Mela Hazrat Peer Muhammad Barkat Ali 456 Gb

Mela Hazrat Peer Muhammad Barkat Ali 456 Gb Chak No 456 GB Tehsil Tandlianwala District Faisalabad Punajb.Pakistan Ph& Watssapp :03417934647.
(1)

فدا خان اللہ دے حوالے
21/03/2026

فدا خان اللہ دے حوالے

انا للہ وانا الیہ راجعون فدا خان بلوچ آف اکانوالہ وفات پا گئے ہیں
21/03/2026

انا للہ وانا الیہ راجعون
فدا خان بلوچ آف اکانوالہ وفات پا گئے ہیں

حق | حق | حقحکایتسید نسیم الحسن شاہ ایس آئی پی او صاحب تھانہ ٹھیکری والاسید نسیم الحسن شاہ بن سید محمد فاضل شاہ نے بیان ...
10/03/2026

حق | حق | حق
حکایت
سید نسیم الحسن شاہ ایس آئی پی او صاحب تھانہ ٹھیکری والا
سید نسیم الحسن شاہ بن سید محمد فاضل شاہ نے بیان کیا کہ میں 1961 میں محکمہ پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہوا چونکہ میں ایف اے پاس تھا لہذا میری کوشش یہ تھی کہ اے ایس آئی بھرتی کیا جاؤں۔ چنانچہ میں نے 1963 میں ڈی آئی جی صاحب سرگودھا کو درخواست دی جو نامنظور ہوئی۔ دوبارہ کوشش کی مگر ناکامی ہوئی اب 1965 میرے لئے آخری موقع تھا۔ چونکہ اب میری عمر 25 سال کے نزدیک تھی چنانچہ میں نے اپنے ہادی و رہنما حضرت محمد برکت علیؒ کی خدمت اقدس میں گذارش کی حضور میں نے اے ایس آئی کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے ڈی آئی جی صاحب سرگودھا کو درخواست دے دی ہے مقابلے کا امتحان ہے سفارشوں کی ضرورت ہے میرے پاس کچھ بھی نہیں دعا فرماویں۔ حضور پاکؒ نے فرمایا بیٹا خدا پر بھروسہ رکھو وہی حافظ و ناصر ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں تم سلیکٹ ہو جاؤ گے۔
1965 میں میں نے ڈی آئی جی صاحب سرگودھا کو درخواست بھیج دی۔ ڈی آئی جی صاحب نے صرف چند جوانوں کو انٹرویو کے لئے بلایا باقی سب کو ناکام واپس بھیج دیا میں بھی ناکام واپس آنے والوں میں شامل تھا۔ چونکہ میرے لئے یہ آخری چانس تھا لہذا اس ناکامی کا مجھے سخت افسوس ہوا۔ اب میں نے دل ہی دل...
