25/09/2024
1986 میں ڈاکٹر ولیم کیم بیل کی ایک کتاب آئی جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قران میں گرائمر ، ہسٹری، اور سائنسی غلطیاں ھیں جس پہ انہوں نے پوری مسلم کمیونٹی کو یہ چیلنج کیا کہ ایے اور مجھے غلط ثابت کیجیے اور ان کی وہ بک موسٹ سیلر بک بھی مانی گئ۔ چودہ سال کسی مسلمان اسکالر کو وہ چیلنج قبول کرنے کی جرات نا ھوی۔ کیونکہ وہاں دلائل جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ سائنس سے قران کو منوانا تھا۔ یکم اپریل 2000 میں چلنج قبول کرتے ھوے ڈاکٹر ذاکر نائیک نے شکاگو کو رخت سفر باندھا۔اور قران پہ تمام اعتراضات کا عقلی بنیادوں پہ صرف جواب ھی نہیں دیا بلکہ منوایا بھی۔6 گھنٹے کا وہ طویل مکالمہ یوٹیوب پہ پڑا ھے۔پاکستان میں ذاکر نائیک کی امد پہ رولا ڈالنے والے وہ مکالمہ سنیں
جس کے بعد وہ کتاب موسٹ سیلر بک کے لیول سے ہٹی کیونکہ اس کی سیل ھی بند ھوگئ تھی۔ اور اسی ایک مکالمے میں ہزاروں دوسرے مذاہب کے لوگوں نے اسلام قبول کیا