11/04/2025
غزل ۔
رُلایا آج انھوں نے مجھے جو لوگ کہتے تھے۔۔
قسم ہے یار، ہم تم کو کبھی رونے نہیں دینگے۔
گَنوا بیٹھے اُسے بھی ہم، جسے تا عمر میلوں میں ۔
پکڑ کر ہاتھ ،کہتے تھے، تمہیں کھونے نہیں دینگے۔۔
ہماری رات کے لمحوں میں اک بے حَظ اداسی ہے
تری یادیں ترے سپنے،ہمیں سونے نہیں دینگے۔
کبھی یہ ہو زمانے میں تجھے تکلیف آ پہنچے۔۔
یہ ممکن ہے مگر ایسا کبھی ہونے نہیں دینگے۔
وہی لے کر چلے آئے مجھے کنجِ مزاراں میں ۔۔
مجھے دنیا میں کہتے تھے تجھے کونے نہیں دینگے ۔
چلے آتے ہیں تربت پر مجھے پھر سے ستانے کو۔۔
لحد میں بھی مجھے وہ چین سے سونے نہیں دینگے۔۔
ذیشان اکرم خان فائقؔ۔