10/10/2025
دیسی علاج
کچھ دن پہلے میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے ملتان گیا تو وہاں ایک عزیز کے ہاں ٹھہرا.. وہ مجھے لاہور میں رہنے کی وجہ سے کافی قابل اور جہاندیدہ سمجھتے ہوئے اپنے حالات اور دکھڑے سناتے رہے...
دکھوں میں سر فہرست ان کا بیٹا ارشاد تھا، جو کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا، بس گھر میں لیٹا رہتا یا باہر کسی تھڑے پر دوستوں کے ساتھ محفل جمائے رکھتا...
میرے عزیز جن کو میں چاچا جی کہتا ہوں، نے بتایا کہ ارشاد اوٹ پٹانگ شاعری کرتا رہتا ہے، محلے کی لڑکیوں پر نظر پڑے تو کھو سا جاتا ہے، بال بڑھائے ہوئے ہیں، شیو بڑھی ہوئی ہے، شال اوڑھے رکھتا ہے...
کبھی جون ایلیا بن جاتا ہے، کبھی اس میں ناصر کاظمی کی روح سرایت کر جاتی ہے اور کبھی خود کو احمد فراز سمجھ لیتا ہے، جسے میرے بڑھاپے کا سہارا ہونا چاہئے وہ خود سہارے تلاش کرتا پھر رہا ہے..
پھر کہنے لگے۔۔ "عین بیٹا، ارشاد تمہاری بات مانتا ہے، تم ذرا اسے سمجھاو، شاید راہ راست پر آ جائے"..
میں نے اپنا اچھا ہونے کا بھرم قائم رکھنے کی خواہش میں ان سے وعدہ کر لیا کہ مقدور بھر کوشش کروں گا، آگے اللہ کی مرضی...
شام کو میں ارشاد کے کمرے میں گیا، وہ کرسی پر بیٹھا چھت کو تکے جا رہا تھا میں نے اسے آواز دی۔۔ "ارشاد".... اس نے ایک لمحے کو میری جانب دیکھا پھر ساتھ پڑی ڈائری کھول کر مجھے ایک نظم سنانے لگ گیا، نظم میرے اوپر سے گزر گئی، جب نظم ختم ہوئی تو میں نے اسے دوبارہ مخاطب کیا "ارشاد"... اب اس نے ایک غزل ترنم میں سنانا شروع کر دی..
مجھے یقین ہو گیا کہ لڑکا تقریباً پاگل ہو چکا ہے...
میں نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔۔"یار، میں تم سے ملنے آیا ہوں اور تم مجھے اپنی رام لیلا سنانے لگ گئے ہو".. کہنے لگا۔۔"عین حیدر، تم نے خود ہی تو کہا تھا 'ارشاد'.. تب ہی تو میں نے سنانا شروع کیا"..
میں نے کہا "یار میں نے تو تمہارا نام لیا تھا"... بولا۔۔ "لیکن میرا نام تو ملک ارشاد حسین ہے"... میرا دل کیا کوئی چیز اٹھا کر اس کو دے ماروں، پھر سوچا، پہلے اسے سمجھا تو لوں، سمجھ گیا تو ٹھیک ورنہ یہ آپشن تو ہے ہی...
میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ "ارے یار کتنی گہری بات کہہ دی تم نے، میں معذرت خواہ ہوں، اتنی سی بات نہ سمجھ سکا"...
اس کے چہرے پر ایک تکلیف دہ قسم کی مسکراہٹ ابھری اور اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا، میں اس کے قریب پڑی چارپائی پر بیٹھ گیا اور مسکراتے ہوئے پوچھا۔۔ "یار شادے، یہ تم نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے"... کہنے لگا "میری حالت پہ ہنستے ہو بڑے سنگدل ہو"..
میرا ماتھا ٹھنکا، کیس کافی ٹیڑھا لگ رہا تھا، میں نے پوچھا۔۔ "یار، دکھی آتما کیوں بنے ہوئے ہو، کیا روگ لگا بیٹھے ہو خود کو"..
چھت کو گھورتے ہوئے بولا "عین حیدر بابو، تم نہیں سمجھو گے ان باتوں کو"..
میں نے کہا۔۔ "یار شادے، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، بچپن میں تمہیں کوئی دماغی چوٹ بھی نہیں لگی، نہ تمہارے سر میں کوئی اینٹ لگی نہ ہی تم کبھی چھت سے گرے، پھر کیوں ایسے ہو گئے ہو"..
تلخی میں ڈوبا قہقہہ لگا کر بولا۔۔ "عشق والوں کا دنیا ہمیشہ مذاق اڑاتی رہی ہے، تم بھی مزاق اڑا لو عین حیدر"..
میں نے کہا۔۔ "یار تمہیں اگر کسی سے عشق ہے تو بتاو، میں چاچا جی سے بات کرتا ہوں، اور ان کے ساتھ جا کر تیرے لئے رشتہ بھی مانگنے کو تیار ہوں، تو مجھے بتا تو سہی"...
کہنے لگا۔۔ "عین حیدر، یہ عشق تو ہجر و فراق کی بھٹی میں جلنے کا نام ہے، عشق والے وصال کب مانگتے ہیں"..
میں خود کو باز نہ رکھ سکا اور کہا "شادے، جس دن تیرا وصال ہوا، لوگ چاول کھا رہے ہوں گے اور تم قبرستان شفٹ ہو جاو گے، عجیب ڈرامے ہو یار، اتنی گرمی میں بھلا شال اوڑھنے کی کیا تک بنتی ہے، بال اور شیو بڑھانے سے بندہ عاشق یا شاعر تھوڑی بن جاتا ہے، بتاو اصل سٹوری کیا ہے"...
اسی پرسکون لہجے میں گویا ہوا۔۔ "سردی گرمی کی پروا کسے ہے... اور میرے بالوں کے بڑھنے سے کسی کو کیا مسئلہ ہے، اور یہ شال تو میں خود کو مذید بکھرنے سے بچانے کیلئے اوڑھتا ہوں"...
میں اس کے پرسکون انداز سے چڑ رہا تھا، عجیب شخص تھا، نہ کچھ سمجھتا تھا نہ غصہ کرتا تھا...
میں نے کہا "شادے، کوئی کام دھندہ کیوں نہیں کرتے، تیرے سارے رشتہ دار اور دوست کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں، صرف تم ہی نکمے ہو، ایک ٹکا نہیں کماتے، گھر میں بوڑھے والدین اور جوان بہنیں ہیں، کچھ ان کا ہی خیال کر لو"..
کہنے لگا "عین حیدر، جن لوگوں کے بیٹے نہیں ہوتے صرف بیٹیاں ہوتی ہیں، وہ بھی تو آخر زندہ رہتے ہیں نا، میرے گھر والوں کا بھی اللہ مالک ہے"..
مجھے مذید غصہ آ گیا، میں نے کہا۔۔ "یار، تم مجھ سے بھی زیادہ بہانے باز ہو، دن میں چھ چھ کپ تیز پتی والی چائے پی جاتے ہو، سگریٹ کی بھی ایک ڈبی پھونک جاتے ہو، کب تک چاچا جی تمہارے چونچلے پورے کرتے رہیں گے، میری مانو تو چنگچی چلانا شروع کر دو، یا رفیق کے تندور پر کلچے لگانا سیکھ لو، اچھی دیہاڑی لگ جائے گی، یا پھر سبزی کی دکان کھول لو"...
کہنے لگا۔۔ "عین حیدر، افسوس تم نے بھی ملک ارشاد حسین کو نہیں پہچانا، تمہارے نزدیک بھی گویا عشق کوئی کام نہیں ہے، تمہیں کیا پتا عشق کے رتبے کا، یہ جس تن نوں لاگے، وہ تن جانے"....
