IsLamic Picture for True Muslims

IsLamic Picture for True Muslims This page available for comedy and fun
so let's like us and follow us....
because we will be provide every new telant and fun...
Thnx for follow us...���

18/07/2022

مکّہ میں حرم پاک کے بغل میں موجود یہ بازار "سوق اللیل " کے نام سے جاننا جاتا ہے - اس بازار کے اہمیت دوسرے بازاروں سے اس لیے زیادہ ہے کہ یہ بازار رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ظاہری زمانے یعنی مکّہ میں جب آپ صلی الله علیھ وسلم رہا کرتے تھے اس وقت سے موجود ہے - اور کیوں کہ اس زمانے میں اس مقام پر یہ بازار رات میں لگا کرتا تھا اس لیے اس کا نام " سوق اللیل " رکھا گیا تھا جس کے معنی ہیں " رات کا بازار " - عربی میں سوق ، بازار کو کہتے ہیں جبکہ لیل ، کے معنی رات کے ہیں -

گو کہ آج کا مکّہ پوری رات جاگتا ہے اور حرم کے چاروں اطراف موجود بازار پوری رات جگمگ کرتے رہتے ہیں لیکن صرف یہی وہ تاریخی بازار ہے جس کو سوق اللیلل کے پرانے اور تاریخی نام سے یاد کیا جاتا ہے - حرف عام میں اسے چھپڑا بازار بھی کہتے ہیں کیوں کہ اس پر شیڈ پڑے ہیں -

اگر آپ حرم کے "باب المروه " جہاں سعی مکمل ہوتی ہے ، باہر نکلیں یہ بازار سامنے نظر اتا ہے - یہیں قریب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مبارک جائے پیدائش ہے اور یہ محلّہ شعب عامر کہلاتا ہے - گویا یہ بازار اس علاقے میں قائم ہے جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا محلّہ مبارک تھا -

گو کہ حرم کی حدود کو بڑھانے کے لیے اب اس بازار کو ختم کیا جارہا ہے تا ہم اس کو ابھی کسی نہ کسی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے
===============================================admin
MUAVIA

16/06/2022
05/06/2022
25/05/2022

صلاة من الرحمن ما المسك أطيب *** على خير الله طه المقرب
غياث الورى مأمن لكل مؤمنا *** فلولاه ما كنا وما بلغ المنى
بنور رسول الله أشرقت الدنا *** وفى نوره كل يجىء ويذهب
وأهدانا رب الناس أكمل نعمة*** هو المصطفى للناس فضلا ومنة
براه جلال الحق للخلق رحمة*** فكل الورى فى بره تتقلب
وأنبأ كل الرسل أنه قادما ***ويدعو الى التوحيد للكفر هادما
بدا مجده من قبل نشأة أدم***وأسماءه فى العرش من قبل تكتب
وأسراره فى كل مرسل قد سرت***وسحب الندى منه عليهم أمطرت
بمبعثه كل النبيين قد شرت *** ولا مرسل الا له كان يخطب
علت فوق كل الأنبياء سماته *** وكل تمنى يكون خادم لذاته
بتوراة موسى نعته وصفاته *** وإنجيل عيسى بالمدائح يطنب
نبى ذكى للهداية يعرف *** شفوق رؤوف بالورى يتلطف
بشير نذير مشفق متعطف *** رؤوف رحيم للإله يقرب
إلى ذات طلسمه الإله لقد دعا***وكان له النور ومنه تمتعا
بأقدامه فى حضرة القدس قد سعا***رسول له فوق المناصب منصب
وفى ليلة كان الحبيب وحبه ***وما زاغ طرفة وهو فى قرب قربة
بأعلى سماء أمسى يكلم ربه*** وجبريل ناء والحبيب مقرب
وحفظتنا به من شر كل ملمة*** وجعلتنا بالدين فى أسمة قبلة
بعزته سدنا على كل ملة ***ووملتنا فيها النبيين ترغب
شفانا بنور الدين من كل علة*** وقانا من الأعداء من كل قبلة
به مكة تحمى به البيت قبلة*** به عرفات نحوها النجب تجزر
شمائله الندمان وهو نديمها *** وقد شربوها ملة ما رحيمها
برياه طابت طيبة ونسيمها *** فما المسك ما الكافور الا هو أطيب
ولولا جمالك بالجلال ملثم *** لكان جميع الخلق فيك تتيموا
بهى جميل الوجه بدر متمم*** صباح رشاد للضلالة مذهب
ألا يا حداة العيس نحوها يمموا*** وأحدوا لنا بإسم الحبيب وهمهموا
بمن أنت يا حادى النياق مذمذموا أرى القوم سكرى والغياهب تنهبوا
ولما دنونا قد رأينا المشهدا *** وصار لشوق الإشتياق مجددا
بدور بدت أم بدا وجه محمدا *** والصهباء دارت أم حديثك مطرب
ركبنا مطايا الشوق وهى تقلنا *** وفى البيد أنوار الحبيب تدلنا
بأرواحنا راح الحجيج وكلنا *** نشا وكأن الراح فى الرجم تشرب
فاللهم صل على طب القلوب ودوائها وعافية الأبدان وشفائها وروح الأرواح وسر بقائها وقوت القلوب وغذائها وسر الأسرار وسر بقائها وعلى آله وصحبه وسلم أجمعين

24/11/2021

۱۹۹۳ء میں ہمیں پہلی مرتبہ سفر حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ وہ ہمارے عنفوان شباب کا زمانہ تھا۔اس زمانے کو کم وبیش تین دہائی کا عرصہ گذر گیا۔ بہت کچھ یادیں ذہن سے محو ہوگئی ہی....

