Maulana Fazal Manan Juhari Offical page

Maulana Fazal Manan Juhari Offical page 💓إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ💓

26/08/2026

لامحدود،ولا متناہی
درود و سلام ان ذاتِ اقدس پر جن کے وجودِ معطّر
سے کائنات کو وجود ملا۔
صلی اللہ علیہ وسلم

ابن رجب رحمہ اللہ بعض آثار میں بیان کرتے ہیںبے شک بندہ جب اللہ کو پکارتا ہے جبکہ وہ اللہ سے محبت کرتا ہے تو اللہ فرماتا ...
22/08/2026

ابن رجب رحمہ اللہ بعض آثار میں بیان کرتے ہیں
بے شک بندہ جب اللہ کو پکارتا ہے جبکہ وہ اللہ سے محبت کرتا ہے تو اللہ فرماتا ہے
اے جبریل اس کی حاجت پوری کرنے میں جلدی نہ کرو کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ اس کی گڑگڑاہٹ اور عاجزی کے ساتھ دعا کو سنتا رہوں

18/08/2026

قبرستان میں ایک نوجوان نے کیا دیکھا ؟

اللہ پر بھروسہ رکھودنیا کے سہارے تو بدلتے رہتے ہیںمولانا فضل منان جوہری
18/08/2026

اللہ پر بھروسہ رکھو
دنیا کے سہارے تو بدلتے رہتے ہیں
مولانا فضل منان جوہری

اسلام، جمہوریت اور سوشلزم"اسلام ہمارا مذہب ہے،جمہوریت ہماری سیاست ہے،اور سوشلزم ہماری معیشت ہے۔"یہ وہ نعرہ ہے جسے پچھلے ...
17/08/2026

اسلام، جمہوریت اور سوشلزم

"اسلام ہمارا مذہب ہے،
جمہوریت ہماری سیاست ہے،
اور سوشلزم ہماری معیشت ہے۔"