یار بہت ہی ٹیڑھی کھیر قسم کی شخصیت تھا... میں نے سوچا، کاش سیفی کو ساتھ لے آتا، وہ اس کو صحیح ڈیل کر سکتا تھا... میں نے کہا۔۔ "یار شادے، پھر تم ایک دو عشق اور کر لو، تاکہ چاچا جی کی آنکھیں بنوائی جا سکیں"..
کہنے لگا "عین حیدر، جو میں سوچتا ہوں اور دیکھتا ہوں، تم اس کی الف ب بھی نہیں جانتے"..
میں بے اختیار ہنس پڑا، ارشاد مجھے حیرت سے دیکھنے لگا، میں نے کہا۔۔ "یار، میرا خیال تھا، میں اور سیفی بہت بڑی فلمیں ہیں اور ہم سے بڑا ہڈ حرام، بہانے خور اور نکما بندہ شاید ہی دنیا میں کوئی اور ہو، لیکن مہاراج، آپ ہمارے بھی گرو ہو"...
معصومیت سے بولا۔۔ "تمہارے دوست سیف اللہ خان کا کیا حال ہے".. ارشاد لوگوں کو ان کے پورے نام سے بلاتا تھا..
میں نے کہا۔۔ "یار، تم کسی طرح لاہور آ جاو، ہم لوگوں کو تم سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا، قسم سے نان سٹاپ قسم کی فل پیکج والی فلم ہو"...
اسی سنجیدگی سے بولا "عین حیدر کیا کروں، ابا جی نہیں مانتے"..
اتنے میں ارشاد کے والد کمرے میں داخل ہوئے اور مجھ سے پوچھنے لگے۔۔ "ہاں، عین پتر، کچھ سمجھ لگی"...
میں نے کہا "چاچا جی، شادا لا علاج اے، اینکوں لاہور گھن ونجو (چاچا جی، ارشاد لاعلاج ہے، اس کو لاہور لے جائیں)".....
چاچا جی کے چہرے پر یکایک پریشانی کے سائے پھیل گئے، پوچھنے لگے۔۔ "اسے کیا بیماری ہے بھلا، اور اس کا علاج کہاں ہو گا"..؟
میں نے کہا "چاچا جی، بیماری کا ایلو پیتھک نام تو مجھے بھی نہیں پتا، اور اس کا علاج بھی کافی مہنگا ہے، ہاں اس کا دیسی علاج ممکن ہے اور گھر میں ہی ہو سکتا ہے"۔۔
کہنے لگے۔۔ "پتر، بتاو تو سہی، میں اپنے شادے کا علاج کروانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا"....
میں نے ہمت کر کے بتایا۔۔ "چاچا جی، بیماری کا نام ہے نکما پن اور ہڈ حرامی، اور اس کا علاج صرف ایک ہی ہے لتر، لتر اور بس لتر"..
میری بات سنتے ہی چاچا جی نے اپنا گیارہ نمبر کا کلغی والا کھسہ اتارتے ہوئے کہا۔۔ "عین، شک تو مجھے بھی یہی تھا، اب تم نے کنفرم کر دیا ہے تو ابھی سے علاج شروع کر دیتا ہوں، اس کو ملتان میں ہی لاہور نہ دکھا دیا تو میرا نام بھی ملک دلشاد نہیں"..
میں ڈاکٹر اور مریض کو کمرے میں چھوڑ کر فوراً باہر چلا گیا...چاچا جی نے اچانک ہی علاج شروع کر دیا، شادے کی ترنم سے بھرپور چیخیں باہر تک آ رہی تھیں، کمرے میں تو یقیناً قطعوں اور ربائیوں کا ڈھیر لگ گیا ہو گا...
اب میرا فوری طور پر لاہور واپس جانا ناگزیر ہو چکا تھا، اس سے پہلے کہ ملک دلشاد اور زین بھائی کی آپس میں بات چیت ہو اور زین بھائی مجھے بھی ارشاد والے وارڈ میں داخل کروا دیں۔۔
زین بھائی کے خیال میں مجھے بھی کم و بیش ملک ارشاد والی بیماری ہی لاحق ہے..😉
(عین حیدر)
Everyone is Included-All People, All Places, All Ways