صوبہ ہزارہ

صوبہ ہزارہ صوبہ ہزارہ کی آواز بنیں اس پیج کو لائیک اور شئیر کجیئے

ملکوں کے بدلتے نقشے بدلے تو پاکستان پر اثرات ہونگے یوکرین کی جنگ بند ہوئی، معاہدہ ہو گیا تو یوکرین کا نقشہ تبدیل ہوگا، ن...
28/12/2025

ملکوں کے بدلتے نقشے بدلے تو پاکستان پر اثرات ہونگے

یوکرین کی جنگ بند ہوئی، معاہدہ ہو
گیا تو یوکرین کا نقشہ تبدیل ہوگا، نقشوں کی یہ تبدیلی یوکرین تک نہیں رکے گی

پاک بھارت جھڑپ کے بعد یہ سب کو دکھائی دے گیا ہے کہ پاکستان کو فوجی شکست دینا ممکن نہیں نہ اس کے باڈر،تبدیل ہونگے، کوئی وہم تھا تو ایران اسرائیل جنگ کے بعد دور ہو گیا، اس کے بعد پاکستان تشکر کے گانے بنے، ایرانی صدر پاکستان آئے شکریہ ادا کرنے، بہت کچھ بدل گیا

اک جانب پاکستان کو آئ ایم ایف کے انگوٹھے تلے سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے کہ یہ معیشت کو ٹریک سے نہ اتار بیٹھیں اور مجبوری میں ایڈونچر نہ کریں بحران کا شکار نہ ہوں

پاکستان کی ڈیفنس ڈیل سامنے آ رہی ہیں، جنہیں امریکی اگنور کر کے مدد کرتے دکھائی دیتے اور چینی ان ڈیل کو اپنی پروموشن مان کر پروموٹ کر رہے، سرمایہ کاری منصوبے بھی سیکیورٹی ڈومین میں ہو رہے

اماراتی بھی فوجی کمپنی کے حصص خرید کر ہی ہمیں سہولت دے رہے، ڈیفنس، منرل، کنیکٹیوٹی منصوبے دیکھیں تو سب سیکیورٹی ڈومین میں جا رہے، اور سب دنیا اسی طرف چل رہی ، ایران نے اب پانی کو اپنے سیکیورٹی ڈومین کا حصہ بنایا ہے یعنی افغانستان سے رولا بڑھ سکتا

چین نے سی پیک کے اگلے مرحلے میں اپنی انڈسٹری پاکستان ریلوکیٹ کرنی تھی ،حوالدار بشیر کو کپتان سے سچا پیار ہو گیا سی پیک ڈول گیا ،انڈستری چینی ویتنام اور دوسری جگہوں پر لے گئے، اب کچھ ری لوکیٹ کرنے کو بچا نہیں،ہماری ڈیفنس انڈسٹری کو ضرور بوسٹر لگ گیا ہے اور ادھر چینی ترکی روسی امریکی سب متوجہ ہو گئے ہیں تو کمائی ادھر سے ہوگی

پاکستان سے جو تعاون مانگا جا رہا ہے یا جو ہمیں اب لاجیکلی کرنا ہے ،اس کا فائدہ پیسوں کی صورت تو جو ہوگا نظر آ جاوے گا

زیادہ اہم نقشوں کی تبدیلی ہے، باقی دنیا میں کیا ہوتا ہم کو زیادہ فرق نہیں پڑتا، ویسے فرق یوکرین جنگ کا بھی پڑا، فوڈ اور انرجی مہنگی ہوئی ہماری مہنگائی نے چیکیں نکلوائی

افغانستان کو جس طرح ہر عالمی فورم پر ملامت کیا رہا مسلح گروپوں ،خواتین کے کام اور تعلیم کو لے کر ،کنیکٹیوٹی میں رکاوٹ دیکھ کر حالانکہ طالبان حکومت بہت سے پراجیکٹ پر کام کر رہی، افغانستان میں کچھ علاقوں کا کنترول ہی طالبان کے ہاتھ سے نکل گیا تو بہت کچھ اوپر نیچے ہو جانا

پاکستان کے نئے رول کو اگر تسلیم کیا جا رہا ہے تو نقشوں کی اس تبدیلی کہ ہم پر اثرات یقینی ہیں

آپ ابھی صرف نقشہ دیکھیں، افغانستان میں فالٹ لائن بہت واضح ہیں، افغان طالبان صرف ایک ہی نسلی اکائی کے نمایندگی کر رہے ،صورتحال کا کتنا ادراک ہے یہ ان کے اقدامات سے دکھائی نہیں دیتا

"میں نے اپنی ماں کو پڑوسیوں سے نمک مانگتے ہوئے سنا۔" لیکن ہمارے گھر میں نمک تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ پڑوسیوں سے نمک...
19/07/2024

"میں نے اپنی ماں کو پڑوسیوں سے نمک مانگتے ہوئے سنا۔" لیکن ہمارے گھر میں نمک تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ پڑوسیوں سے نمک کیوں مانگ رہی ہے۔ اور اس نے مجھے جواب دیا: کیونکہ ہمارے پڑوسیوں کے پاس زیادہ پیسے نہیں ہیں اور اکثر وہ ہم سے کچھ مانگتے ہیں۔
وقتاً فوقتاً میں ان سے چھوٹی اور سستی چیز بھی مانگتی رہتی ہوں، تاکہ وہ محسوس کریں کہ ہمیں بھی ان کی ضرورت ہے۔ اس طرح وہ اپنے لیے زیادہ آرام دہ اور آسان محسوس کریں گے کہ وہ ہم سے اپنی ضرورت کی ہر چیز مانگتے رہیں۔"
انسانی وقار کا احترام بلاشبہ عظیم ترین جذبات میں سے ایک ہے۔
اور بالکل وہی ہے جو میں نے اپنے والدین سے سیکھا ہے... آئیے ہمدرد، شائستہ، معاون بچوں اور دیگر اقدار کی قدر کریں..!!!…"❤️

14/07/2024
14/07/2024

یہ سویٹزرلینڈ یا تھائی لینڈ نہیں بلکہ ایبٹ آباد میں واقع ایک شہر حویلیاں ہے

پی ٹی وی کے ڈرامہ راہیں کا ایک منظر ۔ ۔ ۔پنڈ کے چوہدری (غیور اختر) نے مولوی (عبدالرشید) سے کہا کبھی ہمارے بڑوں کی قبروں ...
08/07/2024

پی ٹی وی کے ڈرامہ راہیں کا ایک منظر ۔ ۔ ۔
پنڈ کے چوہدری (غیور اختر) نے مولوی (عبدالرشید) سے کہا کبھی ہمارے بڑوں کی قبروں کا بھی چکر لگایا کرو۔
مولوی نے کہا ،، جی چوہدری صاحب ہر جمعرات کو جاتا ہوں اور پورا ایک پاؤ سپارہ پڑھتا ہوں اور بخشش کی دعا کرتا ہوں ۔
دتہ میراثی پاس کھڑا تھا ۔۔ بولا ،، مولوی صاب ایک پاؤ سے کیابنتا ہے۔ بڑے لوگوں کے گناہ بھی بڑے ہوتے ہیں ۔۔

یہ ریاض میمن ھے، اصل سکھر  کا ھے اور  کراچی میں پچیس سالوں سے رہتا ھے۔پرائیوٹ کمپنی میں ڈرائیور ھے، پارٹ ٹائم میں بایکیا...
04/07/2024

یہ ریاض میمن ھے، اصل سکھر کا ھے اور کراچی میں پچیس سالوں سے رہتا ھے۔

پرائیوٹ کمپنی میں ڈرائیور ھے، پارٹ ٹائم میں بایکیا چلاتا ھے ، اپنے بچے کو ساتھ رکھتا ھے۔
پتہ چلا بچے کی ماں تین مہینے پہلے فوت ہوگئی۔

بچے کی نانی نے ناتے ختم کردیے اس کی بہن بھائی بھی بچے کو گھر ہر رکھنے کو تیار نہیں۔

مجبور باپ زندھ رہنے کے لئے جہدوجہد کررہا ھے۔ ریاض نے بتایا مجھے کمپنی سے نکالا رہے ہیں کیوں کہ بچے کو جاب کے وقت ساتھ رکھتا ہوں اور اس لئے بایکیا چلا کر گذر سفر کررہا ہوں۔

عجیب قسم کی مجبوریاں اور عوام کہانیاں ۔

" ایک تفریحی بحری  جہاز سمندر میں حادثے کا شکار ہو گیا، جہاز پر ایک میاں بیوی کا جوڑا بھی سوار تھا، لائف بوٹ کی طرف جانے...
01/07/2024

" ایک تفریحی بحری جہاز سمندر میں حادثے کا شکار ہو گیا، جہاز پر ایک میاں بیوی کا جوڑا بھی سوار تھا، لائف بوٹ کی طرف جانے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اس میں صرف ایک شخص کی گنجائش باقی ہے۔
اس وقت اس شخص نے عورت کو اپنے پیچھے دھکیل دیا اور خود لائف بوٹ پر چھلانگ لگا دی۔
خاتون نے ڈوبتے ہوئے جہاز پر کھڑے ہو کر اپنے شوہر سے ایک جملہ کہا۔
یہاں استانی نے توقف کیا اور پوچھا، "آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ وہ کیا بات چلائی تھی؟"
زیادہ تر طلباء نے پرجوش ہو کر جواب دیا، "میں تم سے نفرت کرتی ہوں! میں اب تک اندھی تھی!"
اب استانی نے ایک لڑکے کو دیکھا جو اس تمام تر قصے کے دوران خاموش رہا تھا، استانی نے اسے جواب دینے کے لیے کہا اور اس نے جواب دیا، "استانی صاحبہ، مجھے یقین ہے کہ وہ چیخی ہوگی - "ہمارے بچے کا خیال رکھنا!"
استانی نے حیرانی سے پوچھا کیا تم نے یہ کہانی پہلے سنی ہوئی ہے؟
لڑکے نے سر ہلایا، "نہیں، لیکن یہ بات میری ماں نے میرے والد کو بیماری سے مرنے سے پہلے کہی تھی"۔
استانی نے افسوس کرتے ہوئے کہا، "جواب صحیح ہے"۔
تفریحی بحری جہاز ڈوب گیا، وہ شخص بخیریت گھر پہنچ گیا اور اپنی بیٹی کو تن تنہا ہی پالا۔
اس شخص کی موت کے کئی سال بعد، ان کی بیٹی کو اپنا سامان صاف کرتے ہوئے والد کی ایک ڈائری ملی۔
اس ڈائری سے یہ راز آشکار ہوا کہ " جب اس کے والدین تفریحی جہاز پر گئے تھے، تو ماں کو پہلے سے ہی ایک لاعلاج بیماری کی تشخیص ہو چکی تھی.
اس نازک لمحے میں، باپ زندہ بچ جانے کے واحد موقع سے فائدہ اٹھا کر بھاگ نکلا۔
اس نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا، "میری کس قدر تمنا تھی کہ تمہارے ساتھ سمندر کی تہہ میں ڈوب مروں، لیکن اپنی بیٹی کی خاطر میں تمہیں ہمیشہ کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں اکیلا رہنے کے لیے چھوڑ آیا ہوں"۔
کہانی ختم ہوئی، کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ -----------
دنیا میں اچھائی اور برائی کا وجود ہے، لیکن ان کے پیچھے بہت سی پچیدگیاں ہیں جن کو سمجھنا مشکل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی صرف سطحی حالات کو دیکھ کر اور دوسروں کو پہلے سمجھے بغیر فیصلہ صادر نہیں کرنا چاہئے۔
جو لوگ کھانے کا بل ادا کرنا پسند کرتے ہیں، وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ دولت مند ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ دوستی کو پیسے پر ترجیح دیتے ہیں۔
جو لوگ کام میں پہل کرتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ بیوقوف ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ ذمہ داری کے تصور کو سمجھتے ہیں۔
جو لوگ جھگڑے کے بعد پہلے معافی مانگتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ غلط ہیں بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی قدر کرتے ہیں۔
جو لوگ اکثر آپ کو میسج کرتے ہیں، ایسا اس لیے نہیں کرتے کہ ان کے پاس کرنے کے لیے کچھ بہتر کام نہیں ہے بلکہ اس لیے کہ آپ ان کے دل میں بستے ہیں۔
ایک دن ہم سب ایک دوسرے سے بچھڑ جائیں گے۔ ہم ہر موضوع اور موقع کے بارے میں گفتگو کو یاد کریں گے۔اور ان خوابوں کو جو ہم نے مل کر دیکھے تھے۔ دن، مہینے، سال گزرتے جائیں گے، یہاں تک کہ یہ رابطے نایاب ہو جائیں گے۔
ایک دن ہمارے بچے ہماری تصویریں دیکھیں گے اور پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟
اور ہم پوشیدہ آنسوؤں کے ساتھ مسکرائیں گے کیونکہ ایک مضبوط لفظ دل کو چھو لیتا ہے اور ہم کہیں گے: " یہ وہی تھے جن کے ساتھ ہم نے اپنی زندگی کے بہترین دن گزارے تھے "۔

انگریزی ادب سے لی گئی کہانی، یہ کہانی ہمارے معاشرے کی بھی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔

ایک شخص وفات پا گیا لیکن اس کی موت کی خبر لوگوں تک 30 گھنٹے بعد پہنچی۔ ایک درویش صفت ملنگ سا آدمی تھا جو اکیلا رہتا تھا ...
27/06/2024