یہ وہ نعرہ ہے جسے پچھلے دنوں ہمارے ملک کے بعض سیاسی جماعتوں نے بڑے اہتمام کے ساتھ پھیلایا ہے۔ ان نعروں کی پہلی سطر میں "اسلام" کا لفظ بظاہر یہ تاثر دیتا ہے کہ اس میں "اسلام" کو سب سے زیادہ نمایاں جگہ دی گئی ہے، لیکن اگر آپ غور فرمائیں تو یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ ان نعروں میں "اسلام" کی مثال بلکل اسی شخص کی سی ہے جس کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر اسے تخت سلطنت پر بٹھا دیا گیا ہو۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ان تین جملوں کو پڑھ کر "اسلام" کا جو تصور ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ معاذ اللہ اسلام بھی عیسائیت، یہودیت یا ہندو مت کی طرح پوجاپاٹ کی چند رسموں یا اخلاق کے چند مجمل اصولوں کا نام ہے اور زندگی کے دوسرے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اگر کوئی شخص عبادت کے چند خاص طریقوں کو اپنا لے تو اس کے بعد وہ اپنی حکومت اور اپنی معیشت کو جس نظام کے ساتھ بھی وابستہ کرنا چاہے کر سکتا ہے، وہ مسجد میں بیٹھ کر اسلام کی تعلیمات کا پابند ہے، لیکن اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد اپنی مرضی سے جو چاہے نظام نافذ کرے، لیکن اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد یا اپنے لیے رزق کی تلاش کے وقت اسلام نے تو اسے رہنمائی دی ہی نہیں ہے، یا اگر دی ہے تو وہ (معاذ اللہ) اپنی ناقص اور بیکار ہے کہ اس کے ذریعے سے سیاسی اور معاشی مسائل حل نہیں ہوتے، لہٰذا اس بات کا محتاج ہے کہ اپنی سیاست میں جمہوریت سے اور اپنی معیشت میں "سوشلزم" سے روشنی حاصل کرے۔
سوال یہ ہے کہ اگر اسلام کا مفہوم یہی کچھ ہے تو پھر یہ دعوے آپ فضول کرتے ہیں کہ "اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے اور اس میں انسان کی تمام موجودہ پریشانیوں کا حل موجود ہے۔" پھر تو صاف کہنا چاہیے کہ اسلام نے عبادات و عقائد کے علاوہ زندگی کے کسی مسئلے میں کوئی ہدایت نہیں دی اور (معاذ اللہ) ہم اپنے سینوں میں قرآن رکھتے ہوئے بھی کارل مارکس اور ماؤزے
تنگ سے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔
اگر آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام کی تعلیمات صرف عبادات وعقائد تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ زندگی کا ایک مکمل نظام ہے، تو پھر مسجد ہو یا بازار، حکومت کا ایوان ہو یا تفریح کا میدان، آپ کو ہر مقام پر صرف اسلام ہی کی پیروی کرنی پڑے گی، پھر اس طرز عمل کو کوئی مطلب نہیں ہے کہ مسجد میں پہنچ کر تو آپ بیت اللہ کی طرف رخ کریں اور دفتر و بازار میں پہنچ کر ماسکو اور پیکنگ کو اپنا قبلہ وکعبہ بنالیں ۔ آپ کو ہر زمانے میں اور ہر جگہ پر انسانیت کے صرف اس محسن اعظم ﷺ کے چشم وابرو کو دیکھنا ہوگا، جس کی تعلیمات نے صرف مسجدوں میں اجالا نہیں کیا بلکہ اس کے نور ہدایت سے حکومت کے ایوانوں اور معیشت کے بازار بھی یکساں طور پر جگمگا گئے ہیں۔
بعض حضرات اس نعرے کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس میں جس شوشلزم کو اپنایا گیا ہے وہ لادینی سوشلزم نہیں بلکہ ’’اسلامی سوشلزم‘‘ ہے اور جس طرح ’’جمہوریت‘‘ اسلامی ہو سکتی ہے اسی طرح ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کی اصطلاح بھی درست ہے۔
اس کے جواب میں ہماری گزارش یہ ہے کہ جہاں اصطلاح کا تعلق ہے ہمارے نزدیک نہ اسلامی جمہوریت کی اصطلاح درست ہے اور اسلامی سوشلزم کی ۔ یہ دونوں نظام مغرب کی لادینی فکر کی پیداوار ہیں، اور ان کے ساتھ اسلام کا
پیوند لگانا ایک طرف اسلام کی توہین ہے اور دوسری طرف اس سے یہ اشتباہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دونوں نظام جو کہ اسلام کے مطابق ہیں۔ لہٰذا لفظوں کی حد تک تو دونوں اصطلاحیں ہماری نظر میں غلط اور مغالطہ انگیز ہیں اور مسلمانوں کو دونوں ہی سے پرہیز کرنا چاہئے۔
