14/07/2026
غم کے سب پنچھی اڑیں، چَین کی چڑیا اُترے
ہم درختوں پہ کوئی ایسا بھی لمحہ اُترے
ایسا اُترا ہوا چہرہ ہے،خدا جانتا ہے
جو کوئی دیکھے ہمیں اُس کا بھی چہرہ اُترے
قول اور فعل میں تفریق کہاں جچتی ہے
آدمی عہد کرے، جس پہ وہ پورا اُترے
زندگی یوں ہے کہ بیزار ہوا پھرتا ہوں
جیسے تیسے بھی مرے سر سے یہ سایہ اُترے
تجھ کو بھی ہجر کے احساس کا اندازہ ہو
چلتی گاڑی سے کوئی تیرا شناسا اُترے
لوگ دو طرفہ محبت کا مزہ لیتے ہیں
ہم کہ اِس کارِ زیاں میں تنِ تنہا اُترے
تجھ سے پامال ہوئے دل کی تجھے آہ لگے
تیری آنکھوں میں بھی ساون کا مہینہ اُترے
آخری بار یوں مل، مجھ سے بچھڑنے والے
جیسے دریا میں ثمؔر کوئی سفینہ اُترے
ثمرؔ جمال