10/11/2021

اگر مِل گئی مُجھکو راہِ مدینہ
محمد ﷺ کا نقشِ قدم چوم لوں گا
عقیدت سے کعبے میں سر کو جُھکا کر
نگاہوں سے بابِ حرم چوم لوں گا

جو طے کر کے آئیں گے راہِ مدینے
ملا لوں گا میں اُن کے سینے سے سینہ
جن آنکھوں نے دیکھا ہے طیبہ کا منظر،
وہ آنکھیں خدا کی قسم چوں لوں گا

اگر مِل گئی مُجھکو راہِ مدینہ
محمد ﷺ کا نقشِ قدم چوم لوں گا

میری زندگی صرف عشق نبی ہے
جو غم مجھ کو اس میں ملا وہ خوشی ہے
اسی غم کی راہوں میں آنکھیں بچھا کر
میں پلکوں سے خاک حرم چوم لوں

اگر مِل گئی مُجھکو راہِ مدینہ
محمد ﷺ کا نقشِ قدم چوم لوں گا

اگر دل کو ہے کچھ نبی ﷺ سے عقیدت کسی
دن تو جاگے گی میری بھی قسمت
جو آئیں گے کر کے طواف مدینہ
میں خوش ہو کے ان کے قدم چوم لوں گا

اگر مِل گئی مُجھکو راہِ مدینہ
محمد ﷺ کا نقشِ قدم چوم لوں گا
عقیدت سے کعبے میں سر کو جُھکا کر
نگاہوں سے بابِ حرم چوم لوں گا
❤️ صلی اللہ علیہ والہ وسلم❤️

09/07/2021

نعت شریف تاریخ و تحقیق کے آئینہ میں

نعت
صفت و ثنا، تعریف و توصیف، مجازاً حضور سید المرسلین محمد مصطفیٰ صلی الله علیه و آله وسلم کی توصیف.
حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی ذات اقدس سے مسلمانوں کو جو محبت، عقیدت، اور شیفتگی و وابستگی رہی ہے اور انہوں نے جس طرح حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کے سوانح، حالات، إرشادات و فرمودات، حلیہ و شمائل، اخلاق و عاداتِ کریمہ اور معجزات کو محفوظ کر دیا ہے وه تاریخ عالم کا انتہائی حیرت انگیز واقعہ ہے. ذکر حق کے بعد ذکر رسول صلی الله علیه و آله وسلم کو أفضل ترین عبادت تسلیم کیا گیا ہے. کہ اس میں مخلوق ہی نہیں بلکہ خود خالقِ انس و جاں بهی شریک ہے. جیسا کہ الله رب العزت قرآن مجید میں ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے کہ
" و رفعنا لك ذكرك"
اور یوں اللہ تعالیٰ نے حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کے نام نامی اسم گرامی کو زندہ اور بلند رکهنے کے علاوہ آپ صلی الله علیه و آله وسلم کے ذکر کے پھیلانے اور بلند و بالا رکهنے کی خود ضمانت دی ہے. اس میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی سیرت و تاريخ کے علاوہ آپ صلی الله علیه و آله وسلم کے اوصاف جمیلہ اور کمالات اور مقامات و خصوصیات سب شامل ہیں. کیونکہ ذکر ان سب کو محیط ہے. اللہ رب العزت نے آپ صلی الله علیه و آله وسلم کے لیے بشیر و نذیر، سراج المنیر اور رحمة للعالمين ایسی صفت بیان فرمائی ہیں. اس کے علاوہ بعض آیات کریمہ سے حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کے ساتھ عشق و محبت اور ادب و احترام کا درس ملتا ہے. اور حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم پر درود و سلام بهیجنے کا حکم فرمایا گیا ہے. جیسا کہ الله رب العزت قرآن مجید میں ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے کہ
" ان الله وملئکته یصلون على النبی . یآیها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسلیما "
( بےشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی کریم (صلی الله علیه و آله وسلم) پر درود بھیجتے ہیں. اے ایمان والو! تم بھی آپ (صلی الله علیه و آله وسلم) پر درود اور خوب سلام بهیجا کرو)

بدمذہب نجدی؛
حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کے کے حاسد آپ صلی الله علیه و آله وسلم پر اس لیے درود و سلام بهیجنے سے کوسوں دور بھاگتے ہیں. کہ یہ خیر و برکت اور ہر طرح سے پر سعادت حکم صرف ایمان والوں کے لیے ہے. اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ بے ایمان منافقین کو یہ توفیق و سعادت حاصل ہو سکے.

درج بالا آیت شریف کا نتیجہ؛
اس آیت شریف کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی حیات طیبہ سے اب تک اکابر محدثین آپ صلی الله علیه و آله وسلم کے فرمودات و ارشادات کی تشریح و توضیح اور ادبا و شعراء آپ صلی الله علیه و آله وسلم کی مدح و توصیف میں مشغول اور اسے اپنی سعادت اور ذریعہء مغفرت سمجھتے رہے ہیں. یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی بهی مسلمان ملک کسی بھی دور میں ایسے شعراء سے خالی نہیں رہا کہ جنہوں نے اپنی بہترین صلاحیتیں اس بہترین تر موضوع اور اس محمود و ممدوح ذات کی مدح و توصیف میں صرف نہ کی ہوں.

مدح النبی یا المدائح النبوية؛
اردو اور فارسی میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی تعریف و توصیف کے بارے میں اشعار کو نعت کہا جاتا ہے. جو کہ عربی میں مستعمل نہیں. عربی میں ایسے کلام کو "مدح النبی" یا " المدائح النبوية " کہتے ہیں.

ابتدائی مداحین نبوی؛
اگر عربی ادب کا مطالعہ کریں تو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی مداحین نبوی کا مشترک موضوع ممدوح پاک کی عالی نسبی، سیرت و شمائل، مکارم اخلاق، حسن سلوک و ہمدردی، عفو و درگزر اور آپ صلی الله علیه و آله وسلم کے سفر معراج شریف اور معجزات کے بیان کے علاوہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان و اعتقاد، رسالت محمدی صلی الله علیه و آله وسلم کی تصدیق، دشمنانِ اسلام کی مذمت و تحقیر، ہدایت بخشی اور دولت و ایمان اور نعمت قرآن حاصل کرنے پر تشکر و اطمینان اور غزوات میں فتح اسلام اور شکست کفار پر مسرت و شادمانی کا اظہار ہے.

حضرت ابو طالب اور حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی مدح سرائی؛
سب سے پہلے حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کے مربی اور عم محترم حضرت ابو طالب نے آپ صلی الله علیه و آله وسلم کا شرف حاصل کیا. اور اس میں بنو ہاشم کو اس بات پر ابهارا کہ وہ آپ صلی الله علیه و آله وسلم کو کفار مکہ کی چیره دستیوں سے بچائیں. اس قصیدے کے دو اشعار درج ذیل ہیں.
إذا اجتمعت یوماً قریش لمفتخر
فعبد مناف سر ها و صمیمہا
و أن فخرت یوماً فإن محمداً
هو المصطفی من سرها و کریمہا
( جب کبھی قریش کسی جگہ فخر و مباہات کے لیے اکٹھے ہوئے تو عبد مناف ہی قبیلے کی جڑ اور اصل ہیں. اور اب جب قریش مکہ فخر کے لیے جمع ہوں تو محمد صلى الله عليه وسلم ہی ان میں پسندیدہ مایه عزت و افتخار ہیں)

حضرت ابو طالب کا "لامیہ" قصیدہ؛
جب قریش کی آتش غضب بڑهتی ہی چلی گئی تو حضرت ابوطالب نے اپنا مشہور لامیہ قصیدہ لکھا جو "ابن کثیر" کے بقول سبعات معلقہ سے بھی زیادہ بلیغ اور پر معنی تها. سیرتِ ابن ہشام میں اس کے ایک سو اشعار منقول ہیں. جن سے دلی جذبات و احساسات کی سچی عکاسی ہوتی ہے.

2=
حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کا دوسرا اہم مداح؛
حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کا دوسرا اہم مداح جاہلیت کا نامور شاعر اعشی بن قیس تھا. بعثت کی خبر سن کر اس نے ایک "بلیغ دالیة" قصیدہ نظم کیا. اور پھر اسلام قبول کرنے کے لیے حجاز روانہ ہوا. مشرکین نے اسے راستہ میں روک لیا. اور بتایا کہ محمد (صلی الله علیه و آله وسلم) تو شراب نوشی سے سختی کے ساتھ روکتے ہیں. اس نے کہا: کہ اب "میں اگلے برس شراب نوشی سے توبہ کرکے آؤں گا" اور وہیں سے لوٹ گیا. لیکن بدقسمتی سے اسے دوبارہ آنا نصیب نہ ہو سکا. اس قصیدے کے چند اشعار کا مفہوم درج ذیل ہے.
"وه نبی ہیں. اور وه جو کچھ دیکھتے ہیں تم نہیں دیکھتے. اور ان کا ذکر خیر زمین کے ہر نشیب و فراز میں عام ہے. ان کی متواتر بخششیں اور پیہم عطیات ہیں. اور وه جو کچھ آج دے دیتے ہیں. وه کل دیئے جانے والے عطیے کے لیے مانع نہیں ہوتا.

عہد رسالت کے مداحین؛
عہد رسالت صلی الله علیه و آله وسلم کے مداحین نبوی میں کعب بن زهير رضی اللہ عنہ کا نام بهی بڑا ممتاز ہے. کعب رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی بجیر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے پر اس کی مذمت میں ایک قصیدہ لکھا. جس میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی شان میں بهی سخت بے ادبی کی اور اس پر حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم نے کعب کا خون مباح کر دیا. بجیر رضی اللہ عنہ نے کعب کو اسی قصیدے کی زمین میں چند اشعار لکھ کر بهیجے اور اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ تم نے نبیء کریم صلی الله علیه و آله وسلم کی هجو کرکے دنیا میں ہلاکت و بربادی اور آخرت میں عذاب الہی کو دعوت دی ہے. لہذا مناسب یہی ہے کہ حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر چاہو ورنہ ملک چھوڑ کر کہیں دور بهاگ جاؤ.
یہ سن کر کعب گهبرا گیا اور نبئ کریم صلی الله علیه و آله وسلم کی مدح میں ایک قصیدہ لکھ کر مدینہ منورہ شریف کی طرف روانہ ہو گیا. جہاں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وسیلے سے حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی خدمت میں پیش ہو گیا.

ثنا خوانوں پر انعامات نچھاور کرنا سنت ہے؛
حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم نے صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی منت سماجت کے بعد اسے معاف کر دیا. بعدازاں کعب رضی اللہ عنہ نے اپنا مشہور قصیدہ پیش کیا کہ جسے سن کر آپ صلی الله علیه و آله وسلم اتنے خوش ہوئے کہ اپنی چادر مبارک اتار کر انعام میں دے دی. اسی لیے اس قصیدے کا نام قصیدہء برده پڑ گیا. چونکہ مطلع کا آغاز "بانت سعاد" کے الفاظ سے ہوتا تھا. اس لیے اس قصیدے کو "قصیدہ بانت سعاد" بهی کہتے ہیں.
ابن ہشام نے اس قصیدے کے 52 باون اشعار نقل کیے ہیں. ان میں سے چند ایک اشعار کا مختصر ترین خلاصہ درج ذیل ہے.
"مجهے خبر دی گئی ہے کہ نبئ کریم صلی الله علیه و آله وسلم نے مجھے دھمکی دی ہے لیکن ان سے درگزر کی پوری امید کی جاتی ہے. . . . . . بلاشبہ رسول الله صلى الله عليه وسلم ایسے نور ہیں. جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے. اور (جنگ میں) الله تعالیٰ کی سیف بے نیام ہیں. "
اس قصیدے کا فارسی، ترک اور اردو زبانوں میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے. اور اس کی مقبولیت کے پیش نظر بہت سے آئمہء لغت نے اس کی شرح بهی لکهی ہے.

" طلع البدر علينا "
حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ شریف تشریف لائے تو انصار کی بچیوں نے جو اشعار گا کر نبئ کریم صلی الله علیه و آله وسلم کا استقبال و خیر مقدم کیا ان کا آغاز
"طلع البدر علينا"
( ہم پر چاند نکل آیا ہے)
سے ہوتا ہے.

شعرائے قریش کی هجو گوئی اور حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا دندان شکن جواب؛
ہجرت کے بعد شعرائے قریش نے اسلام اور حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کے خلاف هجو گوئی کی صورت میں شدید معاندانہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا تو اس کا جواب دینے کا بیڑا حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اٹھایا اور یوں انہیں شاعر اسلام اور شاعر النبی بننے کا شرف حاصل ہوا. انہوں نے اپنی زندگی اور شاعری آپ صلی الله علیه و آله وسلم کی مدح و حمایت کے لیے وقف کر دی. اور حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! روح القدس سے اس کی مدد فرما.

ابو سفیان بن الحارث کی بدزبانی کا منہ توڑ جواب؛
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان بن الحارث کی بد زبانی کا دندان شکن جواب دیا: "کیا تم محمد صلى الله عليه وآله وسلم کی هجو کی جرآت کرتے ہو. حالانکہ تم ان کے مدمقابل نہیں ہو. پس تم میں سے برا اچهے پر قربان ہو جائے" اور "میری زبان کاٹ دار تلوار کی طرح ہے. اس میں کوئی نقص نہیں اور میرے ڈول کو دریا گندا نہیں کرتے. میرے ماں باپ اور میری آبرو محمد صلى الله عليه وآله وسلم کی ناموس کی حفاظت پر قربان ہیں"

اللہ تعالیٰ اپنے نام سے پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کا نام نکالتا ہے؛
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ایک دوسرا قصیدہ "سہل ممتنع اور قادر الکلامی" کا بہترین نمونہ ہے. اس قصیدہ سے ایک اقتباس درج ذیل ہے.
" آپ صلی الله علیه و آله وسلم پر مہر نبوت روشن ہے یہ اللہ رب العزت کی طرف سے وہ روشن دلیل ہے. جو چمکدار اور شاهد ناطق ہے. اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب صلی الله علیه و آله وسلم کا نام اپنے نام کے ساتھ شامل کر لیا. اسی لیے مؤذن پانچوں وقت اذان میں "اشهد" کہتا ہے اللہ رب العزت نے اپنے نام سے اپنے پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم کا نام نکالا. عرش والا محمود ہے اور یہ محمد ہیں"

شعر گوئی میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا ساتھ؛
عہد وصالِ نبوی صلى الله عليه وآله وسلم کے بعد حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بہت سے مراثی لکهے جو انتہائی رقت انگیز ہیں. مشرکین مکہ کے ساتھ شعری معرکوں میں جن شعراء نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہاتھ بٹایا ان میں حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ قابلِ ذکر ہیں. انہوں نے اپنی قادر الکلامی سے کفار کی دریدہ دہنی کا خوب جواب فرمایا. عمرة القضاء میں وه حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے آگے آگے چل رہے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے:
" کفار کے بچو! رسول اللہ صلی الله علیه و آله وسلم کا راستہ خالی کر دو. ہٹ جاؤ کہ تمام بهلائیاں اللہ تعالیٰ کے رسول صلی الله علیه و آله وسلم کے ساتھ ہیں "
انہوں نے غزوهء بدر میں بهی حصہ لیا. اور سریہ موتہ میں جام شہادت نوش کیا.

حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کا استفسار کہ آسمان سے آگے کہاں پہنچنے کی آرزو ہے ؟
مشہور مخضرمی شاعر نابغة الجمدی جو کہ مسلمان ہونے سے پہلے بهی پاکبازی کی زندگی بسر کرتے تھے. انہوں نے 9 ہجری میں اسلام قبول کیا. اور حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی خدمت اقدس میں اپنا قصیدہ پیش کیا. جب وہ اس شعر پر پہنچے کہ
" ہماری بزرگی اور خوش نصیبی آسمان تک جا پہنچی اور بےشک ہم اس سے بهی اوپر رتبہ اور مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں. "
تو حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم نے استفسار فرمایا : " ابو لیلیٰ! آسمان سے آگے کہاں پہنچنے کی تمنا اور آرزو ہے. ؟ " بولے "جنت میں" تو حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا : "انشاءالله" اور دعا دی کہ تمہارے دانت کبهی شکستہ نہ ہوں؛ چنانچہ نابغه نے 120 ایک سو بیس برس عمر پا کر وصال فرمایا جبکہ ان کے سب دانت صحیح و سالم تهے.

عہد رسالت کے جن مادحین رسول صلی الله علیه و آله وسلم کا مختصر ترین تذکرہ؛
عہد رسالت کے جن دیگر مادحین رسول صلی الله علیه و آله وسلم کا تذکرہ ملتا ہے ان میں شیر خدا حضرت سیدنا امیر حمزه بن عبدالمطلب، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی المرتضٰی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم، سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، مالک بن نمطه رضی اللہ عنہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ، عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ اور خواتین میں حضرت صفیہ بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا، حضرت عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا، اور سیدہ النساء خاتونِ جنت فاطمة الزهراء سلام الله عليها خاص طور پر قابل ذکر ہیں.

عہد رسالت صلی الله علیه و آله وسلم میں أسلوب نعت؛
اس زمانے میں جو نعتیں کہی گئیں ان کی زبان سادہ، سلیس اور رواں ہے. ان میں تکلف و تصنع، نازک خیالی اور مبالغہ آمیزی کا شائبہ نہیں تها. اور یہ شعراء کے اخلاص، عقیدت اور دلی جذبات کی ترجمان ہیں

3
فن نعت اور دور بنو امیہ؛
علمائے ادب نے کسی بهی اموی دور میں کسی ایسے شاعر کا ذکر نہیں کیا جس نے حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی مدح سرائی کی ہو. لیکن عہد بنی عباس میں متعدد شعراء کے نام ضرور ملتے ہیں. مثلاً ابوالتعاهیه متوفی 211 ہجری نے جو زهدیات اور کلام کی سادگی و سلاست کے لیے مشہور ہے. اس نے بہت سی نعتیں بهی کہیں اور یہ اس کے محبت آشنا دل کی ترجمان ہیں.
اسی طرح اس عہد کے مشہور لغوی قطرب متوفی 206 ہجری کی بهی ایک نعت خاص طور سے دل آویز اور اثر انگیز ہے. : رسول اللہ (صلی الله علیه و آله وسلم)! ہماری تعریف و توصیف سے بہت زیادہ بلند تهے. ہزار کوششوں کے بعد بهی آپ کی تعریف کرنے والا آپ صلی الله علیه و آله وسلم کی تعریف کا حق ادا نہیں کر سکا.

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ شریف میں اکابر علماء اور مداحین؛
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ شریف مسلمانوں کے دینی اور روحانی مراکز ہیں. جہاں اکابر علمائے اسلام حج و زیارت سے فراغت کے بعد درس و تدریس یا تصنیف و تالیف کے لیے برسوں مقیم رہتے تھے. ان میں امام الغزالى، القشیری، شہاب الدین السہروردی، الزمخشری، ابن عربی وغیرہ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں. ان اکابرین میں ابن الفارض، عبدالله الیافعی، صرصری، اور امام البوصیری جیسے مداحین نبی صلی الله علیه و آله وسلم بهی شامل ہیں. کہ جن کے کلام میں روضۂ اطہر کی خوشبو اچهی طرح سے رچی بسی ہوئی ہے. ان کی نعتیں علمائے کرام کی مجلسوں اور صوفیائے کرام کی محفلوں میں بڑے ذوق و شوق سے پڑهی اور سنی جاتی تھیں. اور پھر حجاج کی زبانی کی زبانی عالم اسلام کے کونے کونے میں پہنچ جاتی تهیں.
ابن الفارض متوفی 632 ہجری کے کلام میں تاثیر و رقت ہے. مگر ساتھ ساتھ تصنع اور آورد بهی ہے. اس نے اپنے قصائد میں حجاز اور اهل حجاز کا بڑے اشتیاق سے ذکر کیا ہے. اور اهل علم نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اس کے دیوان کی شرحیں بهی لکهیں ہیں. اس کے علاوہ جمال الدین الصرصری جس کی ولادت 588 ہجری ہے کو ابن تغری بردی امام الادیب الربانی لکها. اور انہیں زهاد میں شمار کیا ہے. اور الصفدي کے بیان کے مطابق ان سے زیادہ نعتیں اس عہد میں کسی اور شاعر نے نہیں لکهیں. ان کا مجموعہ کلام آج بهی آٹھ جلدوں میں محفوظ ہے. جن کا نعتیہ مضامین پر مشتمل ایک حصہ 1298 ہجری میں استنبول سے شائع ہوا تھا. زبان سادہ اور عام فہم قافیے آسان اور رواں ہیں.
ان کے ہاں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی سیرت مبارکہ اور اخلاق عالیہ کا بیان، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خدماتِ اسلام اور امہات المومنین رضوان اللہ علیہم کے مناقب کا تذکرہ بهی ملتا ہے. ان کا ایک سلام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے. اس کا ایک مختصر سا حصہ درج ذیل ہے.
" اے پیغمبر ہدایت، آپ صلی الله علیه و آله وسلم پر سلام ہو، جب تک تاریکی کا تعاقب روشنی کرے. اللہ رب العزت نے آپ صلی الله علیه و آله وسلم کی رفعت و عظمت، شان و شوکت اور جلالت قدر کو بڑهایا یے، جسے کوئی بھی نہیں چهو سکتا. "

شیخ سعدی شیرازی اور فن نعت؛
یہاں شیخ سعدی شیرازی بهی اچانک یاد آ جاتے ہیں. جن کا وہ نعتیہ قطعه اپنا جواب نہیں رکهتا جس پہلا مصرعہ ہے کہ
شفیع مطاع نبی کریم
قسیم جسیم نسیم وسیم

بلغ العلے بکمالہ
کشف الدجی بجمالہ

حسنت جميع خصالہ
صلوا عليه وآله

ساتویں صدی ہجری کا عظیم مداح؛
ساتویں صدی ہجری میں ایک اور نامور مداح نبی صلی الله علیه و آله وسلم محمد بن سعيد البوصیری متوفی 697 ہجری کا نام بهی سامنے آتا ہے. انہوں نے اپنے قیام مدینہ منورہ شریف کے دوران تقریباً 450 ساڑھے چار سو اشعار پر مشتمل ایک قصیدہ همزیه (ام القرى فی مدح خیر الوری) کہا. اس میں سیرتِ سرورِ کائنات صلی الله علیه و آله وسلم کے اہم واقعات کے علاوہ آپ صلی الله علیه و آله وسلم کے آل و اصحاب کا بهی تذکرہ ملتا ہے.
ان کی شہرت کا اصل ضامن قصیدہ "برده" ہے. روایت ہے کہ کہ البوصیری کے نصف جسم پر فالج کا حملہ ہوا اسی حال میں انہوں نے یہ قصیدہ کہا اور خواب میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے. آپ صلی الله علیه و آله وسلم نے اپنی چادر مبارک (برده) ڈال دی اور سر پر اپنا دشتِ مبارک پهیرا .جب البوصیری بیدار ہوئے تو فالج سے صحت یاب ہو چکے تھے. اس قصیدے کے مضامین کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ
1. تشبیب کے بعد نفسانی فریب کاریوں سے آگاہی.
2. گریز، مدح رسول صلی الله علیه و آله وسلم.
3. ولادت باسعادت صلى الله عليه وآله وسلم اور معجزات کا ذکر .
4. قرآن مجید، واقعہ معراج شریف، اور جہاد کا ذکر .
5. توسل اور مناجات .
یہ سارا قصیدہ عشق نبوی صلی الله علیه و آله وسلم میں ڈوب کر لکھا گیا ہے. اس لیے اسے عالم اسلام میں اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ اب یہ بطور وظیفہ بهی پڑها جانے لگا ہے. اس کے علاوہ اس کا متعدد زبانوں میں ترجمہ بهی ہو چکا ہے. سینکڑوں شعراء نے اس کی زمین میں اپنے قصیدے لکھے یا ان پر تضمینین کیں. اس کے علاوہ اس قصیدے کے شارحین کی طویل فہرست کے لیے آپ (براکلمان، عربی ترجمہ، جلد: 5 ، صفحات: 83 تا 90) کا مطالعہ کریں.

4
آٹھویں صدی ہجری میں نعت گوئی نے سب سے زیادہ فروغ ملک یمن میں پایا. یمن کے مداحین نبوی صلی الله علیه و آله وسلم "روض الریاحین" اور "حکایات الصالحين" کے مصنف عبداللہ بن اسد الیافعی متوفی 768 ہجری اور مشہور صوفی منش عالم عبدالرحیم البرعى متوفی 803 ہجری قابلِ ذکر ہیں.

آٹھویں، نویں اور دسویں ہجری؛
آٹھویں، نویں اور دسویں صدی ہجری میں عربی زبان و ادب پرتکلف و آورد کا رنگ چها گیا تھا. عربی شاعری صنائع و بدائع، رعایت لفظی اور مبالغہ آرائی سے گراں بار ہوگئی تھی. اس دور کے نعت گو شعراء میں ابن نباته مصری، شہاب الدین محمود الحلبی، اور مغاربه میں ابن جابر الاندلسی اور ابن خلدون نمایاں مقام رکھتے ہیں.

حافظ ابن حجر اور فن نعت؛
ان درج بالا ناموں کے علاوہ "فتح الباري" کے مصنف اور جلیل القدر محدث حافظ ابن حجر بهی قابلِ ذکر ہیں. جن کے نعتیہ کلام میں محبت، عقیدت، دل سوزی، اور وارفتگی کے لطیف جذبات پائے جاتے ہیں.

متاخرین اور فن نعت گوئی؛
متاخرین میں عبداللہ الشیرازی متوفی 1173 ہجری، حسین دجانی متوفی 1268 ہجری اور عبدالغنی النابلسی وغیرہ نعت گو صوفی شعراء کا نام لیا جا سکتا ہے. ان کے کلام میں قدیم مضامین دہرائے گئے ہیں. البتہ عصر حاضر میں احمد شوقی متوفی 1932 ء کے نعتیہ کلام نے بڑی شہرت حاصل کی. اس بارے میں احمد حسن الزیات کے بقول یہ ان دس صدیوں کا نعم البدل ہے کہ جن میں "المتنبی" کے بعد اس جیسا قادر الکلام شاعر پیدا نہیں ہوا. شوقی کا کلام قدیم عربی شاعری کے جملہ محاسن کا حامل ہے. شوقی نے نعت میں تین قصیدے لکھے ہیں.
1. الهمزة النبوية 2. ذکر المولد
3. نہج البردة
موخر الذکر قصیدہ اپنی فنی اور ادبی خوبیوں کے باعث ادب عالی کا شاہکار ہے. اسی دور میں کسی گمنام شاعر کا ایک قصیدہ "نعتیہ ذوقافیتین" بهی ملتا ہے. اس کے علاوہ "الصبح بدأ من طلعته" جو اپنی سلاست و روانی اور دل آویزی و اثر انگیزی میں اپنی مثال آپ ہے. بعض اهل علم کی رائے میں اس کے مصنف کا نام "قاضی محمد الحنفی المعصومی" ہے. لیکن اس بارے میں بہت تحقیق کی مگر پھر بھی فقیر یقین کے ساتھ کچھ بیان نہیں کر سکتا.

برصغیر پاک و ہند؛
برصغیر پاک و ہند اگرچہ مرکز اسلام سے دور ہے. لیکن حج کے طفیل یہاں کے علما و فضلا کا رابطہ عالم اسلام کی سربرآوردہ علمی شخصیتوں سے برابر قائم اور افادہ و استفادہ کا سلسلہ جاری رہا ہے. جہاں اس برعظیم کے علماء کے علمی کارنامے ناقابل فراموش ہیں وہاں شعر و سخن کا ذوق رکھنے والے فضلا بارگاہِ رسالت صلی الله علیه و آله وسلم میں گلہائے عقیدت پیش کرنے میں بهی کسی سے پیچھے نہیں رہے
عہد تیموری کے بلند پایہ ادیب تهانسری متوفی 820 ہجری کے بہت زیادہ قصیدے ملتے ہیں.
اس کے علاوہ جلیل القدر عالم، محدث، مفسر اور بزرگ شاه ولی اللہ رحمة الله عليه متوفی 1176 ہجری کی ایک نعت بعنوان "اطیب النعم فى مدح سید العرب والنجم" (نزهة الخواطر) میں منقول ہے. اس کے علاوہ غلام علی آزاد بلگرامی متوفی 1200 ہجری کا عربی کے نعت گو شعراء میں نمایاں مقام ہے. اور انہی "حسان الہند" کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے.
سلسلہء نقشبندیہ کے مشہور عارف عبد النبی شامی کا ایک قصیدہ حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم سے ان کی نہایت گہری محبت اور عقیدت کا آئینہ دار ہے.

دارالعلوم دیوبند اور فن نعت؛
حبیب الرحمن عثمانی متوفی 929 ء ناظم دارالعلوم دیوبند نے ایک نعتیہ قصیدہ لامیه "المعجزات" کے نام سے لکھا. جو سلاست زبان اور وضاحت بیان کے علاوہ ذکر معجزات کی معنوی خوبیوں سے بهی ممتاز ہے.

5
ایک ضروری وضاحت:
اب تک فقیر نے اپنی تحقیق کے مطابق عربی ادب کے مداحین نبوی صلی الله علیه و آله وسلم کے اسمائے گرامی اور ان کے ذوق و شوق کے بارے میں بیان کیا ہے. لہذا اب کوشش کروں گا کہ مداحین نبوی صلی الله علیه و آله وسلم بزبان فارسی صرف دو اقساط میں مکمل ہو جائے.

جیسا کہ گزشتہ سطور میں بیان کر چکا ہوں کہ نعت وه کلام ہے جس میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی ظاہری اور باطنی صفاتِ مبارکہ سے شاعر کی محبت اور عقیدت اور قلبی تعلق کا اظہار ہوتا ہو. یہ کلام نظم میں ہو یا کہ غزل کی صورت میں، قصیدے کی صورت میں ہو یا کہ مثنوی کی صورت میں، قطعه و رباعی کی صورت میں ہو یا کہ مخمس، یا پھر مسدس وغیرہ کی صورت میں ہو. لیکن نعت کی نوعیت اور خصوصیت وغیرہ میں کوئی فرق نہیں آتا.

نعت گوئی کے لیے پہلی خصوصیت؛
نعت گوئی کے لیے اولین خصوصیت کہ جس کا ہونا نہایت ضروری ہے. وہ عشقِ رسول صلی الله علیه و آله وسلم ہے. کہ اس کے بغیر نعت اثر انگیز ہو ہی نہیں سکتی.
اس میں دوسری خصوصیت یہ ہے کہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے پوری طرح آگاہی ہو. اور حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی حیات طیبہ کی برکات اور اسلام کی نعمت امت تک پہنچانے کے لیے حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم نے جو جدوجہد فرمائی اس سے پوری طرح آشنائی ہو.

نعت شریف کا اثر؛
حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کے معاصر شعراء کعب بن زهير رضی اللہ عنہ، حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، عبدالله بن رواحہ رضی اللہ عنہ، اور مابعد کے شعراء میں سے البوصیری وغيرهم کی نعتوں کی گونج جب ایران پہنچی تو وہاں کے شعراء کے دلوں میں ارتعاش پیدا ہوا. شروع شروع میں ایرانی شعراء الگ نعت لکهنے کی بجائے اپنے قصائد کی ابتدا نعتیہ اشعار سے کرنے لگے. یہ گویا ایران میں نعت خوانی کا ایک عبوری دور تها. جس میں عرب شعراء کی ہمنوائی اور تقلید کی گئی. اس ضمن میں ابو الحسن علی بن جولوغ فرخی سیستانی متوفی 429 ہجری کو تشبیب یا غزل کہنے میں کمال حاصل تھا. انہوں نے کوئی باضابطہ نعت تو نہیں کہی. لیکن حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم سے اپنی عقیدت کا اظہار یوں کیا:
شگفت نیست کہ از مدح او بزرگ شوم
کہ از مدیح محمد بزرگ شد حسان

نعت شریف کے ساتھ ساتھ منقبت کا آغاز؛
عبوری دور میں نعت کے ساتھ ساتھ منقبت کا آغاز ہو چکا تھا. جس میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کو ہی مرکزی حیثیت حاصل تھی. چنانچہ ایران کے سامانی دور کے شاعر حکیم کسائی مروزی متوفی 341 ہجری کہتے ہیں کہ
این دین هدی را بمثل دائرہ دان
پیغمبر ما مرکز و حیدر خط پرکار

شیخ ابو سعید ابو الخیر اور نعت گوئی؛
غزنوی دور کے نامور شعراء عنصری متوفی 431 ہجری اور فردوسی متوفی 411 ہجری نے بهی نعتیہ اشعار کہے ہیں. بالخصوص سلجوقی دور میں شیخ ابو سعید ابو الخیر رضی اللہ عنہ متوفی 414 ہجری کی بعض رباعیات میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کے فضائل کے متعلق اشارات ملتے ہیں. یہاں ایک بات واضح رہے کہ ابو سعید ابو الخیر اتنے بلند پایہ ولی کامل ہوئے ہیں کہ ان کی شان اور درجات و رتبہ کا احاطہ انسانی عقل کے بس میں نہیں ہے. اور نہ ہی ان کے حال و احوال عام لوگوں کے سامنے بیان ہی کیے جا سکتے ہیں.
بہرحال نعتیہ اشعار کچھ وقت تک قصائد میں لکهے جاتے رہے ہیں. لیکن رفتہ رفتہ عاشقانِ رسول صلی الله علیه و آله وسلم نے الگ نعتیں بهی لکهنا شروع کر دیں.

فارسی زبان کی خوش قسمتی؛
فارسی زبان اس لحاظ سے بہت خوش نصیب ہے کہ اس میں نعت گوئی کا گراں قدر مایہ سرمایہ موجود ہے. جو نہایت پرتاثیر، پرزور، اور پرسوز بهی ہے. اس کی بڑی وجہ تصوف ہے. جو ایران اور برصغیر پاک و ہند میں بارآور ہوا اور عشقِ رسول صلی الله علیه و آله وسلم کی آبیاری اور پرورش ہوئی. جن لوگوں کو عشقِ رسول صلی الله علیه و آله وسلم کی سعادت نصیب ہوئی انہیں نعت گوئی میں زیادہ کامیابی نصیب ہوئی. لہذا اس لحاظ سے ہم تصوف کو سرچشمہء نعت کہہ سکتے ہیں.
ہم انشاءالله العزيز اگلی قسط میں صوفیائے کرام رضوان اللہ علیہم اور دیگر شعراء کی نعت گوئی کا مختصر ترین تذکرہ بیان کریں گے.

6
جیسا کہ فقیر اوپر بیان کر چکا ہے کہ " ارمغان نعت" کی یہ قسط زیادہ تر صوفیائے کرام رضوان اللہ علیہم کے متعلق ہو گی. اس حصہ کا آغاز عظیم صوفی شاعر سنائی سے کریں گے.

سنائی اور ذوق نعت؛
سنائی متوفی 525 ہجری نے جب سلوک کی منزلیں طے کیں تو حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی شان اقدس میں بہت ہی پرزور قصیدے بصورت نعت کہے.

خاقانی اور ذوق نعت؛
خاقانی متوفی 595 ہجری کے "دیوان" میں الله رب العزت کی حمد و ثنا کے بعد چار نعتیں ہیں. جو کہ درج ذیل ہیں.
1. در نعت سید کائنات و حکمت و موعظه (71 اشعار)
2. در نعت خاتم النبیین و مواعظ و ترک و تجرید (74 اشعار)
3. فی نعت النبی صلوٰۃ اللہ علیہ والحكمة (45 اشعار)
4. نعت در موعظ و حکمت و صفت معراج حضرت ختمی مرتبت صلی الله علیه و آله وسلم (164 اشعار)

نظام گنجوی اور ذوق نعت؛
نظام گنجوی متوفی 535 ہجری کی غیر فانی شہرت کا سرمایہ ان کی پانچ مثنویاں (خمسہ) ہیں . انہوں نے ہر مثنوی کا آغاز حمد باری تعالیٰ سے کرنے کے بعد حصول برکات کے لیے حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی نعتوں سے کلام کو زینت دی ہے. ان کی نعت کے ہر شعر میں اس عشق کی جهلک نمایاں ہے کہ جس کی روشنی میں انہوں نے عرفان کی منزلیں طے کیں.

خواجہ فرید الدین عطار اور ذوق نعت؛
خواجہ فرید الدین عطار متوفی 627 ہجری نے اپنی متعدد تصانیف میں کسی مقام پر بهی حکمرانوں کی مدح سرائی نہیں کی. اور ان کے اکثر قصائد نعت اور پند و معرفت پر مشتمل ہیں.

مولائے روم اور ذوق نعت؛
حضرت مولانا جلال الدین رومی متوفی 672 ہجری کی زندہ جاوید یادگاریں "مثنوی معنوی" اور " دیوان شمس تبریزی" ہیں. جنہیں عرفان و تصوف کا خزینہ کہا جاسکتا ہے. انہوں نے براه راست نعت کے عنوان سے کوئی نظم نہیں کہی. لیکن مثنوی کے ہر دفتر اور دفتر کے ہر باب میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی ذات و صفات اور تعلیمات کے متعلق جہاں بهی موقع ملا ہے اظہارِ خیال کرکے خلوص و عقیدت کے نذرانے پیش کیے ہیں.

عراقی اور ذوق نعت؛
عراقی متوفی 688 ہجری اکابر صوفیائے کرام میں سے تهے. انہوں نے اپنے "دیوان" کو ایک پر عقیدت نعت جس کے 29 انتیس شعر ہیں سے زینت دی ہے.

شیخ سعدی شیرازی اور ذوق نعت؛
سعدی فارسی کے عظیم شاعر تهے. ان کے سرمایۂ شعر کو جاودانی حیثیت حاصل ہے. ان کی "بوستان" میں جو نعت ملتی ہے اس میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم سے ان کی محبت اور احترام کا یہ عالم ہے کہ اس میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کا اسم مبارک استعمال کرنے کی بجائے حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کے اسمائے ذات و صفات استعمال کیے گئے ہیں.

امیر خسرو اور ذوق نعت؛
امیر خسرو متوفی 725 ہجری نے بهی اپنی ہر مثنوی کی ابتدا حمد باری تعالیٰ کے بعد نعت رسول مقبول صلی الله علیه و آله وسلم سے کی. اس نے "مطع الانوار" میں نعت لکهی اور تشنگی محسوس کی تو پھر دوسری نعت لکهی، پھر تیسری نعت لکهی. امیر خسرو نے اپنی پہلی نعت میں بتایا کہ حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم امی تهے. تاہم حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی زبان مبارک سے نکلا ہوا ہر سخن اللہ تعالیٰ کے کلام کا موضوع و مفسر ہے. اور ہر عمل ارشاد الہی کی عملی تفسیر ہے.
دوسری نعت معراج نبوی صلی الله علیه و آله وسلم سے متعلق ہے. جس میں امیر خسرو نے اس مقدس ترین سفر کی جملہ کیفیات بڑی تفصیل اور والہانہ انداز میں بیان کی ہیں.
اسی طرح "خسرو و شیریں" میں جو نعت ہے اس میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی بدولت بنی نوع انسان کے لئے جو عظیم انقلاب آیا اس کا بیان نہایت مسحورکن ہے.

7
وحدی مراغہ ای متوفی تقریباً 738 ہجری کی مثنویات کے علاوہ " دیوان " میں ایک نہایت پرسوز نعت بعنوان " در آرزوئے کعبہ و زیارت مرقد رسول " ہے. جس میں شاعر نے اپنی آرزوؤں کا اظہار بڑے جذب و شوق سے کیا ہے.

خواجہ کرمانی اور ذوق نعت؛
خواجہ کرمانی متوفی 753 ہجری کی پانچوں مثنویاں اور دیوان کے آغاز میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی شان میں نعتیں ملتی ہیں.

سلمان ساوجی اور ذوق نعت؛
سلمان ساوجی متوفی تقریباً 778 ہجری کی مثنوی " فراق نامہ " میں " در ستائش پیغمبر " کے عنوان سے ایک دلآویز نعت بصورتِ ترکیب بند موجود ہے.

عبدالرحمن جامی رضی اللہ عنہ اور ذوق نعت؛
جامی رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ قارئین حضرات کے لیے بیان کرنا چاہتا ہوں تاکہ بارگاہِ رسالت صلی الله علیه و آله وسلم میں ان کا مقام سمجھنے میں آسانی رہے.
" واقعہ کچھ یوں ہے کہ مولانا جامی رضی اللہ عنہ نے ایک نعت کہنے کے بعد جب ایک مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے. تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضۂ اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کے قریب کھڑے ہو کر اس نعت کو پڑهوں گا. جب حج کے بعد مدینہ منورہ شریف میں حاضر ہونے کا ارادہ کیا تو امیر مکہ کو خواب میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی زیارت نصیب ہوئی. حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم نے خواب میں امیر مکہ کو یہ ارشاد فرمایا : کہ اس کو (جامی) کو مدینہ منورہ شریف میں نہ آنے دے. امیر مکہ نے ممانعت کردی. مگر ان پر جذب و شوق اس قدر غالب تھا کہ یہ چهپ چهپا کر مدینہ منورہ شریف کی طرف چل دیئے. امیر مکہ نے دوبارہ خواب دیکھا اس میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا : وہ آ رہا ہے اس کو یہاں نہ آنے دو. امیر مکہ نے آدمی دوڑائے اور ان کو راستہ سے پکڑ لیا اور پھر ان پر سختی کرنے کے بعد جیل خانہ میں ڈال دیا. اس پر امیر مکہ کو تیسری مرتبہ حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی زیارت نصیب ہوئی. حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم نے فرمایا کہ یہ کوئی مجرم نہیں بلکہ اس نے کچھ اشعار کہے ہیں. جن کو یہاں آ کر میری قبر کے قریب کھڑے ہو کر پڑهنے کا ارادہ کر رہا ہے. اگر ایسا ہوا تو قبر سے مصافحہ کے لیے میرا ہاتھ باہر نکل آئے گا. جس میں فتنہ ہوگا. اس پر انہیں فوراً جیل سے باہر نکالا گیا. اور. .......
جامی رضی اللہ عنہ متوفی 898 ہجری کا مرتبہ بحیثیت نعت گو بہت ہی بلند پایہ ہے. انہوں نے عشقِ رسول صلی الله علیه و آله وسلم سے سرشار ہو کر سوز و فراق اور ہجر و وصال کے والہانہ جذبات کا اظہار کیا ہے. ان کی متعدد نعتیں آج بھی نعت خوانوں اور قوالوں کی زبان زد عام ہیں. ان میں حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم کی سیرت و عبادات کا نقشہ سامنے آ جاتا ہے. اور حدیث کے معارف اور رموز عشق رسول صلی الله علیه و آله وسلم بڑے سوز و گداز سے بیان کیے گئے ہیں. جامی کی نعتوں میں سلاست و روانی ہے. انداز بیان میں کسی قسم کا تکلف یا تصنع نہیں ہے. بلکہ ایک بےساختہ پن شروع سے آخر تک قائم رہتا ہے. ان تمام نعتوں میں واردات قلبی کی ترجمانی ہوتی ہے. جس سے خود جامی نے تسکین پائی اور پڑھنے سننے والوں کو بھی روحانی سکون میسر آیا.

فیضی اور ذوق نعت؛
فیضی متوفی 1004 ہجری کی درباری زندگی سے قطع نظر ہم اس کی نعتوں کو دیکهتے ہیں. تو ان میں سید المرسلین صلی الله علیه و آله وسلم سے ان کی محبت، شیفتگی اور عقیدت حرف حرف میں جھلکتی نظر آتی ہے. اس کے ساتھ ہی وہ بلند خیالی بهی ملتی ہے جو کہ فیضی کی شاعری کا خاصہ ہے.

عرفی اور ذوق نعت؛
عرفی متوفی 999 ہجری بهی اسی دور کا ممتاز شاعر ہے. اور اس کی نعتیں اور نعتیہ اشعار بهی بہت ہی زوردار ہیں.

محمد جان قدسی اور ذوق نعت؛
محمد جان قدسی متوفی 1056 ہجری سے منسوب ایک نعت " مرحبا سید مکی مدنی العربی " اهل تصوف کی محفلوں میں بڑے ذوق و شوق سے سنائی جاتی ہے. موزوں بحر کے علاوہ ہم آہنگ الفاظ نے اس میں ایک عجیب غنایت پیدا کر دی ہے. لیکن کلیات قدسی کے کسی نسخے میں یہ نعت نہیں ملتی. لہذا ممکن ہے کہ یہ نعت سید محمد خان قدسی الہ آبادی کی ہو.

بیدل اور ذوق نعت؛
بیدل متوفی 1133 ہجری کی مثنوی " طلسم حیرت " میں ایک نعت بدیع ہے. جس میں بیدل کی حضور اقدس صلی الله علیه و آله وسلم سے والہانہ عقیدت نمایاں ہے.

مرزا اسد اللہ خان غالب اور ذوق نعت؛
مرزا اسد اللہ خان غالب متوفی 1869ء کی فارسی کلیات میں جو نعتیں ملتی ہیں. ان میں خوش نوائی اور عقیدت و احترام حد درجہ کی پائی جاتی ہے.

سر سید احمد خان اور ذوق نعت؛
سر سید احمد خان متوفی 1898ء نے بهی اپ
صلی اللہ علیک یا محمد وعلی الہ وصحبہ واہل بیتہ وعترتہ وازواجہ وجدہ و ذریۃ وبارک وسلم کثیراً کثیرا

Address

Mian Park Jhumra Raod Jaranwala
Jaranwala
37250

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IsLamic Picture for True Muslims posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category