لیکن معنویت کے لحاظ سے ’’اسلامی جمہوریت‘‘ اور ’’اسلامی سوشلزم‘‘ میں زمین و آسمان کا فرق ہے، جمہوریت کے فلسفے میں کچھ چیزیں تو ایسی ہیں جو اسلام کے خلاف ہیں۔ (مثلاً عوام کے اقتدار اعلیٰ کا تصور، لیکن خدائی احکام کی پابندی کے بغیر خود مختار وضع قانون ہونا، اور امیدوار حکومت کا از خود اقتدار کی طلب کرنا) لیکن جمہوریت کی وہ بہت سی باتیں اسلام کے مطابق بھی ہیں جنہیں عرف عام میں جمہوریت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، یعنی شورائی حکومت، تقسیم اختیارات، آزادی اظہار رائے اور عوام کے سامنے حکومت کی جواب دہی وغیرہ۔ اب جو لوگ ’’اسلامی جمہوریت‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ان کے نزدیک اس سے مراد نظامِ جمہوریت کی صرف وہ باتیں ہیں جو اسلام کے خلاف نہیں ہیں، ان کو نکال کر جو باقی بچتا ہے وہ ’’اسلامی جمہوریت‘‘ ہے، انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اگر توحید و رسالت اور آخرت پر ایمان لاکر جمہوری نظام حکومت کو قبول کر لیا جائے تو وہی لادینی جمہوریت اسلامی بن جاتی ہے۔ دوسرے لفظ میں، ان کے نزدیک لادینی جمہوریت کی خرابی صرف اس قدر نہیں ہے کہ اس کا نظریہ پیش کرنے والے مادہ پرست اور غیر مسلم تھے، جنہوں نے اپنی مادہ پرستی کا جوڑ جمہوریت کے ساتھ ملا دیا تھا، اور اگر توحید پر ایمان لانے والے لوگ اسے بعینہٖ ہی اختیار کر لیں گے تو اس کی خرابی دور ہو جائے گی۔ بلکہ ان کے نزدیک کچھ خرابیاں خود جمہوریت میں پائی جاتی ہیں، اور ان خرابیوں کو نکال کر باقی ماندہ حصے کو وہ اسلامی جمہوریت قرار دیتے ہیں۔
اس کے برعکس، اسلامی سوشلزم کا نعرہ بلند کرنے والوں کا کہنا یہ ہے کہ سوشلزم کے معاشی نظام میں بذاتِ خود کوئی خرابی نہیں۔ اس کی خرابی صرف یہ ہے کہ اس کے پیش کرنے والے منکرِ خدا تھے اور انہوں نے اس انکارِ خدا کا جوڑ سوشلزم کے ساتھ ملا دیا تھا۔ اب اگر اسی معاشی نظام کو مسلمان اختیار کر لے تو اس کی خرابی دور ہو جاتی ہے۔ گویا سوشلزم کے معاشی نظام کو جوں کا توں لیکر اس میں خدا، رسول اور آخرت کے عقائد کو شامل کر لیا جائے تو وہی لادینی سوشلزم اسلامی بن جاتا ہے۔
اور اگر یہ حضرات یہ کہتے بھی ہیں کہ ہم نے سوشلزم سے غیر اسلامی اجزاء کو نکال کر اس کا نام اسلامی سوشلزم رکھا ہے، تو اس سے ان کا مطلب یہی ہوتا ہے، اور نہ ان کا یہ دعویٰ دو وجوہ سے غلط ہے۔
ایک تو اس لیے کہ انہوں نے اپنی تجویز کردہ معاشی نظام میں سوشلزم کے معاشی نظام کی تمام وہ باتیں باقی رکھی ہیں جو صریح طور پر خلافِ اسلام ہیں۔ سوشلزم کی بنیاد وسائلِ پیداوار پر جبر و قبضہ کر لینے پر ہے، اور یہ بات بھی ان کے اسلامی سوشلزم میں موجود ہے، جس کی صراحت ان کے رہنماؤں نے اپنی تحریر و تقریر میں ہمیشہ کرتے رہے۔
دوسرے اس لیے کہ سوشلزم کا صرف مادی فلسفہ نہیں، بلکہ اس کا معاشی نظام بھی سر سے لے کر پاؤں تک اسلام کے خلاف ہے۔ لہٰذا اگر اس میں سے غیر اسلامی اشیاء کو نکال دیا جائے تو حاصل میں کچھ بچتا ہی نہیں جسے اسلامی سوشلزم کہا جا سکے۔
اس کی مثال یوں سمجھیے کہ اسلامی جمہوریت کی اصطلاح بالکل ایسی ہی ہے جیسے اسلامی بنکاری۔ اس اصطلاح میں موجودہ بنکاری کا سارا نظام سود پر چل رہا ہے۔ اس لیے یہ نظام بلا شبہ غیر اسلامی ہے، لیکن اگر اسی نظام سے سود کی گندگی کو خارج کرکے اسے مضاربت کے اصولوں پر چلایا جائے تو یہی نظام اسلام کے مطابق ہو جائے گا۔ اب اگر کوئی شخص اس نظام کا نام اسلامی بینکاری رکھ دے تو اس کی اس اصطلاح پر تو اعتراض کیا جا سکتا ہے، لیکن معنویت کے لحاظ سے اس کی بات غلط نہیں ہے۔
اس کے برعکس، اسلامی سوشلزم کی مثال ایسی ہی ہے جیسے اسلامی سود اور اسلامی قمار۔
