30/05/2025
جعفر طاہر، جن کا اصل نام سید جعفر علی شاہ تھا، 29 مارچ 1917ء کو جھنگ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو ادب کے ممتاز شاعر تھے جنہوں نے غزل، نظم، مرثیہ، قصیدہ اور خاص طور پر “کینٹوز” (Cantos) جیسی اصناف میں نمایاں کام کیا۔ 25 مئی 1977ء کو راولپنڈی میں ان کا انتقال ہوا اور وہ اپنے آبائی شہر جھنگ میں سپردِ خاک کیے گئے۔ 
سوانح حیات اور پیشہ ورانہ زندگی
جعفر طاہر نے ابتدائی تعلیم جھنگ میں حاصل کی اور بعد ازاں پاک فوج میں بطور تعلیم افسر خدمات انجام دیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے منسلک ہوئے اور اپنی وفات تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔ 
ادبی خدمات
جعفر طاہر کی شاعری میں عشق، فطرت، حب الوطنی اور روحانی موضوعات کا گہرا عکس ملتا ہے۔ ان کی غزلوں میں رومانوی اور فطری مناظر کی عکاسی ہوتی ہے، جبکہ نظموں میں قومی جذبات اور مذہبی عقیدت نمایاں ہے۔ 
کینٹوز نگاری
اردو شاعری میں “کینٹوز” کی صنف کو متعارف کرانے اور فروغ دینے میں جعفر طاہر کا نمایاں کردار ہے۔ اگرچہ سید ہادی حسن اور ن۔م۔ راشد نے بھی اس صنف میں کام کیا، لیکن جعفر طاہر نے اس میں جو جدت اور وسعت پیدا کی، وہ انہیں اس صنف کا علمبردار بناتی ہے۔ 
نمایاں شعری مجموعے
• ہفت کشور: اس مجموعے پر انہیں 1962ء میں آدم جی ادبی انعام سے نوازا گیا۔ 
• ہفت آسمان 
• سلسبیل 
• ستارہ انقلاب 
• گردِ سحر (غیر مطبوعہ) 
• سجدے (غیر مطبوعہ)
معروف اشعار
جعفر طاہر کا ایک زبان زدعام شعر:-
• “آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر / جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے”