10/01/2026
مسلم لیگ کو تحریک انصاف کیخلاف لگا کر پیپلز پارٹی نے عمدہ سیاسی داؤ یوں کھیلا کہ سہیل آفریدی کے دورہ سندھ پہ نہ صرف مکمل پروٹوکول سیکیورٹی اور مہمان نوازی کے اعلان کیساتھ باغ جناح میں تحریک انصاف کو باقاعدہ جلسے کی اجازت دیدی پیپلز پارٹی کا یہ فیصلہ بتاتا ہے کہ آصف علی زرداری کو خوب پتہ ہے کہ کونسا پتا کہاں کیسے کھیلنا ہے ، سہیل آفریدی کے دورہ پنجاب پہ مسلم لیگی قیادت اور حکومتی ترجمان چڑھ دوڑے تھے سہیل آفریدی پہ ایسے صحافی چھوڑے گئے جنہوں نے گھٹیا سوالات کئیے جواب میں تحریک انصاف کے رہنماء خاموشی اختیار کرکے بہترین ردعمل دے سکتے تھے مگر انہیں بولنے کا بدزبانی کا اضافی شوق ہے تو انہوں نے بھی غیر مہذب رویہ اختیار کیا اچھی بات یہ تھی کہ سہیل آفریدی نے اس پہ معذرت کی مگر پنجاب سرکار کو تو اسکی بھی توفیق نہ ملی تحریک انصاف سندھ میں پیپلز پارٹی کیلئے اس درجہ کا چیلنج نہیں جیسا کہ پنجاب میں مسلم لیگ کیلئے ہے ، کراچی کا معاملہ مختلف ہے یہاں پیپلز پارٹی کی پذیرائی نہیں ہے البتہ سندھ کے دیگر شہروں کی سیاست میں انتظامیہ اور پولیس حائل نہ ہو تو تحریک انصاف وہاں بھی جگہ بناسکتی ہے تحریک انصاف کی حکومت کو چلتا کرنے میں جنرل باجوہ کی سربراہی میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ جے یو آئی اے این پی اور ایم کیو ایم نے کلیدی کردار ادا کیا مگر پیپلز پارٹی نے سہیل آفریدی کے دورہ سندھ کے موقع پہ اچھی سیاسی چال چلتے ہوئے اپنے لئیے تحریک انصاف کے کارکنوں میں نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ، سندھ کی مہمان نوازی معروف ہے وزیر اعلی سندھ کیساتھ سہیل آفریدی کی باقاعدہ ملاقات بھی ہوگی یہ سب بلاول بھٹو کی ہدایت پہ ہورہا ہے وہی سندھ حکومت جو تحریک انصاف کو مظاہرہ بھی کرنے نہیں دیتی اب باغ جناح میں انکے جلسے کو سیکیورٹی فراہم کرے گی محض ایک دن کے نوٹس پہ ہونے والے جلسے میں لوگوں کی شرکت بتائے گی کہ تحریک انصاف عوام میں کتنی قبولیت رکھتی ہے
مسلم لیگی حکومت اور انکے دانشور جب بھی روٹی کھانے سے فارغ ہوں تو آصف علی زرداری کی حکمت عملی پہ ضرور غور کریں کہ حکومت میں رہ کر اور عمران خان کی حکومت گرانے کے باوجود کس طرح سے پیپلز پارٹی نے اپنے لئیے ایک نیا راستہ نکالا ، یہی کچھ پنجاب حکومت بھی کرکے تلخیوں کو کم سکتی تھی مگر افسوس کہ وہ اس صلاحیت سے محروم ہیں,
FaizUllah Khan