میں یہ فیصلہ کر لیا کہ میں حضور پاکؒ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اچھا خاصا جھگڑا کروں گا۔ جب میں سرگودھا سے واپس دربار شریف پہنچا تو حضور پاکؒ شہتوت کے سایہ میں تشریف فرما تھے۔ نیاز مند نے السلام علیکم عرض کیا حضور پاکؒ نے وعلیکم السلام فرمایا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ بیٹا گھبرانے کی ضرورت نہیں خدا حافظ و ناصر ہے جواب واپس بھیج دیتا ہے۔ اسے دوبارہ بلا لینے کی بھی طاقت ہے بیٹا پریشان نہ ہو میرے پاس بیٹھ جاؤ۔ چونکہ قبل اس کے کہ میں کچھ عرض کرتا حضور پاکؒ نے سب کچھ فرما دیا اب تو کسی بات کرنے کا سوال ہی نہ تھا۔ اب میں خاموشی سے بیٹھ گیا۔ سرگودھا سے ناکام واپس آنے کے تیسرے دن بعد میں اپنے مکان میں شیشم کے درخت کے نیچے بوقت دوپہر سویا ہوا تھا کہ اچانک میری والدہ صاحبہ نے مجھے جگایا اور فرمایا کہ ایک دیگ کا سامان فوراً لے آؤ میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ تم چاول گھی وغیرہ دیگ کا سامان فوراً لے آؤ چند روز تک یہ راز تجھ پر خود بخود کھل جائے گا۔ یہ عاجز والدہ صاحبہ کے حسب الحکم دیگ کا سامان لے آیا والدہ صاحبہ نے دیگ پکوائی حضور پاکؒ نے خود فاتحہ پڑھا پھر دعا مانگی۔ پھر فرمایا کہ اب تیرا بیٹا سید نسیم الحسن شاہ تھانیدار ہو گیا ہے تمہیں مبارک ہو۔ دوسرے دن میری والدہ صاحبہ نے تمام واقعہ مجھے اول تا آخر سنا دیا اور فرمایا کہ میں دوپہر کو سوئی ہوئی تھی تو خواب میں حضور پاکؒ نے مجھے فرمایا کہ ایک دیگ پکوا کر فاتحہ دو انشاء اللہ تیرا بیٹا تھانیدار سلیکٹ ہو جائے گا۔ لہذا میں نے فوراً تمہیں سامان کے لئے بازار بھیجا تاکہ دیر نہ ہو اب تو بعد از فاتحہ حضور پاک
نے بنفس نفیس فرما دیا ہے کہ تیرا بیٹا تھانیدار ہو گیا ہے اب تو کسی شک و شبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضور پاکؒ کی مبارک دینے کے دوسرے دن یہ نیازمند درویش خانہ میں بیٹھا تھا کہ اچانک ایک سپاہی پولیس لائن سے وائرلیس لے کر پہنچا جس میں ڈی آئی جی صاحب کی طرف سے یہ حکم تھا کہ دوبارہ انٹرویو کے لئے سرگودھا دفتر میں پیش ہوں میں نے تاریخ مقررہ پر جا کر انٹرویو دیا اور بغیر کسی سفارش اور حیل و حجت کے اسی دن مجھے سلیکٹ کر لیا گیا۔ جب حضور پاکؒ نے میری والدہ صاحبہ کو میرے تھانیدار ہو جانے کی مبارک دی تھی مجھے اس وقت سے یقین کامل تھا کہ میں سلیکٹ ہو چکا ہوں مگر بعد از سلیکٹ ہو جانے کے میری زبان پر اچانک عارفِ رومیؒ کا یہ شعر آ گیا کہ ؎
اولیاء را ہست قدرت از الٰہ
تیرِ جستہ باز گو دانند راہ
اب میں تھانیدار بن چکا تھا۔ لہذا گھر میں آکر حسبِ طاقت صدقہ و خیرات دیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔

10/03/2026

حق حق حق
حکایت
​میاں ناصر علی خان
​(آخری مرید حضور پاک
​میاں ناصر علی خان بن میاں رجب علی خان قوم بلوچ ساکن کنجوانہ فی الشریف اپنی کار میں سوار ہو کر فیصل آباد جا رہا تھا۔ راستہ میں ماسٹر نادر صاحب جاجوئی اور نیک محمد طور صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کو مجھ سے کام تھا، میں نے کہا کہ میرے ڈیرے پر چل کر آرام فرمائیں میں آتا ہوں۔ وہ بولے میں حضرت صاحب کی خدمت میں تیری انتظار کروں گا۔ بندہ چک نمبر ۴۵۶ فی شریف میں حضور پاک کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور پاک اندرون خانہ تھے۔ باہر تشریف فرما ہوئے۔ بعد از سلام مسنونہ کے حضور پاک نے فرمایا "جی آیاں نوں" ناصر علی خان کیسے آنا ہوا؟ قبل ان کے کہ میں کچھ عرض کرتا دونوں صاحبوں نے عرض کی کہ حضور ہم ناصر علی خان کو صوبائی نشست پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ دعا فرمائیں۔ عجیب بات یہ تھی کہ نہ میرا الیکشن کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ تھا، نہ ہی میں نے ان صاحبان کو کچھ کہا اور نہ ہی ان صاحبان کی میرے ساتھ قبل اس کے کوئی ایسی بات ہوئی، نہ ہی اپنے بزرگوں سے یعنی چچا صاحبان سے کوئی مشورہ ہوا۔ اچانک ان صاحبان نے میرے لیے حضور پاک کی خدمت میں التجا کی...
​باوجود اس کے کہ میں بالکل خالی ذہن تھا۔ مگر حضور پاک نے فرمایا کہ ہر کام کے لیے کچھ لینا دینا پڑتا ہے۔ اگر ناصر علی خان کو کھڑا کرنا چاہتے ہو تو ناصر علی خان بائیس روپیہ کی شیرینی لے آئے۔ بعد از فاتحہ وہ مٹھائی تقسیم کر دے اور گیارہ دیگیں صوبائی اسمبلی کا ممبر بن جانے کے بعد دینی ہوں گی۔ اگر یہ بات منظور ہے تو لے آ۔ میں نے عرض کی حضور فجر مٹھائی لے کر حاضر ہو جاؤں گا۔ بعد از اختتام مجلس بندہ گھر آیا۔
​رات کو میری عقل اور میرے دل میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ عقل کہتی ناصر علی خان میدانِ سیاست پھولوں کی سیج نہیں، کانٹوں کا ڈھیر ہے۔ جس میں مال و دولت کا نقصان، ہر گھر میں جا کر منت سماجت کرنے کے باوجود صاف جواب کا امکان علاوہ اس کے پرانے گلے، الاہے، ناکردہ گناہوں کی معافی مانگنے کے باوجود بندہ پریشان، پھر خدانخواستہ شکست بھی ہو جائے تو ہر صورت نقصان ہی نقصان۔ خیالات کا یہ پلندہ بنا کر عقل نے اپنے بادشاہ یعنی میرے دل کے آگے پیش کیا۔ یعنی ایک طرف حضور پاک کے فرمان بہ میرا ایمان تھا دوسری طرف عقل نارسا کو ہجان تھا فوراً دل نے فیصلہ سنا دیا کہ:
​گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے (اقبال)
​حضور پاک نے فرما دیا ہے کہ بائیس روپیہ کی مٹھائی لاؤ، گیارہ دیگیں آخر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ شکست ہو جائے کیونکہ عارف رومیؒ فرماتے ہیں کہ...
اولیاء را ہست قدرت از الہ
تیر جستہ باز گردانند ز راہ
​فتح شکست جانے اور فقیر جانے۔ میں نے صوبائی اسمبلی کی درخواست دینی ہی دینی ہے۔​بوقت فجر نیاز مند مٹھائی لے کر حضور پاک کی خدمت میں حاضر ہوا۔ قبل از دعا حضور پاک نے فرمایا کہ اے میری برادری حاضرین مجلس مریدین و معتقدین میاں ناصر علی خان نے اس فقیر کے پاس آکر صوبائی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے دعا کی درخواست کی ہے۔ یہ فقیر دعا کرنا چاہتا ہے۔ ہر وہ شخص چاہے برادری ہو یا مرید، حاضرین مجلس میں سے جس کو میرے مشن میری دعا اور میری التجا سے تعاون نہیں وہ دعا میں شامل نہ ہو۔ یہ فقیر میاں ناصر علی خان سے وعدہ کر رہا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ وعدہ کا پابند رہے گا۔ وَ مَا تَوْفِيْقِيْ اِلَّا بِاللّٰهِ۔
