بہانے ڈھونڈے، بہنوں کے مستقبل کے خواب پورے کرنے کی فکر میں دن رات محنت کرتا رہا اپنی جوانی کے کھیل اور خواہشات سب کہیں پیچھے رہ گئے۔

زندگی نے کئی کمر توڑ دینے والے موڑ دکھائے کچھ دکھ ایسے تھے جن پر دل چاہا کہ ٹوٹ کر رو دوں مگر اماں کی وہی صدا ذہن میں گونجتی
"میرے بہادر پتر… مرد روتے نہیں۔"

اور یوں نہ بابا کی جدائی پر آنسو بہائے نہ بعد کے حالات کے تھپیڑوں پر۔۔۔!
بس دل کے اندر سب کچھ دفن کر کے آگے بڑھتا رہا۔

بہنوں کی شادیاں کرتے وقت دل کئی بار بوجھل ہوا ہر بار لگتا جیسے بابا کے بغیر آنگن ادھورا ہے
مگر چہرے پر مسکراہٹ سجائے سب ذمہ داریاں پوری کرتا رہا دل کے اندر ٹوٹ پھوٹ ضرور تھی مگر آنکھوں سے ایک قطرہ بھی باہر نہ آیا۔

وقت گزرتا گیا میں نے بھی اپنا ایک گھر بسایا اچھا ذریعہ معاش ہاتھ آ گیا تھا بیوی اور بچے کی ہنسی نے تھکے ہارے دنوں کو بھی روشن کر دیا تھا زندگی جیسے ایک نئے سکون کی طرف بڑھ رہی تھی مگر۔۔۔!
ایک دن قیامت ٹوٹ پڑی ہمارے گاؤں پر ایک ہولناک سیلاب نے تباہی مچا دی ایسا سیلاب جو اپنے ساتھ گھروں کو بستیوں کو اور سانس لیتے وجودوں کو بہا لے گیا یہ طوفان کوئی آفت تھی عذاب تھا یا کوئی آزمائش کچھ سمجھ نہیں مگر یہ کسی قیامت سے کم نہ تھا ۔

میں اس وقت گاؤں سے باہر تھا جب واپس آیا تو منظر دل دہلا دینے والے تھے میرا آشیانہ جو تنکوں تنکوں سے بنا تھا وہ بہہ چکا تھا ماں… بیوی… اور میرا جگر کا ٹکڑا بچہ… سب لاپتہ ہو گئے تھے۔

پھر دور کہیں درخت کی شاخوں کے درمیان اٹکی ہوئی اپنے معصوم کی لاش جب میں نے نکالی دل چاہا چیخ چیخ کر روؤں مگر آنکھوں سے آنسو پھر بھی نہ بہے دل کے اندر ایک ہی گمان تھا کہ اماں زندہ ہوں گی اور اگر میں رو پڑا تو وہ خفا ہو جائیں گی۔

مگر یہ گمان بھی زیادہ دیر باقی نہ رہا کچھ ہی دیر میں قریبی لوگوں نے اماں کے بہہ جانے کی خبر دی
تب مجھے لگا آسمان میرے سر پہ ٹوٹ کر آ پڑا ہے میرے اندر کی ساری توانائی ہمت بہہ گئی ہو

اور یہ وہی لمحہ تھا جب ساری عمر کا اماں کا سکھایا سبق بھول گیا میں رویا یوں رویا کہ گاؤں کے سب لوگ میرے ساتھ روئے میری بہادری ساری عمر کے پڑھے سبق سیلاب میری ماں کے وجود کے ساتھ بہا لے گیا تھا میری چیخیں فضا میں گونج رہی تھیں مجھے لگا اب باقی کی عمر میں روتے گزاروں گا اس دن پہلی بار جانا کہ مرد بھی روتے ہیں اور جب روتے ہیں تو زمانہ ان کے ساتھ رو پڑتا ہے۔۔!

بلال ترک



27/09/2025

میں چار سال سے پڑھائی کے سلسلے میں اسلام آباد ہاسٹل میں رہتی تھی۔ دو سال قبل ایک ڈاکٹر صاحب سے زبانی نکاح ہوا۔ اور میں پھر اکثر انکے فلیٹ پر رہی۔ گھر والوں کو یہی تھا ہاسٹل رہتی ہوں۔ اب پڑھائی مکمل ہوئی تو مجھے گھر جانا ہے۔ ان سے کہا کہ اب بتائیں کیا کرنا ہے۔ تو بولے جاؤ تم آزاد ہو۔ ہمارا ساتھ یہیں تک تھا۔ بولا مجھے اپنا لیں ایسا نہ کریں۔ نہیں مانے۔ بولا طلاق دے دیں۔ بولے جب نکاح نامہ لکھا ہی نہیں تو طلاق کی کہاں ضرورت ہوگی تمہیں۔ کسی کو بتاؤ ہی نہیں نکاح ہوا تھا۔ میں تمہیں اپنا نہیں سکتا میرے بیوی بچے ہیں۔ اور میری جیسی نجانے کتنی ہی لڑکیاں ایسے رہ رہی ہیں۔ اور آئندہ بھی عیاشی کے لالچ میں یہ پھندے انکے گلے کا ہار بنیں گے۔ مجھے معلوم تھا میرا یہی مستقبل ہوگا پھر بھی اسے قبول کیا اب وحشت ہوتی ہے اور نفرت ہوگئی ہے اپنے آپ سے۔

