Lines For The Life

Lines For The Life Wounded Heart مختصر یہ ہے ہماری داستان زندگی
اک سکون دل کی خاطر عمر بھر تڑپا کیے

25/11/2023

میں تھا تم تھےکچھ جذبات بھی تو تھے
ارے چھوڑو کچھ نہیں الفاظ ہی تو تھے

16/11/2023

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم

ساحر لدھیانوی

16/11/2023

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا
زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا

شاد عظیم آبادی

‏آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں تُو نہ ملتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتےناصر کاظمی
07/01/2021

‏آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں
تُو نہ ملتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتے

ناصر کاظمی

ہوئے غرقاب  کہ سنگِ وفا زنجیر تھا جاناںتمہارا بے وفا ہونا مری تقدیر تھا جاناںبہت آسان تھا یوں تو  بدلنا راستہ ہمدمبکھر ک...
04/09/2020

ہوئے غرقاب کہ سنگِ وفا زنجیر تھا جاناں
تمہارا بے وفا ہونا مری تقدیر تھا جاناں

بہت آسان تھا یوں تو بدلنا راستہ ہمدم
بکھر کر ٹوٹ کر رویا ,دلِ دلگیر تھا جاناں

فراموشی کی کوشش میں, ہمیں کیا کیا نہ یاد آیا
بھلانا یاد کرنے کی کوئی تدبیر تھا جاناں

تمہارے موسموں سے ملتے جلتے تھے مرے موسم
سراپا تم سا ,میرے خواب کی تعبیر تھا جاناں

بچھڑ جانا ترا شائد کسی کی بد دعا ہو گی
ترا ملنا , دعاؤں کی مری تاثیر تھا جاناں

مٹا ڈالا , چلو اچھا کیا اب ہم کو فرصت ہے
یہ دل پایا تھا جب سے درد کی تصویر تھا جاناں

وہ تیرا رنج تھا جس میں چراغِ اشک جل اٹھے
وہ تیرے ہجر کا غم تھا جو دامن گیر تھا جاناں

کبھی شائد وہ لوٹ آئے، کبھی شائد میں یہ پوچھوں
کہاں تاخیر کی؟ کیا باعثِ تاخیر تھا جاناں؟

Qusoor Waar Ussey Kyon Samjhein,Ghalti To Apni Hai MirzaZindagi La'Parwahon Ko Sonp Di,Aur Mohabbat Bhi Maghruron Se Kar...
26/01/2018

Qusoor Waar Ussey Kyon Samjhein,
Ghalti To Apni Hai Mirza

Zindagi La'Parwahon Ko Sonp Di,
Aur Mohabbat Bhi Maghruron Se Kar Baithay

24/01/2018

ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ​
ﮨﺮﻏِﻢ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺑُﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ​
ﺟﻮﻥ ایلیا

24/01/2018

میں ہوش میں تھا تو پھر اس پہ مر گیا کیسے
یہ زہر میرے لہو میں اتر گیا کیسے

کچھ اس کے دل میں لگاوٹ ضرور تھی ورنہ
وہ میرا ہاتھ دبا کر گزر گیا کیسے

ضرور اس کی توجہ کی رہبری ہو گی
نشے میں تھا تو میں اپنے ہی گھر گیا کیسے

جسے بھلائے کئی سال ہو گئے کاملؔ
میں آج اس کی گلی سے گزر گیا کیسے

24/01/2018

یہ کس نے کہا تم کوچ کرو باتیں نہ بناؤ انشاؔ جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے اسے چھوڑ نہ جاؤ انشاؔ جی

جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا ان سے بھی منہ پھیرو گے یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشاؔ جی

میرا سیدھا ساده مزاج تھا مجھے عشق هونے کی کیا خبرتیرا اک نظر وه دیکھنا میرے سارے شوق بدل گیا
23/01/2018

میرا سیدھا ساده مزاج تھا مجھے عشق هونے کی کیا خبر
تیرا اک نظر وه دیکھنا میرے سارے شوق بدل گیا

23/01/2018

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

اے درد بتا کچھ تُو ہی بتا! اب تک یہ معمہ حل نہ ہوا
ہم میں ہے دلِ بےتاب نہاں یا آپ دلِ دلِ بےتاب ہیں ہم

میں حیرت و حسرت کا مارا، خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریائے محبت کہتا ہے، آ! کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم

لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہلِ زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں، کم یاب ہیں ہم

مرغانِ قفس کو پھولوں نے، اے شاد! یہ کہلا بھیجا ہے
آ جاؤ جو تم کو آنا ہوایسے میں، ابھی شاداب ہیں ہم

شاد عظیم آبادی صاحب

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lines For The Life posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category