06/09/2024
جھاوریاں شاہپور روڑ ۔۔۔۔۔۔ محکمہ شاہرات کے ساتھ جماعت اسلامی جھاوریاں کے وفد کی ملاقاتیں ۔
اپ ڈیٹ یہ ہے کہ اکیس ستمبر سے ٹینڈر فائنل ہو جاے گا اس کے بعد ہی کام کا آغاز ہو گا۔
کافی دنوں سے یہ روڑ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا پر زیر بحث تھا حکام بالا بھی اس روڑ کی تبدیلی پر مضطرب تھے ۔ لیکن اس منصوبے میں کچھ ٹیکنیکل فالٹ ایسے ہیں کہ محکمہ شاہرات خود بے بس ہے ۔ پنجاب اسمبلی نے صوبہ پنجاب کی 12 سڑکوں کی بحالی کی منظوری دی اور ہماری بدقسمتی کہ اس 18 کلومیٹر کی بقایا سڑک کو اس " بحالی سڑک پروگرام" میں شامل کر دیا گیا حالانکہ اس سڑک کا منصوبہ تو 2014 میں شروع ہو چکا تھا۔ یہی وہ ٹیکنکل غلطی ہوئی یا کی گی ، اب چونکہ یہ پنجاب گورنمنٹ کی ڈائریکشن ہیں اس لئیے محکمہ شاہرات اسی سفارشات کو مد نظر رکھتے ہوے ٹینڈر جاری کرنے پر مجبور ہے۔
لیکن ان تمام باتوں کے باوجود خوش قسمتی یہ ہے کہ محکمہ شاہرات کے افسران کی ہمدردیاں اور تعاون ہمارے ساتھ ہے ۔
افسران بالا کا موقف ہے کہ اب 20 فٹ سے 24 فٹ تو ممکن نہیں مگر ہم یہ یقین دہانی کرواتے ہیں کہ 20 فٹ روڑ کے ساتھ دونوں طرف چار چار فٹ شولڈر ضرور بنے گا جس سے کم از کم کچھ تو چوڑائی بڑھے گی ۔
اور شہر کے انٹری پوائنٹ جہاں سے آباد کاری شروع ہورہی ہے وہاں سے سریا اور کنکریٹ والی روڑ اور چار چار فٹ ٹف ٹائل کے شولڈر ، ایک سائیڈ پر بارشی پانی کی نکاسی کے لئیے پختہ نالے کے لئیے وک کررہے ہیں تاکہ پانی کی زیادتی کے سبب یہاں سے روڑ پائیدار رہے ۔
باقی نان کارپٹ سٹرک پر بھی تحفظات تھے جس کے بارے میں آگاہ کیا جس پر محکمہ نے 20 فٹ کارپیٹ اور چار چار فٹ شولڈر نان کارپیٹ کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ 21 ستمبر کو فائنل ٹینڈر آنے کے بعد سارے خدوخال واضع ہو جائیں گے اور ہم کوشش کریں گے کہ عوامی رائے کا احترام ہو۔
عزیزو جماعت اسلامی نہ حکومت ہے نہ ہی اسٹیٹ کے کسی فعال عہدوں پر ۔۔۔۔۔۔۔ جونہی اس منصوبے میں قدغن لگنے کی خبر سنی فوری طور پر امیر جماعت اسلامی جھاوریاں ملک محمد اسلم اعوان نے جماعت کی میٹنگ بلائی ، آگاہی بینرز آویزاں کرواے ، سوشل اور پرنٹ میڈیا کے زریعے لوگوں کو آگاہ کیا اور محکمہ شاہرات کے مزکوزہ افسران کے ساتھ ملاقاتیں کئی ، ان ملاقاتوں میں کم از کم اتنا تو ہوا کہ کچھ مزید ڈویلپمنٹ کے لئیے محکمانہ کوششوں کا آغاز ہو گیا ، ہماری نیک خواہشات ان افسران کے لئیے جنہوں نے اس روڑ کی کنسٹرکشن کے معاملات میں مزید بہتری کی گنجائش نکالنے کا عندیہ دیا۔
آخری بات وہ یہ کہ یہ ٹینڈر 21 ستمبر کو فائنل ہونا ہے جو اقتدار اور اپروچ ایبل عہدوں پر علاقے کے لوگ موجود ہیں ان کے لئیے ہمارا سادہ سا پیغام یہ ہے کہ ایک آخری کوشش اگر چیف سیکریٹری پنجاب اگر چاہیے تو یہ روڑ 24 فٹ مکمل کارپٹ اور پرانے ڈیزائن کے مطابق بن سکتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔
رستہ اور منزل دونوں بتا دئیے چاہے تو ایک کوشش کرکے دیکھ لیں (جزاک اللہ خیر)