29/08/2025
تاریخ: 23 اگست 2025
مقام: سوئف سول آفس، سٹی ہاؤسنگ، جہلم
زیرِ اہتمام: جہلم ادبی فورم
جہلم کی ادبی فضاؤں میں ایک اور خوشبو بکھیرتی ہوئی محفل کا انعقاد جہلم ادبی فورم کے زیرِ اہتمام ہوا، جہاں معروف شاعر جناب عقیل عباس کے شعری مجموعہ "برقاب" کی باوقار تقریبِ رونمائی اور مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا۔
اس شاندار محفل کی صدارت کہنہ مشق شاعر اور کاروانِ ادب سرائے عالمگیر کے صدر جناب سید انصر نے کی، جب کہ جناب ارشد شاہین مہمانِ خصوصی اور صاحبِ کتاب جناب عقیل عباس مہمانِ اعزاز کے طور پر شریک ہوئے
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت جناب احسان شاکر نے حاصل کی۔ محترمہ ثوبیہ سلیم نے خوبصورت آواز میں حمدِ باری تعالیٰ پیش کی جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ جناب اشفاق حیدر نے نذر کی۔
یہ محفل دو حصوں پر مشتمل تھی:
پہلےحصے کی نظامت کےفرائض جناب اقبال قمر (صدر، جہلم ادبی فورم) نے نہایت خوبصورتی سے انجام دیے۔
اس حصے میں ممتاز ادبی شخصیات نے "برقاب" پر سیر حاصل گفتگو کی۔
مضامین پڑھنے والے معزز احباب:
جناب ارب ہاشمی ،جناب عرفان شہود ،جناب امجد مرید حیدری، جناب نعیم رضا بھٹی ،جناب ارشد شاہین ،جناب سید انصر
دوسرے حصے کی نظامت محترمہ رخشندہ بتول (انچارج شعبہ خواتین، جہلم ادبی فورم و پرنسپل، گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین سنگھوئی) نے سنبھالی اور مشاعرہ کو جاذبِ توجہ انداز میں آگے بڑھایا۔
اس محفل میں ملک بھر سے آئے ہوئے معروف شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کے دل جیت لیے:
جناب سید انصر (صدر محفل)، جناب ارشد شاہین (مہمان خصوصی)
،جناب عقیل عباس (مہمان اعزاز)
،جناب نعیم رضا بھٹی
،جناب اقبال قمرجناب امجد مرید حیدری ،جناب محسن شہزاد ،جناب ،علی نقشبندی،جناب امجد میر ,جناب سید قمبر علی
جناب عثمان عبد القیوم ,جناب ارب ہاشمی ,جناب حفیظ احمد ،جناب احسان شاکر،جناب دانش علی دانش،
محترمہ سندس علی،ڈاکٹر عظمیٰ کنول،محترمہ ثوبیہ سلیم ،جناب صدام حسین ،جناب تصور حسین خیال
نمونہ کلام:
سید انصر:
یہ بدقماش جو اہل عطا بنے ہوئے ہیں
بشر تو بن نہیں سکتے، خدا بنے ہوئے ہیں
ارشد شاہین:
دُکھ ہے تو یہ کہ اک بھی گواہی نہ مل سکی
حالانکہ اک ہجوم میں مارا گیا مجھے
عقیل عباس
میں پہلے پہلے بہت خوش مزاج ہوتا تھا
یہ بے حسی تیرے جانے سے آ گئی مجھ میں
اقبال قمر:
وقتِ رخصت وہ گلے لگ کے مرے یوں رویا
جیسے گرتی ہوئی دیوار پہ دیوار گرے
نعیم رضا بھٹی:
کبھی کبھی تو مجھے تیرا صندلی چہرہ
شفق کی دوسری جانب دکھائی دیتا ہے
امجد مرید حیدری
اس اذیت کو فقط اہل قلم جانتے ہیں
دکھ جو موجود تھا منظوم نہیں ہوتا تھا
محسن شہزاد:
میں تیر کھا کے گرا اختتامی منظر میں
پھر اس کے بعد لکھا آ گیا کہ جاری ہے
علی نقشبندی
ہماری آنکھ کے حلقے عطائے وحشت ہیں
جو بد نما تمہیں لگتا ہے خوش نما ہے ہمیں
امجد میر
دھند ایسی کہ سامنے والا
جیسے دیوار سے نکل آئے
سید قنمبر علی
یار ہم ہیں ناں ترا ساتھ نبھانے والے
یہی کہتے تھے مجھے چھوڑ کے جانے والے
عثمان عبد القیوم
پھر یوں ہوا کہ وقت کی زنجیر تھام کر
میں چل پڑا تو وقت مرے ساتھ چل پڑا
آرب ہاشمی
ہے لفظ کے باطن میں بھی افسون ہمارا
آسانی سے کھلتا نہیں مضمون ہمارا
حفیظ احمد
تیری بندوق تری بھول ہے اور سوچ بھی مت
ہم پرندے تجھے تالی بھی بجانے دیں گے
احسان شاکر
ہماری شب گزرنے میں ابھی کچھ دیر باقی ہے
نیا سورج نکلنے میں ابھی کچھ دیر باقی ہے
دانش علی دانش
اساں نہیں خیال کا پیکر تراشنا
مصرع تراشنا بھی ہے پتھر تراشنا
سندس علی
دفن قبروں میں جو ہوتے ہیں وہیں رہتے ہیں
دل میں دفنائے ہوئے لوگ کہاں جاتے ہیں
صدام حسین
تمہارے سامنے ہم مسکرا تو لیتے ہیں
مگر جو بعد میں آنکھوں کا حال ہوتا ہے
ثوبیہ سلیم ۔۔
جان آقا پہ ہی فدا کی ہے
حب خیرالبشر ادا کی ہے
محفل کے اختتام پر مہمانِ اعزاز جناب عقیل عباس کو اعزازی شیلڈ پیش کی گئی، اور تمام معزز مہمانوں کی پرتکلف عشائیے سے تواضع کی گئی۔
صدر جہلم ادبی فورم جناب اقبال قمر نے آخر میں تمام شعراء، مقررین، سامعین اور سوئف سول کے CEO. سید قنمبر علی کا دلی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ:
> "جہلم ادبی فورم آئندہ بھی اسی طرح کی سنجیدہ اور معیاری ادبی تقریبات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔"
یوں یہ محفل جہلم کی ثقافتی تاریخ میں ایک اور خوبصورت اضافہ بن کر اپنے اختتام کو پہنچی۔
رپورٹ۔۔
امجد میر
سیکریٹری جنرل
جہلم ادبی فورم
---