ایک شخص وفات پا گیا لیکن اس کی موت کی خبر لوگوں تک 30 گھنٹے بعد پہنچی۔ ایک درویش صفت ملنگ سا آدمی تھا جو اکیلا رہتا تھا کسی اللہ والے نے اسے اپنا گھر رہنے کے لیے دیا تھا جہاں ایک کچا کمرہ اور پانی والا نلکہ تھا۔ دن بھر یہ شخص یہاں وہاں بیٹھ کر گزارتا تھا اور شام کو اپنے گھر چلا جاتا تھا جہاں بجلی تک نہیں تھی۔ کتب بینی کا شوق تھا کتابوں سے گہری دوستی تھی کسی زمانے میں گریجویشن مکمل کی تھی۔۔

اس کے کزن کا رابطہ نہ ہوا تو وہ خیریت دریافت کرنے پہنچا۔ کوئی جواب نہ ملنے پر ۔۔۔۔۔۔۔ وہ شخص وفات پا چکا تھا۔ تدفین کے بعد کچے کمرے کی تلاشی لی گئی جہاں کچھ کتابیں موجود تھیں اور بہت ساری چھوٹی چھوٹی پرچیاں تھیں۔۔۔

کچھ پرچیوں پر وہ رقم درج تھی جو اس شخص نے ادا کرنی تھی۔ تاریخ کے ساتھ باقاعدہ حوالہ جات تھے کس شخص کے پیسے دینے ہیں؟ پانچ روپے ، دس روپے سے لے کر سب سے بڑی رقم 1560 روپے درج تھی جس کے ساتھ لکھا گیا تھا
"مجھے اس رقم کی سب سے زیادہ پریشانی ہے۔ شاید میں یہ رقم ادا نہیں کر پاؤں گا" ۔۔۔

ایک پرچی پر کچھ یوں لکھا تھا
" ساکا ۔۔۔۔
فلاں تاریخ کو میں نے 3 ٹکیاں کھائی تھیں جس کے 30 روپے بنتے ہیں اور اس بات کا علم ساکے کو نہیں ہے۔ 20 روپے سابقہ بھی ہیں اب ٹوٹل رقم 50 روپے ہو گئی ہے" ۔۔
ساکا ہماری سڑک پر سموسے اور آلو والی ٹکیاں فروخت کرتا ہے۔ شاید پیٹ کی بھوک مٹانے کے لیے اس شخص نے یہ ٹکیاں کھائی ہوں گی۔ وہ پیٹ کی چوری تو کر گیا لیکن ضمیر اور نفس کی چوری سے محفوظ رہا۔۔

فلاں کریانے والے کے پچاس روپے۔۔۔
فلاں تاریخ کو فلاں شخص خود نہیں تھا اس کا بیٹا موجود تھا جس کا نام "الف" ہے۔۔۔

اس طرح کی پرچیاں ملی تھیں جسے ہاتھ میں لیے اس کا کزن جگہ جگہ پھر رہا تھا۔ اس نے لوگوں کی رقم ادا کی زیادہ تر لوگوں نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہا
"ہم اپنا حق معاف کرتے ہیں" ۔۔۔۔

میری ملاقات اس کے کزن سے ہوئی ایک پرچی کی باقاعدہ تصویر بنائی جو آپ سب کے سامنے حاضر ہے۔ مجھے لکھتے ہوئے بھی ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ سب ایک افسانہ ہے۔ وفات پانے والا شخص کسی ناول کا کردار معلوم ہوتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے۔۔۔۔

لوگ ہزاروں لاکھوں لے کر جان بوجھ کر بھول جاتے ہیں در اصل آخرت کی تیاری کی فکر نہیں ہے۔ ایک ایسا شخص جسے دو چار لوگ دو چار ہزار روپے دے دیتے تھے اس شخص کو اتنی فکر تھی ؟ ۔۔۔

ہاں ایک بات ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے ارد گرد بسنے والوں کا خیال رکھا کریں ان کے حالات سے واقف رہا کریں۔

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

محبتیں سلامت رہیں 🌹
"

انہیں یہ دیکھ کر دُکھ ہوا کہ حلوائی اور بچے اس کتے کو ٹیپو! ٹیپو! کہہ کر بُلا اور دھتکار رہے تھے۔ سرنگا پٹم کی خون آشام ...
27/06/2024