اگر کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ سود اور قمار کی خرابی صرف یہ تھی کہ اس کے موجد اسلام کے بنیادی عقائد کے قائل نہیں تھے، اب ہم ان کے نظریات میں سے تمام غیر اسلامی اشیاء کو نکال دیتے ہیں اور توحید و رسالت و آخرت کو مان کر سود کھاتے اور قمار کھیلتے ہیں، لہٰذا ہمارے سود و قمار کا نام اسلامی سود و قمار ہے، تو ظاہر ہے کہ یہ بات حد درجہ مضحکہ خیز ہو گئی۔ اس لیے کہ سود و قمار سراپا خلافِ اسلام چیزیں ہیں اور ان میں سے خلافِ اسلام اشیاء کو نکال دیا جائے تو کوئی ایسی چیز باقی ہی نہیں رہتی جس کا نام اسلامی سود یا اسلامی قمار رکھا جائے۔
لہٰذا اسلامی جمہوریت کی اصطلاح لفظی طور پر غلط سہی، لیکن معنی کے اعتبار سے اسلام سوشلزم کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
بعض حضرات یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہم نے اسلامی سوشلزم کی اصطلاح اس لیے اختیار کی کہ معظم بہت سے لوگوں نے سرمایہ دارانہ نظام کو اسلام کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس اصطلاح سے صرف یہ جتنا مقصود ہے کہ اسلام سرمایہ دارانہ نظام کے حامی نہیں۔ لیکن یہ دلیل بھی انتہائی بودی اور کمزور ہے۔ کیونکہ ایک غلط فہمی کو رفع کر کے دوسری غلط فہمی پیدا کر دینا عقل و خرد کی کون سی منطق کا تقاضا ہو سکتا ہے؟
اگر مقصد یہی واضح کرنا ہے کہ اسلام سرمایہ دارانہ ظلم و ستم کا حامی نہیں، تو پھر اس کے لیے اسلامی سوشلزم کے بجائے اسلامی عدلِ عمرانی،(Islamic social Justice) کی اصطلاح استعمال کی جا سکتی ہے۔
پھر اس نعرے میں اسلامی اور جمہوریت کو سوشلزم کے ساتھ معصومیت سے شیر و شکر کر کے پیش کیا گیا ہے، گویا ان دونوں چیزوں کا سوشلزم کے ساتھ کوئی تصادم نہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ اشتراکیت نے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ نہ تو کسی مرحلے پر اسلام سے میل کھاتا ہے اور نہ کسی مقام پر جمہوریت اسے چھو کر گزری ہے۔
اسلام بلا شبہ یہ چاہتا ہے کہ معاشرے میں دولت کی منصفانہ طریقے پر تقسیم ہو اور سرمایہ دارانہ نظام میں جو دولت چند ہاتھوں میں سمیٹ کر رہ جاتی ہے، وہ زیادہ سے زیادہ وسیع دائروں میں گردش کرے۔ لیکن اس مقصد کے لیے جو ظالمانہ طریقۂ کار سوشلزم نے تجویز کیا ہے، اسلام اس کا بھی کسی طرح روادار نہیں۔
اس لیے کہ وسائلِ پیداوار کو لوگوں سے چھین کر حکومت کے چند افراد کے ہاتھوں میں تھما دینے کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ ملک کی ساری دولت ایک بڑی سرمایہ دار جماعت کے حوالے ہو جائے اور عام آدمی اپنا پیٹ بھرنے کے لیے پہلے سے زیادہ اس کے رحم و کرم کا محتاج ہو کر رہ جائے۔
لہٰذا انفرادی ملکیت کی جس نفی پر سوشلزم کی بنیاد ہے، اسلام چند قدم بھی اس کے ساتھ نہیں چل سکتا۔
اسی طرح سوشلزم کی تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت بھی کبھی اس کے ساتھ نہیں دے سکی۔ جمہوریت کی روح آزادیِ اظہارِ رائے پر قائم ہے اور سوشلزم کے نظامِ زندگی میں یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کا واقعات کی دنیا میں کوئی وجود نہیں۔
سوشلزم جس جگہ بھی قائم ہوا، جبر و تشدد کے ذریعے قائم ہوا۔ اس نے ہمیشہ فکر و رائے کا گلا گھونٹ کر اپنا بھرم رکھنے کی کوشش کی۔ اس کے خود پسند مزاج نے اس آواز کو کبھی گوارا نہیں کیا جو اس پر تنقید کرنے کے لیے اٹھی ہو۔
اور اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے کہ اشتراکی نظام میں جو منصوبہ بند معیشت قائم کی جاتی ہے، وہ شدید ترین آمریت کے بغیر نہ قائم ہو سکتی ہے نہ باقی رہ سکتی ہے۔
یقین نہ آئے تو ان ملکوں کے حالات پڑھ کر دیکھیں جہاں سوشلزم کے نظام کو نافذ کیا گیا ہے۔ کیا وہاں اشتراکی پارٹی کے سوا کوئی اور سیاسی جماعت پنپ سکتی ہے؟ کیا وہاں مزدور کو حق ہے کہ وہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے کوئی چھوٹی سی انجمن ہی بنا لے؟ کیا وہاں کا مزدور حکومت کے کسی فیصلے کے خلاف ہڑتال کر سکتا ہے؟ کیا وہاں کے پریس کو آزادی ہے کہ وہ برسرِ اقتدار جماعت کے خلاف چوں بھی کر سکے؟
اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر آخر وہ کون سی جمہوریت ہے جس کا جوڑ سوشلزم کے ساتھ ملایا گیا ہے؟
✍️