گھر یہ بتایا کہ سکالرشپ پر ملائشیا جا رہی ہوں۔ ملائشیا کا وزٹ ویزہ تھا۔ وہاں سے دوبئی آگئی۔ دوبئی کے بس فیملی ویزہ اوپن ہیں تو نکاح نامہ بنوایا جس کا میرے اور اسکے گھر علم نہیں تھا۔ میں جو کماتی ہوں سب اسے دیتی ہوں۔ یہاں بہت لمبے ورکنگ ہاورز ہیں۔ بچے کی بات کروں تو وہ بندہ مارنے کو دوڑتا ہے۔ کہ کیا جلدی ہے تمہیں۔ ابھی سب کو بتا تو لیں۔ تین سال میں ایک بار گھر گئی۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں میں کہاں اور کس کے ساتھ رہتی ہوں۔ سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں۔ اب کسی اور کی ہونے کے قابل خود کو نہیں سمجھتی۔

میرے دو بچے ہیں۔ طلاق شدہ ہوں۔ ایک بزنس مین نے میرے ساتھ نکاح کیا۔ رجسٹر کرانے یا اپنے گھر نہ بتانے پر ہمارا اتفاق ہوا۔ میں تیس سال کی وہ پچاس سال کے ہیں۔ میرے بچوں سے بات بھی نہیں کرتے۔ انکو بس میرا جسم چاہئیے۔ جسکی وہ مناسب قیمت بھی ماہانہ اخراجات کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ مگر ہمارے درمیان کوئی میاں بیوی والا باہمی محبت یا ہم آہنگی والا تعلق کبھی نہیں بن سکا۔ کوئی شئیرنگ نہیں ہے۔ ہماری کوئی بات نہیں ہوتی۔ ایسا لگتا ہے میں انکی بیوی نہیں کوئی وہ ہوں۔ گھر والے کہتے ہیں تمہارا ہی فیصلہ تھا اب بھگتو۔

میں ایک چالیس سالہ مرد ہوں۔ میکسکو رہتا ہوں۔ میری فیملی پاکستان ہے۔ یہاں ایک پاکستانی بیوہ سے نکاح کر لیا۔ اسے بس نام چاہئیے تھا اسکا ایک بیٹا بھی ہے۔ اب اس نیکی کے چکر میں اس نے میرا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ بلیک میل کرتی ہے۔ اسے پورا پیکج چاہئیے، روز ملوں، بات کروں، سب کچھ شئیر کروں، پارٹیز میں اسے اپنی بیوی متعارف کراؤں۔ جبکہ سب کو معلوم ہے میرے بیوی بچے پاکستان ہیں۔ سارے خرچے اٹھاؤں اور فضول قسم کے نخرے بھی۔ اور اس کا میرے اوپر شک الگ مصیبت بنا ہوا کہ تم آفس میں فلاں کے ساتھ بڑے خوش نظر آرہے تھے۔ اللہ سے ڈرتا ہوں۔ اور فیصلے کی ہمت مانگتا ہوں۔ کہ یہ تعلق میرے لیے ایک اذیت بن چکا ہے۔

میں ایک سکول ٹیچر ہوں۔ پرنسپل صاحب نے مجھے پرپوز کیا۔ انکی بیوی بچے تھے۔ میں انکی چکنی چوپڑی باتوں میں آگئی۔ انہوں نے مجھے سیکشن انچارج بنا دیا۔ ایک بار تنہائی میسر آئی تو بولے تم مجھے اپنا نکاح میں اتنے حق مہر کے عوض قبول کرتی ہو؟ میں نے ہاں کہہ دی۔ بولے ہمارے درمیان اللہ ہے۔ نکاح ہوگیا۔ اور چار سال ہم لوگ ملتے رہے۔ میاں بیوی والا تعلق رہا۔ یہ طے ہوا کہ جب مناسب وقت آئے گا بتا دیں گے۔ سب کو۔ ایک دوست سے ڈسکس کیا تو اس نے بتایا یہ نکاح ہی نہیں ہے۔ تمہیں بیوقوف بنایا گیا ہے۔ اور ہمیشہ ایسے ہی رہے گا۔ اب تھانے یا عدالت جاؤں تو اپنی بے عزتی کا بھی ڈر ہے۔

ان واقعات سے شاید کسی کو فیوچر میں یا ابھی کسی متاثرہ فرد کو کوئی راہ مل سکے۔ یا کم از کم جوکچھ ہو رہا وہ ڈسکشن میں آسکے۔ کسی کو آئندہ پیش آنے والے دھوکے کی پہچان ہو سکے۔



خطیب احمد

گلوبل صمود فلوٹیلا سے دوسری خوشخبری اٹلی کے بعد ہسپانیہ بھی قافلۂ صمود کی حفاظت  کو آگیاہسپانیہ کے وزیراعظم پیدرو سنچیز...
25/09/2025

گلوبل صمود فلوٹیلا سے
دوسری خوشخبری
اٹلی کے بعد ہسپانیہ بھی قافلۂ صمود کی حفاظت کو آگیا

ہسپانیہ کے وزیراعظم پیدرو سنچیز نے آج اقوام متحدہ میں کہا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے تحفظ کے لیے اسپین ایک جنگی جہاز روانہ کررہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ امدادی قافلے میں 44 ممالک کے شہری سوار ہیں جنکی حفاظت عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ جناب سانچیز نے پرعزم لہجے میں کہا کہ ہسپانوی بحریہ فلوٹیلا پر موجود شہریوں اور امدادی سامان کی حفاظت یقینی بنانے کیساتھ صمود کے خلاف ممکنہ جارحیت کا جواب دیگی۔
سوشل میڈیا کے لکھاریو! ا قافلۂ صمود اب صرف ایک بحری مشن نہیں، بلکہ عالمی ضمیر کی علامت بن چکا ہے۔ تم بھی اپنی جدوجہد تیز کردو۔ یاد رکھو قلم تلوار سے تیزہے

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NS reels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share