​تمام حاضرین مجلس برادری مریدین و معتقدین نے بیک زبان حضور پاک سے تعاون کا وعدہ کیا، حضور پاک نے بڑی عجز و انکساری سے خالق حقیقی کی بارگاہ میں دعا مانگی۔ حاضرین مجلس نے آمین کہی۔ منظوری کا وقت تھا۔ بعد از دعا حضور پاک نے شیرینی تقسیم فرمائی۔
​اب الیکشن کی چہل پہل شروع ہو گئی۔ ناصر علی خان کہتا ہے کہ جس چک میں ہمیں صفر کی امید تھی حضور پاک کی دعا سے وہاں بھی ہمیں اکثریت حاصل...ہوئی۔ اب میدان گرم ہے فریقین کی کنوینگ ہو رہی ہے۔ فریق ثانی حضور پاک کے قبلہ مکرم اعلیٰ حضرت پیر سیال صاحب کے پوتے حضرت قبلہ عطاء محمد بن حضرت دوست محمد بن اعلیٰ حضرت محمد سلطان باہوؒ کو حضور پاک کے پاس لے آئے۔ انہوں نے فرمایا کہ محمد برکت علی تمہیں اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنی چاہیے، مگر حضور پاک نے جواب دیا کہ مجھے میرے پیر پیشوا ہادی و رہنما نے فرمایا تھا کہ محمد برکت علی کسی سے وعدہ نہ کرنا اگر وعدہ ہو جائے تو ہر قیمت پر وفا کرنا۔ یہ فقیر اپنے پیر کے ہر فرمودات کو ہر بات پر اولیت دیتا ہے لہٰذا اپنا فیصلہ بدلنے سے معذور ہے۔ اس کے بعد حضرت صاحب واپس تشریف لے گئے۔
​حکایت
​مائی خاتون کی منادی
​(مائی خاتون زوجہ دلیر کنجوانہ)
​اس خادمہ خاص و مرید فی حضور پاک کو الیکشن سے چند دن پہلے حضور پاک نے فرمایا کہ مائی خاتون چک نمبر ۴۵۶ شریف کے ہر گھر جا کر اعلان کر دے کہ میاں ناصر علی خان صوبائی اسمبلی کا ممبر بن چکا ہے ان کی مخالفت کر کے خواہ مخواہ شرمسار نہ ہونا۔ مائی خاتون نے حضور پاک کے حسب الحکم سارے چک میں منادی کر دی کہ حضور پاک رحمۃ اللہ علیہ کے مشن کے معاون یہ اعلان سن کر خوش ہوئے اور مخالف بادل نخواستہ برداشت کرتے۔
​قبل از الیکشن ناصر علی خان نے حضور پاک کی خدمت میں حاضر آکر عرض کی۔ قبلہ میری ایک آرزو ہے وہ یہ کہ پہلا ووٹ آپ ہی میری صندوقچی میں ڈالیں تاکہ برکت ہو۔ حضور پاک نے یہ التجا منظور فرمائی۔ حضور پاک پولنگ اسٹیشن پر تشریف لے گئے۔ پہلا ووٹ صندوقچی میں ڈالنے کے بعد وہاں پلنگ پاک پر تشریف فرما ہوئے تا اختتام الیکشن موجود رہے۔ ناصر علی خان نے عرض کی حضور آپ کو تکلیف ہو گی۔ پس اتنی کرم نوازی کافی ہے۔ مگر جناب نے فرمایا: ناصر خان تو جا، اپنا کام کر۔ یہ فقیر ووٹوں کی گنتی کرا کر جائے گا۔ جا تیرا خدا حافظ ہے۔ جب ناصر علی خان کی فتح کا اعلان ہوا تب حضور پاک گھر میں تشریف لے گئے

08/03/2026
I've been recognized as an original creator!
07/03/2026

I've been recognized as an original creator!

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔
06/03/2026

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔

28/02/2026

Address

Chak No 456 GB Tehsil Tandlianwala District Faisalabad
Kanjwani
455GB

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mela Hazrat Peer Muhammad Barkat Ali 456 Gb posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Mela Hazrat Peer Muhammad Barkat Ali 456 Gb:

Share