اخلاق وہ چیز ہے جس کی قیمت خریدنی نہیں پڑتی مگر اس سے ہر دل خریدا جا سکتا ہےمولانا فضل منان جوہری
17/08/2026

اخلاق وہ چیز ہے جس کی قیمت خریدنی نہیں پڑتی مگر اس سے ہر دل خریدا جا سکتا ہے
مولانا فضل منان جوہری

 13لاکھ فالور ۔۔۔اور جنازے پر ۔۔۔😭😭گیلمنہ ٹک ٹاک حقیقت۔!قرآن کریم نے سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 33 میں ارشاد فرمایا: "وَ...
16/08/2026


13لاکھ فالور ۔۔۔اور جنازے پر ۔۔۔😭😭گیلمنہ ٹک ٹاک حقیقت۔!

قرآن کریم نے سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 33 میں ارشاد فرمایا: "وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ" (اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو)۔
اس حکم کا مقصد عورت کو قید کرنا نہیں، بلکہ اسے معاشرے میں تحفظ، وقار اورعزت دینا ہے۔ اسلام نے عورت کو گھر کی مالکن اور عزت کا محور بنایا ہے۔
قرآن میں عورت کا مقام اور عزت گھر کا سکون:
اسلام نے گھر کو عورت کی سلطنت قرار دیا جہاں وہ عزت اور سکون سے رہتی ہے۔معاشی ذمہ داری سے بریت:
عورت پر نان نفقہ کی کوئی ذمہ داری نہیں، مرد اس کا محافظ اور خرچ اٹھانے والا ہے۔معاشرتی تحفظ: پردے اور گھر میں رہنے کا حکم باہر کی بری نظروں اور فتنوں سے بچانے کے لیے ہے
۔ماں اور بیٹی کا احترام: اسلام نے بیٹی کو رحمت اور ماں کے قدموں تلے جنت قرار دے کر اعلیٰ مقام دیا۔"
قرن فی بیوتکن" کا حقیقی مفہومیہ حکم بنیادی طور پر ازواجِ مطہرات کو خطاب ہے،
لیکن اس کا عمومی اصول تمام مسلمان عورتوں کے لیے بھی عزت و احترام کا ضابطہ ہے

۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت باہر نہیں جا سکتی، بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ بلا ضرورت آوارہ گردی یا بے پردی سے بچا جائے۔ضرورت کے وقت عورت کو حدود میں رہ کر باہر بھی جا سکتی ہے، جیسا کہ صحابیات میدانِ جنگ اور معاشرتی امور میں حصہ لیتی تھی
نوجوانوں سے عاجزانہ گزارش ہے!
فالوورز کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنا کردار ایسا بناؤ کہ قبر میں تمہارے اعمال تمہاری ڈھال بن جائیں اور تمہیں عذابِ الٰہی سے بچا لیں، اور کل قیامت کے دن وہی کردار تمہیں جنت تک لے جائے۔
اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے,
ایڈمین ۔۔
نوٹ تصویر اے آئی کی ہے۔

صبر ایک ایسی سواری ہے جو اپنے سوار کو کبھی گرنے نہیں دیتیمولانا فضل منان جوہریاللہ تعالیٰ ہمیں صبر کرنے والوں میں شامل ف...
16/08/2026

صبر ایک ایسی سواری ہے جو اپنے سوار کو کبھی گرنے نہیں دیتی

مولانا فضل منان جوہری

اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کرنے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین
#صبر #اقوال

10/08/2026

حاجت مند تہ اوبہ نہ ورکول 👇

تحریر ڈاکٹر ھدایت اللہ وردگ امیر جمعیت نوجوانان فورم تحصیل بٹ خیلہحضرت مولانا فضل منان جوہری صاحب دامت برکاتہم اُن صاحبِ...
26/07/2026

تحریر ڈاکٹر ھدایت اللہ وردگ
امیر جمعیت نوجوانان فورم تحصیل بٹ خیلہ

حضرت مولانا فضل منان جوہری صاحب دامت برکاتہم اُن صاحبِ علم و فضل اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں جن کی شخصیت کا نمایاں امتیاز اُن کا غیر معمولی شغفِ مطالعہ، وسعتِ نظر اور علمی انہماک ہے۔ اُن کی علمی یکسوئی کا یہ عالم ہے کہ فراغت کا ہر لمحہ کتب بینی اور تحصیلِ علم کے لیے وقف رہتا ہے، حتیٰ کہ مہمانوں کی مجلس میں بھی اگر چند لمحوں کی مہلت میسر آ جائے تو فوراً مطالعہ میں منہمک ہو جاتے ہیں۔
مجھے متعدد بار اُن کے مہمان خانے اور عظیم الشان کتب خانے میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا، اور تقریباً ہر مرتبہ انہیں اور اُن کے فرزندانِ گرامی کو علم و مطالعہ میں مستغرق پایا۔ یہی علمی ذوق اور کتب سے قلبی وابستگی اُن کی اولاد میں بھی منتقل ہو رہی ہے، جو یقیناً ایک نہایت مبارک اور قابلِ رشک روایت ہے۔
اسی ہمہ گیر مطالعے اور عمیق علمی استعداد کا ثمر ہے کہ جب بھی کسی دینی، فقہی یا فکری مسئلے کے متعلق حضرت سے استفسار کیا جاتا ہے تو وہ بلا تردد، مدلل اور اطمینان بخش جواب مرحمت فرماتے ہیں۔ درحقیقت یہ اُن کے مسلسل مطالعے، علمی ریاضت اور کتب سے دائمی تعلق ہی کے فیوض و برکات ہیں، جن کی بدولت ہم اہلِ علاقہ سمیت بے شمار طالبانِ علم اُن کے علم و فضل سے مسلسل مستفید ہو رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا فضل منان جوہری صاحب دامت برکاتہم کو صحت، عافیت، عمرِ دراز اور علم و عمل میں مزید برکتیں عطا فرمائے، اُن کے فرزندانِ گرامی کو بھی علم و حکمت کا روشن مینار بنائے، اور اُن کے علمی فیوض و برکات کو نسلوں تک جاری و ساری رکھتے ہوئے امتِ مسلمہ اور بالخصوص عوام الناس کو اُن کے علم سے ہمیشہ مستفید فرماتا رہے۔ آمین یا رب العالمین۔
ڈاکٹر وردگ ✍️

Address

Karachi

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923469478194

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maulana Fazal Manan Juhari Offical page posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Maulana Fazal Manan Juhari Offical page:

Shortcuts

Share