31/07/2026
زمین پر جنت کی سسکیاں۔
دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ اتنا چیخوں کہ آسمان پھٹ جائے اور میری چیخ کی آواز پورے جہاں کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ اس سے پہلے کہ میری سانسیں تھم جائیں میرا قلم ضبط کر لیا جائے اور میری روشنائی مجھ سے چھین لی جائے میں دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں کون ہوں۔ کیا تم سنو گے کہ میں کون ہوں؟ کیا تم مجھے پڑھو گے؟ کیا تم مجھے دیکھ سکو گے؟ سنو، میں ایک جھیل تھابایک ایسی جھیل جس نے اپنے دامن میں کسی نایاب مشکیزے کی طرح شفاف پانی سمیٹ رکھا تھا، جہاں سکون تھا حسن تھا اور زندگی تھی مگر ایک دن میرا پانی مجھ سے چھین لیا گیا میری رگوں میں بہنے والی حیات کو دریاؤں کے سپرد کر دیا گیا اور مجھے ایک بنجر زمین کی طرح بے آسرا چھوڑ دیا گیا۔ لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری، میرے آنسو آبشاروں میں ڈھل گئے، میرے چشموں نے میرے باسیوں کی پیاس بجھائی اور میں ایک جھیل سے بڑھ کر ایک ایسی حسین وادی بن گیا جسے دنیا نے زمین پر جنت کہنا شروع کر دیا۔ میرے پھول میرے باغات میرے پہاڑ میری ندیاں اور میری آبشاریں دنیا کو اپنی طرف کھینچنے لگیں اور میں فخر سے دنیا کو بتاتا رہا کہ میری پہچان صرف حسن نہیں بلکہ امید بھی ہے
حسن ہمیشہ حسد کو جنم دیتا ہے۔ میرے وجود پر نظریں اٹھیں میرے لیے جنگیں لڑی گئیں، میرے سینے پر تقسیم کی لکیر کھینچ دی گئی میری مٹی خون سے رنگ دی گئی میری بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی میرے بیٹوں کے جسم گولیوں سے چھلنی کیے گئے اور میری آبشاریں لہو سے سرخ ہو گئیں مگر میرے لبوں پر آج بھی وہی صدا ہے۔
حسین ہوں مگر خون کی لکیر ہوں
میں زمین پر جنت میں کشمیر ہوں
میں ایک تھا، پھر مجھے بانٹ دیا گیا مگر میرا خون ایک رہا میری تہذیب ایک رہی میری شناخت ایک رہی اور میری بقا بھی ایک ہی ہے۔ تقریباً اسی برس گزر چکے ہیں۔ میرا ایک حصہ پاکستان کے زیرِ انتظام ہے اور دوسرا ہندوستان کے زیرِ انتظام۔ ان برسوں میں پاکستان نے مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز پر میری آواز بلند کی اور میں نے بھی اپنے پانی، اپنی بجلی اور اپنے وسائل سے پاکستان کا ساتھ دیا۔ یہ کسی کا احسان نہیں تھا بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق اور ذمہ داری کا تقاضا تھا۔ میری نسلوں نے سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، میری صبحیں تحریکِ آزادیٔ کشمیر زندہ باد، پاکستان زندہ باد کے نعروں سے روشن ہوتی رہیں، لیکن آج میرا دل خون کے آنسو اس لیے رو رہا ہے کہ جب میرے لوگوں نے اپنے بنیادی حقوق مانگے تو ان پر گولیاں چلیں انہیں غدار کہا گیا اور ان کا خون سڑکوں پر بہایا گیا۔ تب میرے دل نے خود سے سوال کیا کہ کیا یہی ان قربانیوں کا صلہ تھا؟ جب میں اپنے کسی شہید کو سبز ہلالی پرچم میں لپٹا دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ پرچم خود خاموشی سے کہہ رہا ہو میں اس شہید کو اپنے دامن میں کیسے سمیٹوں؟ شہید بھی میرا، قاتل بھی میرا گولی بھی میری اور گولی کھانے والا سینہ بھی میرا۔ یہی احساس میرے دل کو لہولہان کر دیتا ہے، مگر میری شناخت آج بھی نہیں بدلی۔
نہ میں غدار ہوں نہ میں حقیر ہوں
میں زمین پر جنت میں کشمیر ہوں۔
میں آج بھی اپنے حقوق کی جدوجہد کو اپنا حق سمجھتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو عدل و انصاف کرنے والی عوام دوست اور دیانت دار قیادت عطا فرمائے تمام اقوام کے درمیان محبت اعتماد اور یکجہتی پیدا کرے ہر اس قوت کو ناکام بنائے جو نفرت، تقسیم اور فساد کو ہوا دیتی ہے اور وہ دن جلد آئے جب میری وادیاں دوبارہ گولیوں کی آواز نہیں بلکہ آبشاروں کی موسیقی سے گونجیں کیونکہ میری شناخت ہمیشہ یہی رہے گی۔
نہ میں غدار ہوں نہ میں حقیر ہوں
میں زمین پر جنت میں کشمیر ہوں
#زمان راجپوت
#عوامی ایکشن کمیٹی ازاد کشمیر