21/04/2026
بدگمانی سے بچنا
بدگمانی ایک ایسا زہریلا جذبہ ہے جو انسان کے دل و دماغ کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ ہمارے تعلقات کو توڑتی ہے، ذہنی سکون چھین لیتی ہے اور معاشرے میں نفرت و انتشار پیدا کرتی ہے۔
سبق آموز واقعات
نامِ محمد ﷺ کا احترام
انگلینڈ میں ایک دوست نے اپنا نام "محمد" سے بدل کر "مو" کر دیا۔ مجھے دکھ ہوا کہ اتنے حسین نام کو کیوں چھوٹا کیا گیا۔ پوچھنے پر اس نے کہا:
"میں نے یہ اپنے نبی کے نام کی عظمت کی خاطر کیا ہے، تاکہ جب گورے مجھے گالی دیں تو "محمد" کے مقدس نام کو آلودہ نہ کریں، بلکہ صرف "مو" کہیں۔"
یہ سن کر میرا دل کانپ گیا، اگر میں پوچھتا نہ تو ہمیشہ بدگمانی میں رہتا، حالانکہ یہ تو محبتِ رسول ﷺ کی اعلیٰ مثال تھی۔
حضرت بایزید بسطامی رح کا واقعہ
عصر کے بعد آپ نے دو جوان لڑکا اور لڑکی کو بوتل کے ساتھ بیٹھا دیکھا۔ بدگمانی ہوئی کہ شاید شراب ہے اور بدکاری کا ارادہ ہے۔ قریب جا کر پوچھا تو لڑکے نے کہا:
"یہ میری بہن ہے، ہم روزے سے ہیں اور سورج ڈھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ بوتل میں زمزم ہے اور ہم سید خاندان سے ہیں۔"
یہ سن کر حضرت کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نے خود کو ملامت کیا، پھر ان دونوں کو عزت و احترام سے گھر لے گئے۔
اسلامی رہنمائی
قرآن میں حکم ہے: "اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہیں۔" (الحجرات: 12)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔" (صحیح بخاری)
سبق
کسی سے نفرت کی ایک بڑی وجہ بدگمانی ہے۔ اکثر ہم پوچھنے کی زحمت نہیں کرتے اور دل ہی دل میں دوسروں کے خلاف منفی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تھوڑا سا حسنِ ظن اور تھوڑی سی وضاحت ہمیں ہمیشہ کی نفرت سے بچا سکتی ہے۔
آئیے اپنے دل کو صاف رکھیں، دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھیں، اور ہر معاملے میں کھل کر بات کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں سکونِ قلب اور ایک خوبصورت معاشرتی زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔
دعا:-
یا اللہ! ہمیں بدگمانی سے بچا، ہمارے دلوں کو صاف کر، ہمارے ملک پر رحم فرما، اور ہماری ذاتی و اجتماعی پریشانیاں دور فرما۔ آمین۔