01/04/2026
دل کے صحرا میں کوئی خواب اگایا جائے
پھر محبت کا دیا خاموشی سے جلایا جائے
ہم نے سیکھا ہے اندھیروں میں بھی جینا لیکن
کاش اک بار کوئی راستہ دکھایا جائے
زندگی درد کے سانچوں میں ڈھلتی ہی رہی
کبھی تو ہنستے ہوئے لمحہ بھی بنایا جائے
جس کی یادوں نے مرے دل کو اجالا بخشا
اس کی خاطر کوئی افسانہ سنایا جائے
وقت کے ساتھ یہ دنیا بھی بدل جاتی ہے
دل کو سمجھاؤ کہ ہر زخم بھلایا جائے
کوئی تو ہو جو مرے درد کو آواز دے
کوئی تو ہو جسے حالِ دل سنایا جائے
ساحلؔ یہ عشق بھی کیسا عجب دریا نکلا
جس میں اترے تو پھر واپس نہ آیا جائے
ساحل رائٹس🌊