انہیں یہ دیکھ کر دُکھ ہوا کہ حلوائی اور بچے اس کتے کو ٹیپو! ٹیپو! کہہ کر بُلا اور دھتکار رہے تھے۔ سرنگا پٹم کی خون آشام جنگ میں ٹیپو سطان کی شہادت کے بعد انگریزں نے کثرت سے کتوں کا نام ٹیپو رکھنا شروع کر دیا تھا۔ اور ایک زمانے میں یہ نام شمالی ہندوستان میں اتنا عام ہوا کہ خود ہندوستانی بھی آوارہ اور بے نام کتوں کو ٹیپو کہہ کر ہی بلاتے اور ہشکارتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ جانے بغیر کہ کتوں کا یہ نام کیسے پڑا۔ باستشنائے نیپولین اور ٹیپو سلطان، انگریزوں نے ایسا سلوک اپنے کسی اور دشمن کے ساتھ روا نہیں رکھا۔ اس لیے کہ کسی اور دشمن کی ان کے دل میں ایسی ہیبت اور دہشت کبھی نہیں بیٹھی تھی۔ برصغیر کے کتے سو سال تک سلطان شہید کے نام سے پکارے جاتے رہے۔ کچھ برگزید شہید ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی آزمایش، عقوبت مُطہرہ اور شہادت عظمی ان کی موت کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔ رب جلیل انہیں شہادت جاریہ کی سعادت سے سرفراز فرماتا یے۔

(اقتباس: مُشتاق احمد یُوسفی کی کتاب "آب گم" سے)

کراچی میں 1950ء کی دہائی میں کیکر کے بیج کا اسپرے کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں کراچی میں جابجا کیکر کے درخت نظر آتے تھے ...
27/06/2024

کراچی میں 1950ء کی دہائی میں کیکر کے بیج کا اسپرے کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں کراچی میں جابجا کیکر کے درخت نظر آتے تھے

مگر پھر ایندھن کی ضرورت اور امکانات کی تعمیر نے اسے ناپید کردیا۔

یاد رہے کہ کیکر کے درخت بنا پانی کے نمو پاتے اور موسم کی شدت کو قابو میں رکھنے میں مددگار رہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ 1990ء کی دہائی تک کراچی کا موسم انتہائی معتدل رہا کرتا تھا۔ نہ شدید سردی ہوتی تھی اور نہ ہی گرمی کی شدت محسوس کی جاتی تھی کچھ لوگوں کے بقول جون جولائی میں موسم آبرآلود رہا کرتا تھا اور اکثر پھوار یا ہلکی بوندا باندی معمول کی بات تھی۔

اگر آج بھی کراچی اور اس کے گردونواح میں کیکر کے بیجوں کا فضائی اسپرے کیا جائے تو امید ہے کافی بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ خصوصاً ملیر ندی، لیاری ندی کے کناروں پر درخت لگائے جائیں تو بھی کراچی کے موسم کی شدت کو قابو میں لایا جاسکتا ہے۔

اس کی علاوہ کیکر اور پنجاب کا رشتہ صدیوں پرانا ہے۔

ہر حویلی میں جانوروں کے چارہ ڈالنے والی “کھرلی” کے ساتھ کیکر ہونا ضروری تھا اور ہر گلی جو گاؤں سے باہر جاتی تھی اپنے اردگرد کیکر رکھتی تھی۔ اگر آپ کو ایسی کوئی سڑک اب بھی دیکھنی ہے تو سیالکوٹ گجرانوالہ، نارووال شکرگڑھ روڈ یا جنوبی پنجاب کے کسی روڈ کو دیکھ لیں۔

آج گرمی کی بڑھتی لہر میں کیلر بہت یاد آتا ہے۔

سیانوں کو کچھ معلوم نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ کیکر لگا کر گرمی ختم کرنا جانتے تھے۔ آج ہمیں سب کچھ معلوم ہے لیکن کیکر لگا نہیں پا رہے۔

ہک تاں تیڈی جُتی گِھنساںکاٹھی آلا گھوڑا گِھنساںاللہ کرے ڈیہاڑی لگےبیا پُتر دا جوڑا گِھنساںمہنگا بھاویں سستا گھنساںنواں ی...
28/04/2024

ہک تاں تیڈی جُتی گِھنساں
کاٹھی آلا گھوڑا گِھنساں
اللہ کرے ڈیہاڑی لگے
بیا پُتر دا جوڑا گِھنساں
مہنگا بھاویں سستا گھنساں
نواں یا ول خستہ گھنساں
کنڑکاں کپ تے عاشر بچڑا
پہلے تیڈا بستہ گھنساں..!

Address

Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when صوبہ ہزارہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share